Wednesday, 14 January 2026

قسط چہارم: نظریہ اور عمل کے درمیان فاصلہ کیوں؟

 قسط چہارم: نظریہ اور عمل کے درمیان فاصلہ کیوں؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: اسلامی بینکاری، عملی اعتراضات اور زمینی حقائق

گزشتہ اقساط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق، قرآنی وعیدات، معاشرتی نقصانات اور اسلامی متبادل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس قسط میں ایک نہایت اہم اور حساس سوال کا تجزیہ مقصود ہے، اور وہ یہ کہ اسلامی بینکاری واقعی سود سے پاک ہے یا محض سود کا نیا نام؟ نیز یہ بھی کہ نظریۂ اسلامی معیشت اور موجودہ عملی ڈھانچے کے درمیان فاصلہ کیوں نظر آتا ہے۔

سب سے پہلے یہ اصول ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اسلامی بینکاری ایک نظریہ نہیں بلکہ فقہی اصولوں کا اطلاق ہے۔ اس کا مقصد سودی قرض کے بجائے شراکت، بیع اور اجارہ جیسے جائز عقود کو فروغ دینا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ اسلامی بینکاری مکمل اسلامی معیشت نہیں بلکہ سودی نظام کے اندر ایک متبادل تجربہ ہے، جس کی وجہ سے اس میں بعض عملی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلامی بینک بھی “منافع” پہلے سے طے کر لیتے ہیں، اس لیے وہ سود ہی کی ایک شکل ہیں۔ اس اعتراض کا علمی جواب یہ ہے کہ اگر کوئی معاملہ قرض کی بنیاد پر ہو اور اس پر نفع مشروط ہو تو وہ یقیناً سود ہے، لیکن اگر معاملہ بیع، اجارہ یا مشارکت کی بنیاد پر ہو تو وہاں نفع کی تعیین سود نہیں بلکہ تجارتی منافع شمار ہوتی ہے، بشرطیکہ حقیقی خرید و فروخت، ملکیت کی منتقلی اور خطرے کی شمولیت موجود ہو۔

اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اسلامی بینکاری کے بعض ادارے فقہی روح کے بجائے محض فقہی صورت پر اکتفا کرتے ہیں۔ نتیجتاً بعض معاملات میں خطرہ حقیقی طور پر بینک برداشت نہیں کرتا بلکہ بالواسطہ طور پر گاہک ہی پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تنقید جنم لیتی ہے اور اصلاح کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کی ناکامی دراصل اسلامی معیشت کی ناکامی نہیں بلکہ عمل درآمد کی کمزوری ہے۔ فقہائے امت نے جن اصولوں پر مضاربت، مشارکت اور بیع کو جائز قرار دیا، وہ اصول آج بھی اتنے ہی مضبوط اور قابلِ عمل ہیں۔ مسئلہ نیت، نگرانی اور اخلاقی جرات کا ہے، نہ کہ شریعت کے اصولوں کا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی معیشت صرف بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک پورا معاشی ماحول—ٹیکس نظام، حکومتی قرضے، بجٹ، مالیاتی پالیسیاں—سودی بنیادوں پر قائم رہیں گی، اس وقت تک اسلامی بینکاری سے مکمل نتائج کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہوگی۔ اسلامی معیشت ایک ہمہ جہتی نظام ہے، جس کے لیے ریاستی سطح پر عزم، قانون سازی اور تدریجی نفاذ ناگزیر ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کاروباری دنیا سود کے بغیر نہیں چل سکتی۔ یہ دعویٰ تاریخ اور منطق دونوں کے خلاف ہے۔ صدیوں تک مسلم دنیا میں تجارت، صنعت اور عالمی منڈیاں سود کے بغیر چلتی رہیں۔ اصل رکاوٹ سود نہیں بلکہ لالچ، عدم اعتماد اور اخلاقی زوال ہے۔ جب سرمایہ دار محنت کے بجائے ضمانت شدہ منافع کا عادی ہو جائے تو سود ناگزیر محسوس ہونے لگتا ہے۔

اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ نفع اسی کا حق ہے جو خطرہ مول لے۔ یہی اصول معاشی عدل کی بنیاد ہے۔ اگر نفع یقینی ہو اور نقصان کا امکان صفر، تو وہ تجارت نہیں بلکہ استحصال ہے، چاہے اسے کسی بھی خوبصورت نام سے پکارا جائے۔

آخر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کو رد کر دینا حل نہیں، بلکہ اس کی اصلاح، تطہیر اور نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں حلال تجارت، شراکت اور اعتماد کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی راستہ ہمیں سودی غلامی سے نکال کر حقیقی اسلامی معاشی آزادی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment