Monday, 12 January 2026

قسط سوم: آئینی اصلاحات — اسلام کو علامت سے نظام بنانے کا عملی خاکہ

 قسط سوم: آئینی اصلاحات — اسلام کو علامت سے نظام بنانے کا عملی خاکہ

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

تمہید: تنقید کے بعد تعمیر لازم ہے

اسلام محض یہ نہیں سکھاتا کہ:

“کیا غلط ہے”

بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ:

“درست کو کیسے قائم کیا جائے”

لہٰذا اب سوال یہ نہیں کہ

اسلام کہاں دبایا گیا—

بلکہ سوال یہ ہے کہ:

اسلام کو آئینی طور پر مؤثر کیسے بنایا جائے؟

1️⃣ حاکمیتِ الٰہیہ کو عملی بالادستی دینا

مسئلہ

قراردادِ مقاصد آئین کا حصہ ہے

مگر اس کی عملی فوقیت متعین نہیں

تجویز

آئین میں واضح ترمیم کے ذریعے یہ طے کیا جائے کہ:

اگر کوئی قانون قرآن و سنت سے متصادم ہو

تو وہ خود بخود کالعدم ہوگا

یہ اختیار:

سپریم کورٹ

اور وفاقی شرعی عدالت کے مشترکہ بینچ کو ہو

یوں:

پارلیمنٹ با اختیار رہے

مگر ما فوق الشریعت نہ ہو

2️⃣ اسلامی نظریاتی کونسل کو فیصلہ کن کردار

مسئلہ

کونسل محض مشاورتی ادارہ ہے

اصلاح

اس کی سفارشات کو قانون سازی سے پہلے لازمی بنایا جائے

پارلیمنٹ اگر اختلاف کرے تو

تحریری، مدلل اور عوامی جواب دینا لازم ہو

یوں:

اسلام رکاوٹ نہیں

قانون سازی کا معیار بنے گا

3️⃣ وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات میں توسیع

مسئلہ

شرعی عدالت کو:

معیشت

بینکاری

ٹیکس

جیسے اہم شعبوں سے باہر رکھا گیا

اصلاح

آئینی ترمیم کے ذریعے

تمام قوانین کو اس کے دائرۂ اختیار میں لایا جائے

خاص طور پر:

سودی نظام

غیر منصفانہ ٹیکس

ریاستی معاہدات

یہی وہ میدان ہیں جہاں اسلام کو روکا گیا۔

4️⃣ احتساب کو آئینی فریضہ بنانا

مسئلہ

احتساب ادارے حکومت کے ماتحت ہیں

اصلاح

آئین میں واضح شق شامل کی جائے کہ:

ہر صاحبِ اختیار

ہر ادارہ

ہر عہدہ

بلا استثنا احتساب کے تابع ہوگا

کوئی:

آئینی تحفظ

ادارہ جاتی پردہ

مقدس گائے

قابلِ قبول نہ ہو

یہی اسلامی اصول ہے:

“طاقت = جواب دہی”

5️⃣ بنیادی حقوق اور اسلامی حدود کی ہم آہنگی

مسئلہ

عدالتیں بنیادی حقوق کو

اسلامی اصولوں پر فوقیت دیتی ہیں

اصلاح

آئین میں واضح کیا جائے کہ:

بنیادی حقوق

قرآن و سنت کی روشنی میں ہی تشریح ہوں گے

یوں:

آزادی فتنہ نہیں بنے گی

حقوق ذمہ داری سے جُڑ جائیں گے

6️⃣ نفاذ کے بغیر ترمیم بے معنی ہے

اسلامی تاریخ کا سبق:

قانون کاغذ سے نہیں،

ادارے اور ارادے سے چلتا ہے

لہٰذا:

آئینی ترمیم کے ساتھ

نفاذی ٹائم لائن

ذمہ دار ادارے

عدالتی نگرانی

لازم قرار دی جائے

ورنہ:

اسلام پھر دیباچے میں قید ہو جائے گا

اختتامی کلمات: یہ انقلاب نہیں، آئینی تطہیر ہے

یہ تجاویز:

بغاوت نہیں

تصادم نہیں

بلکہ:

آئین کو اس کی اپنی روح کے مطابق زندہ کرنا ہے

اسلام کوئی اجنبی نظام نہیں

وہ پہلے ہی آئین میں موجود ہے

بس طاقتور ہاتھوں نے اسے باندھ رکھا ہے

اگلی قسط میں

آئینی نفاذ کے بعد

اسلامی ریاست کا عملی چہرہ ۔ معیشت، عدل اور حکمرانی

(ریاستِ مدینہ کا جدید، قابلِ عمل ماڈل)

یہ سلسلہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے

قلم رکے گا نہیں

حق بات مکمل ہو کر رہے گی

No comments:

Post a Comment