Saturday, 21 February 2026

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

کیا ہم واقعی مطیع ہیں یا صرف مذہبی رسومات کے پابند؟

آج کا مسلمان بظاہر دین سے وابستہ ہے، مگر ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے:

کیا ہماری زندگی واقعی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے؟

ہم عبادات ادا کرتے ہیں، مذہبی ایام مناتے ہیں، مگر کیا ہمارے فیصلے، ہماری ترجیحات، ہمارا معاشی طرزِ عمل اور ہماری سماجی روش بھی قرآن و سنت کے تابع ہے؟

اسلام کوئی جزوی مذہبی نظام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی بنیاد دو اٹل اصولوں پر قائم ہے:

اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت

رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع

قرآن مجید اعلان کرتا ہے:

“اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الاحزاب: 71)

یہاں کامیابی کا معیار نہ دولت ہے، نہ طاقت، نہ شہرت — بلکہ دوہری اطاعت ہے۔

اطاعتِ الٰہی: محض اقرار نہیں، عملی انقلاب

قرآنِ حکیم اہلِ ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو” (النساء: 59)

اطاعت کا مفہوم صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی التزام ہے۔ اس کے تقاضے یہ ہیں کہ:

ہماری انفرادی زندگی اللہ کے احکام کے تابع ہو

ہمارے خاندانی فیصلے شریعت کے مطابق ہوں

ہمارے معاشی معاملات حلال و حرام کے اصولوں پر قائم ہوں

ہمارا سیاسی و سماجی نظام عدل و انصاف پر مبنی ہو

ہمارا ڈیجیٹل رویہ بھی اخلاقی اصولوں کا پابند ہو

آج کے دور میں اطاعتِ الٰہی کا مطلب یہ بھی ہے کہ:

ہم سوشل میڈیا پر کردار کشی سے بچیں

مالی معاملات میں شفافیت اختیار کریں

جھوٹے بیانیے اور فکری انتشار کا حصہ نہ بنیں

نوجوان نسل کو دین اور عقل کے امتزاج سے رہنمائی دیں

اطاعت دراصل ایک ہمہ گیر اخلاقی و فکری انقلاب کا نام ہے۔

اتباعِ رسول ﷺ: سنت ہی عملی معیار ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت سے جدا نہیں کیا۔ ارشاد ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی” (النساء: 80)

یہ اعلان واضح کرتا ہے کہ Muhammad ﷺ کی سنت وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ آپ ﷺ قرآن کے شارح بھی ہیں اور زندہ نمونہ بھی۔

اسی لیے فرمایا گیا:

“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الاحزاب: 21)

اتباعِ رسول ﷺ کا مطلب ہے:

عبادات میں سنت کی پیروی

معاملات میں دیانت

قیادت میں امانت

اختلاف میں تحمل

معاشرت میں رحمت

دعوت میں حکمت

سیرتِ نبوی ﷺ دراصل ایک مکمل سماجی ماڈل ہے جس میں روحانیت، عدل، اخلاق اور حکمت یکجا نظر آتے ہیں۔

سنت سے دوری: فکری اور تہذیبی بحران

حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے:

“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں”

یہ روایت صحیح بخاری میں مذکور ہے اور اس میں ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے:

قرآن کا دعویٰ اور سنت سے بے نیازی دراصل ایک فکری تضاد ہے۔

تاریخی طور پر جب امت نے سنت کو نظر انداز کیا تو:

فکری انتشار بڑھا

فرقہ واریت نے جنم لیا

اخلاقی معیار کمزور ہوئے

اجتماعی وحدت متاثر ہوئی

آج بھی یہی منظرنامہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

اطاعت و اتباع: زندگی کے ہر شعبے میں

اسلام عبادات تک محدود نہیں۔ یہ مکمل تہذیبی نظام ہے:

شعبہ

قرآنی و نبوی معیار

سیاست

عدل و امانت

معیشت

دیانت و شفافیت

معاشرت

حیا و احترام

تعلیم

علم و حکمت

اختلاف

برداشت و مکالمہ

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”

یہ اعلان دراصل امت کے لیے دائمی فکری چارٹر ہے۔

عصرِ حاضر کا چیلنج: تہذیبی یلغار اور شناختی بحران

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں:

