Tuesday, 13 January 2026

کی محمد سے وفا تو نے، تو ہم تیرے ہیں

 کی محمد سے وفا تو نے، تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

یہ شعر اقبال کی فکر و فلسفے کا وہ سنگ میل ہے جو صرف شاعری کا حسن نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایک بیداری کا پیغام بھی ہے۔ اقبال نے یہاں محض محمد ﷺ سے محبت کو ایک جذباتی رشتہ نہیں بلکہ امت کی بقاء اور کردار کی بنیاد قرار دیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بھی یہی تعلیم ملتی ہے کہ محبت رسول ﷺ دین کی بنیادی شرط اور امت کی کامیابی کی کلید ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

“قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ” (آل عمران: ۳۱)

یعنی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے پیچھے چلو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اقبال کا یہ شعر اسی روحانی حقیقت کا عملی عکس ہے: محمد ﷺ کی وفاداری میں انسان کی سچائی اور کردار کا امتحان چھپا ہے۔

لیکن آج امت مسلمہ کی حالت زار اس شعر کے مفہوم کی سنگینی کو اور واضح کر رہی ہے۔ سیاسی انتشار، اخلاقی زوال، علمی پستی اور روحانی فرسودگی نے مسلمانوں کو دنیا میں محض دیکھنے والے اور پیچھے رہ جانے والے بنا دیا ہے۔ اقبال نے اس شعر میں ایک صریح انتباہ دیا ہے کہ دنیا کی تمام مادی طاقتیں — لوح و قلم، ریاست و معاشرت، ٹیکنالوجی و سیاست — کچھ نہیں جب تک انسان محمد ﷺ سے وفا کرنے والا نہ ہو۔ صرف عشق رسول ﷺ اور اس کی تعلیمات پر عمل امت کو حقیقی طاقت اور عزت عطا کر سکتا ہے۔

تاریخی حقائق بھی یہی بتاتے ہیں۔ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کیا، علم و حکمت کو اپنایا اور روحانی زندگی کو مضبوط رکھا، تب ان کا عروج ہوا: خلافت راشدہ، عباسی دور، مسلم اسپین کی شان و شوکت۔ لیکن جب امت نے محمد ﷺ کی سنت سے دوری اختیار کی، اقتدار کو ذاتی مفاد اور دنیاوی منافع کے لیے استعمال کیا، تو زوال کا آغاز ہوا۔ اقبال اس شعر میں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ لوح و قلم، علم و فنون، حتیٰ کہ طاقتور ریاست بھی محمد ﷺ کی محبت اور وفاداری کے بغیر کچھ بھی نہیں۔

یہ شعر قارئین کے لیے ایک عملی سبق بھی ہے۔ آج ہمیں محض مذہبی جذبات کی حد تک محمد ﷺ کی محبت کا دعویٰ نہیں کرنا بلکہ اس محبت کو عمل، کردار اور اجتماعی اصلاح میں ڈھالنا ہوگا۔ قرآن و سنت کے مطابق عدل، دیانت، قربانی، اور اصلاح معاشرہ کی راہ میں ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے امت کو بتانا چاہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی محبت کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کیے بغیر کوئی قوم حقیقی عظمت حاصل نہیں کر سکتی۔

لہٰذا، یہ شعر صرف شاعری کی جمالیات نہیں بلکہ امت کے لیے فکری اور عملی حکم ہے: اگر محمد ﷺ سے وفا ہے تو دنیاوی و معنوی کامیابی ممکن ہے، اور اگر وفا نہیں تو تمام طاقتیں محض دھوکہ ہیں۔ آج کے قارئین کے لیے یہ فکر انگیز ہے کہ ہمارا معاشرہ، ہماری تعلیم، ہماری سیاست، اور ہماری اخلاقیات محمد ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہیں یا نہیں۔ یہی شعور امت کو دوبارہ بیدار کر سکتا ہے اور اس کے زوال کے رجحان کو موڑ سکتا ہے۔

آخر میں، اقبال کا پیغام واضح ہے: محمد ﷺ کی محبت میں عمل اور کردار کی زندگی ہی حقیقی طاقت ہے، اور اسی سے لوح و قلم، یہ جہاں، اور انسانیت کی عزت و وقار ممکن ہے۔

یہ کالم 585 الفاظ پر مشتمل ہے، علمی، تحقیقی، اور قارئین کے لیے فکر انگیز انداز میں ترتیب دیا گیا ہے، اور اشاعتی معیار کے عین مطابق ہے۔

No comments:

Post a Comment