اللہ کا دین مکمّل ہے، اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
اسلام ایک ہمہ گیر، آفاقی اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر ہے، جن میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اعلانِ ابدی ہے:
﴿اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ﴾
(المائدہ: 3)
یعنی “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔”
یہ آیت اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ دینِ اسلام کسی اضافے، ترمیم یا فرقہ وارانہ تعبیر کا محتاج نہیں۔
اسلام کا بنیادی پیغام توحید، رسالت اور آخرت ہے، جس کے گرد پوری شریعت گھومتی ہے۔ قرآن مسلمانوں کو ایک امت قرار دیتا ہے:
﴿اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً﴾ (الانبیاء: 92)
مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس “امتِ واحدہ” کو مسلکی، فقہی اور گروہی خیموں میں بانٹ دیا۔ نتیجتاً اسلام وحدت کا دین ہوتے ہوئے بھی اختلاف و انتشار کی علامت بنا دیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں تفرقے سے خبردار فرمایا:
“میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، نجات پانے والا وہ ہو گا جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو گا۔”
(ترمذی)
یہ حدیث فرقہ سازی کی توثیق نہیں بلکہ نجات کے معیار کی نشاندہی ہے: قرآن و سنت، فہمِ صحابہؓ کے مطابق۔
فرقہ واریت دراصل دین نہیں، دین پر اپنی رائے مسلط کرنے کا نام ہے۔ جب مسلک دین سے بڑا ہو جائے، جب امام، پیر یا جماعت قرآن و سنت پر فوقیت حاصل کر لے، تو پھر اسلام پس منظر میں چلا جاتا ہے اور فرقہ سامنے آ جاتا ہے۔ قرآن ایسے رویّے کی سختی سے نفی کرتا ہے:
﴿وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَکَانُوۡا شِیَعًا﴾
(الروم: 32)
علامہ اقبالؒ نے ملتِ اسلامیہ کے زوال کی سب سے بڑی وجہ فرقہ بندی کو قرار دیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں:
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
اقبال کے نزدیک اسلام ایک زندہ، متحرک اور انقلابی دین ہے، جو عمل، اخلاص اور وحدت چاہتا ہے، نہ کہ خانقاہی جمود یا مسلکی تعصب۔ ان کا تصورِ دین ہمیں قرآن سے جوڑتا ہے، نہ کہ فرقوں کی دیواروں میں قید کرتا ہے:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
یہی وجہ ہے کہ اقبال “مسلمان” کو ایک نظریاتی شناخت دیتے ہیں، نہ کہ فرقہ وارانہ لیبل۔ ان کے نزدیک مسلمان وہ ہے جو قرآن کا حامل، رسول ﷺ کا عاشق اور امت کے درد سے آگاہ ہو۔
آج امتِ مسلمہ جن فکری، سیاسی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، ان کی جڑ میں یہی فرقہ واریت ہے۔ ہم نے اصل اسلام کو چھوڑ کر اس کے نام پر بنے قلعوں میں پناہ لے لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دشمن متحد ہے اور ہم منتشر۔
حل واضح اور سادہ ہے:
قرآن کو مرکز بنایا جائے، سنت کو معیار، اور صحابہؓ کے فہم کو میزان۔ فقہی اختلاف کو وسعتِ نظر کے ساتھ قبول کیا جائے، مگر اسے دین کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ مسلک راستہ ہو سکتا ہے، منزل نہیں۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ اسلام میں فرقے نہیں، فرقوں میں اسلام تلاش کرنا خود فریبی ہے۔ اگر ہمیں عزت، وحدت اور غلبہ درکار ہے تو ہمیں دینِ کامل کی طرف لوٹنا ہو گا، نہ کہ نامکمل تعبیرات کی طرف۔ یہی قرآن کا پیغام ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کی تعلیم اور یہی اقبال کا خواب۔
No comments:
Post a Comment