Thursday, 15 January 2026

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول

 قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور 

 رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

دین اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جس کی بنیاد اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ نجات، فلاح اور کامیابی کا واحد راستہ اسی دوہری اطاعت میں مضمر ہے۔ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الاحزاب: 71)۔ یہ آیت اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کو کامیابیِ عظیم کا معیار قرار دیتی ہے۔

اطاعتِ الٰہی کا مفہوم

اللہ تعالٰی کی اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی میں اللہ تعالٰی کے احکامات کو بالاتر سمجھے۔ قرآن کہتا ہے:

“اے ایمان والو! اللہ تعالٰی کی اطاعت کرو” (النساء: 59)۔

یہ اطاعت محض زبانی اقرار نہیں بلکہ عملی التزام کا تقاضا کرتی ہے؛ یعنی حلال و حرام کے فیصلے، عدل و انصاف کے اصول، معاشی معاملات، خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار سب اللہ کے حکم کے تابع ہوں۔

اتباعِ رسول ﷺ کی ناگزیر حیثیت کے تناظر میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے ضرور درحقیقت اللہ کی ہء اطاعت کی” (النساء: 80)۔

یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت دراصل وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ نبی کریم ﷺ نہ صرف قرآن حکیم کے شارح ہیں بلکہ اس کے عملی نمونہ بھی ہیں۔ اسی لیے فرمایا گیا:

“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الاحزاب: 21)۔

سنت سے روگردانی کے نتائج

رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں خبردار فرمایا:

“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں” (بخاری)۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر محض قرآن کا دعویٰ ادھورا اور ناقص ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب امت نے سنت کو پسِ پشت ڈالا تو فکری انتشار، عملی انحراف اور اجتماعی زوال نے جنم لیا۔

اطاعت و اتباع کی ہمہ گیری: 

اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاملات، اخلاق اور پورے نظام معاشرت کو محیط ہے۔ سچائی، امانت، عدل، رواداری، صبر اور ایثار وہ اوصاف ہیں جنہیں نبی ﷺ نے اپنی سیرت سے عملاً نافذ کر کے دکھایا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”۔

عصرِ حاضر میں اطاعت و اتباع کی ضرورت: آج کا مسلمان فکری انتشار اور تہذیبی یلغار کا شکار ہے۔ جدید نظریات اور مغربی اقدار نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع محض ایک دینی و مذہبی تقاضا نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی شرط اول اور مقدس ترین فریضہ ہے۔ اگر فرد اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو معیار اور رول ماڈل بنا لے تو عدلِ اجتماعی، اخلاقی تطہیر اور روحانی استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے: اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی دو ستون ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ امتِ مسلمہ کی نجات بھی اسی میں ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی زندگی کا شعار بنا لے۔

جاری ہے۔۔۔

اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں۔ (قسط دوم)

 اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں (قسط دوم)

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

قرآنِ مجید نے دینِ اسلام کی اصل روح کو نہایت جامع اور فیصلہ کن انداز میں ایک ہی معیار پر مرکوز کر دیا ہے، اور وہ ہے اتباعِ رسولِ اکرم ﷺ۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو یا قربِ خداوندی کی آرزو، قرآن حکیم نے اس کے لیے کسی باطنی کیفیت یا مجرد دعوے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ ایک واضح عملی کسوٹی مقرر کر دی۔ چنانچہ سورۃ آلِ عمران میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾

(آلِ عمران: 31)

مفہوم:

“(اے نبی ﷺ!) فرما دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔”

:محبتِ الٰہی کا قرآنی معیار

یہ آیت اپنے مفہوم اور مدعا کے اعتبار سے نہایت انقلابی ہے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے واضح کر دیا کہ اس سے محبت کا محض زبانی یا قلبی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ اس محبت کی صداقت کا عملی ثبوت اتباعِ محمدی ﷺ ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی سیرت، سنت اور منہج ہی وہ آئینہ ہے جس میں بندۂ مومن اپنی محبتِ الٰہی کی سچائی دیکھ سکتا ہے۔

ائمۂ تفسیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو اللہ تعالٰی سے محبت کے دعوے تو کرتے تھے مگر نبی ﷺ کی عملی پیروی سے گریزاں تھے۔ قرآن مجید نے دوٹوک انداز میں بتا دیا کہ جو رسول ﷺ کی اتباع سے منہ موڑے، اس کا دعویٔ محبت محض ایک فریبِ نفس ہے۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور مغفرتِ الٰہی

آیتِ مذکورہ میں اتباعِ رسول ﷺ کے دو عظیم ثمرات بیان کیے گئے ہیں:

اللہ کی محبت

گناہوں کی مغفرت

یہ دونوں نعمتیں ہر مومن کی سب سے بڑی تمنا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف فقہی یا عملی رہنمائی نہیں بلکہ بندے اور رب کے تعلق کی بنیاد ہے۔ جس قدر اتباع مضبوط ہو گی، اسی قدر اللہ تعالٰی کی محبت اور مغفرت کا حصول یقینی ہو گا۔

:بدعت کا مفہوم اور اتباعِ سنت

یہاں بدعت کے مسئلے کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بدعت دراصل دین میں ایسی نئی بات کو شامل کرنا ہے جس کی اصل نہ قرآن میں ہو، نہ سنت میں، اور نہ ہی صحابۂ کرامؓ کے تعامل میں۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا:

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے” (بخاری، مسلم)۔

بدعت کا اصل نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو اتباعِ رسول ﷺ سے ہٹا کر خود ساختہ طریقوں کا اسیر بنا دیتی ہے۔ بظاہر نیکی اور ثواب کے نام پر ایجاد کی جانے والی بدعات درحقیقت سنت کی جگہ لے لیتی ہیں، اور یوں آہستہ آہستہ دین اپنی اصل صورت سے دور ہو جاتا ہے۔

:سنت: دین کا زندہ نمونہ

رسول اللہ ﷺ کی سنت دین کی عملی تشریح ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرت، ہر شعبے میں نبی ﷺ نے ایسا متوازن، فطری اور قابلِ عمل نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ کسی بھی عمل سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ نبی ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا۔

عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داری

آج امتِ مسلمہ کو جن فکری اور عملی گمراہیوں کا سامنا ہے، ان میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے محبتِ رسول ﷺ کو جذباتی نعروں تک محدود کر دیا اور اتباعِ رسول ﷺ کو عملی زندگی سے نکال دیا۔ حالانکہ قرآن کا پیغام بالکل واضح ہے: اتباع کے بغیر محبت معتبر نہیں۔

آیتِ ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ﴾ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دین میں اصل قدر، اخلاص کے ساتھ سنت کی پیروی ہے۔ بدعت خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو، وہ اتباعِ رسول ﷺ کا بدل نہیں بن سکتی۔ امت کی نجات، وحدت اور روحانی احیا اسی میں ہے کہ وہ قرآن و سنت کو اپنا واحد معیار بنائے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی دینی شناخت قرار دے۔

— جاری ہے

اتباع رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط

 اتباعِ رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اس سلسلۂ مضامین میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ دینِ اسلام کی اصل روح، اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع میں مضمر ہے۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو، فلاحِ دارین کی جستجو ہو یا امت کی اجتماعی نجات، ہر پہلو اسی ایک اصول سے وابستہ ہے۔ اختتامی قسط میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے اتباعِ رسول ﷺ کو کس طرح اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنایا، اور یہ منہج آج امت کے لیے کس طرح ایک زندہ نمونہ بن سکتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ: اتباعِ رسول ﷺ کا عملی پیکر

صحابۂ کرامؓ کی امتیازی شان یہ تھی کہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ سنتِ نبوی ﷺ سے خالی نہ تھا۔ عبادات ہوں یا معاملات، جنگ ہو یا امن، گھریلو زندگی ہو یا ریاستی نظم، ہر موقع پر ان کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا: “رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا؟”

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ معمول معروف ہے کہ وہ سفر کے دوران انہی مقامات پر قیام فرماتے جہاں نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا، خواہ بظاہر اس کی کوئی عقلی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہ طرزِ عمل اس محبت اور اطاعت کی عملی تصویر تھا جسے قرآن نے مطلوب قرار دیا ہے۔

:سنت کی حفاظت اور دین کی بقا

صحابۂ کرامؓ نے نہ صرف خود سنت پر عمل کیا بلکہ اس کی حفاظت اور اشاعت کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے دین میں اضافے اور کمی دونوں سے سخت اجتناب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نئے عمل کا سوال اٹھتا تو وہ  

فوراً کہتے: کہ “کیا یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھا؟

اگر جواب نفی میں ہوتا تو وہ اسے اختیار کرنے سے رک جاتے۔ یہی وہ شعور تھا جس نے بدعت کے دروازے بند رکھے اور دین کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھا۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور اجتماعی نظام

اتباعِ رسول ﷺ کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہ تھا بلکہ اجتماعی اور ریاستی نظم بھی اسی کے تابع تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں عدلِ اجتماعی، شفاف احتساب، بیت المال کا امانت دارانہ استعمال اور قانون کی بالادستی یہ سب سنتِ نبوی ﷺ ہی کا تسلسل تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول تاریخ کا روشن باب ہے:

“اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالٰی عمر سے سوال کرے گا”۔

یہ احساسِ جواب دہی دراصل اتباعِ رسول ﷺ کا ہی ثمر تھا۔

:امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی کمزوری، ان سب کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے سنت کو محض رسمی یا اختلافی مسئلہ بنا دیا ہے، حالانکہ وہ دین کی روح اور زندگی کا عملی نظام ہے۔ صحابۂ کرامؓ کا اسوہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سنت کو جزوی نہیں بلکہ کامل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کیا جائے۔

خلاصۂ کلام

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالٰی کی محبت کا راستہ اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔

سنت سے وابستگی دین کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

صحابۂ کرامؓ کا منہج امت کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔

اگر آج کا مسلمان اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکز بنا لے تو نہ صرف دینی شناخت بحال ہو سکتی ہے بلکہ امت دوبارہ عزت، وحدت اور قیادت کے مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔

یہی قرآن کا مطالبہ ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کا پیغام اور یہی امتِ مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

Wednesday, 14 January 2026

اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال

 پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال. ایک جامع تحقیقی مطالعہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات آزادی کے فوراً بعد سے ہی پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد دونوں نئے پیدا ہونے والے ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ علاقے، سیاست اور شناخت کے معاملات پر اختلافات شروع کر دیے، جنہوں نے گزشتہ 75 سال سے بھی زیادہ عرصے تک امن کو ناقابلِ یقین حد تک خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ سب سے بڑا اور بنیادی تنازع کشمیر کا ہے، جس کو دونوں ملک اپنی خودمختار ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر کی جنگ 1947–48 میں اقوامِ متحدہ کے ثالثی کے بعد ایک عارضی لائن آف کنٹرول (LoC) کی صورت میں منقسم ہوا جو آج تک کشمکش کا محور ہے۔ 

تاریخی پس منظر

1947 کے تقسیم کے بعد تین بڑی جنگیں ہوئیں: 1947–48، 1965، اور 1971۔ 1971 کی جنگ کے بعد سملہ معاہدہ (Simla Agreement) طے پایا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو امن کے ذریعے حل کرنے اور لائن آف کنٹرول کو باوقار قبول کرنے کا عہد کیا۔ � گزشتہ دہائیوں میں بھی کیریگل وار (1999) اور کشیدگی کے متعدد اوقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید متشنج کیا۔

حالیہ کشیدگی (2025–2026)

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملہ میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، جس کے بعد صورت حال شدید خراب ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی (Indus Waters Treaty) معطل کردی، پاکستانی سفارت کاروں کو نکالا، اور بارڈر سخت کردیا۔ � پاکستان نے ان دعووں کی تردید کی اور اپنے اقدامات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف اہداف پر میزائل اور فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ � پاکستان نے بھی جواب میں فضائی اور زمینی جوابی کارروائی کی جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو عمل میں آیا، لیکن دونوں جانب کشیدگی برقرار رہی۔ �

تنازع کے اہم نکات

۱. کشمیر کا مسئلہ:

کشمیر ہمیشہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع رہا ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جس نے نہ صرف بارودی سرحدی فائرنگ بلکہ اندرونی عسکری بغاوتوں کو بھی جنم دیا ہے۔ 

۲. معاہدوں اور اقتصادی کشیدگی:

2025 کے تنازع میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی معطل کی، جس نے پانی کے مشترکہ حقوق پر سوال اُٹھا دیے، جبکہ پاکستان نے تجارت اور دیگر معاہدوں میں تعطل بتایا۔ 

۳. عسکری چالیں:

دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون، اور زمینی فوجی ردعمل کا استعمال کیا جس نے کشیدگی کو بڑھایا اور LoC پر اکثر ڈرون مشاہدات اور سرحدی جھڑپوں کا رجحان دیکھا گیا۔ 

۴. عالمی و علاقائی ردعمل:

بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، نے جنگ بندی میں ثالثی کی کوششیں کیں اور دونوں فریقوں کو پر تشدد کارروائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ 

اقتصادی اور سماجی اثرات

بھارتی معیشت کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ مسلسل کشیدگی بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اشتعال انگیز سیاسی ماحول سرمایہ کاری اور برآمدات کو متاثر کرسکتا ہے۔

 پاکستان کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا، جبکہ دوسری طرف اندرونی منظرنامے میں دفاعی اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

نتیجہ

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ تاریخی جنگوں، کشمیر کے تنازع، پانی اور معاہدوں کی معطلی، اور علاقائی عسکری سرگرمیوں نے امن عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ 2025 کے متنازعہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوئی، مگر بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں اور ان کے دیرپا حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کو ثالثی، اعتماد سازی کے اقدام، اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کا راستہ یقینی بنایا جا سکے۔

ماہ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

 ماہِ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ماہِ رجب اسلامی تقویم کا ایک محترم اور معزز مہینہ ہے جسے قرآنِ کریم نے اشہرِ حُرم میں شامل فرمایا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بالخصوص رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو واقعۂ اسراء و معراج النبی ﷺ سے منسوب کر کے خصوصی تقدس، عبادات اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ اور علمی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قرآن و سنت، آثارِ صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ دین کے نزدیک اس رات کی کوئی خاص شرعی فضیلت ثابت ہے یا یہ بعد کے ادوار میں رائج ہونے والا ایک مذہبی تصور ہے؟

قرآنِ کریم کی روشنی میں

قرآنِ کریم میں واقعۂ اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل (آیت 1) میں نہایت اختصار مگر عظیم شان کے ساتھ آیا ہے:

“سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا…”

لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں نہ تو اس واقعے کی تاریخ، نہ مہینہ اور نہ ہی کسی مخصوص رات کا تعین کیا گیا ہے۔ یہی بات اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن نے اس واقعے کی عقیدتی و ایمانی اہمیت کو بیان کیا، نہ کہ اس کی تقویمی تخصیص کو۔

احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ

احادیثِ صحیحہ میں معراج النبی ﷺ کا تفصیلی ذکر ملتا ہے، خصوصاً صحیح بخاری و مسلم میں، مگر محدثین کا اتفاق ہے کہ کسی صحیح، صریح اور قطعی حدیث میں یہ تصریح موجود نہیں کہ معراج ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آئی۔

امام نوویؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور امام قرطبیؒ جیسے جلیل القدر محدثین نے واضح طور پر لکھا ہے کہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، اور کسی ایک رات کو قطعی طور پر معین کرنا علمی طور پر درست نہیں۔

آثارِ صحابہؓ اور سلف صالحین کا طرزِ عمل

اگر رجب کی ستائیسویں شب واقعی کوئی خاص عبادتی فضیلت رکھتی تو بلا شبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا اہتمام فرماتے۔ مگر تاریخی و حدیثی ذخیرے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں کہ صحابہؓ، تابعین یا تبع تابعین نے اس رات کو مخصوص عبادات، روزے یا جشن کے طور پر منایا ہو۔

امام ابن تیمیہؒ صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:

“معراج کی رات کو مخصوص عبادت کے لیے مقرر کرنا نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہاء کا موقف

ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) میں سے کسی سے بھی رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت یا اس رات کے لیے مخصوص عبادات کا ثبوت نہیں ملتا۔

فقہاء و مجتہدین نے اصولی طور پر یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ عبادات میں اصل توقیف ہے، یعنی جس عبادت کی خاص ہیئت، وقت یا فضیلت نصِ شرعی سے ثابت نہ ہو، اسے دین کا حصہ بنانا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

اصل پیغام اور صحیح طرزِ فکر

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ واقعۂ معراج ایمان، رسالت اور عظمتِ مصطفی ﷺ کا بے مثال مظہر ہے۔ پانچ وقت کی نماز جیسی عظیم نعمت اسی شب عطا ہوئی، جو معراج کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ مگر اس عظیم واقعے کی یاد کو کسی غیر ثابت تاریخ یا مخصوص رسوم کے ساتھ جوڑ دینا، اصل روح سے انحراف کے مترادف ہے۔

نتیجہ

خلاصۂ تحقیق یہ ہے کہ:

