Thursday, 15 January 2026

اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں۔ (قسط دوم)

 اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں (قسط دوم)

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

قرآنِ مجید نے دینِ اسلام کی اصل روح کو نہایت جامع اور فیصلہ کن انداز میں ایک ہی معیار پر مرکوز کر دیا ہے، اور وہ ہے اتباعِ رسولِ اکرم ﷺ۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو یا قربِ خداوندی کی آرزو، قرآن حکیم نے اس کے لیے کسی باطنی کیفیت یا مجرد دعوے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ ایک واضح عملی کسوٹی مقرر کر دی۔ چنانچہ سورۃ آلِ عمران میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾

(آلِ عمران: 31)

مفہوم:

“(اے نبی ﷺ!) فرما دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔”

:محبتِ الٰہی کا قرآنی معیار

یہ آیت اپنے مفہوم اور مدعا کے اعتبار سے نہایت انقلابی ہے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے واضح کر دیا کہ اس سے محبت کا محض زبانی یا قلبی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ اس محبت کی صداقت کا عملی ثبوت اتباعِ محمدی ﷺ ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی سیرت، سنت اور منہج ہی وہ آئینہ ہے جس میں بندۂ مومن اپنی محبتِ الٰہی کی سچائی دیکھ سکتا ہے۔

ائمۂ تفسیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو اللہ تعالٰی سے محبت کے دعوے تو کرتے تھے مگر نبی ﷺ کی عملی پیروی سے گریزاں تھے۔ قرآن مجید نے دوٹوک انداز میں بتا دیا کہ جو رسول ﷺ کی اتباع سے منہ موڑے، اس کا دعویٔ محبت محض ایک فریبِ نفس ہے۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور مغفرتِ الٰہی

آیتِ مذکورہ میں اتباعِ رسول ﷺ کے دو عظیم ثمرات بیان کیے گئے ہیں:

اللہ کی محبت

گناہوں کی مغفرت

یہ دونوں نعمتیں ہر مومن کی سب سے بڑی تمنا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف فقہی یا عملی رہنمائی نہیں بلکہ بندے اور رب کے تعلق کی بنیاد ہے۔ جس قدر اتباع مضبوط ہو گی، اسی قدر اللہ تعالٰی کی محبت اور مغفرت کا حصول یقینی ہو گا۔

:بدعت کا مفہوم اور اتباعِ سنت

یہاں بدعت کے مسئلے کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بدعت دراصل دین میں ایسی نئی بات کو شامل کرنا ہے جس کی اصل نہ قرآن میں ہو، نہ سنت میں، اور نہ ہی صحابۂ کرامؓ کے تعامل میں۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا:

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے” (بخاری، مسلم)۔

بدعت کا اصل نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو اتباعِ رسول ﷺ سے ہٹا کر خود ساختہ طریقوں کا اسیر بنا دیتی ہے۔ بظاہر نیکی اور ثواب کے نام پر ایجاد کی جانے والی بدعات درحقیقت سنت کی جگہ لے لیتی ہیں، اور یوں آہستہ آہستہ دین اپنی اصل صورت سے دور ہو جاتا ہے۔

:سنت: دین کا زندہ نمونہ

رسول اللہ ﷺ کی سنت دین کی عملی تشریح ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرت، ہر شعبے میں نبی ﷺ نے ایسا متوازن، فطری اور قابلِ عمل نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ کسی بھی عمل سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ نبی ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا۔

عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داری

آج امتِ مسلمہ کو جن فکری اور عملی گمراہیوں کا سامنا ہے، ان میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے محبتِ رسول ﷺ کو جذباتی نعروں تک محدود کر دیا اور اتباعِ رسول ﷺ کو عملی زندگی سے نکال دیا۔ حالانکہ قرآن کا پیغام بالکل واضح ہے: اتباع کے بغیر محبت معتبر نہیں۔

آیتِ ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ﴾ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دین میں اصل قدر، اخلاص کے ساتھ سنت کی پیروی ہے۔ بدعت خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو، وہ اتباعِ رسول ﷺ کا بدل نہیں بن سکتی۔ امت کی نجات، وحدت اور روحانی احیا اسی میں ہے کہ وہ قرآن و سنت کو اپنا واحد معیار بنائے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی دینی شناخت قرار دے۔

— جاری ہے

No comments:

Post a Comment