قسط 3: لبرلزم، کیپیٹلزم اور اسلامی معیشت کے اخلاقی سماجی اثرات
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
جدید دنیا میں اقتصادی ترقی اور انسانی فلاح کی بحث اکثر لبرلزم اور کیپیٹلزم کے فلسفے سے جڑی رہتی ہے۔ لبرلزم اور کیپیٹلزم میں فرد کی آزادی، ذاتی ملکیت اور کاروباری حوصلہ افزائی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ یہ اصول اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ کرتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع پیدا کرتے ہیں۔ تاہم، عملی تجربات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سماجی ذمہ داری اور اخلاقی ضابطے کمزور ہوں تو دولت کی غیر متوازن تقسیم، غربت اور سماجی ناانصافی میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیپیٹلزم میں اقتصادی ترقی کی قیمت اکثر انسانی تعلقات، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی سے ادا کی جاتی ہے۔ بڑے سرمایہ دارانہ ادارے دولت کے محدود حلقوں میں جمع ہو جاتی ہے، جبکہ محتاج اور غریب طبقہ بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی توازن بگڑتا ہے اور انسانی عزت و وقار متاثر ہوتا ہے۔
اسلامی معیشت اس تناظر میں ایک متوازن اور اخلاقی حل پیش کرتی ہے۔ اسلام میں فرد کی آزادی اور ذاتی ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی معاشرتی ذمہ داری، زکات، صدقات اور خیرات کے ذریعے غرباء و مساکین کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے۔ سود کی ممانعت اور کاروبار میں شفافیت اقتصادی اور اخلاقی استحکام کو یقینی بناتی ہے۔ نتیجتاً، دولت کی تقسیم میں توازن، سماجی انصاف اور فرد و معاشرہ کی ترقی ساتھ ساتھ ممکن ہوتی ہے۔
اخلاقی اثرات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اسلامی نظام میں اقتصادی سرگرمی کا مقصد صرف مالی فائدہ نہیں، بلکہ انسانیت کی بھلائی اور سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ افراد کی محنت، کاروباری مہارت اور ذاتی ملکیت کی حفاظت کے ساتھ وہ اپنی سماجی ذمہ داری بھی ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، لبرلزم اور کیپیٹلزم میں اقتصادی سرگرمی اکثر ذاتی مفاد تک محدود رہتی ہے، جس سے معاشرتی برابری اور اخلاقی اقدار متاثر ہوتی ہیں۔
سماجی اثرات کے لحاظ سے، اسلامی نظام غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں متوازن کردار ادا کرتا ہے۔ زکات اور صدقات کا نظام نہ صرف مالی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ غرباء و مساکین کی عزت و وقار کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ لبرلزم اور کیپیٹلزم میں یہ نظام عموماً رضاکارانہ یا غیر مستحکم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سماجی فلاح کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو پاتے۔
نتیجہ یہ ہے کہ لبرلزم اور کیپیٹلزم اقتصادی ترقی اور کاروباری حوصلہ افزائی کے لیے مؤثر ہیں، لیکن اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کے بغیر وہ انسانی فلاح کے جامع مقصد کو پورا نہیں کر پاتے۔ اسلامی معیشت ایک مکمل اور متوازن ماڈل ہے، جو فرد کی ترقی، معاشرتی انصاف، اخلاقی استحکام اور اقتصادی توازن کو یکجا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ اقتصادی بحرانوں، غربت اور ناانصافی کا حل فراہم کرتی ہے بلکہ انسانیت کی بھلائی اور سماجی ہم آہنگی کو بھی یقینی بناتی ہے۔
No comments:
Post a Comment