قسط دوم: وہ آئینی شقیں جہاں اسلام کو غیر مؤثر بنایا گیا
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
تمہید: خاموش معطلی—سب سے خطرناک جرم
آئین کو منسوخ کرنا بغاوت ہوتی ہے،
مگر آئین کو غیر مؤثر بنانا
—یہ قانونی لبادے میں سب سے بڑا فریب ہے۔
پاکستان میں اسلام کے ساتھ یہی ہوا۔
1️⃣ پارلیمنٹ کی مطلق بالادستی—اسلام کی عملی نفی
آئین پارلیمنٹ کو:
قانون سازی کا مکمل اختیار دیتا ہے
مگر:
یہ واضح نہیں کرتا کہ
اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے خلاف قانون بنائے تو کیا ہوگا؟
نتیجہ:
سودی معیشت
غیر اسلامی عدالتی طریقۂ کار
طبقاتی احتساب
سب کچھ آئینی جواز کے ساتھ جاری ہے۔
قرآن کہتا ہے:
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ
مگر آئین میں اس کا نفاذی میکانزم موجود نہیں۔
2️⃣ اسلامی نظریاتی کونسل—طاقت کے بغیر مشیر
اسلامی نظریاتی کونسل:
اسلام کی تشریح کرے
قوانین کا جائزہ لے
لیکن:
اس کی سفارشات لازمی نہیں
پارلیمنٹ انہیں نظر انداز کر سکتی ہے
یوں اسلام:
ریاستی پالیسی نہیں، مشاورتی رائے بن کر رہ گیا
3️⃣ وفاقی شرعی عدالت—حدود میں قید اسلام
شرعی عدالت:
قوانین کو قرآن و سنت پر پرکھ سکتی ہے
لیکن:
آئین
مالیاتی نظام
ٹیکس
بینکاری
اکثر دائرۂ اختیار سے خارج رکھے گئے۔
یعنی:
اسلام اخلاق میں تو قابلِ قبول
مگر طاقت اور معیشت میں ناقابلِ قبول
یہی اصل تضاد ہے۔
4️⃣ بنیادی حقوق بمقابلہ اسلامی حدود—مصنوعی تصادم
آئین میں:
بنیادی حقوق کو فوقیت دی گئی
لیکن:
یہ واضح نہیں کہ
اگر بنیادی حق قرآن و سنت سے متصادم ہو تو فیصلہ کس کا ہوگا؟
عدالتیں:
مغربی تشریحات اختیار کرتی رہیں
اسلامی اصول پس منظر میں چلے گئے
یوں:
اسلام آئین میں موجود رہا
مگر فیصلوں میں غائب
5️⃣ احتسابی استثنا—طاقتوروں کے لیے آئینی ڈھال
آئین میں:
بعض اداروں اور عہدوں کو
عملی استثنا حاصل رہا
نتیجہ:
طاقتور قانون سے بالا
کمزور قانون کے نیچے
حالانکہ اسلام کا اصول ہے:
الناس سواء کاسنان المشط
یہ تضاد محض قانونی نہیں—اخلاقی جرم ہے۔
خلاصہ: مسئلہ اسلام کی شمولیت نہیں، اس کی تحجیم ہے
اسلام آئین میں موجود ہے،
مگر:
غیر مؤثر
غیر لازم
غیر محفوظ
یہی وجہ ہے کہ:
آئین بھی بدنام
اسلام بھی متنازع
اور ریاست بھی ناکام
اگلی قسط میں
آئینی اصلاحات: اسلام کو علامت سے نظام بنانے کا عملی خاکہ
(کن شقوں میں ترمیم؟ کن اداروں کو اختیار؟ کیسے نفاذ؟)
یہ سلسلہ اب شکایت نہیں رہا
یہ آئینی چارج شیٹ بن چکا ہے
No comments:
Post a Comment