جاگنے کا وقت، عمل کا لمحہ!۔ قسط دوم:
از' ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
نوجوان، خواب غفلت سے نکلیں!
اب وقت ہے کہ ہم خواب غفلت سے نکلیں اور اقبال کے پیغام کو عملی میدان میں منتقل کریں۔ نوجوانوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں علم و فکر اور حب الوطنی کی تربیت دینا ہوگی۔ اقبال نے خودی، عشق رسول ﷺ اور اجتماعی غیرت کو یکجا کر کے نوجوانوں کو معاشرتی اور تاریخی ذمہ داری کے لیے متحرک کرنے کی تلقین کی۔ یہی جذبہ امت کے ہر شعبے میں جوش و بیداری پیدا کرے گا۔
علما کی عملی رہنمائی:
علما صرف تقاریر تک محدود نہیں رہیں، بلکہ عملی رہنمائی، اصلاح معاشرت اور فکری بیداری کے لیے قدم اٹھائیں۔
حکمرانوں کا امتحان:
حکمران اپنی طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ امت کی فلاح اور عدل و انصاف کے لیے استعمال کریں۔
اب عملی قدم اٹھائیں!
آج ضرورت صرف بیداری کی نہیں، عمل کی ہے۔ نوجوانوں کی تربیت، علمی و اخلاقی اصلاح، اور حکومتی ضمیر کی بیداری—یہ تینوں امت کی زندگی کو دوبارہ روشن کر سکتے ہیں۔
اقبال کا پیغام آج بھی زندہ ہے: ہر لمحہ جو ہم نے خواب غفلت میں گزارا، وہ ضائع ہوا۔ امت کی بقاء اسی میں مضمر ہے کہ ہم آج جاگیں، سوچیں اور عملی اصلاح کے سفر کا آغاز کریں۔
اگر نوجوان، علما اور حکمران سب نے اقبال کے پیغام کو سمجھ کر عمل کیا، تو نہ صرف جذبہ ایمانی اور غیرت اسلامی دوبارہ زندہ ہوگی بلکہ امت کی تقدیر بھی روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوگی۔
No comments:
Post a Comment