Wednesday, 14 January 2026

ماہ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

 ماہِ رجب کی ستائیسویں شب اور واقعۂ معراج: تحقیقی و شرعی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ماہِ رجب اسلامی تقویم کا ایک محترم اور معزز مہینہ ہے جسے قرآنِ کریم نے اشہرِ حُرم میں شامل فرمایا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بالخصوص رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو واقعۂ اسراء و معراج النبی ﷺ سے منسوب کر کے خصوصی تقدس، عبادات اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ اور علمی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قرآن و سنت، آثارِ صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ دین کے نزدیک اس رات کی کوئی خاص شرعی فضیلت ثابت ہے یا یہ بعد کے ادوار میں رائج ہونے والا ایک مذہبی تصور ہے؟

قرآنِ کریم کی روشنی میں

قرآنِ کریم میں واقعۂ اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل (آیت 1) میں نہایت اختصار مگر عظیم شان کے ساتھ آیا ہے:

“سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا…”

لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں نہ تو اس واقعے کی تاریخ، نہ مہینہ اور نہ ہی کسی مخصوص رات کا تعین کیا گیا ہے۔ یہی بات اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن نے اس واقعے کی عقیدتی و ایمانی اہمیت کو بیان کیا، نہ کہ اس کی تقویمی تخصیص کو۔

احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ

احادیثِ صحیحہ میں معراج النبی ﷺ کا تفصیلی ذکر ملتا ہے، خصوصاً صحیح بخاری و مسلم میں، مگر محدثین کا اتفاق ہے کہ کسی صحیح، صریح اور قطعی حدیث میں یہ تصریح موجود نہیں کہ معراج ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آئی۔

امام نوویؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور امام قرطبیؒ جیسے جلیل القدر محدثین نے واضح طور پر لکھا ہے کہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، اور کسی ایک رات کو قطعی طور پر معین کرنا علمی طور پر درست نہیں۔

آثارِ صحابہؓ اور سلف صالحین کا طرزِ عمل

اگر رجب کی ستائیسویں شب واقعی کوئی خاص عبادتی فضیلت رکھتی تو بلا شبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا اہتمام فرماتے۔ مگر تاریخی و حدیثی ذخیرے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں کہ صحابہؓ، تابعین یا تبع تابعین نے اس رات کو مخصوص عبادات، روزے یا جشن کے طور پر منایا ہو۔

امام ابن تیمیہؒ صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:

“معراج کی رات کو مخصوص عبادت کے لیے مقرر کرنا نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہاء کا موقف

ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) میں سے کسی سے بھی رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت یا اس رات کے لیے مخصوص عبادات کا ثبوت نہیں ملتا۔

فقہاء و مجتہدین نے اصولی طور پر یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ عبادات میں اصل توقیف ہے، یعنی جس عبادت کی خاص ہیئت، وقت یا فضیلت نصِ شرعی سے ثابت نہ ہو، اسے دین کا حصہ بنانا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

اصل پیغام اور صحیح طرزِ فکر

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ واقعۂ معراج ایمان، رسالت اور عظمتِ مصطفی ﷺ کا بے مثال مظہر ہے۔ پانچ وقت کی نماز جیسی عظیم نعمت اسی شب عطا ہوئی، جو معراج کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ مگر اس عظیم واقعے کی یاد کو کسی غیر ثابت تاریخ یا مخصوص رسوم کے ساتھ جوڑ دینا، اصل روح سے انحراف کے مترادف ہے۔

نتیجہ

خلاصۂ تحقیق یہ ہے کہ:

معراج النبی ﷺ ایک قطعی اور متفق علیہ واقعہ ہے۔

لیکن ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کی خصوصی فضیلت قرآن، سنت، آثارِ صحابہؓ اور ائمۂ دین سے ثابت نہیں۔

اس رات کو بطورِ خاص عبادت یا جشن کے طور پر منانا شرعی دلیل سے خالی ہے۔

البتہ معراج کے پیغام، خصوصاً نماز کی پابندی، اطاعتِ رسول ﷺ اور روحانی تربیت کو اپنانا ہی اس واقعے کا حقیقی تقاضا ہے۔

دینِ اسلام جذبات نہیں بلکہ دلائل کا نام ہے، اور امت کی اصلاح اسی میں ہے کہ وہ ثابت شدہ سنت کو اختیار کرے اور غیر ثابت امور میں احتیاط برتے۔

قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں

 قسط اوّل: سود اور تجارت، قرآنی، نبوی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

