Wednesday, 26 August 2015

اسوۃ حسنۃﷺ کی روشنی میں (عصرِ حاضر میں) تبلیغ ِدین

اسوۃِ حسنہ ﷺ کی روشنی میں عصرِ حاضر میں تبلیغِ دین
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں (المعروف غلام مصطفٰی الراعی)، کراچی
دراصل قرآن و سنت ہی وہ بنیادی سرچشمۂ ہدایت ہے جو حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں کو دائمی تابناکی عطا کرتا ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ نے رہنمائی نہ دی ہو۔ شادی و غمی کے معاملات ہوں یا لین دین کے اصول، سماجی عہد و پیمان ہوں یا انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب، حرمتِ سود اور حلتِ بیع کے ضوابط ہوں یا جنگ و امن کے اصول، اخلاقِ حسنہ کی ترغیب ہو یا برے اوصاف سے اجتناب—الغرض انسانی زندگی کے ہر گوشے میں قرآن و سنت ہی اصل رہنما ہیں۔ انہی بنیادی شعبوں میں سے ایک اہم اور بنیادی شعبہ تبلیغِ دین بھی ہے۔
تبلیغ درحقیقت وہ فریضہ ہے جو تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی مشترکہ سنت رہا ہے۔ انسانی معاشرے کو برائیوں سے پاک رکھنا، چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، دینِ اسلام کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی لیے اسلام برائیوں کے سدباب اور خیر و صلاح کے فروغ کا داعی ہے۔ اسلامی معاشرہ دراصل خیر، عدل اور فلاح کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے، لہٰذا جو چیز معاشرے کے اخلاقی اور روحانی توازن کو نقصان پہنچائے اسے ختم کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
یہ فریضہ صرف علماء یا دینی طبقات تک محدود نہیں بلکہ امت کا ہر فرد، خواہ وہ دینی علم رکھتا ہو یا دنیاوی علوم کا ماہر ہو، کسی نہ کسی درجے میں اس ذمہ داری کا مکلف ہے۔ اگر مسلمان اس فریضے سے غفلت برتیں تو وہ خود بھی روحانی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں اور غیر مسلم بھی نعمتِ اسلام کی ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ تبلیغِ دین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: مسلمان اور غیر مسلم۔ مسلمانوں کے لیے تبلیغ کا مقصد ان کے ایمان اور عمل کی اصلاح ہوتا ہے، جبکہ غیر مسلموں کے لیے مقصد انہیں اسلام کے پیغام سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں پہلو بیک وقت ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔
تبلیغ کے لغوی و اصطلاحی معانی
تبلیغ کا لغوی مفہوم کسی پیغام کو پہنچانا یا آگاہ کرنا ہے۔ اہلِ لغت کے مطابق اس کے معانی میں فصاحت، بلاغت اور مؤثر اندازِ بیان بھی شامل ہیں۔ اصطلاحی طور پر تبلیغ سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین کو لوگوں تک پہنچانا، انہیں خیر کی طرف بلانا اور گمراہی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی لیے علماء نے اسے ایک مقدس فریضہ قرار دیا ہے جس کا مقصد حق اور صداقت کو عام کرنا ہے۔
ایک سیرت نگار کے بقول تبلیغ ایسا عمل ہے جس میں اخلاص کے ساتھ لوگوں کو ایک نصب العین کی طرف بلایا جاتا ہے، انہیں اس سے انحراف کے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور ان کے دلوں میں خیر و ہدایت کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب اپنے اپنے تبلیغی نظام رکھتے ہیں، مگر اسلام میں تبلیغ کا دائرہ سب سے زیادہ وسیع اور جامع ہے۔
قرآن مجید کی تعلیمات اور تبلیغ کا اسلوب
قرآن مجید نے دعوت و تبلیغ کے بنیادی اصول نہایت واضح انداز میں بیان کیے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ
مفہوم: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور اگر بحث کی ضرورت ہو تو بہترین طریقے سے کرو۔
یہ آیت دعوت و تبلیغ کے تین بنیادی اصول واضح کرتی ہے:
حکمت
موعظۂ حسنہ
جدال بالتی ہی احسن
حکمت سے مراد مضبوط اور معقول دلائل ہیں جو حق کو واضح کر دیں اور شبہات کو دور کر دیں۔ موعظۂ حسنہ کا مطلب ایسی نصیحت ہے جو دلوں کو نرم کر دے اور انسان کو خیر کی طرف راغب کرے۔ جبکہ جدال بالتی ہی احسن کا مطلب یہ ہے کہ اگر مناظرہ یا بحث کی ضرورت پیش آئے تو وہ مہذب اور شائستہ انداز میں ہو۔
مفسرین کے مطابق ایک غیر تربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر اس کے دلائل کمزور ہوں یا اس کا انداز سخت اور جارحانہ ہو۔ اس لیے قرآن نے دعوت کے ساتھ حکمت اور حسنِ اخلاق کو لازمی قرار دیا ہے۔
