Tuesday, 13 January 2026

قسط دوم سائبر وارفیئر، اسپیس ملٹری صلاحیت اور عالمی عسکری اتحاد

 قسط دوم

سائبر وارفیئر، اسپیس ملٹری صلاحیت اور عالمی عسکری اتحاد

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

اکیسویں صدی کی جنگ اب صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سائبر اسپیس، خلا اور سفارتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

سائبر وارفیئر: خاموش مگر فیصلہ کن میدان

انڈیا نے سائبر کمانڈ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آفینسو سائبر صلاحیت میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ بڑی آئی ٹی افرادی قوت اسے عددی فائدہ دیتی ہے۔

پاکستان کا سائبر ماڈل نسبتاً خاموش مگر ڈیفینسو اور انٹیلی جنس بیسڈ ہے۔ کم وسائل میں نیٹ ورک ڈیفنس اور اسٹریٹجک سکیورٹی پر توجہ پاکستان کی ترجیح ہے۔

خلا میں عسکری دوڑ

انڈیا نے خلا کو باضابطہ عسکری میدان بنا لیا ہے۔ نگرانی، نیویگیشن اور سیٹلائٹ نیٹ ورک اسے جدید جنگ میں تقویت دیتے ہیں۔

پاکستان کا اسپیس پروگرام محدود مگر اسٹریٹجک ضرورت کے مطابق ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈیٹرنس برقرار رکھنا ہے، نہ کہ خلا میں غلبہ۔

عسکری اتحاد اور عالمی سپورٹ

انڈیا نے خود کو عالمی طاقتوں کے لیے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پیش کیا ہے۔ مشترکہ مشقیں، دفاعی معاہدے اور ٹیکنالوجی تک رسائی اسے عالمی تقویت دیتی ہے۔

پاکستان کے عسکری اتحاد زیادہ تر سکیورٹی اور توازن پر مبنی ہیں۔ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی دفاعی بقا کا اہم ستون ہے۔

قسط دوم کا خلاصہ:

انڈیا کو عالمی رسائی حاصل ہے، پاکستان کو اسٹریٹجک فوکس۔

No comments:

Post a Comment