قسط سوم: سود کے خلاف اسلام کا تہذیبی و معاشی اعلانِ جنگ
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی
سود اور تجارت کے فرق کو اصولی اور فقہی سطح پر سمجھ لینے کے بعد اب ناگزیر ہے کہ سود کے بارے میں قرآنِ مجید کی سخت وعیدات، اس کے معاشرتی و اخلاقی اثرات، اور پھر اسلام کی طرف سے پیش کردہ عملی معاشی متبادل کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے۔ یہ پہلو اس بحث کو محض فقہی نہیں بلکہ تہذیبی، اخلاقی اور تمدنی سطح پر واضح کرتا ہے۔
قرآنِ مجید میں سود وہ واحد معاشی جرم ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے صریح اعلانِ جنگ فرمایا:
“فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ” (البقرہ: 279)
یہ وعید اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ سود صرف ایک انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایسا اجتماعی جرم ہے جو پورے معاشرتی نظام کو برباد کر دیتا ہے۔ کسی اور مالی یا معاشی معاملے پر ایسی سخت وعید قرآن میں نہیں ملتی۔
نبی کریم ﷺ نے سود لینے، دینے، لکھنے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سود ایک ہمہ گیر برائی ہے، جس میں شریک ہونے والا ہر فرد گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ایک حدیث میں سود کے گناہ کو اتنا شدید قرار دیا گیا کہ اس کے ہلکے ترین درجے کو بھی بدترین اخلاقی جرم سے تشبیہ دی گئی۔ یہ سب تنبیہات اس لیے ہیں کہ انسان سود کی قباحت کو معمولی نہ سمجھے۔
معاشرتی سطح پر سود کے اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ سودی نظام میں دولت کی گردش رک جاتی ہے اور سرمایہ چند طاقتور ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ غریب مسلسل مقروض، کمزور اور محتاج بنتا چلا جاتا ہے، جبکہ سرمایہ دار بغیر محنت کے مزید طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طبقاتی خلیج بڑھتی ہے، سماجی انصاف ختم ہوتا ہے اور باہمی ہمدردی دم توڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی معاشروں میں بے چینی، جرائم اور اخلاقی زوال عام ہو جاتا ہے۔
صحابۂ کرامؓ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جب کسی معاشرے میں سود عام ہو جائے تو وہاں اچانک ہلاکتیں اور آزمائشیں بڑھ جاتی ہیں۔ تابعین اور تبع تابعین نے بھی سود کو معاشرتی بگاڑ کی جڑ قرار دیا اور اسے فرد کے ساتھ ساتھ پورے نظام کے لیے زہرِ قاتل کہا۔
اسلام نے سود کو محض حرام قرار دے کر چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کے متبادل کے طور پر ایک مکمل، متوازن اور قابلِ عمل معاشی نظام پیش کیا۔ مضاربت میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا محنت، نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان سرمایہ دار برداشت کرتا ہے۔ مشارکت میں تمام شرکاء نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ بیع، سلم اور اجارہ جیسے عقود تجارت کو فروغ دیتے اور استحصال کا راستہ بند کرتے ہیں۔ ان تمام اصولوں کی بنیاد یہی ہے کہ نفع خطرے کے بغیر جائز نہیں۔
یہ کہنا کہ جدید دور میں سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی، دراصل فکری مایوسی اور اعتماد کی کمی کا اظہار ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی تہذیب کے عروج کے ادوار میں معیشت سود کے بغیر کامیابی سے چلتی رہی۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت، اخلاق اور نظام کی درست تشکیل کا ہے۔
آج اسلامی بینکاری اور شریعت کے مطابق مالیاتی ادارے اسی سمت ایک عملی قدم ہیں، اگرچہ ان میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ سود سے پاک معیشت کوئی خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل حقیقت ہے۔
پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ ہے، جبکہ تجارت اللہ کی رحمت اور معاشرتی بقا کا ذریعہ۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کی معیشت انصاف پر قائم ہو، اور انصاف سود کے بغیر ہی ممکن ہے۔
No comments:
Post a Comment