انبیاء علیہم السلام کا تبلیغی کردار
انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام انسانی تاریخ کے سب سے بڑے مبلغ اور مصلح رہے ہیں۔ جہاں کہیں بھی حق، صداقت اور اخلاق کی روشنی نظر آتی ہے وہاں ان ہی ہستیوں کی تعلیمات کا اثر ملتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کی اصلاح اور توحید کی دعوت کے لیے مبعوث فرمایا اور انہیں انسانیت کے لیے امام قرار دیا۔ ان کی دعوت نے معاشرے میں فکری انقلاب برپا کیا اور توحید کے اصول کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے ظالم حکمران کے سامنے بھی دعوتِ حق پیش کی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا:
فَقُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى
مفہوم: اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا اللہ سے ڈر جائے۔
یہ آیت دعوت کے اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ سب سے بڑے ظالم کے سامنے بھی داعی کو نرم مزاجی اور حکمت اختیار کرنی چاہیے۔
رسول اکرم ﷺ کا اسوۂ تبلیغ
رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے دنیا اخلاقی، فکری اور سماجی انتشار کا شکار تھی۔ مختلف قومیں تعصب اور جاہلیت میں مبتلا تھیں۔ ایسے ماحول میں آپ ﷺ نے دعوتِ توحید کے ذریعے انسانیت کو ایک نئے فکری انقلاب سے روشناس کرایا۔
آپ ﷺ کی دعوت کا انداز نہایت حکیمانہ اور مؤثر تھا۔ آپ کی گفتگو سادہ، واضح اور دل نشین ہوتی تھی۔ آپ ﷺ نہایت شیریں کلام تھے اور ہر بات اس انداز سے بیان فرماتے کہ سننے والا اسے آسانی سے سمجھ لیتا۔
آپ ﷺ نے تبلیغِ دین کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ کبھی انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے، کبھی اجتماعی خطابات کے ذریعے، کبھی قبائل کے سرداروں سے ملاقات کرکے اور کبھی خطوط کے ذریعے دنیا کے حکمرانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔
آپ ﷺ نے دعوت کے راستے میں بے شمار مشکلات برداشت کیں۔ سفرِ طائف میں جب آپ کو پتھروں سے لہولہان کر دیا گیا تو آپ نے بددعا کے بجائے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔ اسی طرح غزوۂ احد میں زخمی ہونے کے باوجود آپ نے فرمایا:
اللهم اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون
اے اللہ! میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ یہ جانتے نہیں۔
یہی وہ اخلاقی عظمت ہے جس نے دشمنوں کو بھی متاثر کیا اور اسلام کی دعوت کو دلوں تک پہنچایا۔
عصرِ حاضر میں تبلیغِ دین
آج کا دور علم و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ نے دعوتِ دین کے امکانات کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے۔
آج تبلیغ کے لیے درج ذیل ذرائع انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
مساجد اور دینی اجتماعات
تعلیمی ادارے
اخبارات اور رسائل
ریڈیو اور ٹیلی ویژن
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا
ان ذرائع کو مثبت انداز میں استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تبلیغ میں حکمت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کو ملحوظ رکھا جائے۔
حاصلِ کلام
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد انسانیت کو ہدایت اور فلاح کی راہ دکھانا تھا۔ آپ ﷺ نے دعوتِ دین کے لیے بے مثال صبر، حکمت اور اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی یہی سنت آج کے داعیانِ اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آج امت مسلمہ کو مادہ پرستی، فکری انتشار، احساسِ کمتری اور باہمی اختلافات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ہم قرآن مجید کے بیان کردہ اصول—حکمت، موعظۂ حسنہ اور حسنِ اخلاق—کو اپناتے ہوئے تبلیغِ دین کا کام کریں تو یقیناً کامیابی اور فلاح ہمارے مقدر بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو سمجھنے، اسوۂ حسنہ ﷺ کو اپنانے اور دینِ اسلام کا پیغام حکمت اور محبت کے ساتھ دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰهُمَّ ارزقنا صدق الدعوة إلى دينك، واجعلنا من المقتدين بسنة نبيك ﷺ، ووفّقنا لنشر الهداية بالحكمة والموعظة الحسنة.
