غزہ، فلسطین اور صہیونی غصب: قرآن، سنت اور تاریخ کے آئینے میں
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
یہ سوال کہ کیا غزہ سرزمینِ فلسطین کا حصہ ہے؟ محض جغرافیائی نہیں بلکہ دینی، تاریخی اور تہذیبی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا جواب قرآن و سنت، مستند تاریخ اور عالمی قوانین تینوں کی روشنی میں واضح اور غیر مبہم ہے: غزہ فلسطین ہی کا حصہ ہے اور ہمیشہ سے اس مقدس خطے کی روح، تاریخ اور جدوجہد کا مرکز رہا ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں فلسطین کی حیثیت
قرآنِ کریم میں سرزمینِ فلسطین کو ارضِ مقدسہ قرار دیا گیا:
“يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ” (المائدہ: 21)
یہ تقدیس کسی نسلی یا نسلیّت پر مبنی دائمی ملکیت نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی سے مشروط ذمہ داری ہے۔ اسی لیے بنی اسرائیل کی نافرمانیوں پر قرآن نے ان کے زوال اور بکھراؤ کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں بیت المقدس اور اس کے اطراف (اکنافِ بیت المقدس) کی فضیلت آئی ہے جن میں فلسطین کا ساحلی خطہ، غزہ سمیت، شامل ہے۔ غزہ کی دینی عظمت اس لیے بھی ہے کہ یہ انبیائے کرام کے گزرگاہی خطے میں واقع ہے اور صحابہؓ و تابعینؒ کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔
تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو غزہ فلسطین کا جزوِ لاینفک ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ غزہ کنعانیوں، پھر رومیوں، بازنطینیوں، مسلم خلافت، ایوبیوں، ممالیک اور عثمانیوں کے ادوار میں فلسطین ہی کا حصہ رہا۔ 1517ء سے 1917ء تک پورا فلسطین including غزہ عثمانی سلطنت کے تحت ایک وحدت تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی مینڈیٹ (1920–1948) نے اسی وحدت کو برقرار رکھا، مگر سیاسی سازشوں نے خطے کی تقدیر بدل دی۔
صہیونی غصب: مراحل اور طریقۂ واردات:
یہودی غصب کسی ایک لمحے میں نہیں ہوا بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کئی مراحل میں مکمل کیا گیا:
سیاسی جواز کی تیاری: 1917ء کا اعلانِ بالفور جس میں برطانیہ نے ایک ایسی زمین پر “یہودی قومی وطن” کا وعدہ کیا جو اس کی ملکیت ہی نہ تھی۔
آبادیاتی انجینئرنگ: برطانوی سرپرستی میں یورپ سے یہودی آبادکاروں کی منظم ہجرت۔
مسلح دہشت گردی: ارگون، ہاگانا اور لیہی جیسے صہیونی گروہوں کے ذریعے دیہات کی تباہی، قتلِ عام (دیر یاسین) اور خوف پھیلا کر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی۔
1948ء کا نکبہ: اسرائیل کے اعلان کے ساتھ ہی سات لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی جلاوطنی؛ یروشلم کے مغربی حصے اور ساحلی علاقوں پر قبضہ۔
1967ء کی جنگ: مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ اگرچہ بعد ازاں غزہ میں براہِ راست آبادکاری ختم کی گئی، مگر محاصرہ اور کنٹرول برقرار رکھا گیا۔
اسرائیل کا قیام اور طاغوتی پشت پناہی:
اسرائیل کا وجود مغربی استعمار خصوصاً برطانیہ، پھر امریکا کی سیاسی، عسکری اور سفارتی پشت پناہی کا نتیجہ ہے۔ سرد جنگ کے بعد امریکا کی غیرمشروط حمایت، اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کا استعمال، اور عسکری امداد نے اسرائیلی بالادستی کو تقویت دی۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ طاغوتی نظام ہے جو ظلم کو قانون اور جارحیت کو “دفاع” بنا کر پیش کرتا ہے۔
نتیجہ: غزہ فلسطین ہے قرآن، سنت، تاریخ اور قانون سب اس پر شاہد ہیں۔ فلسطین کی تقدیس کسی قوم کی جاگیر نہیں بلکہ امانتِ الٰہی ہے۔ ظلم کے ادوار بدلتے رہتے ہیں، مگر حق کی شہادت باقی رہتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی دیانت، تاریخی شعور اور اخلاقی جرات کے ساتھ اس سچ کو زندہ رکھے کیونکہ حق دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔
No comments:
Post a Comment