اقسط اول: ابداع معنی اور فہمِ کلام کا تناظر
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
ادبی و علمی دنیا میں “ابداع معنی” کی اصطلاح ایک نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔ ابداع معنی سے مراد وہ معنی ہیں جو کسی مصنف، متکلم یا شاعر کے ذہن و دل میں جنم لیتے ہیں۔ یہ معانی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ مصنف کے ارادے، ذہنی تصویر، اور تصور کا آئینہ ہوتے ہیں۔ مثلاً، اگر شاعر کسی مصرعے میں الفاظ کو کسی خاص انداز میں ترتیب دیتا ہے، تو اس مصرعے کا حقیقی مفہوم وہی ہوگا جو شاعر نے ذہن میں ابداع کیا ہے۔ اس کے برعکس کسی سامع یا قاری کا اپنی مرضی کے مطابق مفہوم اخذ کرنا محض غلط فہمی ہے، نہ کہ حقیقی فہمِ کلام۔
یہاں فہمِ کلام کی بنیادی شرط “عینیت” کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ عینیت سے مراد یہ ہے کہ قاری یا سامع کو مصنف کے ذہن میں جنم لینے والے اصلی معنی بالکل درست طور پر سمجھ میں آئیں۔ ابداع معنی اور اخذ معنی کے درمیان یہی تعلق فہمِ کلام کا ستون ہے۔ اگر قاری نے ابداع معنی کو درست انداز میں نہ سمجھا، تو وہ فہمِ کلام نہیں بلکہ ادراکِ غلطی کا شکار ہوگا۔
علمِ البلاغت میں اس سلسلے کو مزید واضح کرنے کے لیے اصطلاحات جیسے عبارۃ النص، اشارۃً النص، دلالۃ النص، اور اقتضاء النص کا استعمال کیا جاتا ہے۔
عبارۃ النص اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متن کے الفاظ میں موجود معنی کس حد تک واضح اور غیر متغیر ہیں۔
اشارۃً النص اس بات کا اشارہ ہے کہ بعض معنوی پہلوؤں کو محض متن کے ظاہری جملے سے اخذ کیا جا سکتا ہے، لیکن مکمل فہم کے لیے تناظر ضروری ہے۔
دلالۃ النص سے مراد یہ ہے کہ متن میں معنوی سمت اور مطلوبہ مقصد واضح طور پر موجود ہے، جسے اخذ کرنا لازمی ہے۔
اقتضاء النص کا تعلق اس اصول سے ہے کہ متن کے الفاظ اور اشارے مصنف کے مقصود معنی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، اور ان کے خلاف جانا فہمِ کلام کے برخلاف ہے۔
لہٰذا، فہمِ کلام صرف الفاظ کو پڑھنا یا سننا نہیں بلکہ ابداع معنی کی عینیت کے مطابق اخذ معنی کا عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی و ادبی مباحث میں ابداع و اخذ معنی کو نہایت دقیق اور حساس مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔
(اگلی قسط دوم میں ہم ابداع معنی کے عملی تناظر، مثالوں اور ان کے ادبی و قرآنی اطلاق پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گے، تاکہ قارئین کو نہ صرف علمی بلکہ عملی فہم بھی حاصل ہو۔)
No comments:
Post a Comment