Monday, 12 January 2026

دینِ مکمل اور فرقہ واریت کا المیہ: قرآن، سنت اور اقبال کی روشنی میں

 دینِ مکمل اور فرقہ واریت کا المیہ: قرآن، سنت اور اقبال کی روشنی میں

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفی الراعی کا یہ عنوان درحقیقت اسلامی تعلیمات کے اساسی تصور کو پیش کرتا ہے جو قرآن مجید میں واضح طور پر بیان ہوا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔" (المائدہ: 3) یہ آیتِ کریمہ نہ صرف دین کے تشریعی اعتبار سے تکمیل کا اعلان ہے بلکہ اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ انسانیت کی ہدایت کے لیے جو کچھ درکار تھا، وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ کے ذریعے فراہم کر دیا۔


قرآن کی روشنی میں: امتِ واحدہ کا تصور


قرآن مجید نے بنیادی طور پر "امتِ واحدہ" کے تصور پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں مت پڑو۔" (آل عمران: 103) یہاں 'تفرقہ' سے مراد دین میں ایسے گروہ بندی ہے جو کتاب و سنت سے انحراف پر مبنی ہو۔ دین کا مکمل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کسی اضافے، کمی یا فرقہ بندی کی گنجائش نہیں۔ تمام انبیاء کا دین ایک ہی تھا، جیسا کہ ارشاد ہے: "ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم سب میری عبادت کرو۔" (الانبیاء: 25)

سنتِ نبوی ﷺ: اتحاد کی عملی تفسیر

رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں کے اتحاد کو اولین ترجیح دی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے جو تاریخی خطبہ دیا، وہ درحقیقت امت کے اجتماعی اتحاد کا منشور تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" یہ حدیث فرقہ واریت کی نفی کرتی ہے کیونکہ فرقہ پرستی اپنے گروہ کو دوسرے پر ترجیح دینے کا نام ہے۔

علامہ اقبال کا دینی افکار: وحدتِ امت کی شاعری

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور افکار میں بارہا امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ ان کا مشہور شعر ہے:

"فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟"

اقبال کے نزدیک فرقہ بندی امت کی اجتماعی طاقت کو پارہ پارہ کرنے کا عمل ہے۔ وہ قرآن کے مرکزی خیال 'توحید' کو صرف اللہ کی وحدانیت تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ امت کے اتحاد کا عملی اظہار سمجھتے ہیں۔ ان کی نظم 'مسجدِ قرطبہ' میں وہ اندلس کی عظیم تہذیب کو یاد کرتے ہوئے دراصل امت کے اس دورِ زریں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب فرقہ بندی نہ ہونے کے برابر تھی۔

فرقوں میں اسلام نہیں، اسلام میں فرقے نہیں

ڈاکٹر الراعی کے عنوان کا دوسرا حصہ "اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام" گہرا حکمت آمیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں فرقے بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی فرقہ وجود میں آتا ہے تو وہ اسلام کے دائرے سے نکل کر اپنا الگ دائرہ بنا لیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "تم اس دین میں سے نہ ہو جانا جس میں (حق باتوں کے علاوہ) اور باتیں شامل ہیں۔" (الروم: 32)

علمی اور تحقیقی نکات

1. تاریخی Perspective: اسلام کے ابتدائی تین صدیوں تک فقہی اختلافات تو تھے لیکن فرقے نہیں تھے۔ فرقہ بندی کا آغاز سیاسی اختلافات سے ہوا جو بعد میں عقیدے کا روپ دھار گئے۔

2. فقہی اختلاف اور فرقہ بندی میں فرق: فقہی اختلاف رحمت ہے، فرقہ بندی زحمت۔ فقہی اختلاف طریقہ کار میں ہوتا ہے، اصولوں میں نہیں۔

3. نفسیاتی پہلو: فرقہ بندی کا ایک سبب نفسیاتی ہے جس میں انسان اپنے گروہ کو برتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ قرآن میں تقویٰ کو معیارِ برتری قرار دیا گیا ہے۔

قرآن، سنت اور اقبال کے افکار کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو اتحاد، اخوت اور وحدت کا درس دیتا ہے۔ فرقہ بندی درحقیقت دین کی تکمیل کے تصور کے منافی ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت پر اجتماع کریں، اختلافات کو فروغ نہ دیں۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:

"ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ"

دینِ اسلام ایک مکمل شجر ہے، جس کی شاخیں تو پھیل سکتی ہیں لیکن اس کی جڑ ایک ہے۔ فرقے درحقیقت اس شجر سے الگ ہو کر لگائے گئے پودے ہیں جو نہ پھل دار ہوتے ہیں نہ پائدار

اسوۃ حسنہ کی روشنی میں ایمان، اتحاد، تنظیم

 اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ایمان، اتحاد، تنظیم

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں المعروف غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

قومیں محض جغرافیہ سے نہیں بنتیں، قومیں ایک نظریے، ایک مقصد اور ایک کردار سے جنم لیتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جن اقوام نے اپنے رہنماؤں کے افکار کو وقتی نعروں کے بجائے مستقل ضابطۂ حیات بنایا، وہی زندہ رہیں۔ یومِ قائد ہمیں یہی یاد دہانی کراتا ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا دیا ہوا پیغام ایمان، اتحاد، تنظیم کوئی وقتی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر قومی منشور تھا، جس کی جڑیں براہِ راست اسوۂ حسنہ ﷺ میں پیوست تھیں۔

قائدِ اعظمؒ محض ایک مدبر سیاست دان نہیں تھے، وہ ایک نظریاتی رہنما تھے۔ ان کے نزدیک ایمان محض مذہبی وابستگی کا نام نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی، اصول پسندی اور مقصد سے وابستگی کا دوسرا نام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بارہا کہا کہ پاکستان اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کی بنیاد سچے ایمان پر ہوگی۔ یہ وہی ایمان ہے جس کی عملی تصویر ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں نظر آتی ہے—ایسا ایمان جو خوف سے آزاد کرتا ہے، غلامی کو رد کرتا ہے اور انسان کو حق کے سامنے سر جھکانے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتا ہے۔

لیکن قائدِ اعظمؒ بخوبی جانتے تھے کہ ایمان اگر اجتماعی شعور میں نہ ڈھلے تو وہ قوم کو منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اتحاد کا تصور سامنے آتا ہے۔ برصغیر کے مسلمان لسانی، علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر بٹے ہوئے تھے، مگر قائد نے انہیں ایک قوم بنا کر کھڑا کر دیا۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ یہ وہی اصول ہے جو نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں قائم کیا، جہاں مہاجر و انصار کو اخوت کے رشتے میں باندھ کر ایک متحد امت کی بنیاد رکھی گئی۔ قائدِ اعظمؒ کا تصورِ اتحاد بھی اسی نبوی حکمت کا تسلسل تھا فرقوں اور گروہوں سے بالاتر ہو کر ایک مقصد پر یکجا ہونا۔

قائدِ اعظمؒ کے پیغام کا تیسرا اور سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا پہلو تنظیم ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بغیر تنظیم کے نہ تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں اور نہ ریاستیں قائم رہتی ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی نظم و ضبط، مشاورت اور ذمہ داری کی اعلٰی مثال ہے۔ بدر کے میدان سے لے کر ریاستِ مدینہ کے نظم تک، ہر جگہ تنظیم کی قوت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی سبق قائدِ اعظمؒ نے قوم کو دیا ایک منظم قوم، ایک باقاعدہ جدوجہد، اور ایک واضح لائحۂ عمل۔ تحریکِ پاکستان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ قائد کا ایمان مضبوط، اتحاد واضح اور تنظیم مؤثر تھی۔

آج یومِ قائد کے موقع پر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی تقاریر کرتے ہیں یا کتنے بینر آویزاں کرتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے قائد کے پیغام پر کتنا عمل کیا؟ کیا ہمارا ایمان کردار میں ڈھل سکا؟ کیا ہم واقعی ایک متحد قوم ہیں یا ایک منتشر گروہ؟ اور کیا ہماری اجتماعی زندگی میں نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساسِ ذمہ داری موجود ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے قائد کے الفاظ کو تو یاد رکھا، مگر ان کی روح کو فراموش کر دیا۔

آج پاکستان کی ریاست اور پاکستانیوں کو جن بحرانوں کا سامنا ہے سیاسی انتشار، معاشی بے یقینی اور سماجی بے راہ روی ان کا حل کسی نئے نعرے میں نہیں بلکہ اسی پیغام میں پوشیدہ ہے جو قائدِ اعظمؒ نے اسوۂ حسنہ ﷺ سے اخذ کر کے ہمیں دیا تھا۔ ایمان جو خوف سے نجات دے، اتحاد جو نفرتوں کو مٹا دے، اور تنظیم جو قوت کو سمت دے یہی وہ نسخہ ہے جو قوموں کو عروج دیتا ہے۔

یومِ قائد کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم قائدِ اعظمؒ کو محض تصویر یا اقتباس تک محدود نہ کریں، بلکہ ان کے پیغام کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو یہ دن محض یادگار نہیں رہے گا بلکہ ایک نئی قومی تجدید کا نقطۂ آغاز بن جائے گا اور یہی قائدِ اعظمؒ کے ساتھ سچی وفاداری ہے۔

دینِ مکمل اور فرقہ واریت کا المیہ: قرآن، سنت اور اقبال کی روشنی میں

 "اللہ کا دین مکمل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام۔"

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفی الراعی کا یہ عنوان درحقیقت اسلامی تعلیمات کے اساسی تصور کو پیش کرتا ہے جو قرآن مجید میں واضح طور پر بیان ہوا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔" (المائدہ: 3) یہ آیتِ کریمہ نہ صرف دین کے تشریعی اعتبار سے تکمیل کا اعلان ہے بلکہ اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ انسانیت کی ہدایت کے لیے جو کچھ درکار تھا، وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ کے ذریعے فراہم کر دیا۔

قرآن کی روشنی میں: امتِ واحدہ کا تصور

قرآن مجید نے بنیادی طور پر "امتِ واحدہ" کے تصور پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں مت پڑو۔" (آل عمران: 103) یہاں 'تفرقہ' سے مراد دین میں ایسے گروہ بندی ہے جو کتاب و سنت سے انحراف پر مبنی ہو۔ دین کا مکمل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کسی اضافے، کمی یا فرقہ بندی کی گنجائش نہیں۔ تمام انبیاء کا دین ایک ہی تھا، جیسا کہ ارشاد ہے: "ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم سب میری عبادت کرو۔" (الانبیاء: 25)

سنتِ نبوی ﷺ: اتحاد کی عملی تفسیر

رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں کے اتحاد کو اولین ترجیح دی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے جو تاریخی خطبہ دیا، وہ درحقیقت امت کے اجتماعی اتحاد کا منشور تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" یہ حدیث فرقہ واریت کی نفی کرتی ہے کیونکہ فرقہ پرستی اپنے گروہ کو دوسرے پر ترجیح دینے کا نام ہے۔

علامہ اقبال کا دینی افکار: وحدتِ امت کی شاعری

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور افکار میں بارہا امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ ان کا مشہور شعر ہے:

"فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟"

اقبال کے نزدیک فرقہ بندی امت کی اجتماعی طاقت کو پارہ پارہ کرنے کا عمل ہے۔ وہ قرآن کے مرکزی خیال 'توحید' کو صرف اللہ کی وحدانیت تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ امت کے اتحاد کا عملی اظہار سمجھتے ہیں۔ ان کی نظم 'مسجدِ قرطبہ' میں وہ اندلس کی عظیم تہذیب کو یاد کرتے ہوئے دراصل امت کے اس دورِ زریں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب فرقہ بندی نہ ہونے کے برابر تھی۔

فرقوں میں اسلام نہیں، اسلام میں فرقے نہیں

ڈاکٹر الراعی کے عنوان کا دوسرا حصہ "اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام" گہرا حکمت آمیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں فرقے بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی فرقہ وجود میں آتا ہے تو وہ اسلام کے دائرے سے نکل کر اپنا الگ دائرہ بنا لیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "تم اس دین میں سے نہ ہو جانا جس میں (حق باتوں کے علاوہ) اور باتیں شامل ہیں۔" (الروم: 32)

