امت کی بیداری ۔ دعا سے عمل تک۔ قسط اول
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
دعا کافی نہیں، اب خودی کی جنگ لازم ہے!
اے خاصۂ خاصانِ رُسُلؐ! وقتِ دعا ہے
اُمّت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
یہ صرف دعا کا وقت نہیں،
یہ احتسابِ امت کا لمحہ ہے۔
یہ سوال کرنے کا وقت ہے کہ ہم زوال کی اس تہہ تک کیوں جا پہنچے؟
اقبالؒ نے برسوں پہلے خبردار کر دیا تھا:
قومیں سازشوں سے نہیں،
اپنے اعمال سے تباہ ہوتی ہیں۔
قرآن ہمارے گھروں میں ہے،
مگر ہمارے نظام میں نہیں۔
سنت ہمارے نعروں میں ہے،
مگر ہمارے فیصلوں میں نہیں۔
ہم نے دین کو مذہبی رسم بنا دیا
اور مصطفویؐ انقلاب کو تاریخ کا باب سمجھ لیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ امت تو موجود ہے،
مگر امت کی روح ناپید ہے۔
ہم عدل کے نعرے لگاتے ہیں
مگر قانون طاقتور کے لیے بدل لیتے ہیں۔
ہم شریعت کی بات کرتے ہیں
مگر کمزور کے لیے۔
حالانکہ قرآن کا دوٹوک حکم ہے:
“كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ”
عدل پر ڈٹ جاؤ،
چاہے فیصلہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اقبالؒ کا مردِ مومن
جرأتِ گفتار،
جرأتِ کردار
اور استغنائے دل رکھتا تھا۔
آج کا مسلمان
مصلحت کا اسیر،
خوف کا مریض
اور دنیا کا غلام بن چکا ہے۔
وہ شاہین جو بلندیوں کا عادی تھا
اب مفاد کی شاخ پر بیٹھا ہے۔
اے شافعِ محشرؐ!
ہم نے تیرے نام پر تقریریں تو بہت کیں
مگر تیرے طریق پر چلنے سے گھبرا گئے۔
ہم نے مسجد کو عبادت تک محدود رکھا
اور بازار، عدالت، سیاست
سب کچھ نفس کے حوالے کر دیا۔
حالانکہ تُوؐ نے دین کو
مکمل نظامِ حیات بنا کر پیش کیا تھا۔
یہ دعا صرف آنسو نہیں مانگتی،
یہ غیرتِ ایمانی مانگتی ہے۔
یہ وہ ایمان چاہتی ہے
جو مکہ میں ظلم کے سامنے سینہ سپر تھا،
جو بدر میں قلت کے باوجود غالب آیا،
جو مدینہ میں ریاست بنا
اور عدلِ اجتماعی کی بنیاد ٹھہرا۔
اقبالؒ ہمیں خواب نہیں دکھاتا،
وہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔
وہ یاد دلاتا ہے کہ
قومیں نعروں سے نہیں،
کردار سے بنتی ہیں۔
اور دین دعاؤں سے نہیں،
عمل سے غالب ہوتا ہے۔
اے خاصۂ خاصانِ رُسُلؐ! وقتِ دعا ہے
مگر ایسی دعا
جس کے ساتھ
خودی کی بیداری ہو،
کردار کی اصلاح ہو
اور عمل کا بے خوف عزم ہو۔
کیونکہ
بغیر بدلے ہوئے کردار کے
کوئی دعا،
کوئی نعرہ
اور کوئی انقلاب قبول نہیں ہوتا۔
No comments:
Post a Comment