قسط پنجم: ریاست، عدالت اور معاشرتی ذمہ داری
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی
سود اور تجارت: پاکستان میں سود کے خاتمے کا آئینی، عدالتی اور عملی تناظر
سود اور تجارت کے فرق پر ہونے والی بحث اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسے پاکستان کے آئینی، عدالتی اور عملی تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر معرضِ وجود میں آیا، جس کے آئین میں قرآن و سنت کے مطابق نظامِ حیات کے نفاذ کا عہد شامل ہے۔ اس تناظر میں سود کا خاتمہ محض ایک دینی مطالبہ نہیں بلکہ ایک آئینی ذمہ داری بھی ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38(ف) واضح طور پر ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے تدریجی مگر مؤثر اقدامات کرے۔ اسی طرح آرٹیکل 227 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا۔ یہ آئینی دفعات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ سودی نظام کو مستقل حیثیت دینا ریاستی وعدوں اور نظریاتی بنیادوں سے انحراف کے مترادف ہے۔
عدالتی سطح پر بھی سود کے خلاف تاریخی فیصلے موجود ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے متعدد فیصلوں میں سود کو ہر شکل میں حرام قرار دیا اور حکومت کو اس کے خاتمے کے لیے واضح ٹائم فریم دینے کی ہدایت کی۔ ان فیصلوں میں بینک سود، حکومتی قرضے اور مالیاتی آلات سب کو سود کے دائرے میں شمار کیا گیا۔ اگرچہ عملی نفاذ میں تاخیر اور پیچیدگیاں سامنے آئیں، مگر اصولی موقف آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔
یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ اگر سود اتنا ہی حرام اور نقصان دہ ہے تو ریاست اسے ختم کیوں نہیں کر پاتی؟ اس کا جواب محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی، ادارہ جاتی اور اخلاقی بھی ہے۔ سودی نظام عالمی معاشی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے، اور اس سے نکلنے کے لیے محض نعرے نہیں بلکہ سنجیدہ منصوبہ بندی، تدریجی حکمتِ عملی اور قومی اتفاقِ رائے درکار ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سود کا خاتمہ صرف بینکاری اصلاحات سے ممکن نہیں۔ جب تک حکومتی بجٹ خسارے، ٹیکس نظام، قرضوں کی ساخت اور مالیاتی پالیسی سودی بنیادوں پر قائم رہیں گی، اس وقت تک اسلامی بینکاری جزوی اور محدود نتائج ہی دے سکے گی۔ اسلامی معیشت ایک مکمل نظام ہے، جس کے لیے ریاستی سطح پر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی اصلاح ناگزیر ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی ہماری ذمہ داری کم نہیں۔ جب تک ہم خود سودی سہولتوں، آسان قرضوں اور یقینی منافع کے عادی رہیں گے، اس وقت تک سودی نظام مضبوط ہی رہے گا۔ اسلام فرد کو یہ شعور دیتا ہے کہ معاشی آسانی کا راستہ ہمیشہ اخلاقی درستگی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ وقتی فائدے سے۔
اسلام نے ریاست، عدالت اور فرد تینوں کو سود کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ ریاست قانون سازی کرے، عدالت نگرانی اور اصلاح کرے، اور معاشرہ عملی طور پر حلال تجارت اور شراکت کو فروغ دے۔ یہی وہ مشترکہ جدوجہد ہے جس سے سودی نظام کمزور اور اسلامی معاشی اصول مضبوط ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ بات پوری دیانت سے کہی جا سکتی ہے کہ سود کا خاتمہ کوئی خواب نہیں بلکہ ایک آئینی، عدالتی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر نیت، قیادت اور اجتماعی شعور بیدار ہو جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے نظریے سے وفاداری ثابت کر سکتا ہے بلکہ دنیا کو ایک منصفانہ اور متبادل معاشی ماڈل بھی فراہم کر سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment