خواب غفلت میں غرق امت!۔قسط اول:
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
نوجوان کہاں جا رہے ہیں؟
اقبال نے صدیوں پہلے ہی امتِ مسلمہ کے نوجوانوں، علما اور حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے لفظوں کے تیغ چلائے، مگر افسوس کہ ہم آج بھی خواب غفلت میں غرق ہیں۔ وہ روحانی، فکری اور عملی بیداری جس کی نشاندہی اقبال نے کی، آج ہمیں محض نصیحت لگتی ہے، حقیقت نہیں۔
نوجوانوں کی بیداری کہاں ہے؟
اقبال نے نوجوانوں سے کہا: خودی کو پہچانو، اپنی روح میں قوت پیدا کرو، کیونکہ امت کی بقاء انہی ہاتھوں میں ہے۔ مگر آج ہمارے نوجوان علم و ایمان کے درمیان الجھے ہوئے ہیں، جدیدیت کے جال میں پھنسے ہیں اور امت کی تاریخی ذمہ داری سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
علما کی ذمہ داری:
علما کا بھی کمال افسوسناک ہے۔ علم دین کو صرف تقاریب، تقریر اور کتب تک محدود رکھنے سے امت کا فکری اور اخلاقی ارتقاء رک گیا ہے۔ اقبال نے واضح فرمایا تھا: دین کا مقصد صرف عبادت نہیں، بلکہ اجتماعی شعور، اخلاقی طاقت اور عملی انصاف ہے۔
حکمران اور امت کی تقدیر:
حکمران طبقات بھی اس نصیحت سے مبرا نہیں۔ اقتدار کو ذاتی مفاد کا ذریعہ بنانے سے امت کی تقدیر داؤ پر ہے۔ اقبال نے کہا: اقتدار کی اصل ذمہ داری عدل و انصاف، امت کی فلاح اور غیرت اسلامی ہے، ورنہ طاقت کا ہر استعمال خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔
امت کی بقاء تین ستونوں پر:
امت کی بیداری تین ستونوں پر مبنی ہے: خودی، علم، عمل۔ ان میں سے کوئی بھی کمزور ہو تو امت کی بنیاد لرزتی ہے۔ افسوس کہ آج ہم نے نہ نوجوانوں میں خودی پروان چڑھائی، نہ علما و حکمرانوں میں اخلاقی و فکری بیداری پیدا کی، نہ عملی اصلاح کی سمت میں ٹھوس قدم اٹھائے۔ نتیجہ: امت پسماندگی اور داخلی زوال کا شکار۔
No comments:
Post a Comment