Tuesday, 13 January 2026

نژاد نو کے مشاغل اور عصر حاضر کے ناگزیر تقاضے

 نژاد نو کے مشاغل اور عصر حاضر کے ناگزیر تقاضے

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

عصرِ حاضر میں نوجوانی کی شخصیت، مشاغل اور دلچسپیاں ماضی کی نسبت بے حد متنوع اور پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ نژاد نو، جو نئی سوچ، جدت طرازی اور تکنیکی مہارتوں کا حامل ہے، اس کی دلچسپیاں اور مصروفیات ایک طرف تفریح، سوشل میڈیا، گیمز، اور ڈیجیٹل دنیا کی طرف مائل ہیں، تو دوسری طرف یہ عصرِ حاضر کے علمی، سماجی اور اقتصادی تقاضوں سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ہم عصر نوجوانوں کے لیے ایک ایسا عہد ہے جہاں ذاتی ترجیحات اور سماجی ذمہ داریوں کا توازن برقرار رکھنا ایک فطری ضرورت بن چکا ہے۔

نوجوان نسل کے مشاغل میں سب سے نمایاں عنصر ڈیجیٹل تفریح اور آن لائن کنیکٹیویٹی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل گیمز، ویڈیو سٹریمنگ سروسز اور یوٹیوب جیسے ذرائع نے نوجوانوں کے فارغ اوقات کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ یہ مشغلے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ علمی ترقی میں بھی معاون ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح سمت میں استعمال کیا جائے۔ تاہم، غیر متوازن استعمال ذہنی دباؤ، توجہ میں کمی اور وقت کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے۔

اسی دوران، تعلیمی اور پیشہ ورانہ تقاضے نوجوانوں پر ایک اور طرح کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ عالمی مسابقت، ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلیاں، اور مہارتوں کے لیے نئے معیار نوجوانوں سے جدید مہارتیں، تحقیق، اور مسلسل سیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنے مشاغل اور دلچسپیوں کو صرف تفریح تک محدود نہ رکھے بلکہ انہیں عملی اور علمی ترقی کے لیے بھی بروئے کار لائے۔ مثال کے طور پر، گیمنگ کو اسلوبِ سیکھنے یا کوڈنگ اور ڈیجیٹل ڈیزائننگ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی عصرِ حاضر کے نوجوانوں کے لیے ایک ناگزیر تقاضہ ہے۔ نژاد نو کو اپنے کردار، ماحول اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے آگاہی اور عملی شراکت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی تحریکات، رضاکارانہ سرگرمیاں اور سماجی مہمات معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنے ذاتی مشاغل کو قومی اور اخلاقی فریم ورک میں ڈھالیں۔

مزید برآں، ثقافتی شعور اور تاریخی ادراک بھی نوجوانوں کے لیے ناگزیر ہے۔ عصرِ حاضر کی عالمی ثقافت میں ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ اپنی روایات، زبان، اور مذہبی و قومی اقدار کو سمجھنا اور فروغ دینا ہر نوجوان کی ذمہ داری ہے۔ یہ شعور نوجوانوں کو صرف اپنے ذاتی مفادات تک محدود نہ رکھ کر ایک متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

تحقیقی مطالعے بتاتے ہیں کہ نوجوانوں کی دلچسپیاں اور مشاغل جب عقل و شعور، تعلیم اور سماجی ذمہ داری کے تناظر میں مربوط ہوں، تو یہ نہ صرف انفرادی بلکہ قومی ترقی کا بھی باعث بنتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوان نسل کا یہ توازن مستقبل کی معیشت، سوشل سٹرکچر اور قومی دفاع میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

لہٰذا، نژاد نو کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مشاغل اور دلچسپیوں کو وقت کے تقاضوں، عالمی مسابقت اور معاشرتی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ تفریح صرف وقت کی ضیاع نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہو جو علم، تخلیق، اور قومی خدمت میں تبدیل ہو جائے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں نوجوان اپنی ذاتی خوشیوں کو معاشرتی فلاح، اخلاقی کردار، اور علمی کامیابی میں بدل کر اپنی ذات، قوم اور امت کے لیے حقیقی کردار ادا کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ نوجوان نسل کی مشاغل اور دلچسپیاں صرف ذاتی طرزِ زندگی کا حصہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی پیچیدہ اور تیز رفتار دنیا میں بقاء اور ترقی کی شرط بھی ہیں۔ عقل، بصیرت اور اخلاقی شعور کے ساتھ یہ مشاغل نوجوان کو نہ صرف ذاتی بلکہ قومی اور عالمی سطح پر کامیابی کے قابل بنا سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment