Thursday, 15 January 2026

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول

 قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور 

 رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

دین اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جس کی بنیاد اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ نجات، فلاح اور کامیابی کا واحد راستہ اسی دوہری اطاعت میں مضمر ہے۔ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الاحزاب: 71)۔ یہ آیت اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کو کامیابیِ عظیم کا معیار قرار دیتی ہے۔

اطاعتِ الٰہی کا مفہوم

اللہ تعالٰی کی اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی میں اللہ تعالٰی کے احکامات کو بالاتر سمجھے۔ قرآن کہتا ہے:

“اے ایمان والو! اللہ تعالٰی کی اطاعت کرو” (النساء: 59)۔

یہ اطاعت محض زبانی اقرار نہیں بلکہ عملی التزام کا تقاضا کرتی ہے؛ یعنی حلال و حرام کے فیصلے، عدل و انصاف کے اصول، معاشی معاملات، خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار سب اللہ کے حکم کے تابع ہوں۔

اتباعِ رسول ﷺ کی ناگزیر حیثیت کے تناظر میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے ضرور درحقیقت اللہ کی ہء اطاعت کی” (النساء: 80)۔

یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت دراصل وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ نبی کریم ﷺ نہ صرف قرآن حکیم کے شارح ہیں بلکہ اس کے عملی نمونہ بھی ہیں۔ اسی لیے فرمایا گیا:

“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الاحزاب: 21)۔

سنت سے روگردانی کے نتائج

رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں خبردار فرمایا:

“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں” (بخاری)۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر محض قرآن کا دعویٰ ادھورا اور ناقص ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب امت نے سنت کو پسِ پشت ڈالا تو فکری انتشار، عملی انحراف اور اجتماعی زوال نے جنم لیا۔

اطاعت و اتباع کی ہمہ گیری: 

اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاملات، اخلاق اور پورے نظام معاشرت کو محیط ہے۔ سچائی، امانت، عدل، رواداری، صبر اور ایثار وہ اوصاف ہیں جنہیں نبی ﷺ نے اپنی سیرت سے عملاً نافذ کر کے دکھایا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”۔

عصرِ حاضر میں اطاعت و اتباع کی ضرورت: آج کا مسلمان فکری انتشار اور تہذیبی یلغار کا شکار ہے۔ جدید نظریات اور مغربی اقدار نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع محض ایک دینی و مذہبی تقاضا نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی شرط اول اور مقدس ترین فریضہ ہے۔ اگر فرد اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو معیار اور رول ماڈل بنا لے تو عدلِ اجتماعی، اخلاقی تطہیر اور روحانی استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے: اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی دو ستون ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ امتِ مسلمہ کی نجات بھی اسی میں ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی زندگی کا شعار بنا لے۔

جاری ہے۔۔۔

اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں۔ (قسط دوم)

 اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں (قسط دوم)

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

قرآنِ مجید نے دینِ اسلام کی اصل روح کو نہایت جامع اور فیصلہ کن انداز میں ایک ہی معیار پر مرکوز کر دیا ہے، اور وہ ہے اتباعِ رسولِ اکرم ﷺ۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو یا قربِ خداوندی کی آرزو، قرآن حکیم نے اس کے لیے کسی باطنی کیفیت یا مجرد دعوے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ ایک واضح عملی کسوٹی مقرر کر دی۔ چنانچہ سورۃ آلِ عمران میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾

(آلِ عمران: 31)

مفہوم:

“(اے نبی ﷺ!) فرما دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔”

:محبتِ الٰہی کا قرآنی معیار

یہ آیت اپنے مفہوم اور مدعا کے اعتبار سے نہایت انقلابی ہے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے واضح کر دیا کہ اس سے محبت کا محض زبانی یا قلبی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ اس محبت کی صداقت کا عملی ثبوت اتباعِ محمدی ﷺ ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی سیرت، سنت اور منہج ہی وہ آئینہ ہے جس میں بندۂ مومن اپنی محبتِ الٰہی کی سچائی دیکھ سکتا ہے۔

ائمۂ تفسیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو اللہ تعالٰی سے محبت کے دعوے تو کرتے تھے مگر نبی ﷺ کی عملی پیروی سے گریزاں تھے۔ قرآن مجید نے دوٹوک انداز میں بتا دیا کہ جو رسول ﷺ کی اتباع سے منہ موڑے، اس کا دعویٔ محبت محض ایک فریبِ نفس ہے۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور مغفرتِ الٰہی

آیتِ مذکورہ میں اتباعِ رسول ﷺ کے دو عظیم ثمرات بیان کیے گئے ہیں:

اللہ کی محبت

گناہوں کی مغفرت

یہ دونوں نعمتیں ہر مومن کی سب سے بڑی تمنا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف فقہی یا عملی رہنمائی نہیں بلکہ بندے اور رب کے تعلق کی بنیاد ہے۔ جس قدر اتباع مضبوط ہو گی، اسی قدر اللہ تعالٰی کی محبت اور مغفرت کا حصول یقینی ہو گا۔

:بدعت کا مفہوم اور اتباعِ سنت

یہاں بدعت کے مسئلے کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بدعت دراصل دین میں ایسی نئی بات کو شامل کرنا ہے جس کی اصل نہ قرآن میں ہو، نہ سنت میں، اور نہ ہی صحابۂ کرامؓ کے تعامل میں۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا:

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے” (بخاری، مسلم)۔

بدعت کا اصل نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو اتباعِ رسول ﷺ سے ہٹا کر خود ساختہ طریقوں کا اسیر بنا دیتی ہے۔ بظاہر نیکی اور ثواب کے نام پر ایجاد کی جانے والی بدعات درحقیقت سنت کی جگہ لے لیتی ہیں، اور یوں آہستہ آہستہ دین اپنی اصل صورت سے دور ہو جاتا ہے۔

:سنت: دین کا زندہ نمونہ

رسول اللہ ﷺ کی سنت دین کی عملی تشریح ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرت، ہر شعبے میں نبی ﷺ نے ایسا متوازن، فطری اور قابلِ عمل نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ کسی بھی عمل سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ نبی ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا۔

عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داری

آج امتِ مسلمہ کو جن فکری اور عملی گمراہیوں کا سامنا ہے، ان میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے محبتِ رسول ﷺ کو جذباتی نعروں تک محدود کر دیا اور اتباعِ رسول ﷺ کو عملی زندگی سے نکال دیا۔ حالانکہ قرآن کا پیغام بالکل واضح ہے: اتباع کے بغیر محبت معتبر نہیں۔

آیتِ ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ﴾ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دین میں اصل قدر، اخلاص کے ساتھ سنت کی پیروی ہے۔ بدعت خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو، وہ اتباعِ رسول ﷺ کا بدل نہیں بن سکتی۔ امت کی نجات، وحدت اور روحانی احیا اسی میں ہے کہ وہ قرآن و سنت کو اپنا واحد معیار بنائے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی دینی شناخت قرار دے۔

— جاری ہے

اتباع رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط

 اتباعِ رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اس سلسلۂ مضامین میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ دینِ اسلام کی اصل روح، اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع میں مضمر ہے۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو، فلاحِ دارین کی جستجو ہو یا امت کی اجتماعی نجات، ہر پہلو اسی ایک اصول سے وابستہ ہے۔ اختتامی قسط میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے اتباعِ رسول ﷺ کو کس طرح اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنایا، اور یہ منہج آج امت کے لیے کس طرح ایک زندہ نمونہ بن سکتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ: اتباعِ رسول ﷺ کا عملی پیکر

صحابۂ کرامؓ کی امتیازی شان یہ تھی کہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ سنتِ نبوی ﷺ سے خالی نہ تھا۔ عبادات ہوں یا معاملات، جنگ ہو یا امن، گھریلو زندگی ہو یا ریاستی نظم، ہر موقع پر ان کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا: “رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا؟”

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ معمول معروف ہے کہ وہ سفر کے دوران انہی مقامات پر قیام فرماتے جہاں نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا، خواہ بظاہر اس کی کوئی عقلی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہ طرزِ عمل اس محبت اور اطاعت کی عملی تصویر تھا جسے قرآن نے مطلوب قرار دیا ہے۔

:سنت کی حفاظت اور دین کی بقا

صحابۂ کرامؓ نے نہ صرف خود سنت پر عمل کیا بلکہ اس کی حفاظت اور اشاعت کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے دین میں اضافے اور کمی دونوں سے سخت اجتناب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نئے عمل کا سوال اٹھتا تو وہ  

فوراً کہتے: کہ “کیا یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھا؟

اگر جواب نفی میں ہوتا تو وہ اسے اختیار کرنے سے رک جاتے۔ یہی وہ شعور تھا جس نے بدعت کے دروازے بند رکھے اور دین کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھا۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور اجتماعی نظام

اتباعِ رسول ﷺ کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہ تھا بلکہ اجتماعی اور ریاستی نظم بھی اسی کے تابع تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں عدلِ اجتماعی، شفاف احتساب، بیت المال کا امانت دارانہ استعمال اور قانون کی بالادستی یہ سب سنتِ نبوی ﷺ ہی کا تسلسل تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول تاریخ کا روشن باب ہے:

“اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالٰی عمر سے سوال کرے گا”۔

یہ احساسِ جواب دہی دراصل اتباعِ رسول ﷺ کا ہی ثمر تھا۔

:امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی کمزوری، ان سب کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے سنت کو محض رسمی یا اختلافی مسئلہ بنا دیا ہے، حالانکہ وہ دین کی روح اور زندگی کا عملی نظام ہے۔ صحابۂ کرامؓ کا اسوہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سنت کو جزوی نہیں بلکہ کامل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کیا جائے۔

خلاصۂ کلام

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالٰی کی محبت کا راستہ اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔

سنت سے وابستگی دین کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

صحابۂ کرامؓ کا منہج امت کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔

اگر آج کا مسلمان اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکز بنا لے تو نہ صرف دینی شناخت بحال ہو سکتی ہے بلکہ امت دوبارہ عزت، وحدت اور قیادت کے مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔

یہی قرآن کا مطالبہ ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کا پیغام اور یہی امتِ مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

Wednesday, 14 January 2026

اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال

 پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال. ایک جامع تحقیقی مطالعہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات آزادی کے فوراً بعد سے ہی پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد دونوں نئے پیدا ہونے والے ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ علاقے، سیاست اور شناخت کے معاملات پر اختلافات شروع کر دیے، جنہوں نے گزشتہ 75 سال سے بھی زیادہ عرصے تک امن کو ناقابلِ یقین حد تک خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ سب سے بڑا اور بنیادی تنازع کشمیر کا ہے، جس کو دونوں ملک اپنی خودمختار ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر کی جنگ 1947–48 میں اقوامِ متحدہ کے ثالثی کے بعد ایک عارضی لائن آف کنٹرول (LoC) کی صورت میں منقسم ہوا جو آج تک کشمکش کا محور ہے۔ 

تاریخی پس منظر

1947 کے تقسیم کے بعد تین بڑی جنگیں ہوئیں: 1947–48، 1965، اور 1971۔ 1971 کی جنگ کے بعد سملہ معاہدہ (Simla Agreement) طے پایا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو امن کے ذریعے حل کرنے اور لائن آف کنٹرول کو باوقار قبول کرنے کا عہد کیا۔ � گزشتہ دہائیوں میں بھی کیریگل وار (1999) اور کشیدگی کے متعدد اوقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید متشنج کیا۔

حالیہ کشیدگی (2025–2026)

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملہ میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، جس کے بعد صورت حال شدید خراب ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی (Indus Waters Treaty) معطل کردی، پاکستانی سفارت کاروں کو نکالا، اور بارڈر سخت کردیا۔ � پاکستان نے ان دعووں کی تردید کی اور اپنے اقدامات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف اہداف پر میزائل اور فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ � پاکستان نے بھی جواب میں فضائی اور زمینی جوابی کارروائی کی جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو عمل میں آیا، لیکن دونوں جانب کشیدگی برقرار رہی۔ �

تنازع کے اہم نکات

۱. کشمیر کا مسئلہ:

کشمیر ہمیشہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع رہا ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جس نے نہ صرف بارودی سرحدی فائرنگ بلکہ اندرونی عسکری بغاوتوں کو بھی جنم دیا ہے۔ 

۲. معاہدوں اور اقتصادی کشیدگی:

2025 کے تنازع میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی معطل کی، جس نے پانی کے مشترکہ حقوق پر سوال اُٹھا دیے، جبکہ پاکستان نے تجارت اور دیگر معاہدوں میں تعطل بتایا۔ 

۳. عسکری چالیں:

دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون، اور زمینی فوجی ردعمل کا استعمال کیا جس نے کشیدگی کو بڑھایا اور LoC پر اکثر ڈرون مشاہدات اور سرحدی جھڑپوں کا رجحان دیکھا گیا۔ 

۴. عالمی و علاقائی ردعمل:

بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، نے جنگ بندی میں ثالثی کی کوششیں کیں اور دونوں فریقوں کو پر تشدد کارروائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ 

اقتصادی اور سماجی اثرات

بھارتی معیشت کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ مسلسل کشیدگی بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اشتعال انگیز سیاسی ماحول سرمایہ کاری اور برآمدات کو متاثر کرسکتا ہے۔

 پاکستان کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا، جبکہ دوسری طرف اندرونی منظرنامے میں دفاعی اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

نتیجہ

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ تاریخی جنگوں، کشمیر کے تنازع، پانی اور معاہدوں کی معطلی، اور علاقائی عسکری سرگرمیوں نے امن عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ 2025 کے متنازعہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوئی، مگر بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں اور ان کے دیرپا حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کو ثالثی، اعتماد سازی کے اقدام، اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کا راستہ یقینی بنایا جا سکے۔

ماہ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

 ماہِ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ماہِ رجب اسلامی تقویم کا ایک محترم اور معزز مہینہ ہے جسے قرآنِ کریم نے اشہرِ حُرم میں شامل فرمایا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بالخصوص رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو واقعۂ اسراء و معراج النبی ﷺ سے منسوب کر کے خصوصی تقدس، عبادات اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ اور علمی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قرآن و سنت، آثارِ صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ دین کے نزدیک اس رات کی کوئی خاص شرعی فضیلت ثابت ہے یا یہ بعد کے ادوار میں رائج ہونے والا ایک مذہبی تصور ہے؟

قرآنِ کریم کی روشنی میں

قرآنِ کریم میں واقعۂ اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل (آیت 1) میں نہایت اختصار مگر عظیم شان کے ساتھ آیا ہے:

“سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا…”

لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں نہ تو اس واقعے کی تاریخ، نہ مہینہ اور نہ ہی کسی مخصوص رات کا تعین کیا گیا ہے۔ یہی بات اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن نے اس واقعے کی عقیدتی و ایمانی اہمیت کو بیان کیا، نہ کہ اس کی تقویمی تخصیص کو۔

احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ

احادیثِ صحیحہ میں معراج النبی ﷺ کا تفصیلی ذکر ملتا ہے، خصوصاً صحیح بخاری و مسلم میں، مگر محدثین کا اتفاق ہے کہ کسی صحیح، صریح اور قطعی حدیث میں یہ تصریح موجود نہیں کہ معراج ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آئی۔

امام نوویؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور امام قرطبیؒ جیسے جلیل القدر محدثین نے واضح طور پر لکھا ہے کہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، اور کسی ایک رات کو قطعی طور پر معین کرنا علمی طور پر درست نہیں۔

آثارِ صحابہؓ اور سلف صالحین کا طرزِ عمل

اگر رجب کی ستائیسویں شب واقعی کوئی خاص عبادتی فضیلت رکھتی تو بلا شبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا اہتمام فرماتے۔ مگر تاریخی و حدیثی ذخیرے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں کہ صحابہؓ، تابعین یا تبع تابعین نے اس رات کو مخصوص عبادات، روزے یا جشن کے طور پر منایا ہو۔

امام ابن تیمیہؒ صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:

“معراج کی رات کو مخصوص عبادت کے لیے مقرر کرنا نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہاء کا موقف

ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) میں سے کسی سے بھی رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت یا اس رات کے لیے مخصوص عبادات کا ثبوت نہیں ملتا۔

فقہاء و مجتہدین نے اصولی طور پر یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ عبادات میں اصل توقیف ہے، یعنی جس عبادت کی خاص ہیئت، وقت یا فضیلت نصِ شرعی سے ثابت نہ ہو، اسے دین کا حصہ بنانا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

اصل پیغام اور صحیح طرزِ فکر

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ واقعۂ معراج ایمان، رسالت اور عظمتِ مصطفی ﷺ کا بے مثال مظہر ہے۔ پانچ وقت کی نماز جیسی عظیم نعمت اسی شب عطا ہوئی، جو معراج کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ مگر اس عظیم واقعے کی یاد کو کسی غیر ثابت تاریخ یا مخصوص رسوم کے ساتھ جوڑ دینا، اصل روح سے انحراف کے مترادف ہے۔

نتیجہ

خلاصۂ تحقیق یہ ہے کہ:

معراج النبی ﷺ ایک قطعی اور متفق علیہ واقعہ ہے۔

لیکن ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت قرآن، سنت، آثارِ صحابہؓ اور ائمۂ دین سے ثابت نہیں۔

اس رات کو بطورِ خاص عبادت یا جشن کے طور پر منانا شرعی دلیل سے خالی ہے۔

البتہ معراج کے پیغام، خصوصاً نماز کی پابندی، اطاعتِ رسول ﷺ اور روحانی تربیت کو اپنانا ہی اس واقعے کا حقیقی تقاضا ہے۔

دینِ اسلام جذبات نہیں بلکہ دلائل کا نام ہے، اور امت کی اصلاح اسی میں ہے کہ وہ ثابت شدہ سنت کو اختیار کرے اور غیر ثابت امور میں احتیاط برتے۔

قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں

 قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

اسلامی معاشی نظام کی بنیاد عدل، توازن اور انسانی فلاح پر قائم ہے۔ قرآن و سنت نے جن معاشی اصولوں کو قطعی اور غیر متبدل قرار دیا ہے، ان میں سب سے نمایاں سود کی حرمت اور تجارت کی حلت ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں سود کو مختلف ناموں سے تجارت کے ہم معنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام نے ان دونوں کے درمیان واضح، قطعی اور فیصلہ کن حدِ فاصل قائم کی ہے۔

قرآنِ مجید اس فرق کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے:

“وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا” (البقرہ: 275)

یعنی اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلی عرب سود کو بھی تجارت ہی کی ایک شکل سمجھتے تھے، جسے قرآن نے دو ٹوک انداز میں رد کر دیا۔ یہ آیت بذاتِ خود سود اور تجارت کے فرق کا حتمی معیار ہے۔

سود دراصل وہ طے شدہ اضافہ ہے جو قرض پر وقت کے عوض لیا جائے، چاہے مقروض کو نفع ہو یا نقصان۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کسی کو ایک لاکھ روپے قرض دے اور شرط رکھے کہ چھ ماہ بعد ایک لاکھ بیس ہزار واپس کرے گا تو یہ اضافہ سود ہے، کیونکہ نفع پہلے سے متعین اور یقینی ہے، جبکہ نقصان کا پورا بوجھ ایک ہی فریق پر پڑتا ہے۔ اس میں نہ حقیقی تجارت شامل ہے اور نہ محنت یا خطرہ۔

اس کے برعکس تجارت وہ معاشی عمل ہے جس میں سرمایہ بھی لگتا ہے، محنت بھی ہوتی ہے اور نفع و نقصان دونوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ اگر دو افراد مل کر کاروبار کریں اور نفع ہو تو دونوں شریک ہوں، اور نقصان ہو تو دونوں متاثر ہوں، تو یہی بیع و تجارت ہے جو شریعت میں حلال ہے۔

صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ نے اس فرق کو نہایت وضاحت سے بیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے:

“ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، وہ ربا ہے۔”

حضرت عمر بن خطابؓ سود کے شبہ سے بھی اجتناب فرماتے اور کہتے تھے کہ ربا کے کئی دروازے ہیں، ان سے بچنا ہی نجات ہے۔ تابعین میں حضرت حسن بصریؒ نے نہایت جامع اصول بیان فرمایا:

“تجارت وہ ہے جس میں خطرہ ہو، اور سود وہ ہے جس میں ضمانت ہو۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قرض کا مقصد احسان ہے، نفع نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرض پر ہر مشروط اضافہ سودِ صریح ہے، جبکہ تجارت میں نفع کا تعلق خطرے سے ہے۔ امام مالکؒ کے مطابق وہ نفع جو ضمانت کے ساتھ ہو، چاہے محنت بھی کی گئی ہو، سود کے دائرے میں آتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ نفع کی شرط قرض کو حرام بنا دیتی ہے، اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک جس معاملے میں نفع یقینی اور نقصان کا کوئی امکان نہ ہو، وہ ربا ہے۔

یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو اسلامی معیشت کو سودی نظام سے ممتاز کرتے ہیں اور ایک عادلانہ معاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

سود اور تجارت: شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل

قسط دوم: عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔

دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔

ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔

سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔

اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

قسط دوم۔ دوم۔ سود اور تجارت

 *قسط دوم۔ سود اور تجارت:

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

 شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل، عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ

گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔

دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔

ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔

سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔

اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

قسط سوم۔ سود کے خلاف اسلام کا تہذیبی و معاشی اعلانِ جنگ

 قسط سوم: سود کے خلاف اسلام کا تہذیبی و معاشی اعلانِ جنگ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت کے فرق کو اصولی اور فقہی سطح پر سمجھ لینے کے بعد اب ناگزیر ہے کہ سود کے بارے میں قرآنِ مجید کی سخت وعیدات، اس کے معاشرتی و اخلاقی اثرات، اور پھر اسلام کی طرف سے پیش کردہ عملی معاشی متبادل کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے۔ یہ پہلو اس بحث کو محض فقہی نہیں بلکہ تہذیبی، اخلاقی اور تمدنی سطح پر واضح کرتا ہے۔

قرآنِ مجید میں سود وہ واحد معاشی جرم ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے صریح اعلانِ جنگ فرمایا:

“فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ” (البقرہ: 279)

یہ وعید اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ سود صرف ایک انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایسا اجتماعی جرم ہے جو پورے معاشرتی نظام کو برباد کر دیتا ہے۔ کسی اور مالی یا معاشی معاملے پر ایسی سخت وعید قرآن میں نہیں ملتی۔

نبی کریم ﷺ نے سود لینے، دینے، لکھنے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سود ایک ہمہ گیر برائی ہے، جس میں شریک ہونے والا ہر فرد گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ایک حدیث میں سود کے گناہ کو اتنا شدید قرار دیا گیا کہ اس کے ہلکے ترین درجے کو بھی بدترین اخلاقی جرم سے تشبیہ دی گئی۔ یہ سب تنبیہات اس لیے ہیں کہ انسان سود کی قباحت کو معمولی نہ سمجھے۔

معاشرتی سطح پر سود کے اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ سودی نظام میں دولت کی گردش رک جاتی ہے اور سرمایہ چند طاقتور ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ غریب مسلسل مقروض، کمزور اور محتاج بنتا چلا جاتا ہے، جبکہ سرمایہ دار بغیر محنت کے مزید طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طبقاتی خلیج بڑھتی ہے، سماجی انصاف ختم ہوتا ہے اور باہمی ہمدردی دم توڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی معاشروں میں بے چینی، جرائم اور اخلاقی زوال عام ہو جاتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جب کسی معاشرے میں سود عام ہو جائے تو وہاں اچانک ہلاکتیں اور آزمائشیں بڑھ جاتی ہیں۔ تابعین اور تبع تابعین نے بھی سود کو معاشرتی بگاڑ کی جڑ قرار دیا اور اسے فرد کے ساتھ ساتھ پورے نظام کے لیے زہرِ قاتل کہا۔

اسلام نے سود کو محض حرام قرار دے کر چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کے متبادل کے طور پر ایک مکمل، متوازن اور قابلِ عمل معاشی نظام پیش کیا۔ مضاربت میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا محنت، نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان سرمایہ دار برداشت کرتا ہے۔ مشارکت میں تمام شرکاء نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ بیع، سلم اور اجارہ جیسے عقود تجارت کو فروغ دیتے اور استحصال کا راستہ بند کرتے ہیں۔ ان تمام اصولوں کی بنیاد یہی ہے کہ نفع خطرے کے بغیر جائز نہیں۔

یہ کہنا کہ جدید دور میں سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی، دراصل فکری مایوسی اور اعتماد کی کمی کا اظہار ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی تہذیب کے عروج کے ادوار میں معیشت سود کے بغیر کامیابی سے چلتی رہی۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت، اخلاق اور نظام کی درست تشکیل کا ہے۔

آج اسلامی بینکاری اور شریعت کے مطابق مالیاتی ادارے اسی سمت ایک عملی قدم ہیں، اگرچہ ان میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ سود سے پاک معیشت کوئی خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل حقیقت ہے۔

پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ ہے، جبکہ تجارت اللہ کی رحمت اور معاشرتی بقا کا ذریعہ۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کی معیشت انصاف پر قائم ہو، اور انصاف سود کے بغیر ہی ممکن ہے۔

قسط چہارم: نظریہ اور عمل کے درمیان فاصلہ کیوں؟

 قسط چہارم: نظریہ اور عمل کے درمیان فاصلہ کیوں؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: اسلامی بینکاری، عملی اعتراضات اور زمینی حقائق

گزشتہ اقساط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق، قرآنی وعیدات، معاشرتی نقصانات اور اسلامی متبادل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس قسط میں ایک نہایت اہم اور حساس سوال کا تجزیہ مقصود ہے، اور وہ یہ کہ اسلامی بینکاری واقعی سود سے پاک ہے یا محض سود کا نیا نام؟ نیز یہ بھی کہ نظریۂ اسلامی معیشت اور موجودہ عملی ڈھانچے کے درمیان فاصلہ کیوں نظر آتا ہے۔

سب سے پہلے یہ اصول ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اسلامی بینکاری ایک نظریہ نہیں بلکہ فقہی اصولوں کا اطلاق ہے۔ اس کا مقصد سودی قرض کے بجائے شراکت، بیع اور اجارہ جیسے جائز عقود کو فروغ دینا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ اسلامی بینکاری مکمل اسلامی معیشت نہیں بلکہ سودی نظام کے اندر ایک متبادل تجربہ ہے، جس کی وجہ سے اس میں بعض عملی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلامی بینک بھی “منافع” پہلے سے طے کر لیتے ہیں، اس لیے وہ سود ہی کی ایک شکل ہیں۔ اس اعتراض کا علمی جواب یہ ہے کہ اگر کوئی معاملہ قرض کی بنیاد پر ہو اور اس پر نفع مشروط ہو تو وہ یقیناً سود ہے، لیکن اگر معاملہ بیع، اجارہ یا مشارکت کی بنیاد پر ہو تو وہاں نفع کی تعیین سود نہیں بلکہ تجارتی منافع شمار ہوتی ہے، بشرطیکہ حقیقی خرید و فروخت، ملکیت کی منتقلی اور خطرے کی شمولیت موجود ہو۔

اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اسلامی بینکاری کے بعض ادارے فقہی روح کے بجائے محض فقہی صورت پر اکتفا کرتے ہیں۔ نتیجتاً بعض معاملات میں خطرہ حقیقی طور پر بینک برداشت نہیں کرتا بلکہ بالواسطہ طور پر گاہک ہی پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تنقید جنم لیتی ہے اور اصلاح کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کی ناکامی دراصل اسلامی معیشت کی ناکامی نہیں بلکہ عمل درآمد کی کمزوری ہے۔ فقہائے امت نے جن اصولوں پر مضاربت، مشارکت اور بیع کو جائز قرار دیا، وہ اصول آج بھی اتنے ہی مضبوط اور قابلِ عمل ہیں۔ مسئلہ نیت، نگرانی اور اخلاقی جرات کا ہے، نہ کہ شریعت کے اصولوں کا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی معیشت صرف بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک پورا معاشی ماحول—ٹیکس نظام، حکومتی قرضے، بجٹ، مالیاتی پالیسیاں—سودی بنیادوں پر قائم رہیں گی، اس وقت تک اسلامی بینکاری سے مکمل نتائج کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہوگی۔ اسلامی معیشت ایک ہمہ جہتی نظام ہے، جس کے لیے ریاستی سطح پر عزم، قانون سازی اور تدریجی نفاذ ناگزیر ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کاروباری دنیا سود کے بغیر نہیں چل سکتی۔ یہ دعویٰ تاریخ اور منطق دونوں کے خلاف ہے۔ صدیوں تک مسلم دنیا میں تجارت، صنعت اور عالمی منڈیاں سود کے بغیر چلتی رہیں۔ اصل رکاوٹ سود نہیں بلکہ لالچ، عدم اعتماد اور اخلاقی زوال ہے۔ جب سرمایہ دار محنت کے بجائے ضمانت شدہ منافع کا عادی ہو جائے تو سود ناگزیر محسوس ہونے لگتا ہے۔

اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ نفع اسی کا حق ہے جو خطرہ مول لے۔ یہی اصول معاشی عدل کی بنیاد ہے۔ اگر نفع یقینی ہو اور نقصان کا امکان صفر، تو وہ تجارت نہیں بلکہ استحصال ہے، چاہے اسے کسی بھی خوبصورت نام سے پکارا جائے۔

آخر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کو رد کر دینا حل نہیں، بلکہ اس کی اصلاح، تطہیر اور نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں حلال تجارت، شراکت اور اعتماد کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی راستہ ہمیں سودی غلامی سے نکال کر حقیقی اسلامی معاشی آزادی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

قسط پنجم: ریاست، عدالت اور معاشرتی ذمہ داری

 قسط پنجم: ریاست، عدالت اور معاشرتی ذمہ داری

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: پاکستان میں سود کے خاتمے کا آئینی، عدالتی اور عملی تناظر

سود اور تجارت کے فرق پر ہونے والی بحث اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسے پاکستان کے آئینی، عدالتی اور عملی تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر معرضِ وجود میں آیا، جس کے آئین میں قرآن و سنت کے مطابق نظامِ حیات کے نفاذ کا عہد شامل ہے۔ اس تناظر میں سود کا خاتمہ محض ایک دینی مطالبہ نہیں بلکہ ایک آئینی ذمہ داری بھی ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38(ف) واضح طور پر ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے تدریجی مگر مؤثر اقدامات کرے۔ اسی طرح آرٹیکل 227 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا۔ یہ آئینی دفعات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ سودی نظام کو مستقل حیثیت دینا ریاستی وعدوں اور نظریاتی بنیادوں سے انحراف کے مترادف ہے۔

عدالتی سطح پر بھی سود کے خلاف تاریخی فیصلے موجود ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے متعدد فیصلوں میں سود کو ہر شکل میں حرام قرار دیا اور حکومت کو اس کے خاتمے کے لیے واضح ٹائم فریم دینے کی ہدایت کی۔ ان فیصلوں میں بینک سود، حکومتی قرضے اور مالیاتی آلات سب کو سود کے دائرے میں شمار کیا گیا۔ اگرچہ عملی نفاذ میں تاخیر اور پیچیدگیاں سامنے آئیں، مگر اصولی موقف آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ اگر سود اتنا ہی حرام اور نقصان دہ ہے تو ریاست اسے ختم کیوں نہیں کر پاتی؟ اس کا جواب محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی، ادارہ جاتی اور اخلاقی بھی ہے۔ سودی نظام عالمی معاشی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے، اور اس سے نکلنے کے لیے محض نعرے نہیں بلکہ سنجیدہ منصوبہ بندی، تدریجی حکمتِ عملی اور قومی اتفاقِ رائے درکار ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سود کا خاتمہ صرف بینکاری اصلاحات سے ممکن نہیں۔ جب تک حکومتی بجٹ خسارے، ٹیکس نظام، قرضوں کی ساخت اور مالیاتی پالیسی سودی بنیادوں پر قائم رہیں گی، اس وقت تک اسلامی بینکاری جزوی اور محدود نتائج ہی دے سکے گی۔ اسلامی معیشت ایک مکمل نظام ہے، جس کے لیے ریاستی سطح پر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی اصلاح ناگزیر ہے۔

معاشرتی سطح پر بھی ہماری ذمہ داری کم نہیں۔ جب تک ہم خود سودی سہولتوں، آسان قرضوں اور یقینی منافع کے عادی رہیں گے، اس وقت تک سودی نظام مضبوط ہی رہے گا۔ اسلام فرد کو یہ شعور دیتا ہے کہ معاشی آسانی کا راستہ ہمیشہ اخلاقی درستگی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ وقتی فائدے سے۔

اسلام نے ریاست، عدالت اور فرد تینوں کو سود کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ ریاست قانون سازی کرے، عدالت نگرانی اور اصلاح کرے، اور معاشرہ عملی طور پر حلال تجارت اور شراکت کو فروغ دے۔ یہی وہ مشترکہ جدوجہد ہے جس سے سودی نظام کمزور اور اسلامی معاشی اصول مضبوط ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ بات پوری دیانت سے کہی جا سکتی ہے کہ سود کا خاتمہ کوئی خواب نہیں بلکہ ایک آئینی، عدالتی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر نیت، قیادت اور اجتماعی شعور بیدار ہو جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے نظریے سے وفاداری ثابت کر سکتا ہے بلکہ دنیا کو ایک منصفانہ اور متبادل معاشی ماڈل بھی فراہم کر سکتا ہے۔

قسط ششم (اختتامی): کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

 قسط ششم (اختتامی): کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: فکری محاسبہ، اجتماعی ذمہ داری اور اسلامی معیشت کا راستہ

سود اور تجارت کے موضوع پر اس سلسلۂ کالم کی تمام اقساط کا مقصد محض فقہی معلومات فراہم کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک فکری محاسبہ اور اجتماعی بیداری پیدا کرنا تھا۔ اب، اختتام پر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم بحیثیت فرد، معاشرہ اور ریاست کہاں کھڑے ہیں، اور اسلامی معیشت کے راستے پر آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اسلام نے سود کو محض ایک ناجائز مالی معاملہ نہیں بلکہ انسانی عدل، معاشرتی توازن اور اخلاقی بقا کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے سود پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ سود کا مسئلہ محض بینک، قرض یا منافع تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشی اور سماجی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے کہ تجارت اور سود میں فرق صرف ناموں یا طریقۂ کار کا نہیں بلکہ فلسفۂ معیشت کا فرق ہے۔ تجارت محنت، خطرے اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سود ضمانت، استحصال اور عدم توازن پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک نظام دولت کو گردش میں رکھتا ہے، دوسرا اسے چند ہاتھوں میں قید کر دیتا ہے۔

یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ اسلامی معیشت محض اسلامی بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک ریاستی پالیسیاں، مالیاتی نظام، حکومتی قرضے، بجٹ سازی اور ٹیکس ڈھانچہ سودی بنیادوں پر قائم رہیں گے، اس وقت تک اسلامی معیشت مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ اسلامی بینکاری ایک قدم ہے، پورا سفر نہیں۔

اختتامی نکتہ یہ ہے کہ سود کے خاتمے کی جدوجہد تین سطحوں پر ہونی چاہیے:

اوّل: فرد کی سطح پر

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق سودی معاملات سے بچے، حلال تجارت کو اختیار کرے، اور یقینی منافع کے بجائے جائز خطرے کو قبول کرنے کی تربیت اپنے اندر پیدا کرے۔ فرد کی اصلاح کے بغیر کوئی معاشی انقلاب ممکن نہیں۔

دوم: معاشرتی سطح پر

کاروباری طبقہ، تاجر، صنعت کار اور تعلیمی ادارے اس شعور کو فروغ دیں کہ منافع کا حق اسی کو ہے جو نقصان کا خطرہ بھی قبول کرے۔ شراکت، اعتماد اور دیانت کو کاروباری اخلاقیات کا حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں سودی نظام کمزور پڑتا ہے۔

سوم: ریاستی سطح پر

ریاست پر لازم ہے کہ وہ آئینی تقاضوں کے مطابق سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ، تدریجی اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کرے۔ یہ عمل وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی اتفاقِ رائے، ماہرین کی رہنمائی اور مضبوط قانون سازی کا متقاضی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلامی معیشت کوئی خیالی تصور نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم تہذیب نے صدیوں تک بغیر سود کے مضبوط تجارتی، صنعتی اور مالیاتی نظام چلایا۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، اخلاق اور نیت کی کمزوری ہے۔

آخر میں پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سودی نظام وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر دیرپا عدل، استحکام اور انسانی فلاح فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس اسلامی معیشت انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، دولت کو گردش میں رکھتی ہے اور معاشرے کو استحصال سے بچاتی ہے۔

یہ سلسلہ اسی پیغام پر ختم ہوتا ہے کہ سود غلامی ہے اور تجارت آزادی؛ سود ٹکراؤ ہے اور تجارت تعاون؛ سود جنگ ہے اور تجارت رحمت۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، باوقار اور خوددار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں انتخاب کرنا ہوگا—اور یہ انتخاب محض الفاظ سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے ثابت کرنا ہو گا۔

قسط ششم (اختتامی)کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

قسط ششم (اختتامی): کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: فکری محاسبہ، اجتماعی ذمہ داری اور اسلامی معیشت کا راستہ

سود اور تجارت کے موضوع پر اس سلسلۂ کالم کی تمام اقساط کا مقصد محض فقہی معلومات فراہم کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک فکری محاسبہ اور اجتماعی بیداری پیدا کرنا تھا۔ اب، اختتام پر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم بحیثیت فرد، معاشرہ اور ریاست کہاں کھڑے ہیں، اور اسلامی معیشت کے راستے پر آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اسلام نے سود کو محض ایک ناجائز مالی معاملہ نہیں بلکہ انسانی عدل، معاشرتی توازن اور اخلاقی بقا کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے سود پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ سود کا مسئلہ محض بینک، قرض یا منافع تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشی اور سماجی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے کہ تجارت اور سود میں فرق صرف ناموں یا طریقۂ کار کا نہیں بلکہ فلسفۂ معیشت کا فرق ہے۔ تجارت محنت، خطرے اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سود ضمانت، استحصال اور عدم توازن پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک نظام دولت کو گردش میں رکھتا ہے، دوسرا اسے چند ہاتھوں میں قید کر دیتا ہے۔

یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ اسلامی معیشت محض اسلامی بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک ریاستی پالیسیاں، مالیاتی نظام، حکومتی قرضے، بجٹ سازی اور ٹیکس ڈھانچہ سودی بنیادوں پر قائم رہیں گے، اس وقت تک اسلامی معیشت مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ اسلامی بینکاری ایک قدم ہے، پورا سفر نہیں۔

اختتامی نکتہ یہ ہے کہ سود کے خاتمے کی جدوجہد تین سطحوں پر ہونی چاہیے:

اوّل: فرد کی سطح پر

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق سودی معاملات سے بچے، حلال تجارت کو اختیار کرے، اور یقینی منافع کے بجائے جائز خطرے کو قبول کرنے کی تربیت اپنے اندر پیدا کرے۔ فرد کی اصلاح کے بغیر کوئی معاشی انقلاب ممکن نہیں۔

دوم: معاشرتی سطح پر

کاروباری طبقہ، تاجر، صنعت کار اور تعلیمی ادارے اس شعور کو فروغ دیں کہ منافع کا حق اسی کو ہے جو نقصان کا خطرہ بھی قبول کرے۔ شراکت، اعتماد اور دیانت کو کاروباری اخلاقیات کا حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں سودی نظام کمزور پڑتا ہے۔

سوم: ریاستی سطح پر

ریاست پر لازم ہے کہ وہ آئینی تقاضوں کے مطابق سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ، تدریجی اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کرے۔ یہ عمل وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی اتفاقِ رائے، ماہرین کی رہنمائی اور مضبوط قانون سازی کا متقاضی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلامی معیشت کوئی خیالی تصور نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم تہذیب نے صدیوں تک بغیر سود کے مضبوط تجارتی، صنعتی اور مالیاتی نظام چلایا۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، اخلاق اور نیت کی کمزوری ہے۔

آخر میں پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سودی نظام وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر دیرپا عدل، استحکام اور انسانی فلاح فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس اسلامی معیشت انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، دولت کو گردش میں رکھتی ہے اور معاشرے کو استحصال سے بچاتی ہے۔

یہ سلسلہ اسی پیغام پر ختم ہوتا ہے کہ سود غلامی ہے اور تجارت آزادی؛ سود ٹکراؤ ہے اور تجارت تعاون؛ سود جنگ ہے اور تجارت رحمت۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، باوقار اور خوددار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں انتخاب کرنا ہوگا اور یہ انتخاب محض الفاظ سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے ثابت کرنا ہوگا۔

Tuesday, 13 January 2026

قسط پنجم، اسلامی معیشت کی عملی حکمت عملی اور عالمی مسائل کا حل

قسط پنجم: اسلامی معیشت کی عملی حکمت عملی اور عالمی مسائل کا حل
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
موجودہ عالمی اقتصادی بحران، غربت، عدم مساوات، مالی بدعنوانی اور بے روزگاری ایک ایسا چیلنج ہے جس کا حل محض اقتصادی ترقی یا سرمایہ کاری سے ممکن نہیں۔ اسلام نے اس کے لیے ایک جامع اور عملی ماڈل فراہم کیا ہے، جو اخلاق، انصاف، اور معاشرتی ذمہ داری کو مرکزی ستون بناتا ہے۔
اسلامی معیشت کی عملی حکمت عملی بنیادی طور پر چار ستونوں پر مشتمل ہے:
زکات اور صدقات کا نظام: دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے زکات اور صدقات کو قانونی اور اخلاقی فریم ورک کے تحت نافذ کیا جائے، تاکہ غرباء اور محتاج طبقہ بنیادی ضروریات حاصل کر سکے اور سماجی ہم آہنگی قائم رہے۔
سود کی ممانعت اور شفاف تجارت: مالی لین دین میں سود کی ممانعت اقتصادی استحکام پیدا کرتی ہے اور سرمایہ کاری کو اخلاقی بنیادوں پر فروغ دیتی ہے۔ شفاف معاہدات اور تجارت کے اصولوں سے کاروباری اعتماد اور معاشرتی بھروسہ قائم ہوتا ہے۔
معاشرتی انصاف اور حقوقِ فرد: اسلامی نظام میں ہر فرد کو اپنی محنت کے ثمرات حاصل کرنے کا حق ہے، لیکن سماجی ذمہ داری بھی لازم ہے۔ یہ توازن اقتصادی ترقی اور انسانی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔
غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے پروگرام: حکومت اور معاشرتی ادارے مل کر ایسے پروگرام نافذ کریں جو غربت، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی کمی کو مؤثر طریقے سے ختم کریں، جیسے ہنر مند تعلیم، کاروباری مواقع، اور چھوٹے سرمایہ کاری کے پروگرام۔
اسلامی اقتصادی نظام کی عالمی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب ہم موجودہ عالمی چیلنجز کو دیکھیں: مہنگائی، مالی عدم استحکام، سرمایہ کی غیر متوازن تقسیم، اور اخلاقی بحران۔ زکات اور صدقات کے نظام کے مؤثر نفاذ سے دولت کا مرکز کمزور پڑتا ہے اور سماجی توازن بحال ہوتا ہے۔ سود کی ممانعت اور حلال تجارت سے مالی استحکام پیدا ہوتا ہے، جبکہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
مزید برآں، اسلامی معیشت مستقبل کے بحرانوں کے لیے رہنما خطوط فراہم کرتی ہے۔ قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالی شفافیت، اور انسانی فلاح پر زور، اقتصادی ترقی کو انسانی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ بناتا ہے۔ اس ماڈل کے نفاذ سے نہ صرف غربت اور سماجی ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ عالمی اقتصادی بحرانوں کا بھی پائیدار حل سامنے آ سکتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام اقتصادیات ایک جامع، عملی اور اخلاقی ماڈل ہے جو فرد، معاشرہ، دولت اور انصاف کے درمیان متوازن توازن قائم کرتا ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ عالمی مسائل کا حل فراہم کرتا ہے بلکہ انسانی ترقی، معاشرتی ہم آہنگی، اور اخلاقی استحکام کے لیے بھی رہنما خطوط پیش کرتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر یہ اصول نافذ کیے جائیں تو وہ اقتصادی، اخلاقی اور سماجی لحاظ سے مستحکم اور خوشحال معاشرہ بن سکتا ہے۔۔

قسط جہارم، اسلامی نظام اقتصادیات کا عملی ماڈل: عالمی بحرانوں اور معاصر مسائل کا حل

قسط چہارم: اسلامی نظام اقتصادیات کا عملی ماڈل: عالمی بحرانوں اور معاصر مسائل کا حل

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

موجودہ عالمی اقتصادی منظرنامہ بحرانوں، غربت، دولت کی غیر متوازن تقسیم، اور مالی بدعنوانی سے بھرا ہوا ہے۔ متعدد ممالک میں معاشرتی اور اقتصادی ناانصافی بڑھ رہی ہے، جبکہ کمیونزم، سوشلزم، لبرلزم اور کیپیٹلزم کے مختلف تجربات نے جزوی کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر انسانی فلاح و بھلائی کے جامع اصولوں کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنایا۔ ایسے میں اسلامی اقتصادی نظام ایک عملی اور اخلاقی ماڈل کے طور پر اجاگر ہوتا ہے، جو نہ صرف فرد کی ترقی بلکہ معاشرتی توازن اور اخلاقی استحکام کو بھی یقینی بناتا ہے۔

اسلامی معیشت میں ذاتی ملکیت اور معاشرتی ذمہ داری کا متوازن امتزاج پایا جاتا ہے۔ فرد اپنی محنت کے مطابق دولت حاصل کرتا ہے، مگر اسے غرباء، مساکین اور محتاجوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ زکات، صدقات اور خیرات کے نظام سے دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے، اور معاشرتی عدم مساوات کمزور پڑتی ہے۔ یہ نظام کسی بھی معاشرے میں غربت اور سماجی ناہمواری کے مستقل حل کے لیے عملی رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔

سود کی ممانعت اور کاروبار میں شفافیت اسلامی معیشت کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ سودی معیشت کی جگہ حلال تجارت اور معاہدات کی بنیاد پر کاروبار، اقتصادی استحکام اور اخلاقی معیار کو برقرار رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف مالی بدعنوانی کم ہوتی ہے بلکہ سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد بھی بڑھتا ہے، جو کہ عالمی اقتصادی بحرانوں کا مؤثر حل ثابت ہوتا ہے۔

اسلامی نظام اقتصادیات غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ زکات اور صدقات کا نظام مالی امداد کے ساتھ ساتھ انسانی وقار اور معاشرتی عزت کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، لبرلزم اور کیپیٹلزم میں اقتصادی ترقی محدود حلقوں میں مرکوز رہتی ہے اور غرباء و مساکین کے حقوق اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

معاصر دنیا میں اقتصادی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور عدم مساوات جیسے مسائل اسلامی نظام اقتصادیات کے عملی ماڈل سے مؤثر طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام نے فرد، معاشرہ، دولت اور انصاف کے درمیان ایک متوازن توازن قائم کیا ہے، جو صرف اقتصادی ترقی پر نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھلائی پر بھی زور دیتا ہے۔

نتیجتاً، عالمی تجربات اور معاصر مسائل کے تقابلی مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی غیر اسلامی نظام مکمل طور پر انسانی فلاح، اخلاقی اصول اور معاشرتی انصاف کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ اسلامی معیشت ایک جامع، متوازن اور عملی ماڈل ہے، جو موجودہ اقتصادی بحران، غربت اور سماجی ناہمواری کے حل کے لیے رہنما خطوط فراہم کرتی ہے۔ یہ نظام فرد کی ترقی، معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی استحکام کو یکجا کر کے ایک متوازن اور مستحکم اقتصادی ماڈل پیش کرتا ہے، جو آج کے عالمی منظرنامے میں نہایت موزوں اور مؤثر ہے۔

قسط سوم، : لبرلزم، کیپیٹلزم اور اسلامی معیشت کے اخلاقی سماجی اثرات

قسط 3: لبرلزم، کیپیٹلزم اور اسلامی معیشت کے اخلاقی سماجی اثرات

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

جدید دنیا میں اقتصادی ترقی اور انسانی فلاح کی بحث اکثر لبرلزم اور کیپیٹلزم کے فلسفے سے جڑی رہتی ہے۔ لبرلزم اور کیپیٹلزم میں فرد کی آزادی، ذاتی ملکیت اور کاروباری حوصلہ افزائی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ یہ اصول اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ کرتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع پیدا کرتے ہیں۔ تاہم، عملی تجربات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سماجی ذمہ داری اور اخلاقی ضابطے کمزور ہوں تو دولت کی غیر متوازن تقسیم، غربت اور سماجی ناانصافی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کیپیٹلزم میں اقتصادی ترقی کی قیمت اکثر انسانی تعلقات، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی سے ادا کی جاتی ہے۔ بڑے سرمایہ دارانہ ادارے دولت کے محدود حلقوں میں جمع ہو جاتی ہے، جبکہ محتاج اور غریب طبقہ بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی توازن بگڑتا ہے اور انسانی عزت و وقار متاثر ہوتا ہے۔

اسلامی معیشت اس تناظر میں ایک متوازن اور اخلاقی حل پیش کرتی ہے۔ اسلام میں فرد کی آزادی اور ذاتی ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی معاشرتی ذمہ داری، زکات، صدقات اور خیرات کے ذریعے غرباء و مساکین کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے۔ سود کی ممانعت اور کاروبار میں شفافیت اقتصادی اور اخلاقی استحکام کو یقینی بناتی ہے۔ نتیجتاً، دولت کی تقسیم میں توازن، سماجی انصاف اور فرد و معاشرہ کی ترقی ساتھ ساتھ ممکن ہوتی ہے۔

