قسط 1: اسلام اور معاصر اقتصادی و سماجی نظام ہائے حیات کا ایک تحقیقی جائزہ
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
معاشرتی و اقتصادی نظام ہمیشہ سے انسانی تہذیب کے ارتقا کا بنیادی عنصر رہے ہیں۔ ہر دور کے نظاماتِ حکومت اور اقتصادی ماڈلز نے انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں کمیونزم، سوشلزم، لبرلزم، کیپیٹلزم وغیرہ کی نظریاتی بنیادیں معاشرتی انصاف، دولت کی تقسیم اور فرد کی آزادی جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ تاہم، قرآن و سنت کی روشنی میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کون سا نظام دین حق اسلام کے اخلاقی، سماجی اور اقتصادی اصولوں کے قریب ترین ہے۔
اسلامی نظام کی بنیاد قرآن و سنت کے واضح احکامات اور اصولوں پر استوار ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور جو شخص کسی محتاج کو کھانا کھلائے، گویا اس نے اللہ کو کھلایا” (سورۃ البقرۃ: 267)۔ یہ آیت اسلامی معیشت میں دولت کی منصفانہ تقسیم اور سماجی ذمہ داری کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی غرباء و مساکین کے حقوق، سود کی ممانعت، زکات اور صدقات کے نظام کو معاشرتی انصاف کی ضمانت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
کمیونزم اور سوشلزم کے اصول بعض پہلوؤں میں اسلامی تعلیمات سے قریب نظر آتے ہیں، مثلاً دولت کی اجتماعی ملکیت اور معاشرتی مساوات کی اہمیت۔ لیکن ان کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام میں ذاتی ملکیت کی بھی اجازت ہے اور اسے حلال محنت و جائز کمائی کے ساتھ فروغ دیا جاتا ہے۔ سوشلزم یا کمیونزم میں بعض اوقات فرد کی محنت اور ذاتی اختیارات محدود ہو جاتے ہیں، جو اسلامی اصول کے برخلاف ہے کہ ہر انسان کو اپنی محنت کے ثمرات حاصل کرنے کا حق ہے۔
لبرلزم اور کیپیٹلزم میں فرد کی آزادی اور ذاتی ملکیت کو زیادہ وزن دیا جاتا ہے۔ یہ نظام اقتصادی ترقی اور کاروباری حوصلہ افزائی کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں اکثر معاشرتی ذمہ داری اور غرباء و محتاجوں کے حقوق کو مناسب مقام نہیں دیا جاتا، جو کہ اسلام میں بنیادی اصول ہے۔ کیپیٹلزم میں دولت کی غیر متوازن تقسیم اور سماجی ناانصافی اکثر انسانی حقوق کے تضاد کا سبب بنتی ہے، جبکہ اسلام میں زکات اور صدقات کے ذریعے اس غیر متوازن صورتحال کو متوازن کرنے کی تاکید ہے۔
اسلامی نظام معیشت میں سود کی ممانعت، کاروبار میں شفافیت، عدل و انصاف، محتاجوں کی کفالت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے اصول شامل ہیں، جو معاصر نظامات میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہیں لیکن مکمل ہم آہنگی کے ساتھ نہیں۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام ایک متوازن، اخلاقی اور سماجی انصاف پر مبنی ماڈل فراہم کرتا ہے، جو نہ صرف فرد کی ترقی بلکہ معاشرتی بھلائی کو بھی یقینی بناتا ہے۔
نتیجتاً، قرآن و سنت کی روشنی میں معاصر اقتصادی نظاموں کا تقابلی مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر نظام کے کچھ عناصر قابل قدر ہیں، لیکن مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق کوئی بھی نظام نہیں۔ اسلام نے فرد اور معاشرہ، دولت اور انصاف، ذاتی حقوق اور سماجی ذمہ داری کے درمیان متوازن توازن قائم کیا ہے، جو آج کے عالمی بحران اور اقتصادی ناہمواری کے حل کے لیے ایک عملی اور اخلاقی رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔
No comments:
Post a Comment