Saturday, 21 February 2026

The duties of Islamic scholars and the danger of evil scholars

  The duties of Islamic scholars and the danger of evil scholars


Dr. Abu Ahmed Ghulam Mustafa Al-Rai, Karachi


Allah Almighty says:


"Only those who have knowledge fear Allah."


(Surah Fatir, verse 28)


This verse makes it clear that the fruit of true knowledge is fear of God and piety, not mere degrees or certificates. Those who do not fear God are not truly learned, no matter how skilled they are in worldly learning.


The real responsibility of scholars


Practical adherence to the Quran and Sunnah:


It is the duty of scholars to understand and practice the true message of the Quran and Sunnah, and to convey its teachings to others.


Keeping the Muslim Ummah united:


It is the official duty of scholars to protect the Ummah from sectarianism, hatred, and group prejudice.


Teaching Islamic principles:


To promote social reform, justice and fairness, education and training, instilling the rights of Allah and the rights of His servants, and guiding practical acts of worship (prayer, zakat, etc.).


Modern science and education facilities:


Providing Muslims with opportunities in modern sciences, engineering, health, and research so that the Muslim Ummah can become strong, prosperous, and developed.


The danger of scholars being evil


Bad scholars are those who spread sectarianism, hatred, and false ideologies, and prioritize their personal or group interests over religion.


Instead of teaching the Quran and Sunnah, they spread the ideologies of their sect.


They divide Muslims and engage in spreading religious hatred.


Without true knowledge and piety, they only desire material or personal power.


A true scholar is one who uses his knowledge to reform, unite, and serve the community, not to spread chaos and sectarianism.


Unity of the Muslim Ummah


Allah Almighty sent Islam as a complete religion, in which the Quran and Sunnah have primacy and authority. It is not right to give priority to the opinion of any sect or person over religion.


Every Muslim should recognize his religion only as a Muslim.


It is essential to follow the Quran, Sunnah, and the good example of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), while avoiding sectarian prejudice.


Conclusion:


True scholars lead the Ummah on the path of unity, peace, reform, and progress in accordance with the Quran and Sunnah, while evil scholars spread discord and hatred. The strength and prosperity of the Muslim Ummah is possible only through this path.

علماءِ اسلام کے فرائض اور علماء سوء کا خطرہ

 علماءِ اسلام کے فرائض اور علماء سوء کا خطرہ

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں"

(سورۃ فاطر، آیت 28)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علم حقیقی کا ثمرہ خوفِ الٰہی اور تقویٰ ہے، نہ کہ محض ڈگریاں یا سندیں۔ وہ لوگ جو اللہ سے نہیں ڈرتے، وہ حقیقی عالم نہیں، چاہے دنیاوی تعلیم میں کتنے بھی ماہر ہوں۔

علماء کی اصل ذمہ داری

قرآن و سنت کی عملی پیروی:

علماء کا فرض ہے کہ وہ قرآن و سنت کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور عمل کریں، اور اسی کی تعلیم دوسروں تک پہنچائیں۔

امت مسلمہ کو متحد رکھنا:

فرقہ واریت، منافرت اور گروہی تعصب سے امت کو بچانا علماء کا منصبی فریضہ ہے۔

اسلامی اصولوں کی تعلیم:

معاشرتی اصلاح، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت، حقوق اللہ و حقوق العباد کی تلقین، اور عملی عبادات (نماز، زکوة وغیرہ) کی رہنمائی کرنا۔

عصری علوم و تربیت کی سہولیات:

مسلمانوں کو جدید سائنسز، انجینئرنگ، ہیلتھ اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنا تاکہ امت مسلمہ مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ بن سکے۔

علماء سوء کا خطرہ

علماء سوء وہ ہیں جو فرقہ واریت، منافرت اور جھوٹے نظریات پھیلاتے ہیں، اور اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو دین پر ترجیح دیتے ہیں۔

قرآن و سنت کی تعلیم کی بجائے اپنے فرقے کے نظریات کو عام کرتے ہیں۔

مسلمانوں کو تقسیم کرتے اور مذہبی دشمنی پھیلانے میں ملوث ہوتے ہیں۔

حقیقی علم اور تقویٰ کے بغیر صرف مادی یا ذاتی اقتدار کے خواہاں رہتے ہیں۔

حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے علم کے ذریعے امت کی اصلاح، اتحاد اور خدمت کرے، نہ کہ انتشار اور فرقہ واریت پھیلائے۔

امت مسلمہ کی وحدت

اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مکمل دین کے طور پر بھیجا، جس میں قرآن و سنت ہی اولیّت اور حجیت رکھتے ہیں۔ کسی فرقے یا شخص کی رائے کو دین پر فوقیت دینا درست نہیں۔

ہر مسلمان کو صرف مسلم کی حیثیت سے اپنا دین پہچاننا چاہیے۔

فرقوں کی تعصب سے پرہیز کرتے ہوئے، قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی اسوۃ حسنہ پر عمل و اتباع ضروری ہے۔

نتیجہ:

حقیقی علماء امت کو قرآن و سنت کے مطابق اتحاد، امن، اصلاح اور ترقی کی راہوں پر لے جاتے ہیں، جبکہ علماء سوء انتشار اور منافرت پھیلاتے ہیں۔ امت مسلمہ کی مضبوطی اور فلاح اسی راستے سے ممکن ہے۔

Thursday, 15 January 2026

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول

 قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور 

 رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع۔ قسط اول۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

دین اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جس کی بنیاد اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ نجات، فلاح اور کامیابی کا واحد راستہ اسی دوہری اطاعت میں مضمر ہے۔ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الاحزاب: 71)۔ یہ آیت اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کو کامیابیِ عظیم کا معیار قرار دیتی ہے۔

اطاعتِ الٰہی کا مفہوم

اللہ تعالٰی کی اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی میں اللہ تعالٰی کے احکامات کو بالاتر سمجھے۔ قرآن کہتا ہے:

“اے ایمان والو! اللہ تعالٰی کی اطاعت کرو” (النساء: 59)۔

یہ اطاعت محض زبانی اقرار نہیں بلکہ عملی التزام کا تقاضا کرتی ہے؛ یعنی حلال و حرام کے فیصلے، عدل و انصاف کے اصول، معاشی معاملات، خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار سب اللہ کے حکم کے تابع ہوں۔

اتباعِ رسول ﷺ کی ناگزیر حیثیت کے تناظر میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے ضرور درحقیقت اللہ کی ہء اطاعت کی” (النساء: 80)۔

یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت دراصل وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ نبی کریم ﷺ نہ صرف قرآن حکیم کے شارح ہیں بلکہ اس کے عملی نمونہ بھی ہیں۔ اسی لیے فرمایا گیا:

“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الاحزاب: 21)۔

سنت سے روگردانی کے نتائج

رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں خبردار فرمایا:

“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں” (بخاری)۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر محض قرآن کا دعویٰ ادھورا اور ناقص ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب امت نے سنت کو پسِ پشت ڈالا تو فکری انتشار، عملی انحراف اور اجتماعی زوال نے جنم لیا۔

اطاعت و اتباع کی ہمہ گیری: 

اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاملات، اخلاق اور پورے نظام معاشرت کو محیط ہے۔ سچائی، امانت، عدل، رواداری، صبر اور ایثار وہ اوصاف ہیں جنہیں نبی ﷺ نے اپنی سیرت سے عملاً نافذ کر کے دکھایا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”۔

عصرِ حاضر میں اطاعت و اتباع کی ضرورت: آج کا مسلمان فکری انتشار اور تہذیبی یلغار کا شکار ہے۔ جدید نظریات اور مغربی اقدار نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع محض ایک دینی و مذہبی تقاضا نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی شرط اول اور مقدس ترین فریضہ ہے۔ اگر فرد اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو معیار اور رول ماڈل بنا لے تو عدلِ اجتماعی، اخلاقی تطہیر اور روحانی استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے: اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی دو ستون ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ امتِ مسلمہ کی نجات بھی اسی میں ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی زندگی کا شعار بنا لے۔

جاری ہے۔۔۔

اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں۔ (قسط دوم)

 اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم؛ آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں (قسط دوم)

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

قرآنِ مجید نے دینِ اسلام کی اصل روح کو نہایت جامع اور فیصلہ کن انداز میں ایک ہی معیار پر مرکوز کر دیا ہے، اور وہ ہے اتباعِ رسولِ اکرم ﷺ۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو یا قربِ خداوندی کی آرزو، قرآن حکیم نے اس کے لیے کسی باطنی کیفیت یا مجرد دعوے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ ایک واضح عملی کسوٹی مقرر کر دی۔ چنانچہ سورۃ آلِ عمران میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾

(آلِ عمران: 31)

مفہوم:

“(اے نبی ﷺ!) فرما دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔”

:محبتِ الٰہی کا قرآنی معیار

یہ آیت اپنے مفہوم اور مدعا کے اعتبار سے نہایت انقلابی ہے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے واضح کر دیا کہ اس سے محبت کا محض زبانی یا قلبی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ اس محبت کی صداقت کا عملی ثبوت اتباعِ محمدی ﷺ ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی سیرت، سنت اور منہج ہی وہ آئینہ ہے جس میں بندۂ مومن اپنی محبتِ الٰہی کی سچائی دیکھ سکتا ہے۔

ائمۂ تفسیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو اللہ تعالٰی سے محبت کے دعوے تو کرتے تھے مگر نبی ﷺ کی عملی پیروی سے گریزاں تھے۔ قرآن مجید نے دوٹوک انداز میں بتا دیا کہ جو رسول ﷺ کی اتباع سے منہ موڑے، اس کا دعویٔ محبت محض ایک فریبِ نفس ہے۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور مغفرتِ الٰہی

آیتِ مذکورہ میں اتباعِ رسول ﷺ کے دو عظیم ثمرات بیان کیے گئے ہیں:

اللہ کی محبت

گناہوں کی مغفرت

یہ دونوں نعمتیں ہر مومن کی سب سے بڑی تمنا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف فقہی یا عملی رہنمائی نہیں بلکہ بندے اور رب کے تعلق کی بنیاد ہے۔ جس قدر اتباع مضبوط ہو گی، اسی قدر اللہ تعالٰی کی محبت اور مغفرت کا حصول یقینی ہو گا۔

:بدعت کا مفہوم اور اتباعِ سنت

یہاں بدعت کے مسئلے کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بدعت دراصل دین میں ایسی نئی بات کو شامل کرنا ہے جس کی اصل نہ قرآن میں ہو، نہ سنت میں، اور نہ ہی صحابۂ کرامؓ کے تعامل میں۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا:

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے” (بخاری، مسلم)۔

بدعت کا اصل نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو اتباعِ رسول ﷺ سے ہٹا کر خود ساختہ طریقوں کا اسیر بنا دیتی ہے۔ بظاہر نیکی اور ثواب کے نام پر ایجاد کی جانے والی بدعات درحقیقت سنت کی جگہ لے لیتی ہیں، اور یوں آہستہ آہستہ دین اپنی اصل صورت سے دور ہو جاتا ہے۔

:سنت: دین کا زندہ نمونہ

رسول اللہ ﷺ کی سنت دین کی عملی تشریح ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرت، ہر شعبے میں نبی ﷺ نے ایسا متوازن، فطری اور قابلِ عمل نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ کسی بھی عمل سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ نبی ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا۔

عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داری

آج امتِ مسلمہ کو جن فکری اور عملی گمراہیوں کا سامنا ہے، ان میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے محبتِ رسول ﷺ کو جذباتی نعروں تک محدود کر دیا اور اتباعِ رسول ﷺ کو عملی زندگی سے نکال دیا۔ حالانکہ قرآن کا پیغام بالکل واضح ہے: اتباع کے بغیر محبت معتبر نہیں۔