اخلاقی اثرات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اسلامی نظام میں اقتصادی سرگرمی کا مقصد صرف مالی فائدہ نہیں، بلکہ انسانیت کی بھلائی اور سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ افراد کی محنت، کاروباری مہارت اور ذاتی ملکیت کی حفاظت کے ساتھ وہ اپنی سماجی ذمہ داری بھی ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، لبرلزم اور کیپیٹلزم میں اقتصادی سرگرمی اکثر ذاتی مفاد تک محدود رہتی ہے، جس سے معاشرتی برابری اور اخلاقی اقدار متاثر ہوتی ہیں۔

سماجی اثرات کے لحاظ سے، اسلامی نظام غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں متوازن کردار ادا کرتا ہے۔ زکات اور صدقات کا نظام نہ صرف مالی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ غرباء و مساکین کی عزت و وقار کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ لبرلزم اور کیپیٹلزم میں یہ نظام عموماً رضاکارانہ یا غیر مستحکم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سماجی فلاح کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو پاتے۔

نتیجہ یہ ہے کہ لبرلزم اور کیپیٹلزم اقتصادی ترقی اور کاروباری حوصلہ افزائی کے لیے مؤثر ہیں، لیکن اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کے بغیر وہ انسانی فلاح کے جامع مقصد کو پورا نہیں کر پاتے۔ اسلامی معیشت ایک مکمل اور متوازن ماڈل ہے، جو فرد کی ترقی، معاشرتی انصاف، اخلاقی استحکام اور اقتصادی توازن کو یکجا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ اقتصادی بحرانوں، غربت اور ناانصافی کا حل فراہم کرتی ہے بلکہ انسانیت کی بھلائی اور سماجی ہم آہنگی کو بھی یقینی بناتی ہے۔

قسط دوم، کمیونزم، سوشلزم اور اسلامی معیشت کا عملی تقابلی جائزہ

 بالکل! یہاں قسط 2 آپ کے انداز اور معیار کے مطابق تیار ہے:

قسط 2: کمیونزم، سوشلزم اور اسلامی معیشت کا عملی تقابلی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

معاصر اقتصادی نظریات کی عملی تاثیر کو سمجھنا انسانی معاشرت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کمیونزم، سوشلزم اور اسلامی معیشت کا تقابلی جائزہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ کون سا نظام انسان کی فلاح، معاشرتی انصاف اور اخلاقی توازن کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

کمیونزم میں دولت کی مکمل اجتماعی ملکیت اور تمام وسائل پر ریاست کا کنٹرول اصولی بنیاد ہے۔ اس ماڈل میں غرباء و مساکین کے حقوق کی حفاظت کا نظریہ موجود ہے، لیکن عملی سطح پر یہ اکثر افراد کی محنت اور ذاتی اختیارات کو محدود کر دیتا ہے۔ نتیجتاً پیداوار میں حوصلہ افزائی کم اور افراد میں ذہنی و معاشی دباؤ بڑھ جاتا ہے، جو انسانی فلاح کے اسلامی اصول کے خلاف ہے۔

سوشلزم میں بھی دولت کی تقسیم اور معاشرتی مساوات کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اکثر اس میں بھی ذاتی ملکیت اور کاروباری آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ اس سے فرد کی محنت اور اختیارات پر اثر پڑتا ہے، جبکہ اسلام میں ذاتی محنت کے حق کو صریحاً تسلیم کیا گیا ہے۔

اسلامی معیشت میں ذاتی ملکیت اور اجتماعی ذمہ داری کا متوازن امتزاج موجود ہے۔ زکات اور صدقات کے نظام کے ذریعے دولت کی منصفانہ تقسیم کی جاتی ہے، اور سود کی ممانعت معیشت میں اخلاقی شفافیت فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، زکات کی ادائیگی غرباء اور مساکین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی توازن قائم کرتی ہے، جبکہ سوشلزم یا کمیونزم میں یہ عمل اکثر جبری یا ریاستی دائرہ میں محدود رہتا ہے۔

اسلامی نظام میں کاروبار میں شفافیت، عدل و انصاف اور محتاجوں کی کفالت کے اصول واضح ہیں۔ ہر فرد کو اپنی محنت کے ثمرات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن وہ معاشرتی ذمہ داری سے آزاد نہیں۔ اس توازن نے نہ صرف اقتصادی ترقی ممکن بنائی بلکہ سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی اصولوں کی حفاظت بھی کی۔

کیپیٹلزم اور لبرلزم میں فرد کی آزادی اور ذاتی ملکیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جو اقتصادی ترقی میں مددگار ہے، مگر غرباء و مساکین کے حقوق اکثر نظر انداز ہوتے ہیں۔ اسلام میں اس کا متوازن حل زکات، صدقات اور خیرات کے نظام سے فراہم کیا گیا ہے، جس سے دولت کا غیر متوازن اجتماع روکا جا سکتا ہے۔

نتیجتاً، عملی تقابلی جائزہ یہ بتاتا ہے کہ کمیونزم اور سوشلزم کے بعض عناصر مثلاً دولت کی مساوات اور معاشرتی تحفظ قابل قدر ہیں، لیکن وہ انسانی آزادی اور محنت کے حقوق کی مکمل ضمانت نہیں دیتے۔ لبرلزم اور کیپیٹلزم اقتصادی حوصلہ افزائی دیتے ہیں مگر سماجی انصاف میں ناکام رہتے ہیں۔ اسلام ان تمام عناصر کو متوازن کرتا ہے: فرد کی ترقی، معاشرتی بھلائی، اخلاقی شفافیت اور دولت کی منصفانہ تقسیم۔

اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی معیشت نہ صرف ایک اخلاقی اور عملی ماڈل ہے بلکہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران، غربت اور عدم مساوات کے حل کے لیے ایک جامع رہنما خطوط فراہم کرتی ہے۔ اسلام نے انسانی فلاح، سماجی انصاف اور اقتصادی توازن کو یکجا کر کے ایک متوازن اور مستحکم نظام پیش کیا ہے، جو معاصر نظامات میں کہیں مکمل طور پر موجود نہیں۔

اگر آپ چاہیں تو میں قسط 3 میں لبرلزم، کیپیٹلزم اور اسلامی اقتصادی ماڈل کے اخلاقی و سماجی اثرات پر تفصیلی، عملی اور تحقیقی انداز میں مزید آگے بڑھا دوں، تاکہ یہ سلسلہ مکمل ہو جائے۔

کیا میں قسط 3 تیار کر دوں؟

قسط 1: اسلام اور معاصر اقتصادی و سماجی نظام ہائے حیات کا ایک تحقیقی جائزہ

 قسط 1: اسلام اور معاصر اقتصادی و سماجی نظام ہائے حیات کا ایک تحقیقی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

معاشرتی و اقتصادی نظام ہمیشہ سے انسانی تہذیب کے ارتقا کا بنیادی عنصر رہے ہیں۔ ہر دور کے نظاماتِ حکومت اور اقتصادی ماڈلز نے انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں کمیونزم، سوشلزم، لبرلزم، کیپیٹلزم وغیرہ کی نظریاتی بنیادیں معاشرتی انصاف، دولت کی تقسیم اور فرد کی آزادی جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ تاہم، قرآن و سنت کی روشنی میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کون سا نظام دین حق اسلام کے اخلاقی، سماجی اور اقتصادی اصولوں کے قریب ترین ہے۔

اسلامی نظام کی بنیاد قرآن و سنت کے واضح احکامات اور اصولوں پر استوار ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور جو شخص کسی محتاج کو کھانا کھلائے، گویا اس نے اللہ کو کھلایا” (سورۃ البقرۃ: 267)۔ یہ آیت اسلامی معیشت میں دولت کی منصفانہ تقسیم اور سماجی ذمہ داری کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی غرباء و مساکین کے حقوق، سود کی ممانعت، زکات اور صدقات کے نظام کو معاشرتی انصاف کی ضمانت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کمیونزم اور سوشلزم کے اصول بعض پہلوؤں میں اسلامی تعلیمات سے قریب نظر آتے ہیں، مثلاً دولت کی اجتماعی ملکیت اور معاشرتی مساوات کی اہمیت۔ لیکن ان کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام میں ذاتی ملکیت کی بھی اجازت ہے اور اسے حلال محنت و جائز کمائی کے ساتھ فروغ دیا جاتا ہے۔ سوشلزم یا کمیونزم میں بعض اوقات فرد کی محنت اور ذاتی اختیارات محدود ہو جاتے ہیں، جو اسلامی اصول کے برخلاف ہے کہ ہر انسان کو اپنی محنت کے ثمرات حاصل کرنے کا حق ہے۔

لبرلزم اور کیپیٹلزم میں فرد کی آزادی اور ذاتی ملکیت کو زیادہ وزن دیا جاتا ہے۔ یہ نظام اقتصادی ترقی اور کاروباری حوصلہ افزائی کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں اکثر معاشرتی ذمہ داری اور غرباء و محتاجوں کے حقوق کو مناسب مقام نہیں دیا جاتا، جو کہ اسلام میں بنیادی اصول ہے۔ کیپیٹلزم میں دولت کی غیر متوازن تقسیم اور سماجی ناانصافی اکثر انسانی حقوق کے تضاد کا سبب بنتی ہے، جبکہ اسلام میں زکات اور صدقات کے ذریعے اس غیر متوازن صورتحال کو متوازن کرنے کی تاکید ہے۔

اسلامی نظام معیشت میں سود کی ممانعت، کاروبار میں شفافیت، عدل و انصاف، محتاجوں کی کفالت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے اصول شامل ہیں، جو معاصر نظامات میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہیں لیکن مکمل ہم آہنگی کے ساتھ نہیں۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام ایک متوازن، اخلاقی اور سماجی انصاف پر مبنی ماڈل فراہم کرتا ہے، جو نہ صرف فرد کی ترقی بلکہ معاشرتی بھلائی کو بھی یقینی بناتا ہے۔

نتیجتاً، قرآن و سنت کی روشنی میں معاصر اقتصادی نظاموں کا تقابلی مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر نظام کے کچھ عناصر قابل قدر ہیں، لیکن مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق کوئی بھی نظام نہیں۔ اسلام نے فرد اور معاشرہ، دولت اور انصاف، ذاتی حقوق اور سماجی ذمہ داری کے درمیان متوازن توازن قائم کیا ہے، جو آج کے عالمی بحران اور اقتصادی ناہمواری کے حل کے لیے ایک عملی اور اخلاقی رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔

 غزہ، فلسطین اور صہیونی غصب: قرآن، سنت اور تاریخ کے آئینے میں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

یہ سوال کہ کیا غزہ سرزمینِ فلسطین کا حصہ ہے؟ محض جغرافیائی نہیں بلکہ دینی، تاریخی اور تہذیبی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا جواب قرآن و سنت، مستند تاریخ اور عالمی قوانین تینوں کی روشنی میں واضح اور غیر مبہم ہے: غزہ فلسطین ہی کا حصہ ہے اور ہمیشہ سے اس مقدس خطے کی روح، تاریخ اور جدوجہد کا مرکز رہا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں فلسطین کی حیثیت

قرآنِ کریم میں سرزمینِ فلسطین کو ارضِ مقدسہ قرار دیا گیا:

“يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ” (المائدہ: 21)

یہ تقدیس کسی نسلی یا نسلیّت پر مبنی دائمی ملکیت نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی سے مشروط ذمہ داری ہے۔ اسی لیے بنی اسرائیل کی نافرمانیوں پر قرآن نے ان کے زوال اور بکھراؤ کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں بیت المقدس اور اس کے اطراف (اکنافِ بیت المقدس) کی فضیلت آئی ہے جن میں فلسطین کا ساحلی خطہ، غزہ سمیت، شامل ہے۔ غزہ کی دینی عظمت اس لیے بھی ہے کہ یہ انبیائے کرام کے گزرگاہی خطے میں واقع ہے اور صحابہؓ و تابعینؒ کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو غزہ فلسطین کا جزوِ لاینفک ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ غزہ کنعانیوں، پھر رومیوں، بازنطینیوں، مسلم خلافت، ایوبیوں، ممالیک اور عثمانیوں کے ادوار میں فلسطین ہی کا حصہ رہا۔ 1517ء سے 1917ء تک پورا فلسطین including غزہ عثمانی سلطنت کے تحت ایک وحدت تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی مینڈیٹ (1920–1948) نے اسی وحدت کو برقرار رکھا، مگر سیاسی سازشوں نے خطے کی تقدیر بدل دی۔

صہیونی غصب: مراحل اور طریقۂ واردات:

یہودی غصب کسی ایک لمحے میں نہیں ہوا بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کئی مراحل میں مکمل کیا گیا:

سیاسی جواز کی تیاری: 1917ء کا اعلانِ بالفور جس میں برطانیہ نے ایک ایسی زمین پر “یہودی قومی وطن” کا وعدہ کیا جو اس کی ملکیت ہی نہ تھی۔

آبادیاتی انجینئرنگ: برطانوی سرپرستی میں یورپ سے یہودی آبادکاروں کی منظم ہجرت۔

مسلح دہشت گردی: ارگون، ہاگانا اور لیہی جیسے صہیونی گروہوں کے ذریعے دیہات کی تباہی، قتلِ عام (دیر یاسین) اور خوف پھیلا کر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی۔

1948ء کا نکبہ: اسرائیل کے اعلان کے ساتھ ہی سات لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی جلاوطنی؛ یروشلم کے مغربی حصے اور ساحلی علاقوں پر قبضہ۔

1967ء کی جنگ: مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ اگرچہ بعد ازاں غزہ میں براہِ راست آبادکاری ختم کی گئی، مگر محاصرہ اور کنٹرول برقرار رکھا گیا۔

اسرائیل کا قیام اور طاغوتی پشت پناہی:

اسرائیل کا وجود مغربی استعمار خصوصاً برطانیہ، پھر امریکا کی سیاسی، عسکری اور سفارتی پشت پناہی کا نتیجہ ہے۔ سرد جنگ کے بعد امریکا کی غیرمشروط حمایت، اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کا استعمال، اور عسکری امداد نے اسرائیلی بالادستی کو تقویت دی۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ طاغوتی نظام ہے جو ظلم کو قانون اور جارحیت کو “دفاع” بنا کر پیش کرتا ہے۔

نتیجہ: غزہ فلسطین ہے قرآن، سنت، تاریخ اور قانون سب اس پر شاہد ہیں۔ فلسطین کی تقدیس کسی قوم کی جاگیر نہیں بلکہ امانتِ الٰہی ہے۔ ظلم کے ادوار بدلتے رہتے ہیں، مگر حق کی شہادت باقی رہتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی دیانت، تاریخی شعور اور اخلاقی جرات کے ساتھ اس سچ کو زندہ رکھے کیونکہ حق دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔

غزہ، فلسطین اور صہیونی غصب: قرآن، سنت اور تاریخ کے آئینے میں

قسط اول، ابداع معنی اور فہم کلام کا تناظر

 اقسط اول: ابداع معنی اور فہمِ کلام کا تناظر

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ادبی و علمی دنیا میں “ابداع معنی” کی اصطلاح ایک نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔ ابداع معنی سے مراد وہ معنی ہیں جو کسی مصنف، متکلم یا شاعر کے ذہن و دل میں جنم لیتے ہیں۔ یہ معانی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ مصنف کے ارادے، ذہنی تصویر، اور تصور کا آئینہ ہوتے ہیں۔ مثلاً، اگر شاعر کسی مصرعے میں الفاظ کو کسی خاص انداز میں ترتیب دیتا ہے، تو اس مصرعے کا حقیقی مفہوم وہی ہوگا جو شاعر نے ذہن میں ابداع کیا ہے۔ اس کے برعکس کسی سامع یا قاری کا اپنی مرضی کے مطابق مفہوم اخذ کرنا محض غلط فہمی ہے، نہ کہ حقیقی فہمِ کلام۔

یہاں فہمِ کلام کی بنیادی شرط “عینیت” کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ عینیت سے مراد یہ ہے کہ قاری یا سامع کو مصنف کے ذہن میں جنم لینے والے اصلی معنی بالکل درست طور پر سمجھ میں آئیں۔ ابداع معنی اور اخذ معنی کے درمیان یہی تعلق فہمِ کلام کا ستون ہے۔ اگر قاری نے ابداع معنی کو درست انداز میں نہ سمجھا، تو وہ فہمِ کلام نہیں بلکہ ادراکِ غلطی کا شکار ہوگا۔

علمِ البلاغت میں اس سلسلے کو مزید واضح کرنے کے لیے اصطلاحات جیسے عبارۃ النص، اشارۃً النص، دلالۃ النص، اور اقتضاء النص کا استعمال کیا جاتا ہے۔

عبارۃ النص اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متن کے الفاظ میں موجود معنی کس حد تک واضح اور غیر متغیر ہیں۔

اشارۃً النص اس بات کا اشارہ ہے کہ بعض معنوی پہلوؤں کو محض متن کے ظاہری جملے سے اخذ کیا جا سکتا ہے، لیکن مکمل فہم کے لیے تناظر ضروری ہے۔

دلالۃ النص سے مراد یہ ہے کہ متن میں معنوی سمت اور مطلوبہ مقصد واضح طور پر موجود ہے، جسے اخذ کرنا لازمی ہے۔

اقتضاء النص کا تعلق اس اصول سے ہے کہ متن کے الفاظ اور اشارے مصنف کے مقصود معنی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، اور ان کے خلاف جانا فہمِ کلام کے برخلاف ہے۔

لہٰذا، فہمِ کلام صرف الفاظ کو پڑھنا یا سننا نہیں بلکہ ابداع معنی کی عینیت کے مطابق اخذ معنی کا عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی و ادبی مباحث میں ابداع و اخذ معنی کو نہایت دقیق اور حساس مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔

(اگلی قسط دوم میں ہم ابداع معنی کے عملی تناظر، مثالوں اور ان کے ادبی و قرآنی اطلاق پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گے، تاکہ قارئین کو نہ صرف علمی بلکہ عملی فہم بھی حاصل ہو۔)

قسط دوم، ابداع معنی کے عملی اطلاق اور فہم کلام کی رہنمائی

 قسط دوم: ابداع معنی کے عملی اطلاق اور فہم کلام کی رہنمائی

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

گزشتہ اقساط میں ہم نے ابداع معنی اور اخذ معنی کے فلسفیانہ و علمی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور عینیت کی ضرورت کو واضح کیا۔ اس قسط میں ہم عملی مثالوں اور قرآنی و ادبی اطلاقات کے ذریعے یہ سمجھیں گے کہ کیسے ابداع معنی کو صحیح طریقے سے اخذ کیا جائے۔

سب سے پہلے ادبی مثال پر غور کریں: شاعر نے کہا:

"خوابوں کے دیس میں، چاندنی کی راہوں پر چلتے ہیں ہم"

اگر قاری اسے محض روشنی یا سفر کے معنوں تک محدود سمجھ لے، تو یہ فہمِ کلام نہیں بلکہ غلط فہمی ہے۔ اصل مفہوم وہی ہے جو شاعر کے ذہن میں ابداع ہوا، یعنی ایک خیالی، روحانی اور جذباتی سفر کی تصویر جو قاری کے جذبات اور احساسات کو بھی چھو جائے۔

یہی اصول قرآنی الفاظ میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ہر آیت کے الفاظ میں مصنفِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مقصود معنی مضمر ہیں۔ قاری یا مفسر کو یہ ابداع معنی عینیت کے ساتھ اخذ کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر:

آیت: "وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي"

یہاں صرف نماز قائم کرنے کے ظاہری حکم پر عمل کرنا کافی نہیں، بلکہ مقصود معنی یعنی اللہ کی یاد میں مشغول رہنا، دل و دماغ کی توجہ اور ارادے کی نیت کے ساتھ نماز پڑھنا بھی ضروری ہے۔ یہ عمل ابداع معنی کی عینیت کے مطابق اخذ معنی کی مثال ہے۔

ادبی و قرآنی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابداع معنی کی عینیت پر قائم فہمِ کلام قاری کو محض ظاہری مفہوم سے آگے لے جاتا ہے۔ یہاں عبارۃ النص، اشارۃً النص، دلالۃ النص، اور اقتضاء النص کے اصول عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں:

عبارۃ النص قاری کو بتاتی ہے کہ لفظی معنی واضح اور غیر متغیر ہیں۔

اشارۃً النص اشارہ کرتی ہے کہ متن کے اندر پوشیدہ معنوی پہلو بھی موجود ہیں جو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔

دلالۃ النص معنی کی سمت اور ہدف کی وضاحت کرتی ہے تاکہ قاری صحیح نتیجہ اخذ کرے۔

اقتضاء النص ہر لفظ اور جملے کو مصنف کے مقصود معنی کے تابع کرتا ہے، اور غلط فہمی سے بچاتا ہے۔

یہ اصول نہ صرف ادبی اور قرآنی نصوص پر لاگو ہوتے ہیں بلکہ روزمرہ کے بیانات، علمی مکالمات اور تحریری مواد میں بھی مفہوم کی درستگی کے لیے ضروری ہیں۔ قاری، سامع یا مخاطب جب ابداع معنی کی عینیت کے مطابق اخذ معنی کرتا ہے تو وہ محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ مصنف کے ارادے اور تصور سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

نتیجتاً، ابداع معنی اور اخذ معنی کا یہ سلسلہ فہمِ کلام کی بنیاد، علمی صداقت اور ادبی حسن کا ضامن ہے۔ اگر ہم اس اصول کو نظر انداز کریں تو ادراک کی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، جو نہ صرف علمی کمی بلکہ سماجی اور فکری سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

قاری و سامع کے لیے رہنمائی یہ ہے کہ متن یا کلام کو محض لفظی سطح پر نہ سمجھیں، بلکہ مصنف کے ارادے، ذہنی تصویر اور تصور کے مطابق معنی اخذ کریں۔ یہی عمل حقیقی فہمِ کلام اور ادبی و علمی بصیرت کی اصل ضمانت ہے۔

غزہ ، فلسطین اور صہیونی غصب: قرآن، سنت اور تاریخ کے آئینے میں

 غزہ، فلسطین اور صہیونی غصب: قرآن، سنت اور تاریخ کے آئینے میں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

یہ سوال کہ کیا غزہ سرزمینِ فلسطین کا حصہ ہے؟ محض جغرافیائی نہیں بلکہ دینی، تاریخی اور تہذیبی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا جواب قرآن و سنت، مستند تاریخ اور عالمی قوانین تینوں کی روشنی میں واضح اور غیر مبہم ہے: غزہ فلسطین ہی کا حصہ ہے اور ہمیشہ سے اس مقدس خطے کی روح، تاریخ اور جدوجہد کا مرکز رہا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں فلسطین کی حیثیت

قرآنِ کریم میں سرزمینِ فلسطین کو ارضِ مقدسہ قرار دیا گیا:

“يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ” (المائدہ: 21)

یہ تقدیس کسی نسلی یا نسلیّت پر مبنی دائمی ملکیت نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی سے مشروط ذمہ داری ہے۔ اسی لیے بنی اسرائیل کی نافرمانیوں پر قرآن نے ان کے زوال اور بکھراؤ کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں بیت المقدس اور اس کے اطراف (اکنافِ بیت المقدس) کی فضیلت آئی ہے جن میں فلسطین کا ساحلی خطہ، غزہ سمیت، شامل ہے۔ غزہ کی دینی عظمت اس لیے بھی ہے کہ یہ انبیائے کرام کے گزرگاہی خطے میں واقع ہے اور صحابہؓ و تابعینؒ کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو غزہ فلسطین کا جزوِ لاینفک ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ غزہ کنعانیوں، پھر رومیوں، بازنطینیوں، مسلم خلافت، ایوبیوں، ممالیک اور عثمانیوں کے ادوار میں فلسطین ہی کا حصہ رہا۔ 1517ء سے 1917ء تک پورا فلسطین including غزہ عثمانی سلطنت کے تحت ایک وحدت تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی مینڈیٹ (1920–1948) نے اسی وحدت کو برقرار رکھا، مگر سیاسی سازشوں نے خطے کی تقدیر بدل دی۔

صہیونی غصب: مراحل اور طریقۂ واردات:

یہودی غصب کسی ایک لمحے میں نہیں ہوا بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کئی مراحل میں مکمل کیا گیا:

سیاسی جواز کی تیاری: 1917ء کا اعلانِ بالفور جس میں برطانیہ نے ایک ایسی زمین پر “یہودی قومی وطن” کا وعدہ کیا جو اس کی ملکیت ہی نہ تھی۔

آبادیاتی انجینئرنگ: برطانوی سرپرستی میں یورپ سے یہودی آبادکاروں کی منظم ہجرت۔

مسلح دہشت گردی: ارگون، ہاگانا اور لیہی جیسے صہیونی گروہوں کے ذریعے دیہات کی تباہی، قتلِ عام (دیر یاسین) اور خوف پھیلا کر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی۔

1948ء کا نکبہ: اسرائیل کے اعلان کے ساتھ ہی سات لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی جلاوطنی؛ یروشلم کے مغربی حصے اور ساحلی علاقوں پر قبضہ۔

1967ء کی جنگ: مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ اگرچہ بعد ازاں غزہ میں براہِ راست آبادکاری ختم کی گئی، مگر محاصرہ اور کنٹرول برقرار رکھا گیا۔

اسرائیل کا قیام اور طاغوتی پشت پناہی:

اسرائیل کا وجود مغربی استعمار خصوصاً برطانیہ، پھر امریکا کی سیاسی، عسکری اور سفارتی پشت پناہی کا نتیجہ ہے۔ سرد جنگ کے بعد امریکا کی غیرمشروط حمایت، اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کا استعمال، اور عسکری امداد نے اسرائیلی بالادستی کو تقویت دی۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ طاغوتی نظام ہے جو ظلم کو قانون اور جارحیت کو “دفاع” بنا کر پیش کرتا ہے۔

نتیجہ: غزہ فلسطین ہے قرآن، سنت، تاریخ اور قانون سب اس پر شاہد ہیں۔ فلسطین کی تقدیس کسی قوم کی جاگیر نہیں بلکہ امانتِ الٰہی ہے۔ ظلم کے ادوار بدلتے رہتے ہیں، مگر حق کی شہادت باقی رہتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی دیانت، تاریخی شعور اور اخلاقی جرات کے ساتھ اس سچ کو زندہ رکھے کیونکہ حق دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔

کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا: ضرورت یا یعیش؟

 کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا: ضرورت یا یعیش؟

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

 ایک سنجیدہ جائزہ

اکیسویں صدی کو اگر ٹیکنالوجی کی صدی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اینڈروئیڈ سیل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تعلیم، تجارت، ابلاغ، طب، سیاست اور سماجی روابط—کوئی میدان ایسا نہیں جو اس ڈیجیٹل انقلاب سے محفوظ رہا ہو۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب ہماری حقیقی ضروریات بن چکے ہیں یا محض یعیشات (تعیشات) کی صورت اختیار کر گئے ہیں؟ اس سوال کا جواب تبھی ممکن ہے جب ان کے مثبت و منفی اثرات کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔

سب سے پہلے مثبت پہلو پر نظر ڈالیں۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے علم تک رسائی کو آسان، تیز اور عالمی بنا دیا ہے۔ آج ایک طالب علم چند لمحوں میں دنیا کی بہترین جامعات کے لیکچرز، تحقیقی جرائد اور ڈیجیٹل کتب خانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ آن لائن تعلیم، فری لانسنگ اور ریموٹ ورک نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک خاموش معاشی انقلاب ہے۔ طب کے میدان میں ٹیلی میڈیسن، آن لائن تشخیص اور ڈیجیٹل ریکارڈ نے انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے، سماجی آگاہی اور مظلوم آوازوں کو عالمی سطح پر پہنچانے کا ذریعہ فراہم کیا۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ اتنا ہی تشویشناک ہے۔ حد سے زیادہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور تنہائی کو فروغ دے رہا ہے۔ خاندانی نظام متاثر ہو رہا ہے؛ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے کٹتے جا رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں میں عدمِ توجہ، مطالعے سے دوری اور وقتی لذت (instant gratification) کی عادت بڑھ رہی ہے۔ اخلاقی اقدار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں؛ فحاشی، جھوٹی خبروں، کردار کشی اور نفرت انگیز مواد کی یلغار نے معاشرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔

سوشل میڈیا کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ حقیقت اور تاثر (perception) کے درمیان فرق مٹا دیتا ہے۔ نمائش، لائکس اور فالوورز کی دوڑ نے خود نمائی اور احساسِ کمتری کو جنم دیا ہے۔ سیاسی و سماجی سطح پر جھوٹی اطلاعات اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا عوامی رائے کو گمراہ کرنے کا مؤثر ہتھیار بن چکا ہے۔ پرائیویسی کا فقدان اور ڈیٹا کا ناجائز استعمال بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے اثرات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔

اب بنیادی سوال: کیا یہ سب ہماری ضروریات ہیں یا یعیشات؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہو سکتے ہیں—استعمال پر منحصر ہے۔ تعلیم، تحقیق، صحت، روزگار اور قومی ترقی کے لیے یہ ٹیکنالوجیز بلاشبہ ضرورت بن چکی ہیں۔ مگر جب یہی ذرائع مقصد کے بجائے مشغلہ، اور سہولت کے بجائے لت بن جائیں تو یہ یعیش اور نقصان میں بدل جاتے ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اس کا بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل توازن (Digital Balance) اختیار کریں۔ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی حد، تعلیمی و تعمیری مواد کی ترجیح، خاندانی و سماجی روابط کو وقت دینا، اور اخلاقی و قانونی ضوابط کا نفاذ ناگزیر ہے۔ ریاست، تعلیمی اداروں اور والدین—سب کو مل کر ڈیجیٹل شعور (Digital Literacy) کو فروغ دینا ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نہ مکمل نعمت ہیں نہ سراسر لعنت؛ یہ ایک طاقتور اوزار ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ان کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں کس حد اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہی فیصلہ انہیں ضرورت بناتا ہے یا تعیش۔

اینڈروئیڈ سیل فون اور سوشل میڈیا: فائدے یا زہر؟

 اینڈروئیڈ سیل فون اور سوشل میڈیا: فائدے یا زہر؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا موبائل فون ہمیں علم کا خزانہ دیتا ہے یا وقت کا قاتل؟ آج کے عصرِ جدید میں اینڈروئیڈ فون اور سوشل میڈیا نے زندگی کے ہر گوشے میں قدم جما لیا ہے۔ تعلیم، کاروبار، سماجی رابطے، حتیٰ کہ انسانی جذبات تک، سب کچھ آن لائن دنیا کی گرفت میں آ چکا ہے۔

قرآنِ کریم ہمیں علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے:

"وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" (سورة طہ، 114)

یعنی: "اور کہو: اے میرے رب! میرا علم بڑھا دے۔"

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معلومات اور علم تک رسائی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

سوشل میڈیا کے روشن پہلو

اینڈروئیڈ فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے چند لمحوں میں دنیا کی ہر خبر، ہر واقعہ، اور ہر تعلیمی مواد تک رسائی ممکن ہے۔ طلبہ آن لائن کورسز، ویڈیوز اور مضامین سے اپنی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔ کاروباری حضرات ای-کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا ہمیں نہ صرف دنیا کے کونے کونے میں ہونے والے واقعات سے آگاہ کرتا ہے بلکہ خیرات، انسانی ہمدردی اور نیکی کے کاموں میں بھی شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ" (سورة المائدة، 2)

یعنی: "اور نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔"

سوچیں، اگر ہم اس طاقت کا استعمال تعلیم اور نیکی میں کریں تو کیا ممکن ہے کہ یہ دنیا بدل دے؟

پر خطر پہلو: سوشل میڈیا کا سایہ

لیکن کیا یہ سب کچھ ہمیشہ فائدہ مند ہے؟ بلا مقصد وقت ضائع کرنا، جھوٹی معلومات، ذہنی دباؤ، تنہائی، نیند کی کمی، اور تعلیم میں توجہ کی کمی اس کے منفی اثرات ہیں۔

قرآن نے خبردار کیا:

"وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" (سورة البقرة، 195)

یعنی: "اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔"

مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر فحاشی، غیبت اور جھوٹے پروپیگنڈے نوجوانوں کی تربیت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

"کسی پر جھوٹ مت بولو اور کسی کو بلا حق نہ طعنے دو۔"

یہ ایک واضح انتباہ ہے: آن لائن دنیا میں بھی اخلاقیات کی حدود ضروری ہیں۔

نتیجہ: اختیار آپ کے ہاتھ میں

اینڈروئیڈ فون اور سوشل میڈیا خود میں برائی یا نیکی نہیں ہیں، یہ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے۔ مثبت اور تعلیمی استعمال سے یہ ترقی اور معاشرتی بھلائی کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ غیر اخلاقی اور فضول استعمال تباہی کا سبب۔

والدین، اساتذہ اور نوجوان خود، سب کی ذمہ داری ہے کہ علم، اخلاق اور وقت کی قدر کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

یاد رکھیں: آپ کا موبائل آپ کی زندگی ہے، اسے ضائع کریں یا سنواریں، انتخاب آپ کا ہے!

