Thursday, 15 January 2026

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول

 قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور 

 رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

دین اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جس کی بنیاد اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ نجات، فلاح اور کامیابی کا واحد راستہ اسی دوہری اطاعت میں مضمر ہے۔ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الاحزاب: 71)۔ یہ آیت اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کو کامیابیِ عظیم کا معیار قرار دیتی ہے۔

اطاعتِ الٰہی کا مفہوم

اللہ تعالٰی کی اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی میں اللہ تعالٰی کے احکامات کو بالاتر سمجھے۔ قرآن کہتا ہے:

“اے ایمان والو! اللہ تعالٰی کی اطاعت کرو” (النساء: 59)۔

یہ اطاعت محض زبانی اقرار نہیں بلکہ عملی التزام کا تقاضا کرتی ہے؛ یعنی حلال و حرام کے فیصلے، عدل و انصاف کے اصول، معاشی معاملات، خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار سب اللہ کے حکم کے تابع ہوں۔

اتباعِ رسول ﷺ کی ناگزیر حیثیت کے تناظر میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے ضرور درحقیقت اللہ کی ہء اطاعت کی” (النساء: 80)۔

یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت دراصل وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ نبی کریم ﷺ نہ صرف قرآن حکیم کے شارح ہیں بلکہ اس کے عملی نمونہ بھی ہیں۔ اسی لیے فرمایا گیا:

“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الاحزاب: 21)۔

سنت سے روگردانی کے نتائج

رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں خبردار فرمایا:

“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں” (بخاری)۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر محض قرآن کا دعویٰ ادھورا اور ناقص ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب امت نے سنت کو پسِ پشت ڈالا تو فکری انتشار، عملی انحراف اور اجتماعی زوال نے جنم لیا۔

اطاعت و اتباع کی ہمہ گیری: 

اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاملات، اخلاق اور پورے نظام معاشرت کو محیط ہے۔ سچائی، امانت، عدل، رواداری، صبر اور ایثار وہ اوصاف ہیں جنہیں نبی ﷺ نے اپنی سیرت سے عملاً نافذ کر کے دکھایا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”۔

عصرِ حاضر میں اطاعت و اتباع کی ضرورت: آج کا مسلمان فکری انتشار اور تہذیبی یلغار کا شکار ہے۔ جدید نظریات اور مغربی اقدار نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع محض ایک دینی و مذہبی تقاضا نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی شرط اول اور مقدس ترین فریضہ ہے۔ اگر فرد اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو معیار اور رول ماڈل بنا لے تو عدلِ اجتماعی، اخلاقی تطہیر اور روحانی استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے: اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی دو ستون ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ امتِ مسلمہ کی نجات بھی اسی میں ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی زندگی کا شعار بنا لے۔

جاری ہے۔۔۔

No comments:

Post a Comment