Monday, 12 January 2026

منافقین کی پہچان، ان کا مقام اور اسوۂ حسنہؐ کی روشنی میں طرزِ عمل

 منافقین کی پہچان، ان کا مقام اور اسوۂ حسنہؐ کی روشنی میں طرزِ عمل

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

قرآنِ حکیم نے جس طبقے کو سب سے زیادہ شدت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے وہ منافقین ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل میں کفر چھپائے رکھتے ہیں۔ بظاہر مسلمان، باطناً دشمنِ اسلام—یہی دوغلا پن ان کی اصل پہچان ہے۔ سورۃ البقرہ کے آغاز ہی میں ایمان، کفر اور نفاق کو الگ الگ واضح کیا گیا، اور منافقین پر سب سے طویل گفتگو اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ یہی اندرونی دشمن ہے۔

منافقین کی پہچان: قرآن و سنت کی روشنی میں

قرآن مجید منافقین کی علامات یوں بیان کرتا ہے:

جھوٹ: “جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں… اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں” (المنافقون:1)

دوغلا پن: مومنوں کے سامنے کچھ، کافروں کے سامنے کچھ (النساء:143)

عبادت میں سستی: نماز میں کاہلی اور دکھاوا (النساء:142)

فساد پسندی: اصلاح کے دعوے مگر زمین میں فساد (البقرہ:11-12)

احادیثِ نبویؐ میں نفاق کی عملی علامات یوں بیان ہوئیں:

“منافق کی تین نشانیاں ہیں: بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، امانت دی جائے تو خیانت کرے” (بخاری، مسلم)۔ ایک اور روایت میں جھگڑے میں گالی گلوچ اور بددیانتی کو بھی شامل کیا گیا۔

کیا منافق کافر و مشرک سے بھی بدتر ہے؟

قرآن اس سوال کا نہایت واضح جواب دیتا ہے:

“یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے” (النساء:145)۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر و مشرک کھلے دشمن ہیں، ان کی شناخت واضح ہے، جبکہ منافق اندر سے وار کرتا ہے، اعتماد توڑتا ہے، صفوں میں انتشار پیدا کرتا ہے اور دین کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ اسی لیے وہ زیادہ خطرناک اور انجام کے اعتبار سے بدتر قرار پائے۔

اسوۂ حسنہؐ: منافقین کے ساتھ طرزِ عمل

نبی کریم ﷺ کا اسوہ یہاں غیر معمولی توازن کا شاہکار ہے۔ آپؐ نے منافقین کو ان کے ظاہری اسلام کی بنیاد پر معاشرے سے خارج نہیں کیا، نہ ہی محض شبہے پر کوئی دنیاوی سزا دی۔ عبد اللہ بن اُبیّ جیسے واضح منافق کے ساتھ بھی آپؐ نے قانونی اور اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے معاملہ کیا، حتیٰ کہ اس کے جنازے تک میں شرکت فرمائی—تاکہ یہ اصول قائم ہو جائے کہ دلوں کا حساب اللہ کے سپرد ہے، ریاست اور معاشرہ ظاہر پر فیصلہ کرے گا۔

البتہ آپؐ نے منافقین کے نظریاتی فتنوں، سازشوں اور فساد کے مقابلے میں سختی دکھائی:

ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کو رد کیا

ان کی سازشوں کو بے نقاب کیا

امت کو ان کی علامات سے خبردار کیا

مگر ذاتی انتقام یا ماورائے قانون اقدام سے مکمل اجتناب فرمایا

آج کے لیے پیغام

اسوۂ حسنہؐ ہمیں سکھاتی ہے کہ منافقین سے اندھی نرمی بھی غلط ہے اور اندھی سختی بھی۔ ہمیں:

نفاق کی علامات پہچاننی ہوں گی

نظریاتی اور فکری سطح پر اس کا رد کرنا ہوگا

عدل، قانون اور اخلاق کی حدود میں رہ کر معاملہ کرنا ہوگا

اور سب سے بڑھ کر اپنے دلوں کا محاسبہ کرنا ہوگا کہ کہیں نفاق کی کوئی جھلک ہم میں تو موجود نہیں؟

کیونکہ اصل کامیابی منافقوں کو گرانے میں نہیں، اپنے ایمان کو خالص رکھنے میں ہے اور یہی قرآن، سنت اور اسوۂ رسول ﷺ کا جامع پیغام

No comments:

Post a Comment