آیتِ ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ﴾ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دین میں اصل قدر، اخلاص کے ساتھ سنت کی پیروی ہے۔ بدعت خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو، وہ اتباعِ رسول ﷺ کا بدل نہیں بن سکتی۔ امت کی نجات، وحدت اور روحانی احیا اسی میں ہے کہ وہ قرآن و سنت کو اپنا واحد معیار بنائے اور نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنی دینی شناخت قرار دے۔

— جاری ہے

اتباع رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط

 اتباعِ رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اس سلسلۂ مضامین میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ دینِ اسلام کی اصل روح، اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع میں مضمر ہے۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو، فلاحِ دارین کی جستجو ہو یا امت کی اجتماعی نجات، ہر پہلو اسی ایک اصول سے وابستہ ہے۔ اختتامی قسط میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے اتباعِ رسول ﷺ کو کس طرح اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنایا، اور یہ منہج آج امت کے لیے کس طرح ایک زندہ نمونہ بن سکتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ: اتباعِ رسول ﷺ کا عملی پیکر

صحابۂ کرامؓ کی امتیازی شان یہ تھی کہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ سنتِ نبوی ﷺ سے خالی نہ تھا۔ عبادات ہوں یا معاملات، جنگ ہو یا امن، گھریلو زندگی ہو یا ریاستی نظم، ہر موقع پر ان کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا: “رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا؟”

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ معمول معروف ہے کہ وہ سفر کے دوران انہی مقامات پر قیام فرماتے جہاں نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا، خواہ بظاہر اس کی کوئی عقلی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہ طرزِ عمل اس محبت اور اطاعت کی عملی تصویر تھا جسے قرآن نے مطلوب قرار دیا ہے۔

:سنت کی حفاظت اور دین کی بقا

صحابۂ کرامؓ نے نہ صرف خود سنت پر عمل کیا بلکہ اس کی حفاظت اور اشاعت کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے دین میں اضافے اور کمی دونوں سے سخت اجتناب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نئے عمل کا سوال اٹھتا تو وہ  

فوراً کہتے: کہ “کیا یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھا؟

اگر جواب نفی میں ہوتا تو وہ اسے اختیار کرنے سے رک جاتے۔ یہی وہ شعور تھا جس نے بدعت کے دروازے بند رکھے اور دین کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھا۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور اجتماعی نظام

اتباعِ رسول ﷺ کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہ تھا بلکہ اجتماعی اور ریاستی نظم بھی اسی کے تابع تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں عدلِ اجتماعی، شفاف احتساب، بیت المال کا امانت دارانہ استعمال اور قانون کی بالادستی یہ سب سنتِ نبوی ﷺ ہی کا تسلسل تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول تاریخ کا روشن باب ہے:

“اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالٰی عمر سے سوال کرے گا”۔

یہ احساسِ جواب دہی دراصل اتباعِ رسول ﷺ کا ہی ثمر تھا۔

:امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی کمزوری، ان سب کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے سنت کو محض رسمی یا اختلافی مسئلہ بنا دیا ہے، حالانکہ وہ دین کی روح اور زندگی کا عملی نظام ہے۔ صحابۂ کرامؓ کا اسوہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سنت کو جزوی نہیں بلکہ کامل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کیا جائے۔

خلاصۂ کلام

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالٰی کی محبت کا راستہ اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔

سنت سے وابستگی دین کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

صحابۂ کرامؓ کا منہج امت کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔

اگر آج کا مسلمان اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکز بنا لے تو نہ صرف دینی شناخت بحال ہو سکتی ہے بلکہ امت دوبارہ عزت، وحدت اور قیادت کے مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔

یہی قرآن کا مطالبہ ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کا پیغام اور یہی امتِ مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

Wednesday, 14 January 2026

اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال

 پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال. ایک جامع تحقیقی مطالعہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات آزادی کے فوراً بعد سے ہی پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد دونوں نئے پیدا ہونے والے ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ علاقے، سیاست اور شناخت کے معاملات پر اختلافات شروع کر دیے، جنہوں نے گزشتہ 75 سال سے بھی زیادہ عرصے تک امن کو ناقابلِ یقین حد تک خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ سب سے بڑا اور بنیادی تنازع کشمیر کا ہے، جس کو دونوں ملک اپنی خودمختار ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر کی جنگ 1947–48 میں اقوامِ متحدہ کے ثالثی کے بعد ایک عارضی لائن آف کنٹرول (LoC) کی صورت میں منقسم ہوا جو آج تک کشمکش کا محور ہے۔ 

تاریخی پس منظر

1947 کے تقسیم کے بعد تین بڑی جنگیں ہوئیں: 1947–48، 1965، اور 1971۔ 1971 کی جنگ کے بعد سملہ معاہدہ (Simla Agreement) طے پایا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو امن کے ذریعے حل کرنے اور لائن آف کنٹرول کو باوقار قبول کرنے کا عہد کیا۔ � گزشتہ دہائیوں میں بھی کیریگل وار (1999) اور کشیدگی کے متعدد اوقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید متشنج کیا۔

حالیہ کشیدگی (2025–2026)

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملہ میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، جس کے بعد صورت حال شدید خراب ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی (Indus Waters Treaty) معطل کردی، پاکستانی سفارت کاروں کو نکالا، اور بارڈر سخت کردیا۔ � پاکستان نے ان دعووں کی تردید کی اور اپنے اقدامات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف اہداف پر میزائل اور فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ � پاکستان نے بھی جواب میں فضائی اور زمینی جوابی کارروائی کی جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو عمل میں آیا، لیکن دونوں جانب کشیدگی برقرار رہی۔ �

تنازع کے اہم نکات

۱. کشمیر کا مسئلہ:

کشمیر ہمیشہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع رہا ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جس نے نہ صرف بارودی سرحدی فائرنگ بلکہ اندرونی عسکری بغاوتوں کو بھی جنم دیا ہے۔ 

۲. معاہدوں اور اقتصادی کشیدگی:

2025 کے تنازع میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی معطل کی، جس نے پانی کے مشترکہ حقوق پر سوال اُٹھا دیے، جبکہ پاکستان نے تجارت اور دیگر معاہدوں میں تعطل بتایا۔ 

۳. عسکری چالیں:

دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون، اور زمینی فوجی ردعمل کا استعمال کیا جس نے کشیدگی کو بڑھایا اور LoC پر اکثر ڈرون مشاہدات اور سرحدی جھڑپوں کا رجحان دیکھا گیا۔ 

۴. عالمی و علاقائی ردعمل:

بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، نے جنگ بندی میں ثالثی کی کوششیں کیں اور دونوں فریقوں کو پر تشدد کارروائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ 

اقتصادی اور سماجی اثرات

بھارتی معیشت کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ مسلسل کشیدگی بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اشتعال انگیز سیاسی ماحول سرمایہ کاری اور برآمدات کو متاثر کرسکتا ہے۔

 پاکستان کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا، جبکہ دوسری طرف اندرونی منظرنامے میں دفاعی اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

نتیجہ

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ تاریخی جنگوں، کشمیر کے تنازع، پانی اور معاہدوں کی معطلی، اور علاقائی عسکری سرگرمیوں نے امن عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ 2025 کے متنازعہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوئی، مگر بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں اور ان کے دیرپا حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کو ثالثی، اعتماد سازی کے اقدام، اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کا راستہ یقینی بنایا جا سکے۔

