انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت
تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
ایک غیر جانبدارانہ، علمی اور اسٹریٹجک تقابلی مطالعہ
جنوبی ایشیا میں انڈیا اور پاکستان دو ایسی ریاستیں ہیں جن کے درمیان تاریخی تنازع، جغرافیائی قربت اور ایٹمی صلاحیت نے عسکری توازن (Strategic Balance) کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ دونوں ممالک کی فوجی قوت کا تقابل صرف تعداد یا بجٹ تک محدود نہیں بلکہ عسکری نظریہ، دفاعی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی، تربیت اور آپریشنل تجربہ بھی اس کا لازمی جز ہے۔
بری افواج (Army)
انڈیا کی بری فوج عددی اعتبار سے دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے پاس افرادی قوت، بکتر بند دستوں اور توپخانے کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈیا کا عسکری تصور (Doctrine) روایتی جنگ (Conventional Warfare) میں عددی اور لاجسٹک برتری پر مبنی ہے، جس کی مثال Cold Start Doctrine ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی بری فوج عددی لحاظ سے چھوٹی مگر پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تجربے اور تیز رفتار ردِعمل کے حوالے سے ممتاز سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود کوالٹی اوور کوانٹیٹی (Quality over Quantity) کے اصول کو اپنایا ہے۔ مقامی دفاعی صنعت (Heavy Industries Taxila، HIT) کے تحت ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تیاری بھی ایک اہم پہلو ہے۔
فضائی افواج (Air Force)
فضائی قوت اس خطے میں فیصلہ کن کردار رکھتی ہے۔ انڈین ایئر فورس کے پاس طیاروں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ مغربی و روسی ٹیکنالوجی کا امتزاج رکھتی ہے۔ جدید ملٹی رول فائٹر طیارے، ایئر بورن وارننگ سسٹمز اور بڑے ایئر بیس نیٹ ورک انڈیا کی فضائی قوت کا حصہ ہیں۔
پاکستان ایئر فورس کو عالمی سطح پر انتہائی منظم، جدید اور پیشہ ور فضائیہ سمجھا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور محدود وسائل میں زیادہ مؤثر کارکردگی اس کا امتیاز ہے۔ مقامی و مشترکہ پیداوار کے تحت تیار ہونے والے لڑاکا طیارے، الیکٹرانک وارفیئر اور پائلٹ ٹریننگ سسٹمز نے فضائی توازن کو برقرار رکھا ہے۔ فضائی جھڑپوں میں عملی تجربہ پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔
بحری افواج (Navy)
بحری طاقت کے میدان میں انڈیا کو واضح برتری حاصل ہے۔ اس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز، نیوکلیئر آبدوزیں اور وسیع بحری بیڑہ موجود ہے، جو اسے بحرِ ہند میں Blue Water Navy کی صلاحیت دیتا ہے۔
پاکستان نیوی عددی اعتبار سے چھوٹی مگر اسٹریٹجک ڈیٹرنس پر مرکوز ہے۔ آبدوزوں، اینٹی شپ میزائلز، ساحلی دفاع اور بحری نگرانی کے جدید نظام پاکستان کی بحری حکمتِ عملی کا مرکز ہیں۔ پاکستان کی بحری سوچ دفاعی اور روک تھام (Sea Denial Strategy) پر مبنی ہے، نہ کہ غلبے پر۔
ایٹمی اور میزائل صلاحیت
دونوں ممالک ایٹمی قوت رکھتے ہیں، جو براہِ راست جنگ کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ انڈیا کا جھکاؤ No First Use کے دعوے کے باوجود طاقت کے مظاہرے کی طرف ہے، جبکہ پاکستان کا ایٹمی نظریہ واضح طور پر Credible Minimum Deterrence اور بعد ازاں Full Spectrum Deterrence پر مبنی ہے، جو روایتی جنگ کے ہر درجے پر توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔
دفاعی بجٹ اور عسکری صنعت
انڈیا کا دفاعی بجٹ کہیں زیادہ ہے، مگر بڑا بجٹ ہمیشہ مؤثر نتائج کی ضمانت نہیں ہوتا۔ پاکستان کم بجٹ کے باوجود مقامی دفاعی پیداوار، اسٹریٹجک شراکت داری اور بہتر منصوبہ بندی سے خلا پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
نتیجہ
انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت کا تقابل محض تعداد یا شور و غوغا سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ معیار، جنگی تجربے اور ڈیٹرنس توازن سے کیا جانا چاہیے۔ انڈیا کو عددی اور بحری برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو آپریشنل مہارت، اسٹریٹجک وضاحت اور توازنِ خوف میں فوقیت حاصل ہے۔ یہی توازن اب تک کسی بڑی جنگ کو روکنے کا بنیادی سبب رہا ہے۔۔
No comments:
Post a Comment