Wednesday, 14 January 2026

اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال

 پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال. ایک جامع تحقیقی مطالعہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات آزادی کے فوراً بعد سے ہی پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد دونوں نئے پیدا ہونے والے ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ علاقے، سیاست اور شناخت کے معاملات پر اختلافات شروع کر دیے، جنہوں نے گزشتہ 75 سال سے بھی زیادہ عرصے تک امن کو ناقابلِ یقین حد تک خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ سب سے بڑا اور بنیادی تنازع کشمیر کا ہے، جس کو دونوں ملک اپنی خودمختار ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر کی جنگ 1947–48 میں اقوامِ متحدہ کے ثالثی کے بعد ایک عارضی لائن آف کنٹرول (LoC) کی صورت میں منقسم ہوا جو آج تک کشمکش کا محور ہے۔ 

تاریخی پس منظر

1947 کے تقسیم کے بعد تین بڑی جنگیں ہوئیں: 1947–48، 1965، اور 1971۔ 1971 کی جنگ کے بعد سملہ معاہدہ (Simla Agreement) طے پایا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو امن کے ذریعے حل کرنے اور لائن آف کنٹرول کو باوقار قبول کرنے کا عہد کیا۔ � گزشتہ دہائیوں میں بھی کیریگل وار (1999) اور کشیدگی کے متعدد اوقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید متشنج کیا۔

حالیہ کشیدگی (2025–2026)

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملہ میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، جس کے بعد صورت حال شدید خراب ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی (Indus Waters Treaty) معطل کردی، پاکستانی سفارت کاروں کو نکالا، اور بارڈر سخت کردیا۔ � پاکستان نے ان دعووں کی تردید کی اور اپنے اقدامات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف اہداف پر میزائل اور فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ � پاکستان نے بھی جواب میں فضائی اور زمینی جوابی کارروائی کی جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو عمل میں آیا، لیکن دونوں جانب کشیدگی برقرار رہی۔ �

تنازع کے اہم نکات

۱. کشمیر کا مسئلہ:

کشمیر ہمیشہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع رہا ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جس نے نہ صرف بارودی سرحدی فائرنگ بلکہ اندرونی عسکری بغاوتوں کو بھی جنم دیا ہے۔ 

۲. معاہدوں اور اقتصادی کشیدگی:

2025 کے تنازع میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی معطل کی، جس نے پانی کے مشترکہ حقوق پر سوال اُٹھا دیے، جبکہ پاکستان نے تجارت اور دیگر معاہدوں میں تعطل بتایا۔ 

۳. عسکری چالیں:

دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون، اور زمینی فوجی ردعمل کا استعمال کیا جس نے کشیدگی کو بڑھایا اور LoC پر اکثر ڈرون مشاہدات اور سرحدی جھڑپوں کا رجحان دیکھا گیا۔ 

۴. عالمی و علاقائی ردعمل:

بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، نے جنگ بندی میں ثالثی کی کوششیں کیں اور دونوں فریقوں کو پر تشدد کارروائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ 

اقتصادی اور سماجی اثرات

بھارتی معیشت کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ مسلسل کشیدگی بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اشتعال انگیز سیاسی ماحول سرمایہ کاری اور برآمدات کو متاثر کرسکتا ہے۔

 پاکستان کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا، جبکہ دوسری طرف اندرونی منظرنامے میں دفاعی اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

نتیجہ

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ تاریخی جنگوں، کشمیر کے تنازع، پانی اور معاہدوں کی معطلی، اور علاقائی عسکری سرگرمیوں نے امن عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ 2025 کے متنازعہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوئی، مگر بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں اور ان کے دیرپا حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کو ثالثی، اعتماد سازی کے اقدام، اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کا راستہ یقینی بنایا جا سکے۔

No comments:

Post a Comment