اسلامی معاشی نظام کی بنیاد عدل، توازن اور انسانی فلاح پر قائم ہے۔ قرآن و سنت نے جن معاشی اصولوں کو قطعی اور غیر متبدل قرار دیا ہے، ان میں سب سے نمایاں سود کی حرمت اور تجارت کی حلت ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں سود کو مختلف ناموں سے تجارت کے ہم معنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام نے ان دونوں کے درمیان واضح، قطعی اور فیصلہ کن حدِ فاصل قائم کی ہے۔

قرآنِ مجید اس فرق کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے:

“وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا” (البقرہ: 275)

یعنی اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلی عرب سود کو بھی تجارت ہی کی ایک شکل سمجھتے تھے، جسے قرآن نے دو ٹوک انداز میں رد کر دیا۔ یہ آیت بذاتِ خود سود اور تجارت کے فرق کا حتمی معیار ہے۔

سود دراصل وہ طے شدہ اضافہ ہے جو قرض پر وقت کے عوض لیا جائے، چاہے مقروض کو نفع ہو یا نقصان۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کسی کو ایک لاکھ روپے قرض دے اور شرط رکھے کہ چھ ماہ بعد ایک لاکھ بیس ہزار واپس کرے گا تو یہ اضافہ سود ہے، کیونکہ نفع پہلے سے متعین اور یقینی ہے، جبکہ نقصان کا پورا بوجھ ایک ہی فریق پر پڑتا ہے۔ اس میں نہ حقیقی تجارت شامل ہے اور نہ محنت یا خطرہ۔

اس کے برعکس تجارت وہ معاشی عمل ہے جس میں سرمایہ بھی لگتا ہے، محنت بھی ہوتی ہے اور نفع و نقصان دونوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ اگر دو افراد مل کر کاروبار کریں اور نفع ہو تو دونوں شریک ہوں، اور نقصان ہو تو دونوں متاثر ہوں، تو یہی بیع و تجارت ہے جو شریعت میں حلال ہے۔

صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ نے اس فرق کو نہایت وضاحت سے بیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے:

“ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، وہ ربا ہے۔”

حضرت عمر بن خطابؓ سود کے شبہ سے بھی اجتناب فرماتے اور کہتے تھے کہ ربا کے کئی دروازے ہیں، ان سے بچنا ہی نجات ہے۔ تابعین میں حضرت حسن بصریؒ نے نہایت جامع اصول بیان فرمایا:

“تجارت وہ ہے جس میں خطرہ ہو، اور سود وہ ہے جس میں ضمانت ہو۔”

ائمۂ اربعہ اور فقہائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قرض کا مقصد احسان ہے، نفع نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرض پر ہر مشروط اضافہ سودِ صریح ہے، جبکہ تجارت میں نفع کا تعلق خطرے سے ہے۔ امام مالکؒ کے مطابق وہ نفع جو ضمانت کے ساتھ ہو، چاہے محنت بھی کی گئی ہو، سود کے دائرے میں آتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ نفع کی شرط قرض کو حرام بنا دیتی ہے، اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک جس معاملے میں نفع یقینی اور نقصان کا کوئی امکان نہ ہو، وہ ربا ہے۔

یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو اسلامی معیشت کو سودی نظام سے ممتاز کرتے ہیں اور ایک عادلانہ معاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

سود اور تجارت: شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل

قسط دوم: عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔

دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔

ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔

سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔

اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

قسط دوم۔ دوم۔ سود اور تجارت

 *قسط دوم۔ سود اور تجارت:

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

 شبہات، معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل، عصری تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ

گزشتہ قسط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق کو قرآن، سنت اور فقہائے امت کی روشنی میں واضح کیا گیا تھا۔ اس قسط میں ان شبہات اور مغالطات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو آج کے دور میں سود کو جائز یا تجارت کے مترادف ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، نیز اس کے معاشرتی اثرات اور اسلامی متبادل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سب سے عام مغالطہ یہ ہے کہ بینک کا سود قدیم سود سے مختلف ہے۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ احکام کا مدار ناموں پر نہیں بلکہ حقائق پر ہوتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں قرض دیا جائے اور اس پر مشروط، متعین اور یقینی اضافہ وصول کیا جائے تو وہ ہر حال میں سود ہے، چاہے اسے مارک اپ، پرافٹ یا سروس چارج ہی کیوں نہ کہا جائے۔

دوسرا شبہ مہنگائی (Inflation) کو بنیاد بنا کر سود کے جواز کا ہے۔ فقہاء کے نزدیک قرض ایک احسانی معاملہ ہے جس میں اصل رقم کی واپسی لازم ہے، نفع نہیں۔ اگر مہنگائی کو نفع کا جواز مان لیا جائے تو سود کی حرمت کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر دور میں کسی نہ کسی درجے کی مہنگائی موجود رہی ہے۔

ایک اور مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سود بھی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے یہ ظلم نہیں۔ قرآنِ مجید اس دلیل کو خود نقل کر کے رد کرتا ہے کہ “وہ کہتے ہیں تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے”۔ شریعت کے نزدیک ہر رضامندی معتبر نہیں، خاص طور پر جب وہ مجبوری اور کمزوری کے نتیجے میں ہو۔

سودی نظام کے معاشرتی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے اور انسانی ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے برعکس تجارت دولت کی گردش، روزگار کے مواقع اور معاشی توازن کو فروغ دیتی ہے۔

اسلام نے سود کے مقابلے میں مشارکت، مضاربت، بیع، سلم اور اجارہ جیسے عملی اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع بغیر خطرے کے جائز نہیں۔ اسلامی بینکاری اسی نظریے پر قائم ہے، اگرچہ عملی سطح پر اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

آخر میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ سود محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، مستحکم اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سودی نظام سے نجات اور حلال تجارت کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی، کیونکہ یہی اسلامی معیشت کی روح اور انسانیت کے لیے اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

قسط سوم۔ سود کے خلاف اسلام کا تہذیبی و معاشی اعلانِ جنگ

 قسط سوم: سود کے خلاف اسلام کا تہذیبی و معاشی اعلانِ جنگ

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت کے فرق کو اصولی اور فقہی سطح پر سمجھ لینے کے بعد اب ناگزیر ہے کہ سود کے بارے میں قرآنِ مجید کی سخت وعیدات، اس کے معاشرتی و اخلاقی اثرات، اور پھر اسلام کی طرف سے پیش کردہ عملی معاشی متبادل کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے۔ یہ پہلو اس بحث کو محض فقہی نہیں بلکہ تہذیبی، اخلاقی اور تمدنی سطح پر واضح کرتا ہے۔

قرآنِ مجید میں سود وہ واحد معاشی جرم ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے صریح اعلانِ جنگ فرمایا:

“فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ” (البقرہ: 279)

یہ وعید اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ سود صرف ایک انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایسا اجتماعی جرم ہے جو پورے معاشرتی نظام کو برباد کر دیتا ہے۔ کسی اور مالی یا معاشی معاملے پر ایسی سخت وعید قرآن میں نہیں ملتی۔

نبی کریم ﷺ نے سود لینے، دینے، لکھنے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سود ایک ہمہ گیر برائی ہے، جس میں شریک ہونے والا ہر فرد گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ایک حدیث میں سود کے گناہ کو اتنا شدید قرار دیا گیا کہ اس کے ہلکے ترین درجے کو بھی بدترین اخلاقی جرم سے تشبیہ دی گئی۔ یہ سب تنبیہات اس لیے ہیں کہ انسان سود کی قباحت کو معمولی نہ سمجھے۔

معاشرتی سطح پر سود کے اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ سودی نظام میں دولت کی گردش رک جاتی ہے اور سرمایہ چند طاقتور ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ غریب مسلسل مقروض، کمزور اور محتاج بنتا چلا جاتا ہے، جبکہ سرمایہ دار بغیر محنت کے مزید طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طبقاتی خلیج بڑھتی ہے، سماجی انصاف ختم ہوتا ہے اور باہمی ہمدردی دم توڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی معاشروں میں بے چینی، جرائم اور اخلاقی زوال عام ہو جاتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جب کسی معاشرے میں سود عام ہو جائے تو وہاں اچانک ہلاکتیں اور آزمائشیں بڑھ جاتی ہیں۔ تابعین اور تبع تابعین نے بھی سود کو معاشرتی بگاڑ کی جڑ قرار دیا اور اسے فرد کے ساتھ ساتھ پورے نظام کے لیے زہرِ قاتل کہا۔

اسلام نے سود کو محض حرام قرار دے کر چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کے متبادل کے طور پر ایک مکمل، متوازن اور قابلِ عمل معاشی نظام پیش کیا۔ مضاربت میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا محنت، نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان سرمایہ دار برداشت کرتا ہے۔ مشارکت میں تمام شرکاء نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ بیع، سلم اور اجارہ جیسے عقود تجارت کو فروغ دیتے اور استحصال کا راستہ بند کرتے ہیں۔ ان تمام اصولوں کی بنیاد یہی ہے کہ نفع خطرے کے بغیر جائز نہیں۔

