*قسط دوم۔ سود اور تجارت:
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی
شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل، عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ
گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔
دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔
ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔
سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔
اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔
No comments:
Post a Comment