علمی اور تحقیقی نکات

1. تاریخی Perspective: اسلام کے ابتدائی تین صدیوں تک فقہی اختلافات تو تھے لیکن فرقے نہیں تھے۔ فرقہ بندی کا آغاز سیاسی اختلافات سے ہوا جو بعد میں عقیدے کا روپ دھار گئے۔

2. فقہی اختلاف اور فرقہ بندی میں فرق: فقہی اختلاف رحمت ہے، فرقہ بندی زحمت۔ فقہی اختلاف طریقہ کار میں ہوتا ہے، اصولوں میں نہیں۔

3. نفسیاتی پہلو: فرقہ بندی کا ایک سبب نفسیاتی ہے جس میں انسان اپنے گروہ کو برتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ قرآن میں تقویٰ کو معیارِ برتری قرار دیا گیا ہے۔

خلاصہ

قرآن، سنت اور اقبال کے افکار کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو اتحاد، اخوت اور وحدت کا درس دیتا ہے۔ فرقہ بندی درحقیقت دین کی تکمیل کے تصور کے منافی ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت پر اجتماع کریں، اختلافات کو فروغ نہ دیں۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:

"ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ"

دینِ اسلام ایک مکمل شجر ہے، جس کی شاخیں تو پھیل سکتی ہیں لیکن اس کی جڑ ایک ہے۔ فرقے درحقیقت اس شجر سے الگ ہو کر لگائے گئے پودے ہیں جو نہ پھل دار ہوتے ہیں نہ پائدار۔

اللہ کا دین مکمّل ہے، اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام

 اللہ کا دین مکمّل ہے، اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی

اسلام ایک ہمہ گیر، آفاقی اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر ہے، جن میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اعلانِ ابدی ہے:

﴿اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ﴾

(المائدہ: 3)

یعنی “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔”

یہ آیت اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ دینِ اسلام کسی اضافے، ترمیم یا فرقہ وارانہ تعبیر کا محتاج نہیں۔

اسلام کا بنیادی پیغام توحید، رسالت اور آخرت ہے، جس کے گرد پوری شریعت گھومتی ہے۔ قرآن مسلمانوں کو ایک امت قرار دیتا ہے:

﴿اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً﴾ (الانبیاء: 92)

مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس “امتِ واحدہ” کو مسلکی، فقہی اور گروہی خیموں میں بانٹ دیا۔ نتیجتاً اسلام وحدت کا دین ہوتے ہوئے بھی اختلاف و انتشار کی علامت بنا دیا گیا۔

رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں تفرقے سے خبردار فرمایا:

“میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، نجات پانے والا وہ ہو گا جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو گا۔”

(ترمذی)

یہ حدیث فرقہ سازی کی توثیق نہیں بلکہ نجات کے معیار کی نشاندہی ہے: قرآن و سنت، فہمِ صحابہؓ کے مطابق۔

فرقہ واریت دراصل دین نہیں، دین پر اپنی رائے مسلط کرنے کا نام ہے۔ جب مسلک دین سے بڑا ہو جائے، جب امام، پیر یا جماعت قرآن و سنت پر فوقیت حاصل کر لے، تو پھر اسلام پس منظر میں چلا جاتا ہے اور فرقہ سامنے آ جاتا ہے۔ قرآن ایسے رویّے کی سختی سے نفی کرتا ہے:

﴿وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَکَانُوۡا شِیَعًا﴾

(الروم: 32)

علامہ اقبالؒ نے ملتِ اسلامیہ کے زوال کی سب سے بڑی وجہ فرقہ بندی کو قرار دیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

اقبال کے نزدیک اسلام ایک زندہ، متحرک اور انقلابی دین ہے، جو عمل، اخلاص اور وحدت چاہتا ہے، نہ کہ خانقاہی جمود یا مسلکی تعصب۔ ان کا تصورِ دین ہمیں قرآن سے جوڑتا ہے، نہ کہ فرقوں کی دیواروں میں قید کرتا ہے:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

یہی وجہ ہے کہ اقبال “مسلمان” کو ایک نظریاتی شناخت دیتے ہیں، نہ کہ فرقہ وارانہ لیبل۔ ان کے نزدیک مسلمان وہ ہے جو قرآن کا حامل، رسول ﷺ کا عاشق اور امت کے درد سے آگاہ ہو۔

آج امتِ مسلمہ جن فکری، سیاسی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، ان کی جڑ میں یہی فرقہ واریت ہے۔ ہم نے اصل اسلام کو چھوڑ کر اس کے نام پر بنے قلعوں میں پناہ لے لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دشمن متحد ہے اور ہم منتشر۔

حل واضح اور سادہ ہے:

قرآن کو مرکز بنایا جائے، سنت کو معیار، اور صحابہؓ کے فہم کو میزان۔ فقہی اختلاف کو وسعتِ نظر کے ساتھ قبول کیا جائے، مگر اسے دین کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ مسلک راستہ ہو سکتا ہے، منزل نہیں۔

آخر میں یہی کہنا ہے کہ اسلام میں فرقے نہیں، فرقوں میں اسلام تلاش کرنا خود فریبی ہے۔ اگر ہمیں عزت، وحدت اور غلبہ درکار ہے تو ہمیں دینِ کامل کی طرف لوٹنا ہو گا، نہ کہ نامکمل تعبیرات کی طرف۔ یہی قرآن کا پیغام ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کی تعلیم اور یہی اقبال کا خواب۔

اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ

آیتِ کریمہ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (البقرہ: 208)

مفہوم:

اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں آیت کا جامع مفہوم

یہ آیتِ مبارکہ دراصل دینِ اسلام کی کلیت، جامعیت اور کامل اطاعت کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کو جزوی طور پر نہیں بلکہ مکمل اور ہمہ گیر انداز میں اختیار کریں۔

1۔ “ادخلوا فی السلم کافّة” کا مفہوم

لفظ “السِّلْم” سے مراد اسلام، اطاعتِ الٰہی اور اللہ کے دین کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنا ہے، جبکہ “کافّة” کا مطلب ہے: مکمل طور پر، ہر پہلو سے اور بغیر کسی استثنا کے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان:

عقائد میں بھی اسلام کو اختیار کرے

عبادات میں بھی

معاملات میں بھی

معاشرت اور سیاست میں بھی

اخلاق اور کردار میں بھی

یعنی اسلام کو صرف چند مذہبی رسومات تک محدود نہ کرے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت کی رہنمائی کو اختیار کرے۔

قرآن مجید کی ایک اور آیت اسی حقیقت کو یوں واضح کرتی ہے:

أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ

مفہوم: کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ (البقرہ:85)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کو جزوی طور پر قبول کرنا دراصل قرآن کے مزاج کے خلاف ہے۔

2۔ “ولا تتبعوا خطوات الشیطان” کا مفہوم

آیت کا دوسرا حصہ شیطان کے طریقوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔ “خطوات الشیطان” سے مراد وہ تمام راستے، طریقے اور وسوسے ہیں جن کے ذریعے شیطان انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن نے کئی جگہ واضح کیا ہے کہ شیطان کا اصل مقصد انسان کو اللہ کے راستے سے ہٹانا ہے:

إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا

مفہوم: بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، لہٰذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ (فاطر:6)

شیطان کے قدموں کی پیروی کے چند مظاہر یہ ہو سکتے ہیں:

دین میں اپنی خواہشات کو شامل کرنا

قرآن و سنت کے بجائے خواہشات یا رسوم کو ترجیح دینا

فرقہ واریت اور تعصب کو فروغ دینا

گناہوں کو معمولی سمجھنا

شیطان انسان کو یک دم گمراہ نہیں کرتا بلکہ تدریجاً قدم بہ قدم گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، اسی لیے قرآن نے “خطوات” (قدموں) کا لفظ استعمال کیا ہے۔

3۔ سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں

رسول اللہ ﷺ نے بھی دین کو مکمل طور پر اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:

“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔”

یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ایمان کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب انسان اپنی خواہشات اور ذاتی رجحانات کو بھی شریعت کے تابع کر دے۔

4۔ آیت کا عملی پیغام

یہ آیت مسلمانوں کو تین بنیادی ہدایات دیتی ہے:

اسلام کو مکمل طور پر اختیار کیا جائے

دین میں جزوی عمل یا انتخابی اطاعت سے بچا جائے

شیطانی وسوسوں اور گمراہ کن راستوں سے دور رہا جائے

یعنی ایک مسلمان کی زندگی کا ہر پہلو قرآن و سنت کے تابع ہونا چاہیے۔

خلاصۂ مفہوم

اس آیت کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اسلام کو جزوی نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کرے اور ہر اس راستے سے بچ کر رہے جو شیطان کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس کی اصل کوشش یہی ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ کی ہدایت سے دور کر دے۔

دعا

اللہ ربّ العالمین ہمیں قرآنِ مجید کو صحیح طور پر سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے اور شیطان کے ہر فریب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ وَجَنِّبْنَا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔

اللهم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

علماء سوء کا کردار اور علماءِ حق کے فرائضِ منصبی


علماءِ سوء کا کردار اور علماءِ حق کے فرائضِ منصب

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ كَذٰلِكَ۰ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ"

(سورۃ فاطر، آیت 28)

مفہوم: اللہ تعالٰی سے خوف و خشیت رکھنے والے ہی اصل علم رکھتے ہیں، نہ کہ صرف سند و ڈگری والے۔

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں رنگ و نسل، صورت و سیرت، عادات و مزاج کی بے پناہ گوناگونی انسان کے شعور کو عبرت و بصیرت سکھاتی ہے۔ اسی گہرے علم کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہے، ورنہ ظاہری علوم بے اثر رہ جاتے ہیں۔ علم صرف کثرتِ کلام نہیں، بلکہ تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کی پہچان ہے۔

اصل علماء وہ ہیں جو حق و حقیقت کے علم سے اللہ کی معرفت رکھتے ہیں، مادی دنیا کے خواہشات میں الجھے نہیں رہتے، بلکہ انسانیت کی بھلائی، دین کی صحیح تعلیم اور امت کی ہدایت کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ قرآن و سنت، اسوۃ حسنہ کے مطابق معاشرتی، دینی اور اخلاقی اصلاح کرتے ہیں اور امت کی ہدایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج بہت سے عناصر، جو علمائے سوء کہلاتے ہیں، دین کے نام پر فرقہ پرستی، منافرت اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ افراد قرآن و سنت اور رسول اللہ ﷺ کی اسوۃ حسنہ کو ثانوی سمجھ کر اپنے فرقے یا ذاتی نظریات کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ امت کو تقسیم کرتے، بھائی کو بھائی سے لڑواتے اور دین کو اپنی من مانت تعلیمات میں بدل دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق یہ سب حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

اصل دین اسلام قرآن و سنت پر مبنی ہے اور کسی انسان یا فرقے کے نظریات اس میں اتھارٹی نہیں رکھتے۔ امت کے اتحاد کے لیے لازم ہے کہ سب مسلمان صرف "مسلم" کے طور پر قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی پیروی کریں۔ فرقہ پرستی، گروہ بندی اور نفرت پھیلانے والے علماءِ سوء کے اثر سے بچنا ضروری ہے، اور ان کے نظریات کو دین کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

مسلم علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران اپنے فرائض منصبی میں یہ ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ اللہ و رسول ﷺ کے مقاصد دین، قرآن و سنت اور اسوۃ حسنہ کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور امت کو اسی کی دعوت دیں۔ انہیں اپنی ذاتی یا انسانی خیالات کو بالائے طاق رکھ کر امت کی اصلاح، عدل و انصاف، حقوق اللہ و حقوق العباد، معاشرتی اصلاح اور اتحادِ امت کے لیے کام کرنا چاہیے۔

