Friday, 2 January 2026

اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ اعلان حق، للکار ضمیر

 اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ اعلانِ حق، للکارِ ضمیر

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

یہ محض ایک قرآنی آیت نہیں، یہ تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا اعلان ہے۔ یہ کسی مناظرانہ بحث کا عنوان نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ابدی خطِ امتیاز ہے۔ قرآنِ مجید پوری قوت، پورے یقین اور کامل قطعیت کے ساتھ اعلان کرتا ہے:

“اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ”

یعنی بے شک، یقینی طور پر، اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

یہ اعلان کسی انسان کا نہیں، کسی قوم کا نہیں، کسی مذہبی گروہ کا نہیں، یہ اعلان ربِّ کائنات کا ہے، وہ رب جو زمین و آسمان کا خالق، انسان کے ظاہر و باطن سے باخبر اور اس کی فطرت کا جاننے والا ہے۔ جب وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میرے نزدیک دین صرف اسلام ہے، تو پھر دنیا کی کوئی طاقت، کوئی فلسفہ، کوئی نظریہ اس کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔

اسلام کوئی نیا مذہب نہیں جس کی ابتدا ساتویں صدی میں ہوئی ہو، بلکہ یہ تو وہی دینِ فطرت ہے جو حضرت آدمؑ کے ساتھ زمین پر اترا، جو نوحؑ کی کشتی میں محفوظ رہا، جو ابراہیمؑ کی قربانی میں جھلکا، جو موسیٰؑ کی شریعت میں جلوہ گر ہوا اور جو عیسیٰؑ کی تعلیمات میں زندہ رہا، یہاں تک کہ محمد ﷺ پر آ کر مکمل، جامع اور دائمی صورت اختیار کر گیا۔ سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا دین ایک تھا، سب کا پیغام ایک تھا، اور وہ پیغام یہی تھا: اللہ کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کر دو، یہی اسلام ہے۔

یہ آیت ان تمام خوش فہمیوں کو چکناچور کر دیتی ہے جن کے مطابق ہر راستہ حق ہے اور ہر نظریہ نجات کا ذریعہ۔ قرآن دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتا ہے کہ حق ایک ہے، اور وہ اللہ کا مقرر کردہ دین ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا:

“وَمَن يَّبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ”

جو اسلام کے سوا کوئی اور راستہ تلاش کرے گا، کسی دوسرے نظریے کی اتباع کرے گا اس سے وہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا گویا دوسرے نظاموں، نظریات، ازمون کو ماننے والا خسارے میں رہے گا۔

مگر یہاں ایک اور حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے: اسلام جبر کا نام نہیں، بلکہ دعوت کا دین ہے۔ حق کو واضح کر دینا اسلام کا کام ہے، دلوں کو زبردستی جھکا دینا اس کا طریقہ نہیں۔ اسی لیے قرآن اعلان کرتا ہے:

“لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”

اسلام دلیل سے بات کرتا ہے، کردار و دلیل سے قائل کرتا ہے، اور اخلاق سے دل جیتتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آج اسلام کو دنیا کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟ کیا وہ اسے عدل، امانت، دیانت اور رحمت کے دین کے طور پر جانتی ہے؟ یا ہم نے اپنے اعمال سے اس عظیم دین کی تصویر مسخ کر دی ہے؟ اگر اسلام اللہ تعالٰی کے نزدیک واحد دینِ حق ہے، تو پھر مسلمان کیوں ذلت، انتشار اور پسماندگی کا شکار ہیں؟ اس کا جواب دین میں نہیں، ہمارے دین سے انحراف و روگردانی کے عمل میں ہے۔

ہم نے اسلام کو نعروں تک محدود کر دیا، فرقوں میں بانٹ دیا، رسموں میں قید کر دیا۔ ہم نے قرآن پڑھا مگر سمجھا نہیں، سمجھا مگر اپنایا نہیں، اور اپنایا مگر نافذ نہیں کیا۔ حالانکہ اسلام صرف مسجد کا دین نہیں، یہ بازار، عدالت، ایوانِ اقتدار اور معاشرے کے ہر گوشے کا دین ہے۔ یہ نظامِ عدل بھی ہے، ضابطۂ اخلاق بھی، دستورِ حیات بھی اور منشورِ نجات بھی۔

یہ آیت ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ دین کون سا حق ہے، بلکہ یہ ہم سے یہ سوال بھی کرتی ہے:

کیا ہم واقعی اسلام کے نمائندے ہیں؟

کیا ہمارا کردار اسلام کی گواہی دیتا ہے؟

کیا ہماری سیاست، معیشت اور معاشرت اس دین کی عکاس ہے جسے اللہ نے اپنا دین قرار دیا؟

یاد رکھئے! اگر مسلمان خود اسلام کے تقاضوں کو پامال کریں گے تو دنیا کو اسلام کی حقانیت کیسے نظر آئے گی؟ دین کی صداقت دلیل سے کم اور کردار سے زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ “اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ” محض ایک آیت نہیں، یہ ایک دعوت ہے، ایک للکار ہے ضمیر کی پکار ہے، ایک ذمہ داری ہے۔ یہ ہمیں ایمان کے دعوے سے آگے بڑھ کر عمل کی کسوٹی پر آنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر ہم نے اس مطالبے کو قبول کر لیا، تو یہی آیت ہمارے عروج کی بنیاد بنے گی؛ اور اگر ہم نے اسے نظرانداز کیا، تو یہی آیت قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہی دے گی۔