نظریاتی الجھنیں عام ہیں

سوشل میڈیا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے

مادّی ترقی کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے

نوجوان شناختی بحران کا شکار ہیں

ایسے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع محض مذہبی شعار نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی شرط ہے۔

اگر فرد اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کو معیار بنا لے تو:

عدلِ اجتماعی قائم ہو سکتا ہے

کرپشن کم ہو سکتی ہے

خاندانی نظام مضبوط ہو سکتا ہے

فکری وحدت پیدا ہو سکتی ہے

روحانی استحکام میسر آ سکتا ہے

عملی اقدامات: ہم کیا کریں؟

روزانہ قرآنِ حکیم کا مطالعہ مع فہم

سنتِ نبوی ﷺ کے کسی ایک پہلو کو عملاً اختیار کرنا

اپنے معاشی معاملات کا جائزہ لینا

سوشل میڈیا پر اخلاقی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا

نوجوان نسل کو دلیل اور محبت سے دین سمجھانا

اصلاح ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے، پھر معاشرہ بدلتا ہے۔

نتیجہ: کامیابی کا حقیقی معیار

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم:

اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں

نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم کو عملی معیار بنائیں

دین کو جزوی نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات کے طور پر اختیار کریں

اسی میں ہماری عزت، بقا اور کامیابی مضمر ہے۔

قارئین کے لیے سوال

کیا ہم اپنی زندگی کے کسی ایک شعبے کا سنجیدہ جائزہ لے کر آج سے اطاعت و اتباع کی طرف ایک عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

The meaning of following the Prophet (peace be upon him) and innovation

 The meaning of following the Prophet (peace be upon him) and innovation


In the light of the verse of divine love


Written by: Dr. Abu Ahmed Ghulam Mustafa Al-Rai, Karachi


Introduction: A claim of love or practical proof?


In Islam, love for Allah is not just an emotional state or a spiritual claim, but a practical commitment. The Holy Quran has set a clear and definite standard for this love. Thus, in Surah Al-Imran of the Holy Quran it is stated:


Say, [O Muhammad], "If you should love Allah, then follow me, [so] Allah will love you and forgive you your sins."


(Aal-e-Imran: 31)


Meaning:


“(O Prophet!) Say: If you love Allah, then follow me, Allah will love you and forgive you your sins.”


This verse is actually a criterion for testing the claim of faith against the criterion of action. The path to the love of Allah passes only through following the Messenger (ﷺ).


The Quranic Standard of Divine Love


This verse is revolutionary in both its style and message. In it, Allah Almighty clearly states:


Claiming divine love is not enough.


Emotional attachment is not enough


Mere recitation of Naat or enthusiasm for speech is not enough.


Rather, practical adherence is the real standard.


The biography, Sunnah and Mannaj of the Prophet (peace be upon him) are the mirror in which a believer can see the truth of his love. If life's decisions, acts of worship, affairs, socializing and morals are all subject to the Sunnah, then this is true love.


Following the Prophet (peace be upon him): The path to forgiveness and closeness to God


The above verse describes two great fruits of obedience:


Allah's love


Forgiveness of sins


These two blessings are the greatest desire of every believer. This shows that the Sunnah of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) is not merely jurisprudential guidance but is the foundation of the relationship between the servant and his Lord.


The stronger the adherence:


Spirituality will increase.


There will be sincerity in actions.


There will be peace in the heart.


And there will be moderation in society.


What is Bid'ah? A Scientific and Balanced Understanding


The issue of “innovation” is very important in the chapter on following the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). Innovation refers to the addition of something new to the religion, such as:


Which has no origin in the Quran


It is not in the Sunnah of the Prophet (ﷺ).


And do not interact with the Companions.


The Messenger of Allah (ﷺ) said:


“Whoever innovates something in this religion of ours that is not part of it, it is rejected.”


(Bukhari, Muslim)


This hadith teaches us caution and seriousness in religion. Religion is not a field of human experimentation but a trust of revelation.


The intellectual and spiritual harm of heresy


The biggest harm of innovation is that:


This replaces the Sunnah.


