اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: "اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے" (البقرہ:208)۔ یہ آیت کریمہ مسلمان کے لیے مکمل انقیاد اور تسلیم و رضا کا پیغام دیتی ہے۔ اسلام محض چند ظاہری رسومات یا علامتوں کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظام حیات ہے جو انسان کے عقائد، عبادات، اخلاقیات، معاملات اور معاشرتی زندگی کو محیط ہے۔
آج کا مشاہدہ ہے کہ بعض حلقوں میں دینداری کو محض چند ظاہری سنتوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ باطنی سنتیں، فرائض اور حقوق العباد نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر پہلو میں قرآن و سنت کی کامل اتباع کرے۔
سنت کا صحیح مفہوم
سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر پر مشتمل ہے۔ یہ قرآن مجید کی عملی تفسیر اور تشریح ہے۔ علماء نے سنت کی تین اقسام بیان کی ہیں:
1. سنت قولی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات
2. سنت فعلی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی طریقے
3. سنت تقریری: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموش منظوری
سنت کا دائرہ وسیع ہے اور اس میں عبادات، معاملات، اخلاقیات اور زندگی کے تمام شعبے شامل ہیں۔ کسی ایک سنت کو اختیار کرکے دوسری سنتوں کو ترک کرنا اسلام کے مکمل ہونے کے تصور کے منافی ہے۔
فرقہ پرستی: ایک سنگین انحراف
قرآن و حدیث میں مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا گیا ہے اور فرقہ بندی سے منع کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود کے 71 اور عیسائیوں کے 72 فرقے ہوئے، اور میری امت کے 73 فرقے ہوں گے، جن میں سے صرف ایک جماعت نجات پائے گی۔ یہ نجات پانے والی جماعت وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریقے پر قائم رہے گی۔
فرقہ پرستی کے نتیجے میں امت مسلمہ میں انتشار، منافرت اور کمزوری پیدا ہوئی ہے۔ اصل توجہ اسلام کے عالمگیر پیغام اور امت کے اتحاد پر ہونی چاہیے نہ کہ فرقہ واریت کی حدود میں مقید ہونے پر۔
عبادت کا جامع تصور
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے" (الذاریات:56)۔ یہاں عبادت سے مراد محض نماز، روزہ، حج اور زکواۃ ہی نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا ہے۔
عبادت کے وسیع مفہوم میں شامل ہے:
· حقوق اللہ کی ادائیگی
· حقوق العباد کی پاسداری
· معاشرتی عدل و انصاف
· اخلاقی قدروں کا تحفظ
· اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا
اختتامی کلام
مسلمان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلام کو جزوی طور پر نہیں، بلکہ مکمل طور پر اپنائیں۔ ظاہری و باطنی، فردی و اجتماعی، عقیدتی و عملی تمام پہلوؤں میں قرآن و سنت کی پیروی کریں۔ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے پرہیز کریں اور امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے لیے کوشاں رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے اور دین میں مکمل انقیاد کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے اور ہمارے اختتام کو اسلام پر مقدر فرمائے۔ آمین!
No comments:
Post a Comment