نژاد نو کے مشاغل اور عصر حاضر کے ناگزیر تقاضے

 نژاد نو کے مشاغل اور عصر حاضر کے ناگزیر تقاضے

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

عصرِ حاضر میں نوجوانی کی شخصیت، مشاغل اور دلچسپیاں ماضی کی نسبت بے حد متنوع اور پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ نژاد نو، جو نئی سوچ، جدت طرازی اور تکنیکی مہارتوں کا حامل ہے، اس کی دلچسپیاں اور مصروفیات ایک طرف تفریح، سوشل میڈیا، گیمز، اور ڈیجیٹل دنیا کی طرف مائل ہیں، تو دوسری طرف یہ عصرِ حاضر کے علمی، سماجی اور اقتصادی تقاضوں سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ہم عصر نوجوانوں کے لیے ایک ایسا عہد ہے جہاں ذاتی ترجیحات اور سماجی ذمہ داریوں کا توازن برقرار رکھنا ایک فطری ضرورت بن چکا ہے۔

نوجوان نسل کے مشاغل میں سب سے نمایاں عنصر ڈیجیٹل تفریح اور آن لائن کنیکٹیویٹی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل گیمز، ویڈیو سٹریمنگ سروسز اور یوٹیوب جیسے ذرائع نے نوجوانوں کے فارغ اوقات کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ یہ مشغلے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ علمی ترقی میں بھی معاون ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح سمت میں استعمال کیا جائے۔ تاہم، غیر متوازن استعمال ذہنی دباؤ، توجہ میں کمی اور وقت کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے۔

اسی دوران، تعلیمی اور پیشہ ورانہ تقاضے نوجوانوں پر ایک اور طرح کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ عالمی مسابقت، ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلیاں، اور مہارتوں کے لیے نئے معیار نوجوانوں سے جدید مہارتیں، تحقیق، اور مسلسل سیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنے مشاغل اور دلچسپیوں کو صرف تفریح تک محدود نہ رکھے بلکہ انہیں عملی اور علمی ترقی کے لیے بھی بروئے کار لائے۔ مثال کے طور پر، گیمنگ کو اسلوبِ سیکھنے یا کوڈنگ اور ڈیجیٹل ڈیزائننگ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی عصرِ حاضر کے نوجوانوں کے لیے ایک ناگزیر تقاضہ ہے۔ نژاد نو کو اپنے کردار، ماحول اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے آگاہی اور عملی شراکت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی تحریکات، رضاکارانہ سرگرمیاں اور سماجی مہمات معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنے ذاتی مشاغل کو قومی اور اخلاقی فریم ورک میں ڈھالیں۔

مزید برآں، ثقافتی شعور اور تاریخی ادراک بھی نوجوانوں کے لیے ناگزیر ہے۔ عصرِ حاضر کی عالمی ثقافت میں ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ اپنی روایات، زبان، اور مذہبی و قومی اقدار کو سمجھنا اور فروغ دینا ہر نوجوان کی ذمہ داری ہے۔ یہ شعور نوجوانوں کو صرف اپنے ذاتی مفادات تک محدود نہ رکھ کر ایک متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

تحقیقی مطالعے بتاتے ہیں کہ نوجوانوں کی دلچسپیاں اور مشاغل جب عقل و شعور، تعلیم اور سماجی ذمہ داری کے تناظر میں مربوط ہوں، تو یہ نہ صرف انفرادی بلکہ قومی ترقی کا بھی باعث بنتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوان نسل کا یہ توازن مستقبل کی معیشت، سوشل سٹرکچر اور قومی دفاع میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

لہٰذا، نژاد نو کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مشاغل اور دلچسپیوں کو وقت کے تقاضوں، عالمی مسابقت اور معاشرتی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ تفریح صرف وقت کی ضیاع نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہو جو علم، تخلیق، اور قومی خدمت میں تبدیل ہو جائے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں نوجوان اپنی ذاتی خوشیوں کو معاشرتی فلاح، اخلاقی کردار، اور علمی کامیابی میں بدل کر اپنی ذات، قوم اور امت کے لیے حقیقی کردار ادا کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ نوجوان نسل کی مشاغل اور دلچسپیاں صرف ذاتی طرزِ زندگی کا حصہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی پیچیدہ اور تیز رفتار دنیا میں بقاء اور ترقی کی شرط بھی ہیں۔ عقل، بصیرت اور اخلاقی شعور کے ساتھ یہ مشاغل نوجوان کو نہ صرف ذاتی بلکہ قومی اور عالمی سطح پر کامیابی کے قابل بنا سکتے ہیں۔

کی محمد سے وفا تو نے، تو ہم تیرے ہیں

 کی محمد سے وفا تو نے، تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

یہ شعر اقبال کی فکر و فلسفے کا وہ سنگ میل ہے جو صرف شاعری کا حسن نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایک بیداری کا پیغام بھی ہے۔ اقبال نے یہاں محض محمد ﷺ سے محبت کو ایک جذباتی رشتہ نہیں بلکہ امت کی بقاء اور کردار کی بنیاد قرار دیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بھی یہی تعلیم ملتی ہے کہ محبت رسول ﷺ دین کی بنیادی شرط اور امت کی کامیابی کی کلید ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

“قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ” (آل عمران: ۳۱)

یعنی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے پیچھے چلو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اقبال کا یہ شعر اسی روحانی حقیقت کا عملی عکس ہے: محمد ﷺ کی وفاداری میں انسان کی سچائی اور کردار کا امتحان چھپا ہے۔

لیکن آج امت مسلمہ کی حالت زار اس شعر کے مفہوم کی سنگینی کو اور واضح کر رہی ہے۔ سیاسی انتشار، اخلاقی زوال، علمی پستی اور روحانی فرسودگی نے مسلمانوں کو دنیا میں محض دیکھنے والے اور پیچھے رہ جانے والے بنا دیا ہے۔ اقبال نے اس شعر میں ایک صریح انتباہ دیا ہے کہ دنیا کی تمام مادی طاقتیں — لوح و قلم، ریاست و معاشرت، ٹیکنالوجی و سیاست — کچھ نہیں جب تک انسان محمد ﷺ سے وفا کرنے والا نہ ہو۔ صرف عشق رسول ﷺ اور اس کی تعلیمات پر عمل امت کو حقیقی طاقت اور عزت عطا کر سکتا ہے۔

تاریخی حقائق بھی یہی بتاتے ہیں۔ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کیا، علم و حکمت کو اپنایا اور روحانی زندگی کو مضبوط رکھا، تب ان کا عروج ہوا: خلافت راشدہ، عباسی دور، مسلم اسپین کی شان و شوکت۔ لیکن جب امت نے محمد ﷺ کی سنت سے دوری اختیار کی، اقتدار کو ذاتی مفاد اور دنیاوی منافع کے لیے استعمال کیا، تو زوال کا آغاز ہوا۔ اقبال اس شعر میں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ لوح و قلم، علم و فنون، حتیٰ کہ طاقتور ریاست بھی محمد ﷺ کی محبت اور وفاداری کے بغیر کچھ بھی نہیں۔

یہ شعر قارئین کے لیے ایک عملی سبق بھی ہے۔ آج ہمیں محض مذہبی جذبات کی حد تک محمد ﷺ کی محبت کا دعویٰ نہیں کرنا بلکہ اس محبت کو عمل، کردار اور اجتماعی اصلاح میں ڈھالنا ہوگا۔ قرآن و سنت کے مطابق عدل، دیانت، قربانی، اور اصلاح معاشرہ کی راہ میں ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے امت کو بتانا چاہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی محبت کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کیے بغیر کوئی قوم حقیقی عظمت حاصل نہیں کر سکتی۔

لہٰذا، یہ شعر صرف شاعری کی جمالیات نہیں بلکہ امت کے لیے فکری اور عملی حکم ہے: اگر محمد ﷺ سے وفا ہے تو دنیاوی و معنوی کامیابی ممکن ہے، اور اگر وفا نہیں تو تمام طاقتیں محض دھوکہ ہیں۔ آج کے قارئین کے لیے یہ فکر انگیز ہے کہ ہمارا معاشرہ، ہماری تعلیم، ہماری سیاست، اور ہماری اخلاقیات محمد ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہیں یا نہیں۔ یہی شعور امت کو دوبارہ بیدار کر سکتا ہے اور اس کے زوال کے رجحان کو موڑ سکتا ہے۔

آخر میں، اقبال کا پیغام واضح ہے: محمد ﷺ کی محبت میں عمل اور کردار کی زندگی ہی حقیقی طاقت ہے، اور اسی سے لوح و قلم، یہ جہاں، اور انسانیت کی عزت و وقار ممکن ہے۔

یہ کالم 585 الفاظ پر مشتمل ہے، علمی، تحقیقی، اور قارئین کے لیے فکر انگیز انداز میں ترتیب دیا گیا ہے، اور اشاعتی معیار کے عین مطابق ہے۔

خواب غفلت میں غرق امت!۔قسط اول

 خواب غفلت میں غرق امت!۔قسط اول:

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

 نوجوان کہاں جا رہے ہیں؟

اقبال نے صدیوں پہلے ہی امتِ مسلمہ کے نوجوانوں، علما اور حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے لفظوں کے تیغ چلائے، مگر افسوس کہ ہم آج بھی خواب غفلت میں غرق ہیں۔ وہ روحانی، فکری اور عملی بیداری جس کی نشاندہی اقبال نے کی، آج ہمیں محض نصیحت لگتی ہے، حقیقت نہیں۔

نوجوانوں کی بیداری کہاں ہے؟

اقبال نے نوجوانوں سے کہا: خودی کو پہچانو، اپنی روح میں قوت پیدا کرو، کیونکہ امت کی بقاء انہی ہاتھوں میں ہے۔ مگر آج ہمارے نوجوان علم و ایمان کے درمیان الجھے ہوئے ہیں، جدیدیت کے جال میں پھنسے ہیں اور امت کی تاریخی ذمہ داری سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

علما کی ذمہ داری:

علما کا بھی کمال افسوسناک ہے۔ علم دین کو صرف تقاریب، تقریر اور کتب تک محدود رکھنے سے امت کا فکری اور اخلاقی ارتقاء رک گیا ہے۔ اقبال نے واضح فرمایا تھا: دین کا مقصد صرف عبادت نہیں، بلکہ اجتماعی شعور، اخلاقی طاقت اور عملی انصاف ہے۔

حکمران اور امت کی تقدیر:

حکمران طبقات بھی اس نصیحت سے مبرا نہیں۔ اقتدار کو ذاتی مفاد کا ذریعہ بنانے سے امت کی تقدیر داؤ پر ہے۔ اقبال نے کہا: اقتدار کی اصل ذمہ داری عدل و انصاف، امت کی فلاح اور غیرت اسلامی ہے، ورنہ طاقت کا ہر استعمال خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔

امت کی بقاء تین ستونوں پر:

امت کی بیداری تین ستونوں پر مبنی ہے: خودی، علم، عمل۔ ان میں سے کوئی بھی کمزور ہو تو امت کی بنیاد لرزتی ہے۔ افسوس کہ آج ہم نے نہ نوجوانوں میں خودی پروان چڑھائی، نہ علما و حکمرانوں میں اخلاقی و فکری بیداری پیدا کی، نہ عملی اصلاح کی سمت میں ٹھوس قدم اٹھائے۔ نتیجہ: امت پسماندگی اور داخلی زوال کا شکار۔

جاگنے کا وقت، عمل کا لمحہ!۔ قسط دوم: از' ڈاکٹر

 جاگنے کا وقت، عمل کا لمحہ!۔ قسط دوم:

از' ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

نوجوان، خواب غفلت سے نکلیں!

اب وقت ہے کہ ہم خواب غفلت سے نکلیں اور اقبال کے پیغام کو عملی میدان میں منتقل کریں۔ نوجوانوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں علم و فکر اور حب الوطنی کی تربیت دینا ہوگی۔ اقبال نے خودی، عشق رسول ﷺ اور اجتماعی غیرت کو یکجا کر کے نوجوانوں کو معاشرتی اور تاریخی ذمہ داری کے لیے متحرک کرنے کی تلقین کی۔ یہی جذبہ امت کے ہر شعبے میں جوش و بیداری پیدا کرے گا۔

علما کی عملی رہنمائی:

علما صرف تقاریر تک محدود نہیں رہیں، بلکہ عملی رہنمائی، اصلاح معاشرت اور فکری بیداری کے لیے قدم اٹھائیں۔

حکمرانوں کا امتحان:

حکمران اپنی طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ امت کی فلاح اور عدل و انصاف کے لیے استعمال کریں۔

اب عملی قدم اٹھائیں!

آج ضرورت صرف بیداری کی نہیں، عمل کی ہے۔ نوجوانوں کی تربیت، علمی و اخلاقی اصلاح، اور حکومتی ضمیر کی بیداری—یہ تینوں امت کی زندگی کو دوبارہ روشن کر سکتے ہیں۔

اقبال کا پیغام آج بھی زندہ ہے: ہر لمحہ جو ہم نے خواب غفلت میں گزارا، وہ ضائع ہوا۔ امت کی بقاء اسی میں مضمر ہے کہ ہم آج جاگیں، سوچیں اور عملی اصلاح کے سفر کا آغاز کریں۔

اگر نوجوان، علما اور حکمران سب نے اقبال کے پیغام کو سمجھ کر عمل کیا، تو نہ صرف جذبہ ایمانی اور غیرت اسلامی دوبارہ زندہ ہوگی بلکہ امت کی تقدیر بھی روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوگی۔

اقبال کی بیداری کے 3 لازمی ستون ۔ قسط سوم

 اقبال کی بیداری کے 3 لازمی ستون ۔ قسط سوم

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

۱۔ خودی:

اپنی شخصیت اور ایمان کی پہچان

روحانی طاقت اور اخلاقی استقلال

نوجوانوں کی خود اعتمادی اور تاریخی ذمہ داری کی بنیاد

۲۔ علم:

دین اور دنیا کے علم کا امتزاج

علمی بصیرت کے ذریعے امت کی رہنمائی

علم کو صرف عبادت یا تقریر تک محدود نہ رکھیں

۳۔ عمل:

فکری اور اخلاقی بیداری کو عملی اقدامات میں منتقل کرنا

حکمرانوں اور علما کی ذمہ داری میں اصلاح معاشرت

امت کی تقدیر میں غیرت اسلامی اور حب الوطنی کا کردار

⚡ نوٹ: یہ تین ستون امت کی بقاء، نوجوانوں کی بیداری اور امت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

✅ اشاعتی خصوصیات:

بولڈ اور شارپ سرخیاں

پیراگراف بریک اور قارئین کے لیے آسان پڑھائی

انفو باکس میں شارپ پوائنٹس اور رنگ/فریم کے ساتھ قارئین کی توجہ فوراً کھینچنے والا

روزنامہ جنگ / نوائے وقت کے معیار کے مطابق مکمل اشاعتی فارمیٹ

یہ اب بالکل شائع کے لیے تیار ورژن ہے—کاپی کریں اور اخبارات میں استعمال کے لیے فائنل ہے۔

امت کی بیداری ۔ دعا سے عمل تک۔ قسط اول

 امت کی بیداری ۔ دعا سے عمل تک۔ قسط اول


تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

 دعا کافی نہیں، اب خودی کی جنگ لازم ہے!

اے خاصۂ خاصانِ رُسُلؐ! وقتِ دعا ہے

اُمّت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے

یہ صرف دعا کا وقت نہیں،

یہ احتسابِ امت کا لمحہ ہے۔

یہ سوال کرنے کا وقت ہے کہ ہم زوال کی اس تہہ تک کیوں جا پہنچے؟

اقبالؒ نے برسوں پہلے خبردار کر دیا تھا:

قومیں سازشوں سے نہیں،

اپنے اعمال سے تباہ ہوتی ہیں۔

قرآن ہمارے گھروں میں ہے،

مگر ہمارے نظام میں نہیں۔

سنت ہمارے نعروں میں ہے،

مگر ہمارے فیصلوں میں نہیں۔

ہم نے دین کو مذہبی رسم بنا دیا

اور مصطفویؐ انقلاب کو تاریخ کا باب سمجھ لیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ امت تو موجود ہے،

مگر امت کی روح ناپید ہے۔

ہم عدل کے نعرے لگاتے ہیں

مگر قانون طاقتور کے لیے بدل لیتے ہیں۔

ہم شریعت کی بات کرتے ہیں

مگر کمزور کے لیے۔

حالانکہ قرآن کا دوٹوک حکم ہے:

“كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ”

عدل پر ڈٹ جاؤ،

چاہے فیصلہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

اقبالؒ کا مردِ مومن

جرأتِ گفتار،

جرأتِ کردار

اور استغنائے دل رکھتا تھا۔

آج کا مسلمان

مصلحت کا اسیر،

خوف کا مریض

اور دنیا کا غلام بن چکا ہے۔

وہ شاہین جو بلندیوں کا عادی تھا

اب مفاد کی شاخ پر بیٹھا ہے۔

اے شافعِ محشرؐ!