The true spirit of religion is obscured.


And gradually it leads the Ummah away from the true path.


Often innovations are invented in the name of goodness and reward, but when an action is not based on revelation, it is not considered worship but rather an addition.


The real beauty in religion lies in "following", not in "invention".


Sunnah: A living and balanced model of religion


The Sunnah of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) is not just a collection of historical events, but a complete system of practical life:


Balance in worship


Moderation in society


Justice in matters


Softness in morals


Wisdom in leadership


The practice of the Companions was to first look at what the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) had to say or do in every issue. This approach is the guarantee of the unity and security of the Ummah.


The need for obedience in the modern era


One of the major reasons for the intellectual chaos, sectarianism, and spiritual weakness that the Muslim Ummah is suffering from today is that:


Love for the Prophet (peace be upon him) was reduced to emotional slogans.


While practical implementation was ignored


In the age of social media, new trends and unauthentic ideas spread rapidly in the name of religion. In such an environment, the verse of love reminds us that:


The only real standards are the Quran and Sunnah.


Some practical guidelines in a modern context


1️⃣ Research into worship


Try to perform every act of worship according to the Sunnah.


2️⃣ Moderation in religion


Both extremism and undue leniency are against the Sunnah.


3️⃣ Acquiring authentic knowledge


Seek guidance from authoritative scholars and reliable sources.


4️⃣ More reason than emotion


Religion is not about emotional attachment, but about following revelation.


Summary


The verse of the verse of Allah is this:


The standard of love is obedience.


The path to salvation is Sunnah.


The source of forgiveness is following Muhammad (peace be upon him).


And the reformation of the Ummah lies in returning to the Quran and Sunnah.


No matter how beautiful an innovation may be, it cannot replace following the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). True spiritual awakening is possible only when we subordinate our individual and collective lives to the Sunnah of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).


Closing message


If we want to:


May Allah love us.


Forgive us our sins.


And our society is on the path of reform.


So we

 have to mold our love into obedience. This is the message of the verse of love, this is the true spirit of religion, and this is the sure path to success.


اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم

 اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم

آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

تمہید: محبت کا دعویٰ یا عملی ثبوت؟

دینِ اسلام میں اللہ تعالیٰ سے محبت محض ایک جذباتی کیفیت یا روحانی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عملی عہد ہے۔ قرآنِ حکیم نے اس محبت کے لیے ایک واضح اور قطعی معیار مقرر کر دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی سورۃ آلِ عمران میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾

(آلِ عمران: 31)

مفہوم:

“(اے نبی ﷺ!) فرما دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔”

یہ آیت دراصل ایمان کے دعوے کو عمل کی کسوٹی پر پرکھنے کا معیار ہے۔ اللہ کی محبت کا راستہ صرف اور صرف اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔

محبتِ الٰہی کا قرآنی معیار

یہ آیت اپنے اسلوب اور پیغام دونوں اعتبار سے انقلابی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ:

محبتِ الٰہی کا دعویٰ کافی نہیں

جذباتی وابستگی کافی نہیں

صرف نعت خوانی یا تقریری جوش کافی نہیں

بلکہ عملی اتباع ہی اصل معیار ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت، سنت اور منہج وہ آئینہ ہے جس میں ایک مومن اپنی محبت کی صداقت دیکھ سکتا ہے۔ اگر زندگی کے فیصلے، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سب سنت کے تابع ہوں تو یہی سچی محبت ہے۔

اتباعِ رسول ﷺ: مغفرت اور قربِ الٰہی کا راستہ

آیتِ مذکورہ میں اتباع کے دو عظیم ثمرات بیان کیے گئے ہیں:

اللہ کی محبت

گناہوں کی مغفرت

یہ دونوں نعمتیں ہر صاحبِ ایمان کی سب سے بڑی تمنا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ نبوی ﷺ محض فقہی رہنمائی نہیں بلکہ بندے اور رب کے تعلق کی بنیاد ہے۔

جس قدر اتباع مضبوط ہو گی:

روحانیت میں اضافہ ہو گا

اعمال میں اخلاص آئے گا

دل میں سکون پیدا ہو گا

اور معاشرے میں اعتدال قائم ہو گا

بدعت کیا ہے؟ ایک علمی و متوازن فہم

اتباعِ رسول ﷺ کے باب میں “بدعت” کا مسئلہ نہایت اہم ہے۔ بدعت سے مراد دین میں ایسی نئی بات کا اضافہ ہے:

جس کی اصل قرآن میں نہ ہو

سنتِ نبوی ﷺ میں نہ ہو

اور صحابۂ کرامؓ کے تعامل میں نہ ہو

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔”

(بخاری، مسلم)

یہ حدیث ہمیں دین میں احتیاط اور سنجیدگی کا درس دیتی ہے۔ دین انسانی تجربات کا میدان نہیں بلکہ وحی کی امانت ہے۔

بدعت کا فکری و روحانی نقصان

بدعت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ:

یہ سنت کی جگہ لے لیتی ہے

دین کی اصل روح دھندلا دیتی ہے

اور رفتہ رفتہ امت کو اصل منہج سے دور کر دیتی ہے

اکثر بدعات نیکی اور ثواب کے نام پر ایجاد ہوتی ہیں، مگر جب کسی عمل کی بنیاد وحی نہ ہو تو وہ عبادت نہیں بلکہ اضافہ شمار ہوتا ہے۔

دین میں اصل حسن “اتباع” میں ہے، نہ کہ “اختراع” میں۔

سنت: دین کا زندہ اور متوازن نمونہ

رسول اللہ ﷺ کی سنت محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ عملی زندگی کا مکمل نظام ہے:

عبادات میں توازن

معاشرت میں اعتدال

معاملات میں انصاف

اخلاق میں نرمی

قیادت میں حکمت

صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل یہی تھا کہ وہ ہر مسئلے میں پہلے یہ دیکھتے کہ نبی ﷺ کا اس بارے میں کیا ارشاد یا عمل ہے۔ یہی طریقہ امت کی وحدت اور سلامتی کا ضامن ہے۔

عصرِ حاضر میں اتباع کی ضرورت

آج امتِ مسلمہ جن فکری انتشار، فرقہ واریت اور روحانی کمزوریوں کا شکار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ:

محبتِ رسول ﷺ کو جذباتی نعروں تک محدود کر دیا گیا

جبکہ عملی اتباع کو نظر انداز کر دیا گیا

سوشل میڈیا کے دور میں دین کے نام پر نت نئے رجحانات اور غیر مستند افکار تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایسے ماحول میں آیتِ محبت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:

اصل معیار صرف قرآن و سنت ہیں۔

جدید تناظر میں چند عملی رہنما اصول

1️⃣ عبادات میں تحقیق

ہر عبادت کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کریں۔

2️⃣ دین میں اعتدال

شدت پسندی اور بے جا نرمی دونوں سنت کے خلاف ہیں۔

3️⃣ علمِ مستند کا حصول

مستند علماء اور معتبر مصادر سے رہنمائی لیں۔

4️⃣ جذبات سے زیادہ دلیل

دین جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ وحی کی پیروی کا نام ہے۔

خلاصۂ کلام

آیتِ ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ﴾ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

محبت کا معیار اتباع ہے

نجات کا راستہ سنت ہے

مغفرت کا ذریعہ پیرویِ محمدی ﷺ ہے

اور امت کی اصلاح قرآن و سنت کی طرف رجوع میں ہے

بدعت خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو، وہ اتباعِ رسول ﷺ کا بدل نہیں بن سکتی۔ حقیقی روحانی بیداری اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے تابع کر دیں۔

اختتامی پیغام

اگر ہم چاہتے ہیں کہ:

اللہ ہم سے محبت کریں

ہمارے گناہ معاف ہوں

اور ہمارا معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن ہو

تو ہمیں اپنی محبت کو اتباع میں ڈھالنا ہو گا۔ یہی آیتِ محبت کا پیغام ہے، یہی دین کی اصل روح ہے، اور یہی کامیابی کا یقینی راستہ ہے۔


The duties of Islamic scholars and the danger of evil scholars

  The duties of Islamic scholars and the danger of evil scholars


Dr. Abu Ahmed Ghulam Mustafa Al-Rai, Karachi


Allah Almighty says:


"Only those who have knowledge fear Allah."


(Surah Fatir, verse 28)


This verse makes it clear that the fruit of true knowledge is fear of God and piety, not mere degrees or certificates. Those who do not fear God are not truly learned, no matter how skilled they are in worldly learning.


The real responsibility of scholars


Practical adherence to the Quran and Sunnah:


It is the duty of scholars to understand and practice the true message of the Quran and Sunnah, and to convey its teachings to others.


Keeping the Muslim Ummah united:


It is the official duty of scholars to protect the Ummah from sectarianism, hatred, and group prejudice.


Teaching Islamic principles:


To promote social reform, justice and fairness, education and training, instilling the rights of Allah and the rights of His servants, and guiding practical acts of worship (prayer, zakat, etc.).


Modern science and education facilities:


Providing Muslims with opportunities in modern sciences, engineering, health, and research so that the Muslim Ummah can become strong, prosperous, and developed.


The danger of scholars being evil


Bad scholars are those who spread sectarianism, hatred, and false ideologies, and prioritize their personal or group interests over religion.


Instead of teaching the Quran and Sunnah, they spread the ideologies of their sect.


They divide Muslims and engage in spreading religious hatred.


Without true knowledge and piety, they only desire material or personal power.


A true scholar is one who uses his knowledge to reform, unite, and serve the community, not to spread chaos and sectarianism.


Unity of the Muslim Ummah


Allah Almighty sent Islam as a complete religion, in which the Quran and Sunnah have primacy and authority. It is not right to give priority to the opinion of any sect or person over religion.


Every Muslim should recognize his religion only as a Muslim.


It is essential to follow the Quran, Sunnah, and the good example of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), while avoiding sectarian prejudice.


Conclusion:


True scholars lead the Ummah on the path of unity, peace, reform, and progress in accordance with the Quran and Sunnah, while evil scholars spread discord and hatred. The strength and prosperity of the Muslim Ummah is possible only through this path.

علماءِ اسلام کے فرائض اور علماء سوء کا خطرہ

 علماءِ اسلام کے فرائض اور علماء سوء کا خطرہ

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں"

(سورۃ فاطر، آیت 28)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علم حقیقی کا ثمرہ خوفِ الٰہی اور تقویٰ ہے، نہ کہ محض ڈگریاں یا سندیں۔ وہ لوگ جو اللہ سے نہیں ڈرتے، وہ حقیقی عالم نہیں، چاہے دنیاوی تعلیم میں کتنے بھی ماہر ہوں۔

علماء کی اصل ذمہ داری

قرآن و سنت کی عملی پیروی:

علماء کا فرض ہے کہ وہ قرآن و سنت کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور عمل کریں، اور اسی کی تعلیم دوسروں تک پہنچائیں۔

امت مسلمہ کو متحد رکھنا:

فرقہ واریت، منافرت اور گروہی تعصب سے امت کو بچانا علماء کا منصبی فریضہ ہے۔

اسلامی اصولوں کی تعلیم:

معاشرتی اصلاح، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت، حقوق اللہ و حقوق العباد کی تلقین، اور عملی عبادات (نماز، زکوة وغیرہ) کی رہنمائی کرنا۔

عصری علوم و تربیت کی سہولیات:

مسلمانوں کو جدید سائنسز، انجینئرنگ، ہیلتھ اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنا تاکہ امت مسلمہ مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ بن سکے۔

علماء سوء کا خطرہ

علماء سوء وہ ہیں جو فرقہ واریت، منافرت اور جھوٹے نظریات پھیلاتے ہیں، اور اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو دین پر ترجیح دیتے ہیں۔

قرآن و سنت کی تعلیم کی بجائے اپنے فرقے کے نظریات کو عام کرتے ہیں۔

مسلمانوں کو تقسیم کرتے اور مذہبی دشمنی پھیلانے میں ملوث ہوتے ہیں۔

حقیقی علم اور تقویٰ کے بغیر صرف مادی یا ذاتی اقتدار کے خواہاں رہتے ہیں۔

حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے علم کے ذریعے امت کی اصلاح، اتحاد اور خدمت کرے، نہ کہ انتشار اور فرقہ واریت پھیلائے۔

