Tuesday, 13 January 2026

انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن۔ قسط اوّل

 انڈیا اور پاکستان کی فوجی قوت

 جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن۔ قسط اوّل

ایک غیر جانبدارانہ اسٹریٹجک تجزیہ

 از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی

بری، بحری اور فضائی افواج — عددی قوت اور جنگی سازوسامان

جنوبی ایشیا میں انڈیا اور پاکستان کی عسکری طاقت کا تقابل عموماً نعروں اور جذباتی بیانیے کی نذر ہو جاتا ہے، حالانکہ حقیقت پسندانہ تجزیہ اعداد و شمار، عسکری ڈھانچے اور عملی صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کالم میں پروپیگنڈا نہیں بلکہ ٹھوس اسٹریٹجک حقائق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

بری افواج: تعداد بمقابلہ مہارت

انڈیا کی بری فوج دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ افرادی قوت، بکتر بند یونٹس اور توپخانے کے لحاظ سے اسے واضح عددی برتری حاصل ہے۔ اس کی زمینی جنگی حکمتِ عملی وسیع محاذ، گہرے لاجسٹک نیٹ ورک اور عددی دباؤ پر قائم ہے، جس کا اظہار Cold Start Doctrine جیسے تصورات میں ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کی بری فوج تعداد میں کم مگر زیادہ منظم، جنگ آزمودہ اور تیز ردِعمل کی حامل ہے۔ پاکستان نے جدید مین بیٹل ٹینکس، موبائل آرٹلری، اینٹی ٹینک میزائلز اور بہتر کمانڈ اسٹرکچر پر توجہ دے کر کم وسائل میں مؤثر دفاعی توازن قائم کیا ہے۔

فضائی افواج: ٹیکنالوجی اور تربیت کا امتحان

انڈین ایئر فورس کے پاس طیاروں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ روسی و مغربی ٹیکنالوجی کا امتزاج رکھتی ہے۔ وسیع ایئر بیس نیٹ ورک اسے جغرافیائی برتری دیتا ہے۔

پاکستان ایئر فورس تعداد میں کم مگر انتہائی پیشہ ور، مربوط اور جدید مانی جاتی ہے۔ پائلٹ ٹریننگ، الیکٹرانک وارفیئر اور ریئل ٹائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پاکستان کی فضائی طاقت کا امتیاز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی توازن اب تک برقرار ہے۔

بحری افواج: غلبہ یا روک تھام؟

بحری میدان میں انڈیا کو برتری حاصل ہے۔ طیارہ بردار جہاز، نیوکلیئر آبدوزیں اور بڑا بحری بیڑہ اسے بحرِ ہند میں وسعت دیتے ہیں۔

پاکستان نیوی عددی اعتبار سے چھوٹی مگر Sea Denial Strategy پر کاربند ہے۔ آبدوزیں، اینٹی شپ میزائل اور ساحلی دفاع پاکستان کی بحری سوچ کا مرکز ہیں۔

قسط اوّل کا نتیجہ:

انڈیا کو تعداد اور پلیٹ فارمز میں سبقت حاصل ہے، پاکستان نے فوکس اور مہارت سے توازن قائم رکھا ہے۔

No comments:

Post a Comment