ہم نے تیرے نام پر تقریریں تو بہت کیں

مگر تیرے طریق پر چلنے سے گھبرا گئے۔

ہم نے مسجد کو عبادت تک محدود رکھا

اور بازار، عدالت، سیاست

سب کچھ نفس کے حوالے کر دیا۔

حالانکہ تُوؐ نے دین کو

مکمل نظامِ حیات بنا کر پیش کیا تھا۔

یہ دعا صرف آنسو نہیں مانگتی،

یہ غیرتِ ایمانی مانگتی ہے۔

یہ وہ ایمان چاہتی ہے

جو مکہ میں ظلم کے سامنے سینہ سپر تھا،

جو بدر میں قلت کے باوجود غالب آیا،

جو مدینہ میں ریاست بنا

اور عدلِ اجتماعی کی بنیاد ٹھہرا۔

اقبالؒ ہمیں خواب نہیں دکھاتا،

وہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔

وہ یاد دلاتا ہے کہ

قومیں نعروں سے نہیں،

کردار سے بنتی ہیں۔

اور دین دعاؤں سے نہیں،

عمل سے غالب ہوتا ہے۔

اے خاصۂ خاصانِ رُسُلؐ! وقتِ دعا ہے

مگر ایسی دعا

جس کے ساتھ

خودی کی بیداری ہو،

کردار کی اصلاح ہو

اور عمل کا بے خوف عزم ہو۔

کیونکہ

بغیر بدلے ہوئے کردار کے

کوئی دعا،

کوئی نعرہ

اور کوئی انقلاب قبول نہیں ہوتا۔

دعا کے بعد پہلا قدم۔ قسط دوم:

 دعا کے بعد پہلا قدم۔ قسط دوم:

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

 اب عمل کی باری ہے

دعا سے پہلے آنسو، دعا کے بعد اقدام

اب وقت ہے کہ ہم صرف نعرے اور آنسو تک محدود نہ رہیں۔

دعا کے بعد پہلا قدم ہے خود احتسابی۔

قرآن فرماتا ہے:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ”

اپنی کمزوریوں کا حساب لینا، اپنے اعمال کا جائزہ لینا،

یہی پہلا اور سب سے بنیادی قدم ہے۔

دوسرا قدم ہے کردار کی تبدیلی۔

صرف مسجد میں نماز اور منبر میں تقریر سے کام نہیں چلتا۔

اقبالؒ فرماتے ہیں:

"عملی طور پر اپنی ذات کو بلند کرو، تاکہ امت کی راہ روشن ہو"

ہر مسلمان کو اپنی روزمرہ زندگی میں حق، عدل، صداقت اور جرأت کو عملی طور پر اپنانا ہوگا۔

تیسرا قدم ہے علم اور شعور کی بحالی۔

قرآن و سنت کو نصاب یا دیواروں تک محدود رکھنے سے کچھ حاصل نہیں۔

حقیقی ایمان وہ ہے جو مسائل کو پہچانے، فیصلے کرے، اور قیادت پیدا کرے۔

چوتھا قدم ہے اجتماعی اقدام۔

اقبالؒ فرماتے ہیں:

"خودی کی بیداری سے قومیں بیدار ہوتی ہیں"

انفرادی اصلاح کے بغیر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں۔

ہمیں معاشرتی اور سیاسی اداروں میں چھوٹے چھوٹے عملی قدم اٹھانے ہوں گے،

فرقہ واریت، منافقت اور مفاد پرستی کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔

پانچواں قدم ہے حق اور عدل کے لیے بے خوف لڑائی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں دعا اور عمل کا امتزاج ہوتا ہے۔

ظلم کے خلاف ڈٹنا، ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا،

اور باطل کے ایوانوں میں حق کے علم کو بلند کرنا

ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔

آخر میں یاد رکھیں:

دعا صرف آغاز ہے،

عمل کے بغیر یہ صرف رونا اور نعرہ رہ جائے گا۔

اقبالؒ کی صدا آج بھی گونج رہی ہے:

"قومیں نہیں مرتی، ضمیر مرتا ہے"

ضمیر کو زندہ کریں، کردار کو سنواریں،

ورنہ کوئی دعا، کوئی نعرہ، اور کوئی انقلاب

ہماری دنیا میں کبھی اثر نہیں رکھے گا۔

نتیجہ:

دعا کے بعد پہلا قدم ہے:

خود کو بدلنا، کردار سنوارنا، شعور بلند کرنا، اجتماعی اقدام کرنا، اور حق کے لیے بے خوف لڑنا۔

یہی عملی راہ ہے جو امت کو دوبارہ عروج کی طرف لے جا سکتی ہے۔

قسط سوم (اختتامی کالم) عسکری معیشت، داخلی استحکام اور مستقبل کی جنگیں عسکری معیشت: بڑا بجٹ یا بہتر حکمتِ عملی

 قسط سوم (اختتامی کالم)

عسکری معیشت، داخلی استحکام اور مستقبل کی جنگیں

عسکری معیشت: بڑا بجٹ یا بہتر حکمتِ عملی

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

انڈیا کا دفاعی بجٹ بڑا ہے، مگر سائز ہمیشہ مؤثر نتائج کی ضمانت نہیں بنتا۔ انتظامی پیچیدگیاں اور منصوبہ بندی کے مسائل طاقت کو منتشر کر دیتے ہیں۔

پاکستان کی عسکری معیشت محدود مگر ضرورت پر مبنی اور ٹارگٹڈ ہے۔ مقامی پیداوار اور مشترکہ منصوبے اس کی بنیاد ہیں۔

داخلی استحکام اور فوجی قوت

انڈیا کو معاشی حجم کا فائدہ حاصل ہے، مگر اندرونی سیاسی و سماجی تضادات اس کے لیے چیلنج ہیں۔

پاکستان سیاسی و معاشی دباؤ کے باوجود فوجی ادارہ جاتی تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کی اسٹریٹجک طاقت ہے۔

مستقبل کی جنگیں: مکمل جنگ یا محدود تصادم؟

مکمل جنگ کا امکان کم ہے۔ اصل خطرہ:

محدود عسکری جھڑپیں

ہائبرڈ وارفیئر

سائبر و بیانیاتی جنگ

ایٹمی ڈیٹرنس دونوں کو بڑی جنگ سے روکتی ہے، مگر غلط اندازے کا خطرہ برقرار ہے۔

حتمی نتیجہ

انڈیا: تعداد، بجٹ اور عالمی رسائی

پاکستان: فوکس، پیشہ ورانہ مہارت اور ڈیٹرنس

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن قائم ہے—مگر نازک۔

اختتامی سطر (نوائے وقت اسٹائل)

اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت کو عقل، ذمہ داری اور سفارت کے ساتھ کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر طاقت حکمت سے خالی ہو تو وہ خود اپنے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

قسط دوم سائبر وارفیئر، اسپیس ملٹری صلاحیت اور عالمی عسکری اتحاد

 قسط دوم

سائبر وارفیئر، اسپیس ملٹری صلاحیت اور عالمی عسکری اتحاد

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

اکیسویں صدی کی جنگ اب صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سائبر اسپیس، خلا اور سفارتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

سائبر وارفیئر: خاموش مگر فیصلہ کن میدان

انڈیا نے سائبر کمانڈ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آفینسو سائبر صلاحیت میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ بڑی آئی ٹی افرادی قوت اسے عددی فائدہ دیتی ہے۔

پاکستان کا سائبر ماڈل نسبتاً خاموش مگر ڈیفینسو اور انٹیلی جنس بیسڈ ہے۔ کم وسائل میں نیٹ ورک ڈیفنس اور اسٹریٹجک سکیورٹی پر توجہ پاکستان کی ترجیح ہے۔

خلا میں عسکری دوڑ

انڈیا نے خلا کو باضابطہ عسکری میدان بنا لیا ہے۔ نگرانی، نیویگیشن اور سیٹلائٹ نیٹ ورک اسے جدید جنگ میں تقویت دیتے ہیں۔

پاکستان کا اسپیس پروگرام محدود مگر اسٹریٹجک ضرورت کے مطابق ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈیٹرنس برقرار رکھنا ہے، نہ کہ خلا میں غلبہ۔

عسکری اتحاد اور عالمی سپورٹ

انڈیا نے خود کو عالمی طاقتوں کے لیے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پیش کیا ہے۔ مشترکہ مشقیں، دفاعی معاہدے اور ٹیکنالوجی تک رسائی اسے عالمی تقویت دیتی ہے۔

پاکستان کے عسکری اتحاد زیادہ تر سکیورٹی اور توازن پر مبنی ہیں۔ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی دفاعی بقا کا اہم ستون ہے۔

قسط دوم کا خلاصہ:

انڈیا کو عالمی رسائی حاصل ہے، پاکستان کو اسٹریٹجک فوکس۔

انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن۔ قسط اوّل

 انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت

 جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن۔ قسط اوّل

ایک غیر جانبدارانہ اسٹریٹجک تجزیہ

 از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی

بری، بحری اور فضائی افواج — عددی قوت اور جنگی سازوسامان

جنوبی ایشیا میں انڈیا اور پاکستان کی عسکری طاقت کا تقابل عموماً نعروں اور جذباتی بیانیے کی نذر ہو جاتا ہے، حالانکہ حقیقت پسندانہ تجزیہ اعداد و شمار، عسکری ڈھانچے اور عملی صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کالم میں پروپیگنڈا نہیں بلکہ ٹھوس اسٹریٹجک حقائق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

بری افواج: تعداد بمقابلہ مہارت

انڈیا کی بری فوج دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ افرادی قوت، بکتر بند یونٹس اور توپخانے کے لحاظ سے اسے واضح عددی برتری حاصل ہے۔ اس کی زمینی جنگی حکمتِ عملی وسیع محاذ، گہرے لاجسٹک نیٹ ورک اور عددی دباؤ پر قائم ہے، جس کا اظہار Cold Start Doctrine جیسے تصورات میں ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کی بری فوج تعداد میں کم مگر زیادہ منظم، جنگ آزمودہ اور تیز ردِعمل کی حامل ہے۔ پاکستان نے جدید مین بیٹل ٹینکس، موبائل آرٹلری، اینٹی ٹینک میزائلز اور بہتر کمانڈ اسٹرکچر پر توجہ دے کر کم وسائل میں مؤثر دفاعی توازن قائم کیا ہے۔

فضائی افواج: ٹیکنالوجی اور تربیت کا امتحان

انڈین ایئر فورس کے پاس طیاروں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ روسی و مغربی ٹیکنالوجی کا امتزاج رکھتی ہے۔ وسیع ایئر بیس نیٹ ورک اسے جغرافیائی برتری دیتا ہے۔

پاکستان ایئر فورس تعداد میں کم مگر انتہائی پیشہ ور، مربوط اور جدید مانی جاتی ہے۔ پائلٹ ٹریننگ، الیکٹرانک وارفیئر اور ریئل ٹائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پاکستان کی فضائی طاقت کا امتیاز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی توازن اب تک برقرار ہے۔

بحری افواج: غلبہ یا روک تھام؟

بحری میدان میں انڈیا کو برتری حاصل ہے۔ طیارہ بردار جہاز، نیوکلیئر آبدوزیں اور بڑا بحری بیڑہ اسے بحرِ ہند میں وسعت دیتے ہیں۔

پاکستان نیوی عددی اعتبار سے چھوٹی مگر Sea Denial Strategy پر کاربند ہے۔ آبدوزیں، اینٹی شپ میزائل اور ساحلی دفاع پاکستان کی بحری سوچ کا مرکز ہیں۔

قسط اوّل کا نتیجہ:

انڈیا کو تعداد اور پلیٹ فارمز میں سبقت حاصل ہے، پاکستان نے فوکس اور مہارت سے توازن قائم رکھا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت، قسط دوم

انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت، قسط دوم:

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

سائبر، خلا، اتحاد اور مستقبل کی جنگیں

روایتی بری، بحری اور فضائی طاقت کے بعد جدید جنگیں اب ڈیجیٹل، خلا اور ذہنوں میں لڑی جا رہی ہیں۔ اکیسویں صدی میں عسکری طاقت کا پیمانہ صرف ٹینک اور طیارے نہیں بلکہ ڈیٹا، سیٹلائٹ، نیٹ ورک، بیانیہ اور اتحاد بن چکے ہیں۔

سائبر وارفیئر (Cyber Warfare)

انڈیا نے گزشتہ برسوں میں سائبر صلاحیت پر نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ دفاعی نیٹ ورکس، انفراسٹرکچر اور معلوماتی نظام کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آفینسو سائبر آپریشنز کی صلاحیت کو بھی وسعت دی گئی ہے۔ انڈیا کی بڑی آئی ٹی انڈسٹری اور انسانی وسائل اسے اس میدان میں عددی اور تکنیکی برتری فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان نے اگرچہ محدود وسائل کے ساتھ آغاز کیا، مگر سائبر سکیورٹی، ڈیفینسو سائبر وارفیئر اور انٹیلی جنس انٹیگریشن میں تیز رفتاری سے پیش رفت کی ہے۔ پاکستان کا جھکاؤ سائبر میدان میں خاموش، غیر نمایاں مگر مؤثر دفاعی حکمتِ عملی کی طرف ہے، جس کا مقصد دشمن کی برتری کو غیر مؤثر بنانا ہے، نہ کہ نمائش۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ سائبر وار میں برتری کا درست اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس میدان میں اصل قوت اکثر پوشیدہ رہتی ہے۔

اسپیس ملٹری صلاحیت (Space Warfare)

انڈیا نے خلا کو عسکری میدان کے طور پر باضابطہ تسلیم کر لیا ہے۔ سیٹلائٹ نیٹ ورک، نیویگیشن، نگرانی اور اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت نے اسے Space Militarization کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ خلا میں موجود اثاثے انڈیا کی کمانڈ، کنٹرول اور انٹیلی جنس صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔

پاکستان کا اسپیس پروگرام نسبتاً محدود ہے، مگر اسٹریٹجک نوعیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا زور دفاعی، کمیونیکیشن، ریموٹ سینسنگ اور شراکت داری پر ہے۔ خلا میں پاکستان کی حکمتِ عملی Cost-Effective Deterrence پر مبنی ہے، یعنی کم وسائل میں بنیادی عسکری توازن کو برقرار رکھنا۔

عسکری اتحاد اور عالمی سپورٹ

انڈیا نے گزشتہ دہائی میں خود کو عالمی سطح پر ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پیش کیا ہے۔ امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور یورپی طاقتوں کے ساتھ دفاعی تعاون، مشترکہ مشقیں اور ٹیکنالوجی تک رسائی انڈیا کے لیے سفارتی اور عسکری سہارا فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان کے عسکری تعلقات زیادہ تر اسٹریٹجک اور سکیورٹی پر مبنی ہیں۔ چین کے ساتھ دفاعی شراکت داری، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور مشترکہ منصوبے پاکستان کی عسکری بقا میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عسکری اتحاد کا مقصد توازن برقرار رکھنا ہے، نہ کہ بلاک سیاست میں ضم ہونا۔

سفارتی وژن اور عسکری بیانیہ

انڈیا عالمی سطح پر خود کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت (Rising Power) کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا سفارتی بیانیہ زیادہ تر علاقائی امن، تنازع کے حل اور ڈیٹرنس کے گرد گھومتا ہے۔ پاکستان کا چیلنج یہ ہے کہ وہ عسکری توازن کے ساتھ ساتھ سفارتی مؤثر آواز بھی بلند رکھے۔

مستقبل کی ممکنہ جنگیں

(Hybrid & Fifth Generation Warfare)

مستقبل کی جنگ مکمل روایتی نہیں ہوگی۔ ہائبرڈ وارفیئر میں سائبر حملے، میڈیا پروپیگنڈا، معاشی دباؤ، سفارتی محاذ آرائی اور محدود عسکری کارروائیاں شامل ہوں گی۔

انڈیا کا رجحان پریشر بلڈنگ، محدود اسٹرائیکس اور بیانیاتی جنگ کی طرف ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی حکمتِ عملی ڈیٹرنس، تیز ردِعمل اور غیر متناسب دفاع پر مبنی رہے گی۔

ایٹمی صلاحیت دونوں کو مکمل جنگ سے روکتی ہے، مگر غلط اندازے (Miscalculation) کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

مجموعی تجزیہ

انڈیا کو ٹیکنالوجی، بجٹ اور عالمی رسائی میں برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو اسٹریٹجک فوکس، پیشہ ورانہ مہارت اور ڈیٹرنس سوچ میں امتیاز حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب بھی قائم ہے

اگرچہ نازک (Fragile) ضرور ہے۔

انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت کا موازنہ

 انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

ایک غیر جانبدارانہ، علمی اور اسٹریٹجک تقابلی مطالعہ

جنوبی ایشیا میں انڈیا اور پاکستان دو ایسی ریاستیں ہیں جن کے درمیان تاریخی تنازع، جغرافیائی قربت اور ایٹمی صلاحیت نے عسکری توازن (Strategic Balance) کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ دونوں ممالک کی فوجی قوت کا تقابل صرف تعداد یا بجٹ تک محدود نہیں بلکہ عسکری نظریہ، دفاعی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی، تربیت اور آپریشنل تجربہ بھی اس کا لازمی جز ہے۔

بری افواج (Army)

انڈیا کی بری فوج عددی اعتبار سے دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے پاس افرادی قوت، بکتر بند دستوں اور توپخانے کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈیا کا عسکری تصور (Doctrine) روایتی جنگ (Conventional Warfare) میں عددی اور لاجسٹک برتری پر مبنی ہے، جس کی مثال Cold Start Doctrine ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کی بری فوج عددی لحاظ سے چھوٹی مگر پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تجربے اور تیز رفتار ردِعمل کے حوالے سے ممتاز سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود کوالٹی اوور کوانٹیٹی (Quality over Quantity) کے اصول کو اپنایا ہے۔ مقامی دفاعی صنعت (Heavy Industries Taxila، HIT) کے تحت ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تیاری بھی ایک اہم پہلو ہے۔

فضائی افواج (Air Force)

فضائی قوت اس خطے میں فیصلہ کن کردار رکھتی ہے۔ انڈین ایئر فورس کے پاس طیاروں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ مغربی و روسی ٹیکنالوجی کا امتزاج رکھتی ہے۔ جدید ملٹی رول فائٹر طیارے، ایئر بورن وارننگ سسٹمز اور بڑے ایئر بیس نیٹ ورک انڈیا کی فضائی قوت کا حصہ ہیں۔

پاکستان ایئر فورس کو عالمی سطح پر انتہائی منظم، جدید اور پیشہ ور فضائیہ سمجھا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور محدود وسائل میں زیادہ مؤثر کارکردگی اس کا امتیاز ہے۔ مقامی و مشترکہ پیداوار کے تحت تیار ہونے والے لڑاکا طیارے، الیکٹرانک وارفیئر اور پائلٹ ٹریننگ سسٹمز نے فضائی توازن کو برقرار رکھا ہے۔ فضائی جھڑپوں میں عملی تجربہ پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔

بحری افواج (Navy)

بحری طاقت کے میدان میں انڈیا کو واضح برتری حاصل ہے۔ اس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز، نیوکلیئر آبدوزیں اور وسیع بحری بیڑہ موجود ہے، جو اسے بحرِ ہند میں Blue Water Navy کی صلاحیت دیتا ہے۔

پاکستان نیوی عددی اعتبار سے چھوٹی مگر اسٹریٹجک ڈیٹرنس پر مرکوز ہے۔ آبدوزوں، اینٹی شپ میزائلز، ساحلی دفاع اور بحری نگرانی کے جدید نظام پاکستان کی بحری حکمتِ عملی کا مرکز ہیں۔ پاکستان کی بحری سوچ دفاعی اور روک تھام (Sea Denial Strategy) پر مبنی ہے، نہ کہ غلبے پر۔

ایٹمی اور میزائل صلاحیت

دونوں ممالک ایٹمی قوت رکھتے ہیں، جو براہِ راست جنگ کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ انڈیا کا جھکاؤ No First Use کے دعوے کے باوجود طاقت کے مظاہرے کی طرف ہے، جبکہ پاکستان کا ایٹمی نظریہ واضح طور پر Credible Minimum Deterrence اور بعد ازاں Full Spectrum Deterrence پر مبنی ہے، جو روایتی جنگ کے ہر درجے پر توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔

دفاعی بجٹ اور عسکری صنعت

انڈیا کا دفاعی بجٹ کہیں زیادہ ہے، مگر بڑا بجٹ ہمیشہ مؤثر نتائج کی ضمانت نہیں ہوتا۔ پاکستان کم بجٹ کے باوجود مقامی دفاعی پیداوار، اسٹریٹجک شراکت داری اور بہتر منصوبہ بندی سے خلا پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

نتیجہ

انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت کا تقابل محض تعداد یا شور و غوغا سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ معیار، جنگی تجربے اور ڈیٹرنس توازن سے کیا جانا چاہیے۔ انڈیا کو عددی اور بحری برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو آپریشنل مہارت، اسٹریٹجک وضاحت اور توازنِ خوف میں فوقیت حاصل ہے۔ یہی توازن اب تک کسی بڑی جنگ کو روکنے کا بنیادی سبب رہا ہے۔۔

Monday, 12 January 2026

قسط اوّل: آئین کی روح۔اسلام محض دیباچہ یا حاکمِ اعلٰی


قسط دوم: وہ آئینی شقیں جہاں اسلام کو غیر مؤثر بنایا گیا

 قسط دوم: وہ آئینی شقیں جہاں اسلام کو غیر مؤثر بنایا گیا

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

تمہید: خاموش معطلی—سب سے خطرناک جرم

آئین کو منسوخ کرنا بغاوت ہوتی ہے،

مگر آئین کو غیر مؤثر بنانا

—یہ قانونی لبادے میں سب سے بڑا فریب ہے۔

پاکستان میں اسلام کے ساتھ یہی ہوا۔

1️⃣ پارلیمنٹ کی مطلق بالادستی—اسلام کی عملی نفی

آئین پارلیمنٹ کو:

قانون سازی کا مکمل اختیار دیتا ہے

مگر:

یہ واضح نہیں کرتا کہ

اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے خلاف قانون بنائے تو کیا ہوگا؟

نتیجہ:

سودی معیشت

غیر اسلامی عدالتی طریقۂ کار

طبقاتی احتساب

سب کچھ آئینی جواز کے ساتھ جاری ہے۔

قرآن کہتا ہے:

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ

مگر آئین میں اس کا نفاذی میکانزم موجود نہیں۔

2️⃣ اسلامی نظریاتی کونسل—طاقت کے بغیر مشیر

اسلامی نظریاتی کونسل:

اسلام کی تشریح کرے

قوانین کا جائزہ لے

لیکن:

اس کی سفارشات لازمی نہیں

پارلیمنٹ انہیں نظر انداز کر سکتی ہے

یوں اسلام:

ریاستی پالیسی نہیں، مشاورتی رائے بن کر رہ گیا

3️⃣ وفاقی شرعی عدالت—حدود میں قید اسلام

شرعی عدالت:

قوانین کو قرآن و سنت پر پرکھ سکتی ہے

لیکن:

آئین

مالیاتی نظام

ٹیکس

بینکاری

اکثر دائرۂ اختیار سے خارج رکھے گئے۔

یعنی:

اسلام اخلاق میں تو قابلِ قبول

مگر طاقت اور معیشت میں ناقابلِ قبول

یہی اصل تضاد ہے۔

4️⃣ بنیادی حقوق بمقابلہ اسلامی حدود—مصنوعی تصادم

آئین میں:

بنیادی حقوق کو فوقیت دی گئی

لیکن:

یہ واضح نہیں کہ

اگر بنیادی حق قرآن و سنت سے متصادم ہو تو فیصلہ کس کا ہوگا؟

عدالتیں:

مغربی تشریحات اختیار کرتی رہیں

اسلامی اصول پس منظر میں چلے گئے

یوں:

اسلام آئین میں موجود رہا

مگر فیصلوں میں غائب

5️⃣ احتسابی استثنا—طاقتوروں کے لیے آئینی ڈھال

آئین میں:

بعض اداروں اور عہدوں کو

عملی استثنا حاصل رہا

نتیجہ:

طاقتور قانون سے بالا

کمزور قانون کے نیچے

حالانکہ اسلام کا اصول ہے:

الناس سواء کاسنان المشط

یہ تضاد محض قانونی نہیں—اخلاقی جرم ہے۔

خلاصہ: مسئلہ اسلام کی شمولیت نہیں، اس کی تحجیم ہے

اسلام آئین میں موجود ہے،

مگر:

غیر مؤثر

غیر لازم

غیر محفوظ

یہی وجہ ہے کہ:

آئین بھی بدنام

اسلام بھی متنازع

اور ریاست بھی ناکام

اگلی قسط میں

آئینی اصلاحات: اسلام کو علامت سے نظام بنانے کا عملی خاکہ

(کن شقوں میں ترمیم؟ کن اداروں کو اختیار؟ کیسے نفاذ؟)

یہ سلسلہ اب شکایت نہیں رہا

یہ آئینی چارج شیٹ بن چکا ہے

قسط سوم: آئینی اصلاحات — اسلام کو علامت سے نظام بنانے کا عملی خاکہ

 قسط سوم: آئینی اصلاحات — اسلام کو علامت سے نظام بنانے کا عملی خاکہ

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

تمہید: تنقید کے بعد تعمیر لازم ہے

اسلام محض یہ نہیں سکھاتا کہ:

“کیا غلط ہے”

بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ:

“درست کو کیسے قائم کیا جائے”

لہٰذا اب سوال یہ نہیں کہ

اسلام کہاں دبایا گیا—

بلکہ سوال یہ ہے کہ:

اسلام کو آئینی طور پر مؤثر کیسے بنایا جائے؟

1️⃣ حاکمیتِ الٰہیہ کو عملی بالادستی دینا

مسئلہ

قراردادِ مقاصد آئین کا حصہ ہے

مگر اس کی عملی فوقیت متعین نہیں

تجویز

آئین میں واضح ترمیم کے ذریعے یہ طے کیا جائے کہ:

اگر کوئی قانون قرآن و سنت سے متصادم ہو

تو وہ خود بخود کالعدم ہوگا

یہ اختیار:

سپریم کورٹ

اور وفاقی شرعی عدالت کے مشترکہ بینچ کو ہو

یوں:

پارلیمنٹ با اختیار رہے

مگر ما فوق الشریعت نہ ہو

2️⃣ اسلامی نظریاتی کونسل کو فیصلہ کن کردار

مسئلہ

کونسل محض مشاورتی ادارہ ہے

اصلاح

اس کی سفارشات کو قانون سازی سے پہلے لازمی بنایا جائے

پارلیمنٹ اگر اختلاف کرے تو

تحریری، مدلل اور عوامی جواب دینا لازم ہو

یوں:

اسلام رکاوٹ نہیں

قانون سازی کا معیار بنے گا

3️⃣ وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات میں توسیع

مسئلہ

شرعی عدالت کو:

معیشت

بینکاری

ٹیکس

جیسے اہم شعبوں سے باہر رکھا گیا

اصلاح

آئینی ترمیم کے ذریعے

تمام قوانین کو اس کے دائرۂ اختیار میں لایا جائے

خاص طور پر:

سودی نظام

غیر منصفانہ ٹیکس

ریاستی معاہدات

یہی وہ میدان ہیں جہاں اسلام کو روکا گیا۔

4️⃣ احتساب کو آئینی فریضہ بنانا

مسئلہ

احتساب ادارے حکومت کے ماتحت ہیں

اصلاح

آئین میں واضح شق شامل کی جائے کہ:

ہر صاحبِ اختیار

ہر ادارہ

ہر عہدہ

بلا استثنا احتساب کے تابع ہوگا

کوئی:

آئینی تحفظ

ادارہ جاتی پردہ

مقدس گائے

قابلِ قبول نہ ہو

یہی اسلامی اصول ہے:

“طاقت = جواب دہی”

5️⃣ بنیادی حقوق اور اسلامی حدود کی ہم آہنگی

مسئلہ

عدالتیں بنیادی حقوق کو

اسلامی اصولوں پر فوقیت دیتی ہیں

اصلاح

آئین میں واضح کیا جائے کہ:

بنیادی حقوق

قرآن و سنت کی روشنی میں ہی تشریح ہوں گے

یوں:

آزادی فتنہ نہیں بنے گی

حقوق ذمہ داری سے جُڑ جائیں گے

6️⃣ نفاذ کے بغیر ترمیم بے معنی ہے

اسلامی تاریخ کا سبق:

قانون کاغذ سے نہیں،

ادارے اور ارادے سے چلتا ہے

لہٰذا:

آئینی ترمیم کے ساتھ

نفاذی ٹائم لائن

ذمہ دار ادارے

عدالتی نگرانی

لازم قرار دی جائے

ورنہ:

اسلام پھر دیباچے میں قید ہو جائے گا

اختتامی کلمات: یہ انقلاب نہیں، آئینی تطہیر ہے

یہ تجاویز:

بغاوت نہیں

تصادم نہیں

بلکہ:

آئین کو اس کی اپنی روح کے مطابق زندہ کرنا ہے

اسلام کوئی اجنبی نظام نہیں

وہ پہلے ہی آئین میں موجود ہے

بس طاقتور ہاتھوں نے اسے باندھ رکھا ہے

اگلی قسط میں

آئینی نفاذ کے بعد

اسلامی ریاست کا عملی چہرہ ۔ معیشت، عدل اور حکمرانی

(ریاستِ مدینہ کا جدید، قابلِ عمل ماڈل)

یہ سلسلہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے

قلم رکے گا نہیں

حق بات مکمل ہو کر رہے گی

قسط چہارم: آئینی نفاذ کے بعد اسلامی ریاست کا عملی چہرہ

 قسط چہارم: آئینی نفاذ کے بعد اسلامی ریاست کا عملی چہرہ

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

معیشت، عدل اور حکمرانی ۔ ریاستِ مدینہ کا جدید ماڈل

تمہید: خواب نہیں، قابلِ نفاذ نقشہ

اسلامی ریاست کا تصور:

نہ ماضی پرستی ہے

نہ یوٹوپیا

بلکہ:

ایک اخلاقی، قانونی اور ادارہ جاتی نظام

جو ہر دور میں نافذ ہو سکتا ہے۔

ریاستِ مدینہ اس کا پہلا ماڈل تھی،

جدید پاکستان اس کا امتحان ہے۔

1️⃣ معیشت: سود سے نجات، عدل سے دولت

بنیادی اصول

اسلامی معیشت کا ہدف:

دولت کی گردش

محنت کا تحفظ

استحصال کا خاتمہ

قرآن کا اعلان ہے:

وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا

عملی شکل

مرحلہ وار سودی نظام کا خاتمہ

اسلامی بینکاری کو اصل شراکتی ماڈل پر منتقل کرنا

زکوٰۃ و عشر کو ریاستی فلاحی نظام کی بنیاد بنانا

ٹیکس نظام میں انصاف اور تناسب

یہ محض مذہبی اصلاح نہیں—

یہ معاشی استحکام کی کنجی ہے۔

2️⃣ عدل: طاقتور کے خلاف، کمزور کے حق میں

اسلامی عدل کی روح

اسلامی عدل:

طبقاتی نہیں

سست نہیں

اندھا نہیں

بلکہ:

تیز، شفاف اور مساوی

رسول اللہ ﷺ کا اعلان:

“اگر فاطمہؓ بھی چوری کرے…”

عملی نظام

فاسٹ ٹریک عدالتیں

مفت قانونی امداد

طاقتور و کمزور کے لیے ایک معیار

قاضیوں کی مکمل آزادی

یہی عدل ریاست کو اخلاقی جواز دیتا ہے۔

3️⃣ حکمرانی: اقتدار نہیں، امانت

اسلامی حکمرانی کا اصول

قرآن کہتا ہے:

إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ

قوت بغیر امانت ظلم ہے

اور امانت بغیر قوت کمزوری۔

عملی حکمرانی

شفاف تقرریاں

عوامی اثاثہ ڈیکلریشن

احتساب بالا ترین سطح سے

مشاورت (شوریٰ) کو حقیقی اختیار

یہی اسلامی گورننس ہے۔

4️⃣ ریاست اور شہری: خوف نہیں، اعتماد

اسلامی ریاست:

شہری کو رعیت نہیں

بلکہ امانت دار شریک سمجھتی ہے

لہٰذا:

سوال کرنا حق

تنقید ذمہ داری

اختلاف جرم نہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“دین خیر خواہی کا نام ہے”

یہ خیر خواہی ریاست اور شہری دونوں پر لازم ہے۔

5️⃣ خارجہ پالیسی: اصول، نہ غلامی

اسلامی ریاست:

ظلم کے ساتھ نہیں

اصول کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے

لہٰذا:

خود داری

انصاف

مظلوم کی حمایت

یہی ریاستِ مدینہ کی خارجہ پالیسی تھی۔

اختتامی کلمات: اسلام بوجھ نہیں، نجات ہے

اسلام نافذ ہو جائے تو:

ریاست سخت نہیں ہوتی

بلکہ منصف ہوتی ہے

یہ قسط:

خوف نہیں

امید دیتی ہے

اگلی اور آخری قسط میں

پاکستان کا فیصلہ کن موڑ:

اسلامی ریاست یا دائمی بحران؟

(خلاصہ، لائحۂ عمل اور قومی انتخاب)

یہ سلسلہ اپنے انجام کے قریب ہے

قلم نے گواہی دے دی ہے

اب فیصلہ قوم کو کرنا ہے