امت مسلمہ کی وحدت

اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مکمل دین کے طور پر بھیجا، جس میں قرآن و سنت ہی اولیّت اور حجیت رکھتے ہیں۔ کسی فرقے یا شخص کی رائے کو دین پر فوقیت دینا درست نہیں۔

ہر مسلمان کو صرف مسلم کی حیثیت سے اپنا دین پہچاننا چاہیے۔

فرقوں کی تعصب سے پرہیز کرتے ہوئے، قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی اسوۃ حسنہ پر عمل و اتباع ضروری ہے۔

نتیجہ:

حقیقی علماء امت کو قرآن و سنت کے مطابق اتحاد، امن، اصلاح اور ترقی کی راہوں پر لے جاتے ہیں، جبکہ علماء سوء انتشار اور منافرت پھیلاتے ہیں۔ امت مسلمہ کی مضبوطی اور فلاح اسی راستے سے ممکن ہے۔

Thursday, 15 January 2026

اتباع رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط

 اتباعِ رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور عملی نمونۂ امت ۔ایک جامع اختتامی مطالعہ ۔ آخری قسط۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اس سلسلۂ مضامین میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ دینِ اسلام کی اصل روح، اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع میں مضمر ہے۔ محبتِ الٰہی کا دعویٰ ہو، فلاحِ دارین کی جستجو ہو یا امت کی اجتماعی نجات، ہر پہلو اسی ایک اصول سے وابستہ ہے۔ اختتامی قسط میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے اتباعِ رسول ﷺ کو کس طرح اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنایا، اور یہ منہج آج امت کے لیے کس طرح ایک زندہ نمونہ بن سکتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ: اتباعِ رسول ﷺ کا عملی پیکر

صحابۂ کرامؓ کی امتیازی شان یہ تھی کہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ سنتِ نبوی ﷺ سے خالی نہ تھا۔ عبادات ہوں یا معاملات، جنگ ہو یا امن، گھریلو زندگی ہو یا ریاستی نظم، ہر موقع پر ان کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا: “رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا یا کیا کیا؟”

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ معمول معروف ہے کہ وہ سفر کے دوران انہی مقامات پر قیام فرماتے جہاں نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا، خواہ بظاہر اس کی کوئی عقلی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہ طرزِ عمل اس محبت اور اطاعت کی عملی تصویر تھا جسے قرآن نے مطلوب قرار دیا ہے۔

:سنت کی حفاظت اور دین کی بقا

صحابۂ کرامؓ نے نہ صرف خود سنت پر عمل کیا بلکہ اس کی حفاظت اور اشاعت کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے دین میں اضافے اور کمی دونوں سے سخت اجتناب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نئے عمل کا سوال اٹھتا تو وہ  

فوراً کہتے: کہ “کیا یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھا؟

اگر جواب نفی میں ہوتا تو وہ اسے اختیار کرنے سے رک جاتے۔ یہی وہ شعور تھا جس نے بدعت کے دروازے بند رکھے اور دین کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھا۔

:اتباعِ رسول ﷺ اور اجتماعی نظام

اتباعِ رسول ﷺ کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہ تھا بلکہ اجتماعی اور ریاستی نظم بھی اسی کے تابع تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں عدلِ اجتماعی، شفاف احتساب، بیت المال کا امانت دارانہ استعمال اور قانون کی بالادستی یہ سب سنتِ نبوی ﷺ ہی کا تسلسل تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول تاریخ کا روشن باب ہے:

“اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالٰی عمر سے سوال کرے گا”۔

یہ احساسِ جواب دہی دراصل اتباعِ رسول ﷺ کا ہی ثمر تھا۔

:امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی کمزوری، ان سب کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے سنت کو محض رسمی یا اختلافی مسئلہ بنا دیا ہے، حالانکہ وہ دین کی روح اور زندگی کا عملی نظام ہے۔ صحابۂ کرامؓ کا اسوہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سنت کو جزوی نہیں بلکہ کامل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کیا جائے۔

خلاصۂ کلام

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالٰی کی محبت کا راستہ اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔

سنت سے وابستگی دین کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

صحابۂ کرامؓ کا منہج امت کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔

اگر آج کا مسلمان اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکز بنا لے تو نہ صرف دینی شناخت بحال ہو سکتی ہے بلکہ امت دوبارہ عزت، وحدت اور قیادت کے مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔

یہی قرآن کا مطالبہ ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کا پیغام اور یہی امتِ مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

Wednesday, 14 January 2026

اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال

 پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات اور حالیہ کشیدہ صورتحال. ایک جامع تحقیقی مطالعہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات آزادی کے فوراً بعد سے ہی پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد دونوں نئے پیدا ہونے والے ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ علاقے، سیاست اور شناخت کے معاملات پر اختلافات شروع کر دیے، جنہوں نے گزشتہ 75 سال سے بھی زیادہ عرصے تک امن کو ناقابلِ یقین حد تک خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ سب سے بڑا اور بنیادی تنازع کشمیر کا ہے، جس کو دونوں ملک اپنی خودمختار ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر کی جنگ 1947–48 میں اقوامِ متحدہ کے ثالثی کے بعد ایک عارضی لائن آف کنٹرول (LoC) کی صورت میں منقسم ہوا جو آج تک کشمکش کا محور ہے۔ 

تاریخی پس منظر

1947 کے تقسیم کے بعد تین بڑی جنگیں ہوئیں: 1947–48، 1965، اور 1971۔ 1971 کی جنگ کے بعد سملہ معاہدہ (Simla Agreement) طے پایا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو امن کے ذریعے حل کرنے اور لائن آف کنٹرول کو باوقار قبول کرنے کا عہد کیا۔ � گزشتہ دہائیوں میں بھی کیریگل وار (1999) اور کشیدگی کے متعدد اوقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید متشنج کیا۔

حالیہ کشیدگی (2025–2026)

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملہ میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، جس کے بعد صورت حال شدید خراب ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی (Indus Waters Treaty) معطل کردی، پاکستانی سفارت کاروں کو نکالا، اور بارڈر سخت کردیا۔ � پاکستان نے ان دعووں کی تردید کی اور اپنے اقدامات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف اہداف پر میزائل اور فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ � پاکستان نے بھی جواب میں فضائی اور زمینی جوابی کارروائی کی جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو عمل میں آیا، لیکن دونوں جانب کشیدگی برقرار رہی۔ �

تنازع کے اہم نکات

۱. کشمیر کا مسئلہ:

کشمیر ہمیشہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع رہا ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جس نے نہ صرف بارودی سرحدی فائرنگ بلکہ اندرونی عسکری بغاوتوں کو بھی جنم دیا ہے۔ 

۲. معاہدوں اور اقتصادی کشیدگی:

2025 کے تنازع میں بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی معطل کی، جس نے پانی کے مشترکہ حقوق پر سوال اُٹھا دیے، جبکہ پاکستان نے تجارت اور دیگر معاہدوں میں تعطل بتایا۔ 

۳. عسکری چالیں:

دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون، اور زمینی فوجی ردعمل کا استعمال کیا جس نے کشیدگی کو بڑھایا اور LoC پر اکثر ڈرون مشاہدات اور سرحدی جھڑپوں کا رجحان دیکھا گیا۔ 

۴. عالمی و علاقائی ردعمل:

بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، نے جنگ بندی میں ثالثی کی کوششیں کیں اور دونوں فریقوں کو پر تشدد کارروائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ 

اقتصادی اور سماجی اثرات

بھارتی معیشت کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ مسلسل کشیدگی بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اشتعال انگیز سیاسی ماحول سرمایہ کاری اور برآمدات کو متاثر کرسکتا ہے۔

 پاکستان کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا، جبکہ دوسری طرف اندرونی منظرنامے میں دفاعی اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

نتیجہ

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ تاریخی جنگوں، کشمیر کے تنازع، پانی اور معاہدوں کی معطلی، اور علاقائی عسکری سرگرمیوں نے امن عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ 2025 کے متنازعہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوئی، مگر بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں اور ان کے دیرپا حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کو ثالثی، اعتماد سازی کے اقدام، اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کا راستہ یقینی بنایا جا سکے۔