اللہ ہمیں اسلام کو ماننے کے ساتھ ساتھ قرآن و سنۃ کے احکامات، اوامر و نواہی، حقوق اللہ و حقوق العباد، اسوۃ حسنہ کے مطابق صراط مستقیم پر چلتے ہوئے جینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہم آمین یا رب العالمین۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ دینِ حق کا آفاقی اعلان

 اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ  دینِ حق کا آفاقی اعلان

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

قرآنِ مجید کی سورۃ آلِ عمران کی یہ مختصر مگر جامع آیت “اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ” (بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے) انسانی تاریخ، فکری ارتقا اور دینی شعور کا ایک فیصلہ کن اعلان ہے۔ یہ آیت محض کسی مذہبی گروہ کی فوقیت کا بیان نہیں بلکہ حق و صداقت کے اس ابدی معیار کی وضاحت ہے جسے خالقِ کائنات نے انسانیت کے لیے منتخب فرمایا۔

اسلام کا مفہوم محض ایک مذہبی شناخت تک محدود نہیں، بلکہ لغوی اعتبار سے اطاعت، فرماں برداری، اور مکمل سپردگی کا نام ہے۔ گویا اسلام اللہ تعالٰی کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینے کا عملی نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے مطابق حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء و رسل علی نبینا و علیہم الصلوۃ والسلام کا دین ایک ہی رہا یعنی اسلام۔ فرق صرف شریعت اور احکام کی جزئیات میں تھا، اصل پیغام ہر دور میں ایک ہی رہا: توحید، اطاعتِ الٰہی، رسالت و نبوۃ اور اخلاقِ حسنہ۔

یہ آیت اس غلط فہمی کی بھی نفی کرتی ہے کہ مختلف ادیان دراصل مختلف راستے ہیں جو ایک ہی منزل تک پہنچتے ہیں۔ قرآن واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول دین صرف وہی ہے جو اس کی وحی کے مطابق ہو، اور آخری و مکمل وحی حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے کے بعد دینِ اسلام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا۔ اسی حقیقت کو قرآن ایک اور مقام پر یوں بیان کرتا ہے:

“وَمَن يَّبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ”

(اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کی اتباع کرنا چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا)

تاہم، یہاں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ اسلام کا یہ اعلان کسی جبر، تنگ نظری یا نفرت کا درس نہیں دیتا۔ قرآن نے ساتھ ہی یہ اصول بھی واضح کر دیا:

“لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”

یعنی دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ اسلام حق کو واضح کر دیتا ہے، فیصلہ انسان کے ضمیر پر چھوڑ دیتا ہے۔

بدقسمتی سے آج ہم اسلام کو محض رسوم، فرقہ واریت اور ظاہری شناخت تک محدود کر بیٹھے ہیں، جبکہ قرآن کا اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معیشت، سیاست اور معاشرت سب کو محیط ہے اس میں فرقہ کی قطعاَ کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اگر واقعی ہم اس آیت پر ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں اپنے انفرادی اور اجتماعی طرزِ عمل میں اسلام کی عملی تصویر پیش کرنا ہو گی۔ محض زبانی دعوے اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں۔

آج کی دنیا میں جہاں مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دے کر اجتماعی زندگی سے بے دخل کیا جا رہا ہے، وہاں یہ آیت ایک فکری چیلنج بن کر سامنے آتی ہے۔ اسلام انسان کو صرف مسجد تک محدود نہیں کرتا بلکہ بازار، عدالت، ایوانِ اقتدار اور معاشرے کے ہر گوشے میں عدل، امانت اور تقویٰ کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہی وہ جامعیت ہے جو اسلام کو دیگر نظریات سے ممتاز بناتی ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان ہونے کے باوجود ہم نے اسلام کے اخلاقی اور سماجی تقاضوں کو نظرانداز کر دیا ہے۔ جھوٹ، ناانصافی، کرپشن اور طبقاتی ظلم نے ہمارے معاشروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کو بطور دینِ حق تسلیم کرے، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے کردار کے ذریعے اس آیت کی گواہی دینا ہو گی۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ “اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ” محض ایک عقیدے کا بیان نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک دعوت اور ایک محاسبہ ہے۔ یہ آیت ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی اسلام کے نمائندے ہیں؟ کیا ہماری زندگی، ہمارا رویہ اور ہمارا نظام اس دین کی عکاسی کرتا ہے جسے اللہ نے واحد دینِ حق قرار دیا؟

جب تک ہم اس سوال کا عملی جواب نہیں دیتے، اس آیت کی حقانیت کا تقاضا بھی ہم سے پورا نہیں ہو سکتا۔ رب کریم امت مسلمہ کو قرآن و سنۃ کے منزل من اللہ احکامات)اوامر و نواہی) حقوق اللہ و حقوق العباد پر قناعت کرنے اور ان کی کماحقہ اطاعت و اتباع کرنے اسوۃ حسنہ اور صراط مستقیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہم آمین یا ارحم الراحمین