Wednesday, 14 January 2026

ماہ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

 ماہِ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ماہِ رجب اسلامی تقویم کا ایک محترم اور معزز مہینہ ہے جسے قرآنِ کریم نے اشہرِ حُرم میں شامل فرمایا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بالخصوص رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو واقعۂ اسراء و معراج النبی ﷺ سے منسوب کر کے خصوصی تقدس، عبادات اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ اور علمی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قرآن و سنت، آثارِ صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ دین کے نزدیک اس رات کی کوئی خاص شرعی فضیلت ثابت ہے یا یہ بعد کے ادوار میں رائج ہونے والا ایک مذہبی تصور ہے؟

قرآنِ کریم کی روشنی میں

قرآنِ کریم میں واقعۂ اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل (آیت 1) میں نہایت اختصار مگر عظیم شان کے ساتھ آیا ہے:

“سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا…”

لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں نہ تو اس واقعے کی تاریخ، نہ مہینہ اور نہ ہی کسی مخصوص رات کا تعین کیا گیا ہے۔ یہی بات اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن نے اس واقعے کی عقیدتی و ایمانی اہمیت کو بیان کیا، نہ کہ اس کی تقویمی تخصیص کو۔

احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ

احادیثِ صحیحہ میں معراج النبی ﷺ کا تفصیلی ذکر ملتا ہے، خصوصاً صحیح بخاری و مسلم میں، مگر محدثین کا اتفاق ہے کہ کسی صحیح، صریح اور قطعی حدیث میں یہ تصریح موجود نہیں کہ معراج ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آئی۔

امام نوویؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور امام قرطبیؒ جیسے جلیل القدر محدثین نے واضح طور پر لکھا ہے کہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، اور کسی ایک رات کو قطعی طور پر معین کرنا علمی طور پر درست نہیں۔

آثارِ صحابہؓ اور سلف صالحین کا طرزِ عمل

اگر رجب کی ستائیسویں شب واقعی کوئی خاص عبادتی فضیلت رکھتی تو بلا شبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا اہتمام فرماتے۔ مگر تاریخی و حدیثی ذخیرے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں کہ صحابہؓ، تابعین یا تبع تابعین نے اس رات کو مخصوص عبادات، روزے یا جشن کے طور پر منایا ہو۔

امام ابن تیمیہؒ صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:

“معراج کی رات کو مخصوص عبادت کے لیے مقرر کرنا نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہاء کا موقف

ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) میں سے کسی سے بھی رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت یا اس رات کے لیے مخصوص عبادات کا ثبوت نہیں ملتا۔

فقہاء و مجتہدین نے اصولی طور پر یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ عبادات میں اصل توقیف ہے، یعنی جس عبادت کی خاص ہیئت، وقت یا فضیلت نصِ شرعی سے ثابت نہ ہو، اسے دین کا حصہ بنانا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

اصل پیغام اور صحیح طرزِ فکر

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ واقعۂ معراج ایمان، رسالت اور عظمتِ مصطفی ﷺ کا بے مثال مظہر ہے۔ پانچ وقت کی نماز جیسی عظیم نعمت اسی شب عطا ہوئی، جو معراج کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ مگر اس عظیم واقعے کی یاد کو کسی غیر ثابت تاریخ یا مخصوص رسوم کے ساتھ جوڑ دینا، اصل روح سے انحراف کے مترادف ہے۔

نتیجہ

خلاصۂ تحقیق یہ ہے کہ:

معراج النبی ﷺ ایک قطعی اور متفق علیہ واقعہ ہے۔

لیکن ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت قرآن، سنت، آثارِ صحابہؓ اور ائمۂ دین سے ثابت نہیں۔

اس رات کو بطورِ خاص عبادت یا جشن کے طور پر منانا شرعی دلیل سے خالی ہے۔

البتہ معراج کے پیغام، خصوصاً نماز کی پابندی، اطاعتِ رسول ﷺ اور روحانی تربیت کو اپنانا ہی اس واقعے کا حقیقی تقاضا ہے۔

دینِ اسلام جذبات نہیں بلکہ دلائل کا نام ہے، اور امت کی اصلاح اسی میں ہے کہ وہ ثابت شدہ سنت کو اختیار کرے اور غیر ثابت امور میں احتیاط برتے۔

No comments:

Post a Comment