Monday, 12 January 2026

اسوۃ حسنہ کی روشنی میں ایمان، اتحاد، تنظیم

 اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ایمان، اتحاد، تنظیم

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں المعروف غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

قومیں محض جغرافیہ سے نہیں بنتیں، قومیں ایک نظریے، ایک مقصد اور ایک کردار سے جنم لیتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جن اقوام نے اپنے رہنماؤں کے افکار کو وقتی نعروں کے بجائے مستقل ضابطۂ حیات بنایا، وہی زندہ رہیں۔ یومِ قائد ہمیں یہی یاد دہانی کراتا ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا دیا ہوا پیغام ایمان، اتحاد، تنظیم کوئی وقتی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر قومی منشور تھا، جس کی جڑیں براہِ راست اسوۂ حسنہ ﷺ میں پیوست تھیں۔

قائدِ اعظمؒ محض ایک مدبر سیاست دان نہیں تھے، وہ ایک نظریاتی رہنما تھے۔ ان کے نزدیک ایمان محض مذہبی وابستگی کا نام نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی، اصول پسندی اور مقصد سے وابستگی کا دوسرا نام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بارہا کہا کہ پاکستان اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کی بنیاد سچے ایمان پر ہوگی۔ یہ وہی ایمان ہے جس کی عملی تصویر ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں نظر آتی ہے—ایسا ایمان جو خوف سے آزاد کرتا ہے، غلامی کو رد کرتا ہے اور انسان کو حق کے سامنے سر جھکانے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتا ہے۔

لیکن قائدِ اعظمؒ بخوبی جانتے تھے کہ ایمان اگر اجتماعی شعور میں نہ ڈھلے تو وہ قوم کو منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اتحاد کا تصور سامنے آتا ہے۔ برصغیر کے مسلمان لسانی، علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر بٹے ہوئے تھے، مگر قائد نے انہیں ایک قوم بنا کر کھڑا کر دیا۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ یہ وہی اصول ہے جو نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں قائم کیا، جہاں مہاجر و انصار کو اخوت کے رشتے میں باندھ کر ایک متحد امت کی بنیاد رکھی گئی۔ قائدِ اعظمؒ کا تصورِ اتحاد بھی اسی نبوی حکمت کا تسلسل تھا فرقوں اور گروہوں سے بالاتر ہو کر ایک مقصد پر یکجا ہونا۔

قائدِ اعظمؒ کے پیغام کا تیسرا اور سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا پہلو تنظیم ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بغیر تنظیم کے نہ تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں اور نہ ریاستیں قائم رہتی ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی نظم و ضبط، مشاورت اور ذمہ داری کی اعلٰی مثال ہے۔ بدر کے میدان سے لے کر ریاستِ مدینہ کے نظم تک، ہر جگہ تنظیم کی قوت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی سبق قائدِ اعظمؒ نے قوم کو دیا ایک منظم قوم، ایک باقاعدہ جدوجہد، اور ایک واضح لائحۂ عمل۔ تحریکِ پاکستان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ قائد کا ایمان مضبوط، اتحاد واضح اور تنظیم مؤثر تھی۔

آج یومِ قائد کے موقع پر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی تقاریر کرتے ہیں یا کتنے بینر آویزاں کرتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے قائد کے پیغام پر کتنا عمل کیا؟ کیا ہمارا ایمان کردار میں ڈھل سکا؟ کیا ہم واقعی ایک متحد قوم ہیں یا ایک منتشر گروہ؟ اور کیا ہماری اجتماعی زندگی میں نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساسِ ذمہ داری موجود ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے قائد کے الفاظ کو تو یاد رکھا، مگر ان کی روح کو فراموش کر دیا۔

آج پاکستان کی ریاست اور پاکستانیوں کو جن بحرانوں کا سامنا ہے سیاسی انتشار، معاشی بے یقینی اور سماجی بے راہ روی ان کا حل کسی نئے نعرے میں نہیں بلکہ اسی پیغام میں پوشیدہ ہے جو قائدِ اعظمؒ نے اسوۂ حسنہ ﷺ سے اخذ کر کے ہمیں دیا تھا۔ ایمان جو خوف سے نجات دے، اتحاد جو نفرتوں کو مٹا دے، اور تنظیم جو قوت کو سمت دے یہی وہ نسخہ ہے جو قوموں کو عروج دیتا ہے۔

یومِ قائد کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم قائدِ اعظمؒ کو محض تصویر یا اقتباس تک محدود نہ کریں، بلکہ ان کے پیغام کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو یہ دن محض یادگار نہیں رہے گا بلکہ ایک نئی قومی تجدید کا نقطۂ آغاز بن جائے گا اور یہی قائدِ اعظمؒ کے ساتھ سچی وفاداری ہے۔

No comments:

Post a Comment