Tuesday, 13 January 2026

اینڈروئیڈ سیل فون اور سوشل میڈیا: فائدے یا زہر؟

 اینڈروئیڈ سیل فون اور سوشل میڈیا: فائدے یا زہر؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا موبائل فون ہمیں علم کا خزانہ دیتا ہے یا وقت کا قاتل؟ آج کے عصرِ جدید میں اینڈروئیڈ فون اور سوشل میڈیا نے زندگی کے ہر گوشے میں قدم جما لیا ہے۔ تعلیم، کاروبار، سماجی رابطے، حتیٰ کہ انسانی جذبات تک، سب کچھ آن لائن دنیا کی گرفت میں آ چکا ہے۔

قرآنِ کریم ہمیں علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے:

"وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" (سورة طہ، 114)

یعنی: "اور کہو: اے میرے رب! میرا علم بڑھا دے۔"

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معلومات اور علم تک رسائی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

سوشل میڈیا کے روشن پہلو

اینڈروئیڈ فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے چند لمحوں میں دنیا کی ہر خبر، ہر واقعہ، اور ہر تعلیمی مواد تک رسائی ممکن ہے۔ طلبہ آن لائن کورسز، ویڈیوز اور مضامین سے اپنی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔ کاروباری حضرات ای-کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا ہمیں نہ صرف دنیا کے کونے کونے میں ہونے والے واقعات سے آگاہ کرتا ہے بلکہ خیرات، انسانی ہمدردی اور نیکی کے کاموں میں بھی شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ" (سورة المائدة، 2)

یعنی: "اور نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔"

سوچیں، اگر ہم اس طاقت کا استعمال تعلیم اور نیکی میں کریں تو کیا ممکن ہے کہ یہ دنیا بدل دے؟

پر خطر پہلو: سوشل میڈیا کا سایہ

لیکن کیا یہ سب کچھ ہمیشہ فائدہ مند ہے؟ بلا مقصد وقت ضائع کرنا، جھوٹی معلومات، ذہنی دباؤ، تنہائی، نیند کی کمی، اور تعلیم میں توجہ کی کمی اس کے منفی اثرات ہیں۔

قرآن نے خبردار کیا:

"وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" (سورة البقرة، 195)

یعنی: "اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔"

مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر فحاشی، غیبت اور جھوٹے پروپیگنڈے نوجوانوں کی تربیت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

"کسی پر جھوٹ مت بولو اور کسی کو بلا حق نہ طعنے دو۔"

یہ ایک واضح انتباہ ہے: آن لائن دنیا میں بھی اخلاقیات کی حدود ضروری ہیں۔

نتیجہ: اختیار آپ کے ہاتھ میں

اینڈروئیڈ فون اور سوشل میڈیا خود میں برائی یا نیکی نہیں ہیں، یہ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے۔ مثبت اور تعلیمی استعمال سے یہ ترقی اور معاشرتی بھلائی کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ غیر اخلاقی اور فضول استعمال تباہی کا سبب۔

والدین، اساتذہ اور نوجوان خود، سب کی ذمہ داری ہے کہ علم، اخلاق اور وقت کی قدر کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

یاد رکھیں: آپ کا موبائل آپ کی زندگی ہے، اسے ضائع کریں یا سنواریں، انتخاب آپ کا ہے!

No comments:

Post a Comment