Tuesday, 13 January 2026

قسط دوم، ابداع معنی کے عملی اطلاق اور فہم کلام کی رہنمائی

 قسط دوم: ابداع معنی کے عملی اطلاق اور فہم کلام کی رہنمائی

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

گزشتہ اقساط میں ہم نے ابداع معنی اور اخذ معنی کے فلسفیانہ و علمی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور عینیت کی ضرورت کو واضح کیا۔ اس قسط میں ہم عملی مثالوں اور قرآنی و ادبی اطلاقات کے ذریعے یہ سمجھیں گے کہ کیسے ابداع معنی کو صحیح طریقے سے اخذ کیا جائے۔

سب سے پہلے ادبی مثال پر غور کریں: شاعر نے کہا:

"خوابوں کے دیس میں، چاندنی کی راہوں پر چلتے ہیں ہم"

اگر قاری اسے محض روشنی یا سفر کے معنوں تک محدود سمجھ لے، تو یہ فہمِ کلام نہیں بلکہ غلط فہمی ہے۔ اصل مفہوم وہی ہے جو شاعر کے ذہن میں ابداع ہوا، یعنی ایک خیالی، روحانی اور جذباتی سفر کی تصویر جو قاری کے جذبات اور احساسات کو بھی چھو جائے۔

یہی اصول قرآنی الفاظ میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ہر آیت کے الفاظ میں مصنفِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مقصود معنی مضمر ہیں۔ قاری یا مفسر کو یہ ابداع معنی عینیت کے ساتھ اخذ کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر:

آیت: "وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي"

یہاں صرف نماز قائم کرنے کے ظاہری حکم پر عمل کرنا کافی نہیں، بلکہ مقصود معنی یعنی اللہ کی یاد میں مشغول رہنا، دل و دماغ کی توجہ اور ارادے کی نیت کے ساتھ نماز پڑھنا بھی ضروری ہے۔ یہ عمل ابداع معنی کی عینیت کے مطابق اخذ معنی کی مثال ہے۔

ادبی و قرآنی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابداع معنی کی عینیت پر قائم فہمِ کلام قاری کو محض ظاہری مفہوم سے آگے لے جاتا ہے۔ یہاں عبارۃ النص، اشارۃً النص، دلالۃ النص، اور اقتضاء النص کے اصول عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں:

عبارۃ النص قاری کو بتاتی ہے کہ لفظی معنی واضح اور غیر متغیر ہیں۔

اشارۃً النص اشارہ کرتی ہے کہ متن کے اندر پوشیدہ معنوی پہلو بھی موجود ہیں جو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔

دلالۃ النص معنی کی سمت اور ہدف کی وضاحت کرتی ہے تاکہ قاری صحیح نتیجہ اخذ کرے۔

اقتضاء النص ہر لفظ اور جملے کو مصنف کے مقصود معنی کے تابع کرتا ہے، اور غلط فہمی سے بچاتا ہے۔

یہ اصول نہ صرف ادبی اور قرآنی نصوص پر لاگو ہوتے ہیں بلکہ روزمرہ کے بیانات، علمی مکالمات اور تحریری مواد میں بھی مفہوم کی درستگی کے لیے ضروری ہیں۔ قاری، سامع یا مخاطب جب ابداع معنی کی عینیت کے مطابق اخذ معنی کرتا ہے تو وہ محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ مصنف کے ارادے اور تصور سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

نتیجتاً، ابداع معنی اور اخذ معنی کا یہ سلسلہ فہمِ کلام کی بنیاد، علمی صداقت اور ادبی حسن کا ضامن ہے۔ اگر ہم اس اصول کو نظر انداز کریں تو ادراک کی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، جو نہ صرف علمی کمی بلکہ سماجی اور فکری سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

قاری و سامع کے لیے رہنمائی یہ ہے کہ متن یا کلام کو محض لفظی سطح پر نہ سمجھیں، بلکہ مصنف کے ارادے، ذہنی تصویر اور تصور کے مطابق معنی اخذ کریں۔ یہی عمل حقیقی فہمِ کلام اور ادبی و علمی بصیرت کی اصل ضمانت ہے۔

No comments:

Post a Comment