Monday, 12 January 2026

دینِ مکمل اور فرقہ واریت کا المیہ: قرآن، سنت اور اقبال کی روشنی میں

 دینِ مکمل اور فرقہ واریت کا المیہ: قرآن، سنت اور اقبال کی روشنی میں

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفی الراعی کا یہ عنوان درحقیقت اسلامی تعلیمات کے اساسی تصور کو پیش کرتا ہے جو قرآن مجید میں واضح طور پر بیان ہوا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔" (المائدہ: 3) یہ آیتِ کریمہ نہ صرف دین کے تشریعی اعتبار سے تکمیل کا اعلان ہے بلکہ اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ انسانیت کی ہدایت کے لیے جو کچھ درکار تھا، وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ کے ذریعے فراہم کر دیا۔


قرآن کی روشنی میں: امتِ واحدہ کا تصور


قرآن مجید نے بنیادی طور پر "امتِ واحدہ" کے تصور پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں مت پڑو۔" (آل عمران: 103) یہاں 'تفرقہ' سے مراد دین میں ایسے گروہ بندی ہے جو کتاب و سنت سے انحراف پر مبنی ہو۔ دین کا مکمل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کسی اضافے، کمی یا فرقہ بندی کی گنجائش نہیں۔ تمام انبیاء کا دین ایک ہی تھا، جیسا کہ ارشاد ہے: "ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم سب میری عبادت کرو۔" (الانبیاء: 25)

سنتِ نبوی ﷺ: اتحاد کی عملی تفسیر

رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں کے اتحاد کو اولین ترجیح دی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے جو تاریخی خطبہ دیا، وہ درحقیقت امت کے اجتماعی اتحاد کا منشور تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" یہ حدیث فرقہ واریت کی نفی کرتی ہے کیونکہ فرقہ پرستی اپنے گروہ کو دوسرے پر ترجیح دینے کا نام ہے۔

علامہ اقبال کا دینی افکار: وحدتِ امت کی شاعری

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور افکار میں بارہا امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ ان کا مشہور شعر ہے:

"فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟"

اقبال کے نزدیک فرقہ بندی امت کی اجتماعی طاقت کو پارہ پارہ کرنے کا عمل ہے۔ وہ قرآن کے مرکزی خیال 'توحید' کو صرف اللہ کی وحدانیت تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ امت کے اتحاد کا عملی اظہار سمجھتے ہیں۔ ان کی نظم 'مسجدِ قرطبہ' میں وہ اندلس کی عظیم تہذیب کو یاد کرتے ہوئے دراصل امت کے اس دورِ زریں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب فرقہ بندی نہ ہونے کے برابر تھی۔

فرقوں میں اسلام نہیں، اسلام میں فرقے نہیں

ڈاکٹر الراعی کے عنوان کا دوسرا حصہ "اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام" گہرا حکمت آمیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں فرقے بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی فرقہ وجود میں آتا ہے تو وہ اسلام کے دائرے سے نکل کر اپنا الگ دائرہ بنا لیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "تم اس دین میں سے نہ ہو جانا جس میں (حق باتوں کے علاوہ) اور باتیں شامل ہیں۔" (الروم: 32)

علمی اور تحقیقی نکات

1. تاریخی Perspective: اسلام کے ابتدائی تین صدیوں تک فقہی اختلافات تو تھے لیکن فرقے نہیں تھے۔ فرقہ بندی کا آغاز سیاسی اختلافات سے ہوا جو بعد میں عقیدے کا روپ دھار گئے۔

2. فقہی اختلاف اور فرقہ بندی میں فرق: فقہی اختلاف رحمت ہے، فرقہ بندی زحمت۔ فقہی اختلاف طریقہ کار میں ہوتا ہے، اصولوں میں نہیں۔

3. نفسیاتی پہلو: فرقہ بندی کا ایک سبب نفسیاتی ہے جس میں انسان اپنے گروہ کو برتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ قرآن میں تقویٰ کو معیارِ برتری قرار دیا گیا ہے۔

قرآن، سنت اور اقبال کے افکار کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو اتحاد، اخوت اور وحدت کا درس دیتا ہے۔ فرقہ بندی درحقیقت دین کی تکمیل کے تصور کے منافی ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت پر اجتماع کریں، اختلافات کو فروغ نہ دیں۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:

"ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ"

دینِ اسلام ایک مکمل شجر ہے، جس کی شاخیں تو پھیل سکتی ہیں لیکن اس کی جڑ ایک ہے۔ فرقے درحقیقت اس شجر سے الگ ہو کر لگائے گئے پودے ہیں جو نہ پھل دار ہوتے ہیں نہ پائدار

No comments:

Post a Comment