از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
موجودہ عالمی اقتصادی بحران، غربت، عدم مساوات، مالی بدعنوانی اور بے روزگاری ایک ایسا چیلنج ہے جس کا حل محض اقتصادی ترقی یا سرمایہ کاری سے ممکن نہیں۔ اسلام نے اس کے لیے ایک جامع اور عملی ماڈل فراہم کیا ہے، جو اخلاق، انصاف، اور معاشرتی ذمہ داری کو مرکزی ستون بناتا ہے۔
اسلامی معیشت کی عملی حکمت عملی بنیادی طور پر چار ستونوں پر مشتمل ہے:
زکات اور صدقات کا نظام: دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے زکات اور صدقات کو قانونی اور اخلاقی فریم ورک کے تحت نافذ کیا جائے، تاکہ غرباء اور محتاج طبقہ بنیادی ضروریات حاصل کر سکے اور سماجی ہم آہنگی قائم رہے۔
سود کی ممانعت اور شفاف تجارت: مالی لین دین میں سود کی ممانعت اقتصادی استحکام پیدا کرتی ہے اور سرمایہ کاری کو اخلاقی بنیادوں پر فروغ دیتی ہے۔ شفاف معاہدات اور تجارت کے اصولوں سے کاروباری اعتماد اور معاشرتی بھروسہ قائم ہوتا ہے۔
معاشرتی انصاف اور حقوقِ فرد: اسلامی نظام میں ہر فرد کو اپنی محنت کے ثمرات حاصل کرنے کا حق ہے، لیکن سماجی ذمہ داری بھی لازم ہے۔ یہ توازن اقتصادی ترقی اور انسانی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔
غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے پروگرام: حکومت اور معاشرتی ادارے مل کر ایسے پروگرام نافذ کریں جو غربت، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی کمی کو مؤثر طریقے سے ختم کریں، جیسے ہنر مند تعلیم، کاروباری مواقع، اور چھوٹے سرمایہ کاری کے پروگرام۔
اسلامی اقتصادی نظام کی عالمی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب ہم موجودہ عالمی چیلنجز کو دیکھیں: مہنگائی، مالی عدم استحکام، سرمایہ کی غیر متوازن تقسیم، اور اخلاقی بحران۔ زکات اور صدقات کے نظام کے مؤثر نفاذ سے دولت کا مرکز کمزور پڑتا ہے اور سماجی توازن بحال ہوتا ہے۔ سود کی ممانعت اور حلال تجارت سے مالی استحکام پیدا ہوتا ہے، جبکہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
مزید برآں، اسلامی معیشت مستقبل کے بحرانوں کے لیے رہنما خطوط فراہم کرتی ہے۔ قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالی شفافیت، اور انسانی فلاح پر زور، اقتصادی ترقی کو انسانی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ بناتا ہے۔ اس ماڈل کے نفاذ سے نہ صرف غربت اور سماجی ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ عالمی اقتصادی بحرانوں کا بھی پائیدار حل سامنے آ سکتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام اقتصادیات ایک جامع، عملی اور اخلاقی ماڈل ہے جو فرد، معاشرہ، دولت اور انصاف کے درمیان متوازن توازن قائم کرتا ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ عالمی مسائل کا حل فراہم کرتا ہے بلکہ انسانی ترقی، معاشرتی ہم آہنگی، اور اخلاقی استحکام کے لیے بھی رہنما خطوط پیش کرتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر یہ اصول نافذ کیے جائیں تو وہ اقتصادی، اخلاقی اور سماجی لحاظ سے مستحکم اور خوشحال معاشرہ بن سکتا ہے۔۔
No comments:
Post a Comment