قسط چہارم: اسلامی نظام اقتصادیات کا عملی ماڈل: عالمی بحرانوں اور معاصر مسائل کا حل
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
موجودہ عالمی اقتصادی منظرنامہ بحرانوں، غربت، دولت کی غیر متوازن تقسیم، اور مالی بدعنوانی سے بھرا ہوا ہے۔ متعدد ممالک میں معاشرتی اور اقتصادی ناانصافی بڑھ رہی ہے، جبکہ کمیونزم، سوشلزم، لبرلزم اور کیپیٹلزم کے مختلف تجربات نے جزوی کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر انسانی فلاح و بھلائی کے جامع اصولوں کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنایا۔ ایسے میں اسلامی اقتصادی نظام ایک عملی اور اخلاقی ماڈل کے طور پر اجاگر ہوتا ہے، جو نہ صرف فرد کی ترقی بلکہ معاشرتی توازن اور اخلاقی استحکام کو بھی یقینی بناتا ہے۔
اسلامی معیشت میں ذاتی ملکیت اور معاشرتی ذمہ داری کا متوازن امتزاج پایا جاتا ہے۔ فرد اپنی محنت کے مطابق دولت حاصل کرتا ہے، مگر اسے غرباء، مساکین اور محتاجوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ زکات، صدقات اور خیرات کے نظام سے دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے، اور معاشرتی عدم مساوات کمزور پڑتی ہے۔ یہ نظام کسی بھی معاشرے میں غربت اور سماجی ناہمواری کے مستقل حل کے لیے عملی رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔
سود کی ممانعت اور کاروبار میں شفافیت اسلامی معیشت کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ سودی معیشت کی جگہ حلال تجارت اور معاہدات کی بنیاد پر کاروبار، اقتصادی استحکام اور اخلاقی معیار کو برقرار رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف مالی بدعنوانی کم ہوتی ہے بلکہ سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد بھی بڑھتا ہے، جو کہ عالمی اقتصادی بحرانوں کا مؤثر حل ثابت ہوتا ہے۔
اسلامی نظام اقتصادیات غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ زکات اور صدقات کا نظام مالی امداد کے ساتھ ساتھ انسانی وقار اور معاشرتی عزت کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، لبرلزم اور کیپیٹلزم میں اقتصادی ترقی محدود حلقوں میں مرکوز رہتی ہے اور غرباء و مساکین کے حقوق اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
معاصر دنیا میں اقتصادی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور عدم مساوات جیسے مسائل اسلامی نظام اقتصادیات کے عملی ماڈل سے مؤثر طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام نے فرد، معاشرہ، دولت اور انصاف کے درمیان ایک متوازن توازن قائم کیا ہے، جو صرف اقتصادی ترقی پر نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھلائی پر بھی زور دیتا ہے۔
نتیجتاً، عالمی تجربات اور معاصر مسائل کے تقابلی مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی غیر اسلامی نظام مکمل طور پر انسانی فلاح، اخلاقی اصول اور معاشرتی انصاف کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ اسلامی معیشت ایک جامع، متوازن اور عملی ماڈل ہے، جو موجودہ اقتصادی بحران، غربت اور سماجی ناہمواری کے حل کے لیے رہنما خطوط فراہم کرتی ہے۔ یہ نظام فرد کی ترقی، معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی استحکام کو یکجا کر کے ایک متوازن اور مستحکم اقتصادی ماڈل پیش کرتا ہے، جو آج کے عالمی منظرنامے میں نہایت موزوں اور مؤثر ہے۔
No comments:
Post a Comment