یہ کہنا کہ جدید دور میں سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی، دراصل فکری مایوسی اور اعتماد کی کمی کا اظہار ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی تہذیب کے عروج کے ادوار میں معیشت سود کے بغیر کامیابی سے چلتی رہی۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت، اخلاق اور نظام کی درست تشکیل کا ہے۔

آج اسلامی بینکاری اور شریعت کے مطابق مالیاتی ادارے اسی سمت ایک عملی قدم ہیں، اگرچہ ان میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ سود سے پاک معیشت کوئی خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل حقیقت ہے۔

پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ ہے، جبکہ تجارت اللہ کی رحمت اور معاشرتی بقا کا ذریعہ۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کی معیشت انصاف پر قائم ہو، اور انصاف سود کے بغیر ہی ممکن ہے۔

قسط چہارم: نظریہ اور عمل کے درمیان فاصلہ کیوں؟

 قسط چہارم: نظریہ اور عمل کے درمیان فاصلہ کیوں؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: اسلامی بینکاری، عملی اعتراضات اور زمینی حقائق

گزشتہ اقساط میں سود اور تجارت کے بنیادی فرق، قرآنی وعیدات، معاشرتی نقصانات اور اسلامی متبادل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس قسط میں ایک نہایت اہم اور حساس سوال کا تجزیہ مقصود ہے، اور وہ یہ کہ اسلامی بینکاری واقعی سود سے پاک ہے یا محض سود کا نیا نام؟ نیز یہ بھی کہ نظریۂ اسلامی معیشت اور موجودہ عملی ڈھانچے کے درمیان فاصلہ کیوں نظر آتا ہے۔

سب سے پہلے یہ اصول ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اسلامی بینکاری ایک نظریہ نہیں بلکہ فقہی اصولوں کا اطلاق ہے۔ اس کا مقصد سودی قرض کے بجائے شراکت، بیع اور اجارہ جیسے جائز عقود کو فروغ دینا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ اسلامی بینکاری مکمل اسلامی معیشت نہیں بلکہ سودی نظام کے اندر ایک متبادل تجربہ ہے، جس کی وجہ سے اس میں بعض عملی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلامی بینک بھی “منافع” پہلے سے طے کر لیتے ہیں، اس لیے وہ سود ہی کی ایک شکل ہیں۔ اس اعتراض کا علمی جواب یہ ہے کہ اگر کوئی معاملہ قرض کی بنیاد پر ہو اور اس پر نفع مشروط ہو تو وہ یقیناً سود ہے، لیکن اگر معاملہ بیع، اجارہ یا مشارکت کی بنیاد پر ہو تو وہاں نفع کی تعیین سود نہیں بلکہ تجارتی منافع شمار ہوتی ہے، بشرطیکہ حقیقی خرید و فروخت، ملکیت کی منتقلی اور خطرے کی شمولیت موجود ہو۔

اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اسلامی بینکاری کے بعض ادارے فقہی روح کے بجائے محض فقہی صورت پر اکتفا کرتے ہیں۔ نتیجتاً بعض معاملات میں خطرہ حقیقی طور پر بینک برداشت نہیں کرتا بلکہ بالواسطہ طور پر گاہک ہی پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تنقید جنم لیتی ہے اور اصلاح کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کی ناکامی دراصل اسلامی معیشت کی ناکامی نہیں بلکہ عمل درآمد کی کمزوری ہے۔ فقہائے امت نے جن اصولوں پر مضاربت، مشارکت اور بیع کو جائز قرار دیا، وہ اصول آج بھی اتنے ہی مضبوط اور قابلِ عمل ہیں۔ مسئلہ نیت، نگرانی اور اخلاقی جرات کا ہے، نہ کہ شریعت کے اصولوں کا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی معیشت صرف بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک پورا معاشی ماحول—ٹیکس نظام، حکومتی قرضے، بجٹ، مالیاتی پالیسیاں—سودی بنیادوں پر قائم رہیں گی، اس وقت تک اسلامی بینکاری سے مکمل نتائج کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہوگی۔ اسلامی معیشت ایک ہمہ جہتی نظام ہے، جس کے لیے ریاستی سطح پر عزم، قانون سازی اور تدریجی نفاذ ناگزیر ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کاروباری دنیا سود کے بغیر نہیں چل سکتی۔ یہ دعویٰ تاریخ اور منطق دونوں کے خلاف ہے۔ صدیوں تک مسلم دنیا میں تجارت، صنعت اور عالمی منڈیاں سود کے بغیر چلتی رہیں۔ اصل رکاوٹ سود نہیں بلکہ لالچ، عدم اعتماد اور اخلاقی زوال ہے۔ جب سرمایہ دار محنت کے بجائے ضمانت شدہ منافع کا عادی ہو جائے تو سود ناگزیر محسوس ہونے لگتا ہے۔

اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ نفع اسی کا حق ہے جو خطرہ مول لے۔ یہی اصول معاشی عدل کی بنیاد ہے۔ اگر نفع یقینی ہو اور نقصان کا امکان صفر، تو وہ تجارت نہیں بلکہ استحصال ہے، چاہے اسے کسی بھی خوبصورت نام سے پکارا جائے۔

آخر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کو رد کر دینا حل نہیں، بلکہ اس کی اصلاح، تطہیر اور نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں حلال تجارت، شراکت اور اعتماد کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی راستہ ہمیں سودی غلامی سے نکال کر حقیقی اسلامی معاشی آزادی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

قسط پنجم: ریاست، عدالت اور معاشرتی ذمہ داری

 قسط پنجم: ریاست، عدالت اور معاشرتی ذمہ داری

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: پاکستان میں سود کے خاتمے کا آئینی، عدالتی اور عملی تناظر

سود اور تجارت کے فرق پر ہونے والی بحث اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسے پاکستان کے آئینی، عدالتی اور عملی تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر معرضِ وجود میں آیا، جس کے آئین میں قرآن و سنت کے مطابق نظامِ حیات کے نفاذ کا عہد شامل ہے۔ اس تناظر میں سود کا خاتمہ محض ایک دینی مطالبہ نہیں بلکہ ایک آئینی ذمہ داری بھی ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38(ف) واضح طور پر ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے تدریجی مگر مؤثر اقدامات کرے۔ اسی طرح آرٹیکل 227 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا۔ یہ آئینی دفعات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ سودی نظام کو مستقل حیثیت دینا ریاستی وعدوں اور نظریاتی بنیادوں سے انحراف کے مترادف ہے۔

عدالتی سطح پر بھی سود کے خلاف تاریخی فیصلے موجود ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے متعدد فیصلوں میں سود کو ہر شکل میں حرام قرار دیا اور حکومت کو اس کے خاتمے کے لیے واضح ٹائم فریم دینے کی ہدایت کی۔ ان فیصلوں میں بینک سود، حکومتی قرضے اور مالیاتی آلات سب کو سود کے دائرے میں شمار کیا گیا۔ اگرچہ عملی نفاذ میں تاخیر اور پیچیدگیاں سامنے آئیں، مگر اصولی موقف آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ اگر سود اتنا ہی حرام اور نقصان دہ ہے تو ریاست اسے ختم کیوں نہیں کر پاتی؟ اس کا جواب محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی، ادارہ جاتی اور اخلاقی بھی ہے۔ سودی نظام عالمی معاشی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے، اور اس سے نکلنے کے لیے محض نعرے نہیں بلکہ سنجیدہ منصوبہ بندی، تدریجی حکمتِ عملی اور قومی اتفاقِ رائے درکار ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سود کا خاتمہ صرف بینکاری اصلاحات سے ممکن نہیں۔ جب تک حکومتی بجٹ خسارے، ٹیکس نظام، قرضوں کی ساخت اور مالیاتی پالیسی سودی بنیادوں پر قائم رہیں گی، اس وقت تک اسلامی بینکاری جزوی اور محدود نتائج ہی دے سکے گی۔ اسلامی معیشت ایک مکمل نظام ہے، جس کے لیے ریاستی سطح پر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی اصلاح ناگزیر ہے۔

معاشرتی سطح پر بھی ہماری ذمہ داری کم نہیں۔ جب تک ہم خود سودی سہولتوں، آسان قرضوں اور یقینی منافع کے عادی رہیں گے، اس وقت تک سودی نظام مضبوط ہی رہے گا۔ اسلام فرد کو یہ شعور دیتا ہے کہ معاشی آسانی کا راستہ ہمیشہ اخلاقی درستگی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ وقتی فائدے سے۔

