Thursday, 15 January 2026

اتباع رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط

 اتباعِ رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اس سلسلۂ مضامین میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ دینِ اسلام کی اصل روح، اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع میں مضمر ہے۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو، فلاحِ دارین کی جستجو ہو یا امت کی اجتماعی نجات، ہر پہلو اسی ایک اصول سے وابستہ ہے۔ اختتامی قسط میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے اتباعِ رسول ﷺ کو کس طرح اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنایا، اور یہ منہج آج امت کے لیے کس طرح ایک زندہ نمونہ بن سکتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ: اتباعِ رسول ﷺ کا عملی پیکر

صحابۂ کرامؓ کی امتیازی شان یہ تھی کہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ سنتِ نبوی ﷺ سے خالی نہ تھا۔ عبادات ہوں یا معاملات، جنگ ہو یا امن، گھریلو زندگی ہو یا ریاستی نظم، ہر موقع پر ان کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا: “رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا؟”

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ معمول معروف ہے کہ وہ سفر کے دوران انہی مقامات پر قیام فرماتے جہاں نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا، خواہ بظاہر اس کی کوئی عقلی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہ طرزِ عمل اس محبت اور اطاعت کی عملی تصویر تھا جسے قرآن نے مطلوب قرار دیا ہے۔

:سنت کی حفاظت اور دین کی بقا

صحابۂ کرامؓ نے نہ صرف خود سنت پر عمل کیا بلکہ اس کی حفاظت اور اشاعت کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے دین میں اضافے اور کمی دونوں سے سخت اجتناب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نئے عمل کا سوال اٹھتا تو وہ  

فوراً کہتے: کہ “کیا یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھا؟

اگر جواب نفی میں ہوتا تو وہ اسے اختیار کرنے سے رک جاتے۔ یہی وہ شعور تھا جس نے بدعت کے دروازے بند رکھے اور دین کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھا۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور اجتماعی نظام

اتباعِ رسول ﷺ کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہ تھا بلکہ اجتماعی اور ریاستی نظم بھی اسی کے تابع تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں عدلِ اجتماعی، شفاف احتساب، بیت المال کا امانت دارانہ استعمال اور قانون کی بالادستی یہ سب سنتِ نبوی ﷺ ہی کا تسلسل تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول تاریخ کا روشن باب ہے:

“اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالٰی عمر سے سوال کرے گا”۔

یہ احساسِ جواب دہی دراصل اتباعِ رسول ﷺ کا ہی ثمر تھا۔

:امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی کمزوری، ان سب کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے سنت کو محض رسمی یا اختلافی مسئلہ بنا دیا ہے، حالانکہ وہ دین کی روح اور زندگی کا عملی نظام ہے۔ صحابۂ کرامؓ کا اسوہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سنت کو جزوی نہیں بلکہ کامل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کیا جائے۔

خلاصۂ کلام

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالٰی کی محبت کا راستہ اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔

سنت سے وابستگی دین کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

صحابۂ کرامؓ کا منہج امت کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔

اگر آج کا مسلمان اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکز بنا لے تو نہ صرف دینی شناخت بحال ہو سکتی ہے بلکہ امت دوبارہ عزت، وحدت اور قیادت کے مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔

یہی قرآن کا مطالبہ ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کا پیغام اور یہی امتِ مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

No comments:

Post a Comment