دعا کے بعد پہلا قدم۔ قسط دوم:
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
اب عمل کی باری ہے
دعا سے پہلے آنسو، دعا کے بعد اقدام
اب وقت ہے کہ ہم صرف نعرے اور آنسو تک محدود نہ رہیں۔
دعا کے بعد پہلا قدم ہے خود احتسابی۔
قرآن فرماتا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ”
اپنی کمزوریوں کا حساب لینا، اپنے اعمال کا جائزہ لینا،
یہی پہلا اور سب سے بنیادی قدم ہے۔
دوسرا قدم ہے کردار کی تبدیلی۔
صرف مسجد میں نماز اور منبر میں تقریر سے کام نہیں چلتا۔
اقبالؒ فرماتے ہیں:
"عملی طور پر اپنی ذات کو بلند کرو، تاکہ امت کی راہ روشن ہو"
ہر مسلمان کو اپنی روزمرہ زندگی میں حق، عدل، صداقت اور جرأت کو عملی طور پر اپنانا ہوگا۔
تیسرا قدم ہے علم اور شعور کی بحالی۔
قرآن و سنت کو نصاب یا دیواروں تک محدود رکھنے سے کچھ حاصل نہیں۔
حقیقی ایمان وہ ہے جو مسائل کو پہچانے، فیصلے کرے، اور قیادت پیدا کرے۔
چوتھا قدم ہے اجتماعی اقدام۔
اقبالؒ فرماتے ہیں:
"خودی کی بیداری سے قومیں بیدار ہوتی ہیں"
انفرادی اصلاح کے بغیر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں۔
ہمیں معاشرتی اور سیاسی اداروں میں چھوٹے چھوٹے عملی قدم اٹھانے ہوں گے،
فرقہ واریت، منافقت اور مفاد پرستی کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔
پانچواں قدم ہے حق اور عدل کے لیے بے خوف لڑائی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں دعا اور عمل کا امتزاج ہوتا ہے۔
ظلم کے خلاف ڈٹنا، ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا،
اور باطل کے ایوانوں میں حق کے علم کو بلند کرنا
ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں یاد رکھیں:
دعا صرف آغاز ہے،
عمل کے بغیر یہ صرف رونا اور نعرہ رہ جائے گا۔
اقبالؒ کی صدا آج بھی گونج رہی ہے:
"قومیں نہیں مرتی، ضمیر مرتا ہے"
ضمیر کو زندہ کریں، کردار کو سنواریں،
ورنہ کوئی دعا، کوئی نعرہ، اور کوئی انقلاب
ہماری دنیا میں کبھی اثر نہیں رکھے گا۔
نتیجہ:
دعا کے بعد پہلا قدم ہے:
خود کو بدلنا، کردار سنوارنا، شعور بلند کرنا، اجتماعی اقدام کرنا، اور حق کے لیے بے خوف لڑنا۔
یہی عملی راہ ہے جو امت کو دوبارہ عروج کی طرف لے جا سکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment