قسط چہارم: آئینی نفاذ کے بعد اسلامی ریاست کا عملی چہرہ
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
معیشت، عدل اور حکمرانی ۔ ریاستِ مدینہ کا جدید ماڈل
تمہید: خواب نہیں، قابلِ نفاذ نقشہ
اسلامی ریاست کا تصور:
نہ ماضی پرستی ہے
نہ یوٹوپیا
بلکہ:
ایک اخلاقی، قانونی اور ادارہ جاتی نظام
جو ہر دور میں نافذ ہو سکتا ہے۔
ریاستِ مدینہ اس کا پہلا ماڈل تھی،
جدید پاکستان اس کا امتحان ہے۔
1️⃣ معیشت: سود سے نجات، عدل سے دولت
بنیادی اصول
اسلامی معیشت کا ہدف:
دولت کی گردش
محنت کا تحفظ
استحصال کا خاتمہ
قرآن کا اعلان ہے:
وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
عملی شکل
مرحلہ وار سودی نظام کا خاتمہ
اسلامی بینکاری کو اصل شراکتی ماڈل پر منتقل کرنا
زکوٰۃ و عشر کو ریاستی فلاحی نظام کی بنیاد بنانا
ٹیکس نظام میں انصاف اور تناسب
یہ محض مذہبی اصلاح نہیں—
یہ معاشی استحکام کی کنجی ہے۔
2️⃣ عدل: طاقتور کے خلاف، کمزور کے حق میں
اسلامی عدل کی روح
اسلامی عدل:
طبقاتی نہیں
سست نہیں
اندھا نہیں
بلکہ:
تیز، شفاف اور مساوی
رسول اللہ ﷺ کا اعلان:
“اگر فاطمہؓ بھی چوری کرے…”
عملی نظام
فاسٹ ٹریک عدالتیں
مفت قانونی امداد
طاقتور و کمزور کے لیے ایک معیار
قاضیوں کی مکمل آزادی
یہی عدل ریاست کو اخلاقی جواز دیتا ہے۔
3️⃣ حکمرانی: اقتدار نہیں، امانت
اسلامی حکمرانی کا اصول
قرآن کہتا ہے:
إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
قوت بغیر امانت ظلم ہے
اور امانت بغیر قوت کمزوری۔
عملی حکمرانی
شفاف تقرریاں
عوامی اثاثہ ڈیکلریشن
احتساب بالا ترین سطح سے
مشاورت (شوریٰ) کو حقیقی اختیار
یہی اسلامی گورننس ہے۔
4️⃣ ریاست اور شہری: خوف نہیں، اعتماد
اسلامی ریاست:
شہری کو رعیت نہیں
بلکہ امانت دار شریک سمجھتی ہے
لہٰذا:
سوال کرنا حق
تنقید ذمہ داری
اختلاف جرم نہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دین خیر خواہی کا نام ہے”
یہ خیر خواہی ریاست اور شہری دونوں پر لازم ہے۔
5️⃣ خارجہ پالیسی: اصول، نہ غلامی
اسلامی ریاست:
ظلم کے ساتھ نہیں
اصول کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے
لہٰذا:
خود داری
انصاف
مظلوم کی حمایت
یہی ریاستِ مدینہ کی خارجہ پالیسی تھی۔
اختتامی کلمات: اسلام بوجھ نہیں، نجات ہے
اسلام نافذ ہو جائے تو:
ریاست سخت نہیں ہوتی
بلکہ منصف ہوتی ہے
یہ قسط:
خوف نہیں
امید دیتی ہے
اگلی اور آخری قسط میں
پاکستان کا فیصلہ کن موڑ:
اسلامی ریاست یا دائمی بحران؟
(خلاصہ، لائحۂ عمل اور قومی انتخاب)
یہ سلسلہ اپنے انجام کے قریب ہے
قلم نے گواہی دے دی ہے
اب فیصلہ قوم کو کرنا ہے
No comments:
Post a Comment