Tuesday, 13 January 2026

کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا: ضرورت یا یعیش؟

 کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا: ضرورت یا یعیش؟

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

 ایک سنجیدہ جائزہ

اکیسویں صدی کو اگر ٹیکنالوجی کی صدی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اینڈروئیڈ سیل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تعلیم، تجارت، ابلاغ، طب، سیاست اور سماجی روابط—کوئی میدان ایسا نہیں جو اس ڈیجیٹل انقلاب سے محفوظ رہا ہو۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب ہماری حقیقی ضروریات بن چکے ہیں یا محض یعیشات (تعیشات) کی صورت اختیار کر گئے ہیں؟ اس سوال کا جواب تبھی ممکن ہے جب ان کے مثبت و منفی اثرات کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔

سب سے پہلے مثبت پہلو پر نظر ڈالیں۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے علم تک رسائی کو آسان، تیز اور عالمی بنا دیا ہے۔ آج ایک طالب علم چند لمحوں میں دنیا کی بہترین جامعات کے لیکچرز، تحقیقی جرائد اور ڈیجیٹل کتب خانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ آن لائن تعلیم، فری لانسنگ اور ریموٹ ورک نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک خاموش معاشی انقلاب ہے۔ طب کے میدان میں ٹیلی میڈیسن، آن لائن تشخیص اور ڈیجیٹل ریکارڈ نے انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے، سماجی آگاہی اور مظلوم آوازوں کو عالمی سطح پر پہنچانے کا ذریعہ فراہم کیا۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ اتنا ہی تشویشناک ہے۔ حد سے زیادہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور تنہائی کو فروغ دے رہا ہے۔ خاندانی نظام متاثر ہو رہا ہے؛ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے کٹتے جا رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں میں عدمِ توجہ، مطالعے سے دوری اور وقتی لذت (instant gratification) کی عادت بڑھ رہی ہے۔ اخلاقی اقدار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں؛ فحاشی، جھوٹی خبروں، کردار کشی اور نفرت انگیز مواد کی یلغار نے معاشرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔

سوشل میڈیا کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ حقیقت اور تاثر (perception) کے درمیان فرق مٹا دیتا ہے۔ نمائش، لائکس اور فالوورز کی دوڑ نے خود نمائی اور احساسِ کمتری کو جنم دیا ہے۔ سیاسی و سماجی سطح پر جھوٹی اطلاعات اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا عوامی رائے کو گمراہ کرنے کا مؤثر ہتھیار بن چکا ہے۔ پرائیویسی کا فقدان اور ڈیٹا کا ناجائز استعمال بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے اثرات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔

اب بنیادی سوال: کیا یہ سب ہماری ضروریات ہیں یا یعیشات؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہو سکتے ہیں—استعمال پر منحصر ہے۔ تعلیم، تحقیق، صحت، روزگار اور قومی ترقی کے لیے یہ ٹیکنالوجیز بلاشبہ ضرورت بن چکی ہیں۔ مگر جب یہی ذرائع مقصد کے بجائے مشغلہ، اور سہولت کے بجائے لت بن جائیں تو یہ یعیش اور نقصان میں بدل جاتے ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اس کا بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل توازن (Digital Balance) اختیار کریں۔ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی حد، تعلیمی و تعمیری مواد کی ترجیح، خاندانی و سماجی روابط کو وقت دینا، اور اخلاقی و قانونی ضوابط کا نفاذ ناگزیر ہے۔ ریاست، تعلیمی اداروں اور والدین—سب کو مل کر ڈیجیٹل شعور (Digital Literacy) کو فروغ دینا ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نہ مکمل نعمت ہیں نہ سراسر لعنت؛ یہ ایک طاقتور اوزار ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ان کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں کس حد اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہی فیصلہ انہیں ضرورت بناتا ہے یا تعیش۔

No comments:

Post a Comment