علماءِ سوء کا کردار اور علماءِ حق کے فرائضِ منصب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ كَذٰلِكَ۰ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ"
(سورۃ فاطر، آیت 28)
مفہوم: اللہ تعالٰی سے خوف و خشیت رکھنے والے ہی اصل علم رکھتے ہیں، نہ کہ صرف سند و ڈگری والے۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں رنگ و نسل، صورت و سیرت، عادات و مزاج کی بے پناہ گوناگونی انسان کے شعور کو عبرت و بصیرت سکھاتی ہے۔ اسی گہرے علم کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہے، ورنہ ظاہری علوم بے اثر رہ جاتے ہیں۔ علم صرف کثرتِ کلام نہیں، بلکہ تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کی پہچان ہے۔
اصل علماء وہ ہیں جو حق و حقیقت کے علم سے اللہ کی معرفت رکھتے ہیں، مادی دنیا کے خواہشات میں الجھے نہیں رہتے، بلکہ انسانیت کی بھلائی، دین کی صحیح تعلیم اور امت کی ہدایت کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ قرآن و سنت، اسوۃ حسنہ کے مطابق معاشرتی، دینی اور اخلاقی اصلاح کرتے ہیں اور امت کی ہدایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج بہت سے عناصر، جو علمائے سوء کہلاتے ہیں، دین کے نام پر فرقہ پرستی، منافرت اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ افراد قرآن و سنت اور رسول اللہ ﷺ کی اسوۃ حسنہ کو ثانوی سمجھ کر اپنے فرقے یا ذاتی نظریات کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ امت کو تقسیم کرتے، بھائی کو بھائی سے لڑواتے اور دین کو اپنی من مانت تعلیمات میں بدل دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق یہ سب حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔
اصل دین اسلام قرآن و سنت پر مبنی ہے اور کسی انسان یا فرقے کے نظریات اس میں اتھارٹی نہیں رکھتے۔ امت کے اتحاد کے لیے لازم ہے کہ سب مسلمان صرف "مسلم" کے طور پر قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی پیروی کریں۔ فرقہ پرستی، گروہ بندی اور نفرت پھیلانے والے علماءِ سوء کے اثر سے بچنا ضروری ہے، اور ان کے نظریات کو دین کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔
مسلم علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران اپنے فرائض منصبی میں یہ ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ اللہ و رسول ﷺ کے مقاصد دین، قرآن و سنت اور اسوۃ حسنہ کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور امت کو اسی کی دعوت دیں۔ انہیں اپنی ذاتی یا انسانی خیالات کو بالائے طاق رکھ کر امت کی اصلاح، عدل و انصاف، حقوق اللہ و حقوق العباد، معاشرتی اصلاح اور اتحادِ امت کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مسلم معاشرے کے افراد کو باعمل مسلمان بنانے، گناہوں سے بچانے، ممنوعات، فساد، فرقہ واریت، بدعات اور دیگر معاشرتی برائیوں سے روکنے کے لیے علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران مستقل کوشش کریں۔ امت کی یکجہتی، اخوت، امن، فلاح و ترقی انہی کی مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علماءِ حق کی پیروی کرنے اور علماءِ سوء کے اثر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری تمام تر توجہ قرآن و سنت، رسول ﷺ کی پیروی اور اصل اسلام کے احکام پر ہو، تاکہ امت مسلمہ دوبارہ وحدت اور اخوت کی مثال قائم کر سکے۔ آمین۔ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ كَذٰلِكَ۰ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ"
(سورۃ فاطر، آیت 28)
مفہوم: اللہ تعالیٰ سے خوف و خشیت رکھنے والے ہی اصل علم رکھتے ہیں، نہ کہ صرف سند و ڈگری والے۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں رنگ و نسل، صورت و سیرت، عادات و مزاج کی بے پناہ گوناگونی انسان کے شعور کو عبرت و بصیرت سکھاتی ہے۔ اسی گہرے علم کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہے، ورنہ ظاہری علوم بے اثر رہ جاتے ہیں۔ علم صرف کثرتِ کلام نہیں، بلکہ تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کی پہچان ہے۔
اصل علماء وہ ہیں جو حق و حقیقت کے علم سے اللہ کی معرفت رکھتے ہیں، مادی دنیا کے خواہشات میں الجھے نہیں رہتے، بلکہ انسانیت کی بھلائی، دین کی صحیح تعلیم اور امت کی ہدایت کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ قرآن و سنت، اسوۃ حسنہ کے مطابق معاشرتی، دینی اور اخلاقی اصلاح کرتے ہیں اور امت کی ہدایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج بہت سے عناصر، جو علمائے سوء کہلاتے ہیں، دین کے نام پر فرقہ پرستی، منافرت اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ افراد قرآن و سنت اور رسول اللہ ﷺ کی اسوۃ حسنہ کو ثانوی سمجھ کر اپنے فرقے یا ذاتی نظریات کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ امت کو تقسیم کرتے، بھائی کو بھائی سے لڑواتے اور دین کو اپنی من مانت تعلیمات میں بدل دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق یہ سب حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔
اصل دین اسلام قرآن و سنت پر مبنی ہے اور کسی انسان یا فرقے کے نظریات اس میں اتھارٹی نہیں رکھتے۔ امت کے اتحاد کے لیے لازم ہے کہ سب مسلمان صرف "مسلم" کے طور پر قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی پیروی کریں۔ فرقہ پرستی، گروہ بندی اور نفرت پھیلانے والے علماءِ سوء کے اثر سے بچنا ضروری ہے، اور ان کے نظریات کو دین کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔
مسلم علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران اپنے فرائض منصبی میں یہ ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ اللہ و رسول ﷺ کے مقاصد دین، قرآن و سنت اور اسوۃ حسنہ کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور امت کو اسی کی دعوت دیں۔ انہیں اپنی ذاتی یا انسانی خیالات کو بالائے طاق رکھ کر امت کی اصلاح، عدل و انصاف، حقوق اللہ و حقوق العباد، معاشرتی اصلاح اور اتحادِ امت کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مسلم معاشرے کے افراد کو باعمل مسلمان بنانے، گناہوں سے بچانے، ممنوعات، فساد، فرقہ واریت، بدعات اور دیگر معاشرتی برائیوں سے روکنے کے لیے علماء کرام، مذہبی پیشوا اور حکمران مستقل کوشش کریں۔ امت کی یکجہتی، اخوت، امن، فلاح و ترقی انہی کی مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علماءِ حق کی پیروی کرنے اور علماءِ سوء کے اثر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری تمام تر توجہ قرآن و سنت، رسول ﷺ کی پیروی اور اصل اسلام کے احکام پر ہو، تاکہ امت مسلمہ دوبارہ وحدت اور اخوت کی مثال قائم کر سکے۔ آمین۔
No comments:
Post a Comment