معراج النبی ﷺ ایک قطعی اور متفق علیہ واقعہ ہے۔

لیکن ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت قرآن، سنت، آثارِ صحابہؓ اور ائمۂ دین سے ثابت نہیں۔

اس رات کو بطورِ خاص عبادت یا جشن کے طور پر منانا شرعی دلیل سے خالی ہے۔

البتہ معراج کے پیغام، خصوصاً نماز کی پابندی، اطاعتِ رسول ﷺ اور روحانی تربیت کو اپنانا ہی اس واقعے کا حقیقی تقاضا ہے۔

دینِ اسلام جذبات نہیں بلکہ دلائل کا نام ہے، اور امت کی اصلاح اسی میں ہے کہ وہ ثابت شدہ سنت کو اختیار کرے اور غیر ثابت امور میں احتیاط برتے۔

قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں

 قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

اسلامی معاشی نظام کی بنیاد عدل، توازن اور انسانی فلاح پر قائم ہے۔ قرآن و سنت نے جن معاشی اصولوں کو قطعی اور غیر متبدل قرار دیا ہے، ان میں سب سے نمایاں سود کی حرمت اور تجارت کی حلت ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں سود کو مختلف ناموں سے تجارت کے ہم معنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام نے ان دونوں کے درمیان واضح، قطعی اور فیصلہ کن حدِ فاصل قائم کی ہے۔

قرآنِ مجید اس فرق کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے:

“وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا” (البقرہ: 275)

یعنی اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلی عرب سود کو بھی تجارت ہی کی ایک شکل سمجھتے تھے، جسے قرآن نے دو ٹوک انداز میں رد کر دیا۔ یہ آیت بذاتِ خود سود اور تجارت کے فرق کا حتمی معیار ہے۔

سود دراصل وہ طے شدہ اضافہ ہے جو قرض پر وقت کے عوض لیا جائے، چاہے مقروض کو نفع ہو یا نقصان۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کسی کو ایک لاکھ روپے قرض دے اور شرط رکھے کہ چھ ماہ بعد ایک لاکھ بیس ہزار واپس کرے گا تو یہ اضافہ سود ہے، کیونکہ نفع پہلے سے متعین اور یقینی ہے، جبکہ نقصان کا پورا بوجھ ایک ہی فریق پر پڑتا ہے۔ اس میں نہ حقیقی تجارت شامل ہے اور نہ محنت یا خطرہ۔

اس کے برعکس تجارت وہ معاشی عمل ہے جس میں سرمایہ بھی لگتا ہے، محنت بھی ہوتی ہے اور نفع و نقصان دونوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ اگر دو افراد مل کر کاروبار کریں اور نفع ہو تو دونوں شریک ہوں، اور نقصان ہو تو دونوں متاثر ہوں، تو یہی بیع و تجارت ہے جو شریعت میں حلال ہے۔

صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ نے اس فرق کو نہایت وضاحت سے بیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے:

“ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، وہ ربا ہے۔”

حضرت عمر بن خطابؓ سود کے شبہ سے بھی اجتناب فرماتے اور کہتے تھے کہ ربا کے کئی دروازے ہیں، ان سے بچنا ہی نجات ہے۔ تابعین میں حضرت حسن بصریؒ نے نہایت جامع اصول بیان فرمایا:

“تجارت وہ ہے جس میں خطرہ ہو، اور سود وہ ہے جس میں ضمانت ہو۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قرض کا مقصد احسان ہے، نفع نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرض پر ہر مشروط اضافہ سودِ صریح ہے، جبکہ تجارت میں نفع کا تعلق خطرے سے ہے۔ امام مالکؒ کے مطابق وہ نفع جو ضمانت کے ساتھ ہو، چاہے محنت بھی کی گئی ہو، سود کے دائرے میں آتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ نفع کی شرط قرض کو حرام بنا دیتی ہے، اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک جس معاملے میں نفع یقینی اور نقصان کا کوئی امکان نہ ہو، وہ ربا ہے۔

یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو اسلامی معیشت کو سودی نظام سے ممتاز کرتے ہیں اور ایک عادلانہ معاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

سود اور تجارت: شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل

قسط دوم: عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔

دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔

ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔

سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔

اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

قسط دوم۔ دوم۔ سود اور تجارت

 *قسط دوم۔ سود اور تجارت:

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

 شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل، عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ

گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔

دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔

ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔

سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔

اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