ماہ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

 ماہِ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ماہِ رجب اسلامی تقویم کا ایک محترم اور معزز مہینہ ہے جسے قرآنِ کریم نے اشہرِ حُرم میں شامل فرمایا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بالخصوص رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو واقعۂ اسراء و معراج النبی ﷺ سے منسوب کر کے خصوصی تقدس، عبادات اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ اور علمی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قرآن و سنت، آثارِ صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ دین کے نزدیک اس رات کی کوئی خاص شرعی فضیلت ثابت ہے یا یہ بعد کے ادوار میں رائج ہونے والا ایک مذہبی تصور ہے؟

قرآنِ کریم کی روشنی میں

قرآنِ کریم میں واقعۂ اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل (آیت 1) میں نہایت اختصار مگر عظیم شان کے ساتھ آیا ہے:

“سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا…”

لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں نہ تو اس واقعے کی تاریخ، نہ مہینہ اور نہ ہی کسی مخصوص رات کا تعین کیا گیا ہے۔ یہی بات اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن نے اس واقعے کی عقیدتی و ایمانی اہمیت کو بیان کیا، نہ کہ اس کی تقویمی تخصیص کو۔

احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ

احادیثِ صحیحہ میں معراج النبی ﷺ کا تفصیلی ذکر ملتا ہے، خصوصاً صحیح بخاری و مسلم میں، مگر محدثین کا اتفاق ہے کہ کسی صحیح، صریح اور قطعی حدیث میں یہ تصریح موجود نہیں کہ معراج ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آئی۔

امام نوویؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور امام قرطبیؒ جیسے جلیل القدر محدثین نے واضح طور پر لکھا ہے کہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، اور کسی ایک رات کو قطعی طور پر معین کرنا علمی طور پر درست نہیں۔

آثارِ صحابہؓ اور سلف صالحین کا طرزِ عمل

اگر رجب کی ستائیسویں شب واقعی کوئی خاص عبادتی فضیلت رکھتی تو بلا شبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا اہتمام فرماتے۔ مگر تاریخی و حدیثی ذخیرے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں کہ صحابہؓ، تابعین یا تبع تابعین نے اس رات کو مخصوص عبادات، روزے یا جشن کے طور پر منایا ہو۔

امام ابن تیمیہؒ صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:

“معراج کی رات کو مخصوص عبادت کے لیے مقرر کرنا نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہاء کا موقف

ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) میں سے کسی سے بھی رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت یا اس رات کے لیے مخصوص عبادات کا ثبوت نہیں ملتا۔

فقہاء و مجتہدین نے اصولی طور پر یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ عبادات میں اصل توقیف ہے، یعنی جس عبادت کی خاص ہیئت، وقت یا فضیلت نصِ شرعی سے ثابت نہ ہو، اسے دین کا حصہ بنانا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

اصل پیغام اور صحیح طرزِ فکر

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ واقعۂ معراج ایمان، رسالت اور عظمتِ مصطفی ﷺ کا بے مثال مظہر ہے۔ پانچ وقت کی نماز جیسی عظیم نعمت اسی شب عطا ہوئی، جو معراج کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ مگر اس عظیم واقعے کی یاد کو کسی غیر ثابت تاریخ یا مخصوص رسوم کے ساتھ جوڑ دینا، اصل روح سے انحراف کے مترادف ہے۔

نتیجہ

خلاصۂ تحقیق یہ ہے کہ:

معراج النبی ﷺ ایک قطعی اور متفق علیہ واقعہ ہے۔

لیکن ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت قرآن، سنت، آثارِ صحابہؓ اور ائمۂ دین سے ثابت نہیں۔

اس رات کو بطورِ خاص عبادت یا جشن کے طور پر منانا شرعی دلیل سے خالی ہے۔

البتہ معراج کے پیغام، خصوصاً نماز کی پابندی، اطاعتِ رسول ﷺ اور روحانی تربیت کو اپنانا ہی اس واقعے کا حقیقی تقاضا ہے۔

دینِ اسلام جذبات نہیں بلکہ دلائل کا نام ہے، اور امت کی اصلاح اسی میں ہے کہ وہ ثابت شدہ سنت کو اختیار کرے اور غیر ثابت امور میں احتیاط برتے۔