Wednesday, 14 January 2026

قسط ششم (اختتامی)کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

قسط ششم (اختتامی): کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: فکری محاسبہ، اجتماعی ذمہ داری اور اسلامی معیشت کا راستہ

سود اور تجارت کے موضوع پر اس سلسلۂ کالم کی تمام اقساط کا مقصد محض فقہی معلومات فراہم کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک فکری محاسبہ اور اجتماعی بیداری پیدا کرنا تھا۔ اب، اختتام پر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم بحیثیت فرد، معاشرہ اور ریاست کہاں کھڑے ہیں، اور اسلامی معیشت کے راستے پر آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اسلام نے سود کو محض ایک ناجائز مالی معاملہ نہیں بلکہ انسانی عدل، معاشرتی توازن اور اخلاقی بقا کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے سود پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ سود کا مسئلہ محض بینک، قرض یا منافع تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشی اور سماجی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے کہ تجارت اور سود میں فرق صرف ناموں یا طریقۂ کار کا نہیں بلکہ فلسفۂ معیشت کا فرق ہے۔ تجارت محنت، خطرے اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سود ضمانت، استحصال اور عدم توازن پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک نظام دولت کو گردش میں رکھتا ہے، دوسرا اسے چند ہاتھوں میں قید کر دیتا ہے۔

یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ اسلامی معیشت محض اسلامی بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک ریاستی پالیسیاں، مالیاتی نظام، حکومتی قرضے، بجٹ سازی اور ٹیکس ڈھانچہ سودی بنیادوں پر قائم رہیں گے، اس وقت تک اسلامی معیشت مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ اسلامی بینکاری ایک قدم ہے، پورا سفر نہیں۔

اختتامی نکتہ یہ ہے کہ سود کے خاتمے کی جدوجہد تین سطحوں پر ہونی چاہیے:

اوّل: فرد کی سطح پر

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق سودی معاملات سے بچے، حلال تجارت کو اختیار کرے، اور یقینی منافع کے بجائے جائز خطرے کو قبول کرنے کی تربیت اپنے اندر پیدا کرے۔ فرد کی اصلاح کے بغیر کوئی معاشی انقلاب ممکن نہیں۔

دوم: معاشرتی سطح پر

کاروباری طبقہ، تاجر، صنعت کار اور تعلیمی ادارے اس شعور کو فروغ دیں کہ منافع کا حق اسی کو ہے جو نقصان کا خطرہ بھی قبول کرے۔ شراکت، اعتماد اور دیانت کو کاروباری اخلاقیات کا حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں سودی نظام کمزور پڑتا ہے۔

سوم: ریاستی سطح پر

ریاست پر لازم ہے کہ وہ آئینی تقاضوں کے مطابق سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ، تدریجی اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کرے۔ یہ عمل وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی اتفاقِ رائے، ماہرین کی رہنمائی اور مضبوط قانون سازی کا متقاضی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلامی معیشت کوئی خیالی تصور نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم تہذیب نے صدیوں تک بغیر سود کے مضبوط تجارتی، صنعتی اور مالیاتی نظام چلایا۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، اخلاق اور نیت کی کمزوری ہے۔

آخر میں پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سودی نظام وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر دیرپا عدل، استحکام اور انسانی فلاح فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس اسلامی معیشت انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، دولت کو گردش میں رکھتی ہے اور معاشرے کو استحصال سے بچاتی ہے۔

یہ سلسلہ اسی پیغام پر ختم ہوتا ہے کہ سود غلامی ہے اور تجارت آزادی؛ سود ٹکراؤ ہے اور تجارت تعاون؛ سود جنگ ہے اور تجارت رحمت۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، باوقار اور خوددار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں انتخاب کرنا ہوگا اور یہ انتخاب محض الفاظ سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے ثابت کرنا ہوگا۔

No comments:

Post a Comment