مسلم معاشرے کے افراد کو باعمل مسلمان بنانے، گناہوں سے بچانے، ممنوعات، فساد، فرقہ واریت، بدعات اور دیگر معاشرتی برائیوں سے روکنے کے لیے علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران مستقل کوشش کریں۔ امت کی یکجہتی، اخوت، امن، فلاح و ترقی انہی کی مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علماءِ حق کی پیروی کرنے اور علماءِ سوء کے اثر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری تمام تر توجہ قرآن و سنت، رسول ﷺ کی پیروی اور اصل اسلام کے احکام پر ہو، تاکہ امت مسلمہ دوبارہ وحدت اور اخوت کی مثال قائم کر سکے۔ آمین۔ الرحمن الرحیم

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ كَذٰلِكَ۰ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ"

(سورۃ فاطر، آیت 28)

مفہوم: اللہ تعالیٰ سے خوف و خشیت رکھنے والے ہی اصل علم رکھتے ہیں، نہ کہ صرف سند و ڈگری والے۔

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں رنگ و نسل، صورت و سیرت، عادات و مزاج کی بے پناہ گوناگونی انسان کے شعور کو عبرت و بصیرت سکھاتی ہے۔ اسی گہرے علم کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہے، ورنہ ظاہری علوم بے اثر رہ جاتے ہیں۔ علم صرف کثرتِ کلام نہیں، بلکہ تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کی پہچان ہے۔

اصل علماء وہ ہیں جو حق و حقیقت کے علم سے اللہ کی معرفت رکھتے ہیں، مادی دنیا کے خواہشات میں الجھے نہیں رہتے، بلکہ انسانیت کی بھلائی، دین کی صحیح تعلیم اور امت کی ہدایت کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ قرآن و سنت، اسوۃ حسنہ کے مطابق معاشرتی، دینی اور اخلاقی اصلاح کرتے ہیں اور امت کی ہدایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج بہت سے عناصر، جو علمائے سوء کہلاتے ہیں، دین کے نام پر فرقہ پرستی، منافرت اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ افراد قرآن و سنت اور رسول اللہ ﷺ کی اسوۃ حسنہ کو ثانوی سمجھ کر اپنے فرقے یا ذاتی نظریات کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ امت کو تقسیم کرتے، بھائی کو بھائی سے لڑواتے اور دین کو اپنی من مانت تعلیمات میں بدل دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق یہ سب حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

اصل دین اسلام قرآن و سنت پر مبنی ہے اور کسی انسان یا فرقے کے نظریات اس میں اتھارٹی نہیں رکھتے۔ امت کے اتحاد کے لیے لازم ہے کہ سب مسلمان صرف "مسلم" کے طور پر قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی پیروی کریں۔ فرقہ پرستی، گروہ بندی اور نفرت پھیلانے والے علماءِ سوء کے اثر سے بچنا ضروری ہے، اور ان کے نظریات کو دین کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

مسلم علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران اپنے فرائض منصبی میں یہ ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ اللہ و رسول ﷺ کے مقاصد دین، قرآن و سنت اور اسوۃ حسنہ کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور امت کو اسی کی دعوت دیں۔ انہیں اپنی ذاتی یا انسانی خیالات کو بالائے طاق رکھ کر امت کی اصلاح، عدل و انصاف، حقوق اللہ و حقوق العباد، معاشرتی اصلاح اور اتحادِ امت کے لیے کام کرنا چاہیے۔

مسلم معاشرے کے افراد کو باعمل مسلمان بنانے، گناہوں سے بچانے، ممنوعات، فساد، فرقہ واریت، بدعات اور دیگر معاشرتی برائیوں سے روکنے کے لیے علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران مستقل کوشش کریں۔ امت کی یکجہتی، اخوت، امن، فلاح و ترقی انہی کی مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علماءِ حق کی پیروی کرنے اور علماءِ سوء کے اثر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری تمام تر توجہ قرآن و سنت، رسول ﷺ کی پیروی اور اصل اسلام کے احکام پر ہو، تاکہ امت مسلمہ دوبارہ وحدت اور اخوت کی مثال قائم کر سکے۔ آمین۔