اسلام نے ریاست، عدالت اور فرد تینوں کو سود کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ ریاست قانون سازی کرے، عدالت نگرانی اور اصلاح کرے، اور معاشرہ عملی طور پر حلال تجارت اور شراکت کو فروغ دے۔ یہی وہ مشترکہ جدوجہد ہے جس سے سودی نظام کمزور اور اسلامی معاشی اصول مضبوط ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ بات پوری دیانت سے کہی جا سکتی ہے کہ سود کا خاتمہ کوئی خواب نہیں بلکہ ایک آئینی، عدالتی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر نیت، قیادت اور اجتماعی شعور بیدار ہو جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے نظریے سے وفاداری ثابت کر سکتا ہے بلکہ دنیا کو ایک منصفانہ اور متبادل معاشی ماڈل بھی فراہم کر سکتا ہے۔

قسط ششم (اختتامی): کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

 قسط ششم (اختتامی): کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا ہے؟

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفیٰ الراعی، کراچی

سود اور تجارت: فکری محاسبہ، اجتماعی ذمہ داری اور اسلامی معیشت کا راستہ

سود اور تجارت کے موضوع پر اس سلسلۂ کالم کی تمام اقساط کا مقصد محض فقہی معلومات فراہم کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک فکری محاسبہ اور اجتماعی بیداری پیدا کرنا تھا۔ اب، اختتام پر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم بحیثیت فرد، معاشرہ اور ریاست کہاں کھڑے ہیں، اور اسلامی معیشت کے راستے پر آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اسلام نے سود کو محض ایک ناجائز مالی معاملہ نہیں بلکہ انسانی عدل، معاشرتی توازن اور اخلاقی بقا کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے سود پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ سود کا مسئلہ محض بینک، قرض یا منافع تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشی اور سماجی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے کہ تجارت اور سود میں فرق صرف ناموں یا طریقۂ کار کا نہیں بلکہ فلسفۂ معیشت کا فرق ہے۔ تجارت محنت، خطرے اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سود ضمانت، استحصال اور عدم توازن پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک نظام دولت کو گردش میں رکھتا ہے، دوسرا اسے چند ہاتھوں میں قید کر دیتا ہے۔

یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ اسلامی معیشت محض اسلامی بینکاری کا نام نہیں۔ جب تک ریاستی پالیسیاں، مالیاتی نظام، حکومتی قرضے، بجٹ سازی اور ٹیکس ڈھانچہ سودی بنیادوں پر قائم رہیں گے، اس وقت تک اسلامی معیشت مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ اسلامی بینکاری ایک قدم ہے، پورا سفر نہیں۔

اختتامی نکتہ یہ ہے کہ سود کے خاتمے کی جدوجہد تین سطحوں پر ہونی چاہیے:

اوّل: فرد کی سطح پر

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق سودی معاملات سے بچے، حلال تجارت کو اختیار کرے، اور یقینی منافع کے بجائے جائز خطرے کو قبول کرنے کی تربیت اپنے اندر پیدا کرے۔ فرد کی اصلاح کے بغیر کوئی معاشی انقلاب ممکن نہیں۔

دوم: معاشرتی سطح پر

کاروباری طبقہ، تاجر، صنعت کار اور تعلیمی ادارے اس شعور کو فروغ دیں کہ منافع کا حق اسی کو ہے جو نقصان کا خطرہ بھی قبول کرے۔ شراکت، اعتماد اور دیانت کو کاروباری اخلاقیات کا حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں سودی نظام کمزور پڑتا ہے۔

سوم: ریاستی سطح پر

ریاست پر لازم ہے کہ وہ آئینی تقاضوں کے مطابق سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ، تدریجی اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کرے۔ یہ عمل وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی اتفاقِ رائے، ماہرین کی رہنمائی اور مضبوط قانون سازی کا متقاضی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلامی معیشت کوئی خیالی تصور نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم تہذیب نے صدیوں تک بغیر سود کے مضبوط تجارتی، صنعتی اور مالیاتی نظام چلایا۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، اخلاق اور نیت کی کمزوری ہے۔

آخر میں پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سودی نظام وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر دیرپا عدل، استحکام اور انسانی فلاح فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس اسلامی معیشت انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، دولت کو گردش میں رکھتی ہے اور معاشرے کو استحصال سے بچاتی ہے۔

یہ سلسلہ اسی پیغام پر ختم ہوتا ہے کہ سود غلامی ہے اور تجارت آزادی؛ سود ٹکراؤ ہے اور تجارت تعاون؛ سود جنگ ہے اور تجارت رحمت۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، باوقار اور خوددار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں انتخاب کرنا ہوگا—اور یہ انتخاب محض الفاظ سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے ثابت کرنا ہو گا۔