Monday, 12 January 2026

اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ

آیتِ کریمہ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (البقرہ: 208)

مفہوم:

اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں آیت کا جامع مفہوم

یہ آیتِ مبارکہ دراصل دینِ اسلام کی کلیت، جامعیت اور کامل اطاعت کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کو جزوی طور پر نہیں بلکہ مکمل اور ہمہ گیر انداز میں اختیار کریں۔

1۔ “ادخلوا فی السلم کافّة” کا مفہوم

لفظ “السِّلْم” سے مراد اسلام، اطاعتِ الٰہی اور اللہ کے دین کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنا ہے، جبکہ “کافّة” کا مطلب ہے: مکمل طور پر، ہر پہلو سے اور بغیر کسی استثنا کے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان:

عقائد میں بھی اسلام کو اختیار کرے

عبادات میں بھی

معاملات میں بھی

معاشرت اور سیاست میں بھی

اخلاق اور کردار میں بھی

یعنی اسلام کو صرف چند مذہبی رسومات تک محدود نہ کرے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت کی رہنمائی کو اختیار کرے۔

قرآن مجید کی ایک اور آیت اسی حقیقت کو یوں واضح کرتی ہے:

أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ

مفہوم: کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ (البقرہ:85)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کو جزوی طور پر قبول کرنا دراصل قرآن کے مزاج کے خلاف ہے۔

2۔ “ولا تتبعوا خطوات الشیطان” کا مفہوم

آیت کا دوسرا حصہ شیطان کے طریقوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔ “خطوات الشیطان” سے مراد وہ تمام راستے، طریقے اور وسوسے ہیں جن کے ذریعے شیطان انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن نے کئی جگہ واضح کیا ہے کہ شیطان کا اصل مقصد انسان کو اللہ کے راستے سے ہٹانا ہے:

إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا

مفہوم: بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، لہٰذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ (فاطر:6)

شیطان کے قدموں کی پیروی کے چند مظاہر یہ ہو سکتے ہیں:

دین میں اپنی خواہشات کو شامل کرنا

قرآن و سنت کے بجائے خواہشات یا رسوم کو ترجیح دینا

فرقہ واریت اور تعصب کو فروغ دینا

گناہوں کو معمولی سمجھنا

شیطان انسان کو یک دم گمراہ نہیں کرتا بلکہ تدریجاً قدم بہ قدم گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، اسی لیے قرآن نے “خطوات” (قدموں) کا لفظ استعمال کیا ہے۔

3۔ سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں

رسول اللہ ﷺ نے بھی دین کو مکمل طور پر اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:

“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔”

یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ایمان کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب انسان اپنی خواہشات اور ذاتی رجحانات کو بھی شریعت کے تابع کر دے۔

4۔ آیت کا عملی پیغام

یہ آیت مسلمانوں کو تین بنیادی ہدایات دیتی ہے:

اسلام کو مکمل طور پر اختیار کیا جائے

دین میں جزوی عمل یا انتخابی اطاعت سے بچا جائے

شیطانی وسوسوں اور گمراہ کن راستوں سے دور رہا جائے

یعنی ایک مسلمان کی زندگی کا ہر پہلو قرآن و سنت کے تابع ہونا چاہیے۔

خلاصۂ مفہوم

اس آیت کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اسلام کو جزوی نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر اختیار کرے اور ہر اس راستے سے بچ کر رہے جو شیطان کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس کی اصل کوشش یہی ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ کی ہدایت سے دور کر دے۔

دعا

اللہ ربّ العالمین ہمیں قرآنِ مجید کو صحیح طور پر سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے اور شیطان کے ہر فریب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ وَجَنِّبْنَا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔

اللهم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

No comments:

Post a Comment