منافقین کی پہچان، ان کا مقام اور اسوۂ حسنہؐ کی روشنی میں طرزِ عمل

 منافقین کی پہچان، ان کا مقام اور اسوۂ حسنہؐ کی روشنی میں طرزِ عمل

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

قرآنِ حکیم نے جس طبقے کو سب سے زیادہ شدت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے وہ منافقین ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل میں کفر چھپائے رکھتے ہیں۔ بظاہر مسلمان، باطناً دشمنِ اسلام—یہی دوغلا پن ان کی اصل پہچان ہے۔ سورۃ البقرہ کے آغاز ہی میں ایمان، کفر اور نفاق کو الگ الگ واضح کیا گیا، اور منافقین پر سب سے طویل گفتگو اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ یہی اندرونی دشمن ہے۔

منافقین کی پہچان: قرآن و سنت کی روشنی میں

قرآن مجید منافقین کی علامات یوں بیان کرتا ہے:

جھوٹ: “جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں… اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں” (المنافقون:1)

دوغلا پن: مومنوں کے سامنے کچھ، کافروں کے سامنے کچھ (النساء:143)

عبادت میں سستی: نماز میں کاہلی اور دکھاوا (النساء:142)

فساد پسندی: اصلاح کے دعوے مگر زمین میں فساد (البقرہ:11-12)

احادیثِ نبویؐ میں نفاق کی عملی علامات یوں بیان ہوئیں:

“منافق کی تین نشانیاں ہیں: بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، امانت دی جائے تو خیانت کرے” (بخاری، مسلم)۔ ایک اور روایت میں جھگڑے میں گالی گلوچ اور بددیانتی کو بھی شامل کیا گیا۔

کیا منافق کافر و مشرک سے بھی بدتر ہے؟

قرآن اس سوال کا نہایت واضح جواب دیتا ہے:

“یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے” (النساء:145)۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر و مشرک کھلے دشمن ہیں، ان کی شناخت واضح ہے، جبکہ منافق اندر سے وار کرتا ہے، اعتماد توڑتا ہے، صفوں میں انتشار پیدا کرتا ہے اور دین کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ اسی لیے وہ زیادہ خطرناک اور انجام کے اعتبار سے بدتر قرار پائے۔

اسوۂ حسنہؐ: منافقین کے ساتھ طرزِ عمل

نبی کریم ﷺ کا اسوہ یہاں غیر معمولی توازن کا شاہکار ہے۔ آپؐ نے منافقین کو ان کے ظاہری اسلام کی بنیاد پر معاشرے سے خارج نہیں کیا، نہ ہی محض شبہے پر کوئی دنیاوی سزا دی۔ عبد اللہ بن اُبیّ جیسے واضح منافق کے ساتھ بھی آپؐ نے قانونی اور اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے معاملہ کیا، حتیٰ کہ اس کے جنازے تک میں شرکت فرمائی—تاکہ یہ اصول قائم ہو جائے کہ دلوں کا حساب اللہ کے سپرد ہے، ریاست اور معاشرہ ظاہر پر فیصلہ کرے گا۔

البتہ آپؐ نے منافقین کے نظریاتی فتنوں، سازشوں اور فساد کے مقابلے میں سختی دکھائی:

ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کو رد کیا

ان کی سازشوں کو بے نقاب کیا

امت کو ان کی علامات سے خبردار کیا

مگر ذاتی انتقام یا ماورائے قانون اقدام سے مکمل اجتناب فرمایا

آج کے لیے پیغام

اسوۂ حسنہؐ ہمیں سکھاتی ہے کہ منافقین سے اندھی نرمی بھی غلط ہے اور اندھی سختی بھی۔ ہمیں:

نفاق کی علامات پہچاننی ہوں گی

نظریاتی اور فکری سطح پر اس کا رد کرنا ہوگا

عدل، قانون اور اخلاق کی حدود میں رہ کر معاملہ کرنا ہوگا

اور سب سے بڑھ کر اپنے دلوں کا محاسبہ کرنا ہوگا کہ کہیں نفاق کی کوئی جھلک ہم میں تو موجود نہیں؟

کیونکہ اصل کامیابی منافقوں کو گرانے میں نہیں، اپنے ایمان کو خالص رکھنے میں ہے اور یہی قرآن، سنت اور اسوۂ رسول ﷺ کا جامع پیغام