قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی
اسلامی معاشی نظام کی بنیاد عدل، توازن اور انسانی فلاح پر قائم ہے۔ قرآن و سنت نے جن معاشی اصولوں کو قطعی اور غیر متبدل قرار دیا ہے، ان میں سب سے نمایاں سود کی حرمت اور تجارت کی حلت ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں سود کو مختلف ناموں سے تجارت کے ہم معنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام نے ان دونوں کے درمیان واضح، قطعی اور فیصلہ کن حدِ فاصل قائم کی ہے۔
قرآنِ مجید اس فرق کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے:
“وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا” (البقرہ: 275)
یعنی اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلی عرب سود کو بھی تجارت ہی کی ایک شکل سمجھتے تھے، جسے قرآن نے دو ٹوک انداز میں رد کر دیا۔ یہ آیت بذاتِ خود سود اور تجارت کے فرق کا حتمی معیار ہے۔
سود دراصل وہ طے شدہ اضافہ ہے جو قرض پر وقت کے عوض لیا جائے، چاہے مقروض کو نفع ہو یا نقصان۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کسی کو ایک لاکھ روپے قرض دے اور شرط رکھے کہ چھ ماہ بعد ایک لاکھ بیس ہزار واپس کرے گا تو یہ اضافہ سود ہے، کیونکہ نفع پہلے سے متعین اور یقینی ہے، جبکہ نقصان کا پورا بوجھ ایک ہی فریق پر پڑتا ہے۔ اس میں نہ حقیقی تجارت شامل ہے اور نہ محنت یا خطرہ۔
اس کے برعکس تجارت وہ معاشی عمل ہے جس میں سرمایہ بھی لگتا ہے، محنت بھی ہوتی ہے اور نفع و نقصان دونوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ اگر دو افراد مل کر کاروبار کریں اور نفع ہو تو دونوں شریک ہوں، اور نقصان ہو تو دونوں متاثر ہوں، تو یہی بیع و تجارت ہے جو شریعت میں حلال ہے۔
صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ نے اس فرق کو نہایت وضاحت سے بیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے:
“ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، وہ ربا ہے۔”
حضرت عمر بن خطابؓ سود کے شبہ سے بھی اجتناب فرماتے اور کہتے تھے کہ ربا کے کئی دروازے ہیں، ان سے بچنا ہی نجات ہے۔ تابعین میں حضرت حسن بصریؒ نے نہایت جامع اصول بیان فرمایا:
“تجارت وہ ہے جس میں خطرہ ہو، اور سود وہ ہے جس میں ضمانت ہو۔”
ائمۂ اربعہ اور فقہائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قرض کا مقصد احسان ہے، نفع نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرض پر ہر مشروط اضافہ سودِ صریح ہے، جبکہ تجارت میں نفع کا تعلق خطرے سے ہے۔ امام مالکؒ کے مطابق وہ نفع جو ضمانت کے ساتھ ہو، چاہے محنت بھی کی گئی ہو، سود کے دائرے میں آتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ نفع کی شرط قرض کو حرام بنا دیتی ہے، اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک جس معاملے میں نفع یقینی اور نقصان کا کوئی امکان نہ ہو، وہ ربا ہے۔
یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو اسلامی معیشت کو سودی نظام سے ممتاز کرتے ہیں اور ایک عادلانہ معاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
سود اور تجارت: شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل
قسط دوم: عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی
گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔
دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔
ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔
سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔
اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔
No comments:
Post a Comment