اللّٰهُمَّ أصلح أحوال أمة محمد ﷺ، واجعلنا من الداعين إلى الخير والآمرين بالمعروف والناهين عن المنكر.
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
اللّٰهُمَّ آمین ثم آمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔

Monday, 17 August 2015

(حِصّہ 6)- اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام

(حِصّہ 6)- اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام۔ 
ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری رسول، محمد ﷺ پر جو دین نازل فرمایا، وہ مکمل، محفوظ اور قیامت تک کے لیے کافی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدہ: 3)۔ اس اعلانِ ربانی کے بعد کسی نئے مذہبی عنوان، گروہی شناخت یا فرقہ وارانہ نسبت کی کوئی شرعی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اسلام اپنی اصل میں وحدت، اخوّت اور اجتماعیت کا دین ہے؛ تفرقہ، تعصب اور گروہ بندی اس کی روح کے منافی ہیں۔
فرقہ پرستی: امت کے جسدِ واحد پر ضرب
فرقہ پرستی، مسلک پرستی، شخصیت پرستی اور مفاد پرستی نے امت کو فکری اور عملی طور پر کمزور کیا ہے۔ قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103) اور اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اپنی بنیادی شناخت “مسلمان” کے بجائے مسلکی لیبلز سے متعارف کرانے میں فخر محسوس کریں تو یہ طرزِ فکر خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ائمہ اربعہ—ابو حنیفہ، مالک بن انس، محمد بن ادریس الشافعی اور احمد بن حنبل—نے اصولِ دین میں کبھی اختلاف نہیں کیا۔ ان کا اختلاف صرف فروعی و اجتہادی مسائل میں تھا، جو انسانی فہم کا طبعی نتیجہ ہے۔ اسے فرقہ واریت میں بدل دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
ناموں کی تقدیس یا اعمال کی اصلاح؟
ہم نے مقدس ناموں کو شعار بنا لیا مگر اخلاقی اصلاح کو پسِ پشت ڈال دیا۔ کاروبار کا نام “مدینہ”، “مکہ” یا “حرم” رکھ دینے سے برکت خود بخود نازل نہیں ہوتی جب تک دیانت، صداقت اور عدل نہ ہو۔ یہی بات صلاۃ کے باب میں بھی ہے: جب تک بندہ معانی و مفاہیم سمجھے بغیر محض الفاظ دہراتا رہے، مطلوبہ خشوع و خضوع کیسے پیدا ہوگا؟ اگر نسلیں قرآن پڑھتی رہیں مگر سمجھنے کی طرف متوجہ نہ ہوں تو ہدایت کا عملی ظہور کیسے ہوگا؟
خود احتسابی کا استعارہ
معاشرے میں یہ عمومی رویہ بن چکا ہے کہ ہر برائی کا ذمہ “شیطان” پر ڈال دیا جائے۔ حالانکہ قرآن انسان کو اپنی نیت، ارادہ اور عمل کا خود ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ اگر ظلم، بددیانتی، رشوت، فحاشی اور استحصال ہمارے اجتماعی رویّے کا حصہ ہیں تو ہمیں اپنے باطن میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ محض الزام تراشی اصلاح کا متبادل نہیں۔
مدارس، مساجد اور نصابِ تعلیم
ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیم گاہیں قرآن و سنت کی جامع، معتدل اور عصری فہم فراہم کریں۔ عربی زبان کی مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ ہر تعلیم یافتہ مسلمان کم از کم اتنی استعداد رکھتا ہو کہ قرآن کو براہِ راست سمجھ سکے۔ جب فہم پیدا ہوگا تو تعصب کی شدت خود بخود کم ہوگی۔ مساجد کو فرقہ وارانہ شناخت کے بجائے “اللہ کے گھر” کی حیثیت سے قائم رکھا جائے؛ ان پر کسی خاص گروہ کی چھاپ دینا اخوّتِ اسلامی کے منافی ہے۔
ریاست اور معاشرہ: مشترکہ ذمہ داری
اگر فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دی جائے تو وہ بالآخر معاشرتی امن کو نگل لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون، تعلیم، میڈیا اور مذہبی قیادت سب مل کر اس ناسور کا تدارک کریں۔ نفرت انگیزی اور تکفیر کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور اتحادِ امت کو عملی پروگرام بنایا جائے۔
اصل معیار: اطاعتِ رسول ﷺ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (النساء: 80) اور وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ (الاحزاب: 36)۔ پس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ محبت، اطاعت اور ترجیح کا مرکز اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہوں—نہ کہ کوئی مسلکی شناخت یا گروہی وابستگی۔
نتیجہ
اسلام کامل ہے، اس میں کسی اضافی شناخت کی ضرورت نہیں۔ فرقہ واریت نے ہمیں کمزور کیا، تقسیم کیا اور باہمی اعتماد کو مجروح کیا۔ نجات کی راہ یہی ہے کہ ہم قرآن و سنت کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا محور بنائیں، فروعی اختلاف کو وسعتِ نظر سے قبول کریں، اور اصولی اتحاد کو مضبوط کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے، تعصب سے بچائے، اور امتِ مسلمہ کو حقیقی اخوّت و وحدت نصیب فرمائے۔ اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین

اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام

اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام
قرآن مجید اور دین کی تکمیل کا تقاضا
تحریر: تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
اللہ ربّ العالمین سبحانہٗ و تعالیٰ نے نوعِ انسان کی ہدایت کے لیے اپنا آخری اور مکمل پیغام قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا، اور اس کی عملی تفسیر و تشریح اپنے آخری رسول محمد ﷺ کی سنّت و اسوۂ حسنہ کے ذریعے واضح کر دی۔ وحیِ متلو (قرآن) اور وحیِ غیر متلو (سنّت) مل کر دینِ حق “الاسلام” کی کامل و اکمل صورت پیش کرتے ہیں۔
قرآنِ حکیم میں بار بار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ
اور فرمایا:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ
یہ آیات اس اصولِ قطعی کو واضح کرتی ہیں کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ کن مرجع صرف کتاب اللہ اور سنّتِ رسول ﷺ ہیں، نہ کہ کسی فرد، گروہ یا خودساختہ مسلکی تعبیرات۔
فرقہ پرستی: اصولِ دین سے انحراف
قرآن مجید نے تفرقہ و تحزّب سے صریحاً منع فرمایا:
وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا
دین اسلام کی بنیاد توحید، رسالت، آخرت اور اخلاقِ فاضلہ پر ہے۔ ان بنیادی اصولوں میں تمام صحابۂ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین کا کامل اتفاق رہا۔ فقہی اختلافات فروعات میں تھے، جنہیں کبھی بھی امت کی تقسیم اور تکفیر کا ذریعہ نہیں بنایا گیا۔
تاریخِ اسلام کا سنہرا دور—جسے “قرونِ اولیٰ” کہا جاتا ہے—اس بات کا گواہ ہے کہ مسلمان اپنی اصل شناخت “مسلمان” پر متفق تھے۔ نہ سنی، نہ شیعہ، نہ دیوبندی، نہ بریلوی، نہ سلفی—بلکہ صرف “مسلم”۔
ائمۂ اربعہ کا منہج: اتحاد، نہ کہ افتراق
ابو حنیفہ، محمد بن ادریس الشافعی، مالک بن انس اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے درمیان علمی اختلافات ضرور تھے، مگر ان میں سے کسی نے دوسرے کو گمراہ یا خارج از اسلام قرار نہیں دیا۔ اختلاف کو رحمت سمجھا گیا، نہ کہ عداوت کا ہتھیار۔
امام ابو حنیفہؒ کا قول معروف ہے: “یہ میری رائے ہے، اگر کسی کے پاس اس سے بہتر دلیل ہو تو وہی درست ہے۔” یہی علمی تواضع امت کے اتحاد کی بنیاد تھی۔
مفاد پرستی اور مذہبی کاروبار
افسوس کہ بعد کے ادوار میں بعض نام نہاد علماء، مذہبی پیشوا اور سیاسی قائدین نے دین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ قرآن و سنّت کی اصل دعوت—تزکیہ، عدل، اخوت اور امر بالمعروف—پسِ پشت ڈال کر مسلکی تعصبات کو ہوا دی گئی۔
مساجد، مدارس اور منابر—جو امت کے اتحاد کے مراکز ہونے چاہییں تھے—بعض اوقات فرقہ وارانہ کشمکش کے اڈے بن گئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
یہ “حبل اللہ” قرآن و سنّت ہی ہیں، نہ کہ کسی مخصوص گروہ کی تعبیر۔
حجة الوداع: اتحاد کا منشور
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں واضح فرمایا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں؛ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
یہ اعلان دراصل امتِ واحدہ کا عالمی منشور تھا—جس میں نسل، زبان، قبیلہ یا مسلک کی بنیاد پر تفریق کی کوئی گنجائش نہیں۔
اصل مسئلہ: اصول اور فروعات کی خلط ملط
فقہی اختلافات اجتہادی نوعیت کے تھے۔ رفع یدین ہو یا ترکِ رفع یدین، آمین بالجہر ہو یا بالاخفاء—یہ سب فروعات ہیں، اصولِ دین نہیں۔ نہ قبر میں ان کا سوال ہوگا، نہ روزِ محشر ان کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ اصل سوال تو ایمان، اخلاص، عدل، حقوق اللہ و حقوق العباد، اور اتباعِ رسول ﷺ کا ہوگا۔
جب فروعات کو اصول کا درجہ دے دیا جائے اور ان پر تکفیر و تفسیق شروع ہو جائے تو یہی فرقہ پرستی جنم لیتی ہے۔
امتِ واحدہ کی بحالی: لائحۂ عمل
قرآن و سنّت کو حتمی مرجع مانا جائے۔
اصولِ دین پر اتحاد اور فروعات میں وسعتِ ظرف اختیار کی جائے۔
مساجد و مدارس کو اتحادِ امت کے مراکز بنایا جائے۔
علماء و قائدین اپنے ذاتی، سیاسی و معاشی مفادات سے بالا ہو کر دین کی خالص دعوت پیش کریں۔
نوجوان نسل کو براہِ راست قرآن و سنّت کے مطالعہ کی ترغیب دی جائے، معروضی اور تحقیقی انداز کے ساتھ۔
نتیجہ
اللہ کا دین مکمل ہے؛ اس میں کسی نئے اضافے یا مسلکی برانڈنگ کی ضرورت نہیں۔ مسلمان ایک امت ہیں، ایک رسول کے پیروکار، ایک کتاب کے ماننے والے، ایک قبلہ کی طرف رخ کرنے والے۔
فرقہ پرستی دراصل امت کی کمزوری ہے، اور اتحاد اس کی قوت۔ اگر ہم نے اپنی اصل پہچان—“مسلمان”—کو پھر سے زندہ کر لیا، اور قرآن و سنّت کی بالادستی کو دل و دماغ سے تسلیم کر لیا، تو امت کی نشاۃِ ثانیہ بعید نہیں۔
اگلا عنوان:
امتِ مسلمہ کا زوال: اسباب و تدارک قرآن و سنّت کی روشنی میں
جاری ہے…

اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام

اللہ تعالٰی کا دین مکمل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
اللّہ تعالٰی جلَّ جلالہٗ کا ارشاد ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (آلِ عمران: 110)
مفہوم: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے؛ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ آیتِ کریمہ امتِ مسلمہ کی امتیازی شان اور اس کی ذمہ داری دونوں کو واضح کرتی ہے۔ “خیرِ اُمت” ہونا کوئی نسلی یا تاریخی اعزاز نہیں بلکہ ایک عملی و اخلاقی منصب ہے، جس کی بنیاد تین اصولوں پر ہے: (1) ایمان باللہ، (2) امر بالمعروف، (3) نہی عن المنکر۔ اگر امت ان اوصاف سے متصف رہے تو وہ خیرِ امت ہے، ورنہ یہ اعزاز سلب بھی ہو سکتا ہے۔
خیرِ امت کا معیار: ایمان اور اصلاحِ معاشرہ
قرآنِ حکیم نے ایمان کو محض قلبی کیفیت نہیں بلکہ ایک فعال ذمہ داری قرار دیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دراصل اجتماعی نگرانی (Collective Moral Responsibility) کا قرآنی نظام ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو امت کو جمود، بدعنوانی اور فکری انحراف سے بچاتا ہے۔
ائمۂ تفسیر نے وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی معاشرہ برائی کو دیکھ کر خاموش رہے تو وہ رفتہ رفتہ اسی برائی کا شریک ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سابقہ امتوں پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے۔ پس اگر امتِ مسلمہ بھی اس فریضہ سے غافل ہو جائے تو اس کی مثال بھی وہی ہو گی۔
اکثر فقہاء کے نزدیک امر بالمعروف و نہی عن المنکر فرضِ کفایہ ہے؛ یعنی اہلِ علم و بصیرت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح علم اور حکمت کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کریں۔ تاہم بعض حالات میں یہ فرضِ عین بھی بن جاتا ہے، خصوصاً جب منکر ظاہر و عام ہو جائے۔
تفرقہ: شیطانی حربہ
سنن ابی داؤد کی روایت میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب کسی منزل پر اترتے تو الگ الگ منتشر ہو جاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تمہارا یہ تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے۔” اس ارشاد کے بعد وہ اس قدر متحد ہو کر قیام کرتے کہ گویا ایک چادر انہیں ڈھانپ لے۔
یہ واقعہ محض سفری نظم و ضبط کا بیان نہیں بلکہ امت کے لیے دائمی اصول ہے: شیطان کی پہلی کوشش اہلِ ایمان کو منتشر کرنا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔”
افتراقِ امت اور “الجماعۃ” کا مفہوم
احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے کہ یہود و نصاریٰ مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور امتِ محمدیہ ﷺ بھی تہتر گروہوں میں تقسیم ہو گی؛ ان میں سے ایک “الجماعۃ” نجات پانے والی ہو گی۔
ائمۂ حدیث و شرح نے واضح کیا ہے کہ “الجماعۃ” سے مراد کوئی مخصوص نام یا تنظیم نہیں بلکہ وہ گروہ ہے جو قرآن و سنت اور تعاملِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر قائم ہو۔
فرقہ پرستی اُس وقت جنم لیتی ہے جب:
مسلکی شناخت کو اسلامی شناخت پر غالب کر دیا جائے؛
جزوی مسائل کو اصل دین بنا لیا جائے؛
ظاہری شعائر کو باطنی اخلاق اور فرائض پر ترجیح دے دی جائے؛
اور اپنے گروہ کو معیارِ حق سمجھ لیا جائے۔
قرآنِ حکیم نے سخت تنبیہ فرمائی:
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ (الأنعام: 159)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ دین کو گروہوں میں تقسیم کرنا قرآنی مزاج کے خلاف ہے۔
ظاہر پرستی اور دین کا اختزال
یہ ایک المیہ ہے کہ بعض حلقوں میں دینداری کو چند نمایاں ظاہری سنن تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ فرائض، عدل، امانت، دیانت، حقوق العباد اور اخلاقِ حسنہ کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔
بلاشبہ داڑھی شعائرِ اسلام میں سے ہے اور سنتِ مؤکدہ بلکہ بعض کے نزدیک واجب کے قریب ہے، مگر دین کو محض ایک یا دو ظاہری علامات میں سمیٹ دینا اور باقی سنن و فرائض سے غفلت برتنا کسی طور درست نہیں۔
اسلام کا مزاج توازن ہے—نہ ظاہر کی نفی، نہ باطن کی غفلت۔
حدیث اور سنت: علمی وضاحت
اہلِ علم نے “حدیث” اور “سنت” کے مفاہیم میں دقیق بحث کی ہے:
بعض کے نزدیک دونوں مترادف ہیں۔
بعض کے نزدیک “حدیث” ہر منقول روایت (صحیح، حسن، ضعیف) کو شامل ہے، جبکہ “سنت” وہ عملی طریقہ ہے جو صحیح احادیث اور تعاملِ صحابہ سے ثابت ہو۔
محدثین کے نزدیک سنت تین طریقوں سے ہم تک پہنچی:
سنت قولی (اقوالِ نبوی ﷺ)
سنت فعلی (افعالِ نبوی ﷺ)
سنت تقریری (آپ ﷺ کے سامنے کسی عمل پر سکوت)
فقہاء کی اصطلاح میں “سنت” فرض و واجب کے مقابل ایک درجہ بھی رکھتی ہے (جیسے سنت مؤکدہ وغیرہ)۔
یہ علمی تفریق اس لیے ضروری ہے تاکہ دین کے مصادر کو خلط ملط نہ کیا جائے اور ہر حکم کو اس کے درجے کے مطابق سمجھا جائے۔
ترکِ نبوی ﷺ: کیا دلیلِ ممانعت ہے؟
ایک اہم اصولی مسئلہ یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ کا کسی کام کو نہ کرنا اس کے ناجائز ہونے کی دلیل ہے؟
جمہور اصولیین کے نزدیک:
فعل جواز کی دلیل ہے؛
مگر عدمِ فعل حرمت کی دلیل نہیں۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“عدم النقل لا يدل على عدم الوقوع، ولو سُلِّم فلا يلزم منه عدم الجواز”
(کسی چیز کا منقول نہ ہونا اس کے واقع نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا، اور اگر مان بھی لیا جائے تو اس سے عدمِ جواز لازم نہیں آتا۔)
اسی اصول سے فقہاء نے یہ قاعدہ اخذ کیا کہ اصل الاشیاء الاباحۃ — اشیاء میں اصل جواز ہے، الا یہ کہ کوئی صریح دلیلِ منع موجود ہو۔
قرآنِ حکیم کا حکم ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر: 7)
یہاں معیار واضح ہے:
جو حکم دیا گیا اسے اختیار کرو، جس سے منع کیا گیا اس سے رک جاؤ۔ محض ترک کو دلیلِ حرمت قرار دینا اصولی طور پر درست نہیں، ورنہ دین کا دائرہ غیر ضروری طور پر تنگ ہو جائے گا۔
عصرِ حاضر کے لیے پیغام
آج امت کا بحران صرف بیرونی نہیں بلکہ داخلی بھی ہے:
فکری انتہا پسندی
گروہی عصبیت
سطحی مذہبیت
اور علمی اصولوں سے ناواقفیت
قرآن و سنت کا جامع منہج ہمیں اعتدال، وحدت اور علمی دیانت کی دعوت دیتا ہے۔
اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ نہ اس میں فرقوں کی گنجائش ہے، نہ فرقہ وارانہ اجارہ داری کی۔ اصل پہچان “مسلم” ہونا ہے—جو اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ اور رسول اللہ ﷺ کے عطا کردہ دین پر قائم ہو۔
خلاصۂ کلام
خیرِ امت ہونے کا معیار ایمان، اصلاح اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
جماعت اور وحدت نجات کا راستہ ہیں۔
فرقہ پرستی قرآنی مزاج کے خلاف ہے۔
دین کو چند ظاہری علامات تک محدود کرنا علمی و شرعی طور پر ناقص ہے۔
حدیث و سنت کے مفاہیم کو اصولی دقت کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
ترکِ نبوی ﷺ کو بلا دلیل حرمت کا معیار بنانا درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہمیں قرآن و سنت کے فہمِ صحیح، اعتدال، وحدتِ امت اور اخلاصِ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی فرقہ واریت اور فکری انحراف سے محفوظ رکھے۔
آمین ثم آمین۔
(اگلی قسط: وحدتِ امت کے عملی تقاضے اور جدید دنیا میں اسلامی شناخت کا احیاء)
جاری ہے …

Saturday, 15 August 2015

اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام

 اللہ تعالٰی کا دین مکمل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام
قرآن مجید کی رسی اور امت کی وحدت
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103)
اور فرمایا:
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ (آلِ عمران: 105)
یہ آیاتِ کریمہ امتِ مسلمہ کے لیے اصولی منشور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ “حبل اللہ” یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دراصل دینِ اسلام کو اجتماعی اور انفرادی سطح پر مرکزِ حیات بنانے کی دعوت ہے۔ مفسرینِ کرام نے “حبل اللہ” سے مراد قرآن، دینِ اسلام، جماعتِ مسلمین، اور عہدِ الٰہی لیا ہے—اور یہ سب معانی باہم مربوط ہیں، کیونکہ اصل مرجع وحیِ الٰہی ہی ہے۔
اللہ کی نعمت: دشمنی سے اخوت تک
آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تاریخی حقیقت کی یاد دہانی کرائی کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ یہ اشارہ مدینہ کے دو بڑے قبائل اوس اور خزرج کی طرف ہے، جو بعثتِ نبوی سے قبل طویل عرصہ تک باہمی جنگوں میں مبتلا رہے۔ تاریخ میں بیان ہوتا ہے کہ ان کے درمیان ایک سو بیس سال تک دشمنی کی آگ بھڑکتی رہی۔ مگر جب وہ دعوتِ اسلام سے مشرف ہوئے اور محمد ﷺ کی قیادت میں جمع ہوئے تو وہی قبائل اخوت و محبت کی مثال بن گئے۔
یہ محض سیاسی اتحاد نہ تھا، بلکہ عقیدۂ توحید کی بنیاد پر قلبی انقلاب تھا۔ قرآن نے اسے اللہ کی “نعمت” قرار دیا—کیونکہ یہ اتحاد کسی نسلی، لسانی یا جغرافیائی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایمان کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔
دوزخ کے کنارے سے نجات
آیت کے الفاظ: وَكُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جاہلی عصبیت، شرک اور قبائلی انتقام نے انہیں ہلاکت کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اسلام نے انہیں نہ صرف اخروی نجات دی بلکہ دنیاوی تباہی سے بھی بچا لیا۔
یہی مضمون سورۃ الانفال میں مزید وضاحت کے ساتھ آیا:
وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۚ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ (الأنفال: 63)
یہ اعلان اس امر کی دلیل ہے کہ حقیقی اتحاد محض وسائل، طاقت یا سیاست سے نہیں آتا؛ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور رسول ﷺ کی اتباع سے پیدا ہوتا ہے۔
حدیث کی روشنی میں “حبل اللہ”
صحیح مسلم میں سیدنا زید بن ارقمؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب جو اللہ کی رسی ہے…” (مسلم، 2408)
اسی طرح صحیح بخاری میں وہ مشہور واقعہ مذکور ہے جس میں ایک مقدمہ کے فیصلے کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا” حالانکہ وہ حکم سنتِ نبوی پر مبنی تھا (بخاری، 6827)۔ اس سے واضح ہوا کہ “کتاب اللہ” کا اطلاق سنت پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ بھی وحیِ الٰہی کا بیان ہے۔
افتراق کا اصل سبب
فرقہ بندی اُس وقت جنم لیتی ہے جب “حبل اللہ” کی مرکزیت کمزور پڑ جاتی ہے اور شخصیتیں، جماعتیں، یا فروعی اختلافات اصل بن جاتے ہیں۔ قرآن نے سخت تنبیہ فرمائی:
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ (الأنعام: 159)
یہ اعلان اس قدر شدید ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایسے لوگوں سے براءت کا حکم دیا گیا جو دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں۔
امارت اور جماعت کی اہمیت
صحیح احادیث میں جماعت کے ساتھ وابستگی اور امیر کی اطاعت پر بارہا زور دیا گیا ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامتؓ کی روایت (مسلم، 125) میں بیعتِ اطاعت کا ذکر ہے—تنگی و فراخی، خوشی و ناخوشی ہر حال میں۔ اسی طرح سیدنا حذیفہؓ کی روایت (بخاری، 7084؛ مسلم، 1847) میں فتنوں کے دور میں جماعت اور امام کے ساتھ وابستگی کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا۔
ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدتِ امت محض جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ شرعی فریضہ ہے۔ اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، مگر افتراق اور بغاوت کی اجازت نہیں—الا یہ کہ صریح کفر ظاہر ہو جس پر واضح دلیل موجود ہو۔
فروعی اختلاف اور حقیقی وحدت
تاریخِ امت شاہد ہے کہ ائمہ اربعہ کے درمیان فروعی مسائل میں اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور علمی وقار قائم رہا۔ یہ اختلاف اتحاد کے منافی نہ تھا، کیونکہ مرجع قرآن و سنت ہی تھے۔ اصل فساد اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب خواہشات، تعصبات اور اقتدار کی حرص دین پر غالب آ جائیں۔
عصرِ حاضر کے لیے پیغام
آج امت مسلمہ لسانی، علاقائی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ دشمن قوتیں انہی تعصبات کو ہوا دے کر وحدتِ اسلامیہ کو کمزور کرتی ہیں۔ قرآن کا پیغام آج بھی وہی ہے: “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”
اگر مسلمان قرآن و سنت کو حقیقی معنوں میں مرکز بنائیں، ذاتی و جماعتی مفادات کو دین پر ترجیح نہ دیں، اور تقویٰ و اخلاص کے ساتھ اجتماعی نظم کو قائم کریں تو وہی انقلاب دوبارہ برپا ہو سکتا ہے جو اوس و خزرج کے درمیان ہوا تھا۔
خلاصۂ کلام
اللہ کا دین مکمل ہے؛ اس میں کسی اضافے یا نئے نظام کی حاجت نہیں۔ اسلام ایک ہے—نہ اس میں فرقے ہیں، نہ فرقوں میں اسلام۔ وحدت کی بنیاد قرآن و سنت ہیں؛ افتراق کی جڑ خواہشات اور تعصبات ہیں۔ نجات کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے واضح فرمایا: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُو

قرآن مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اتحادِ امت اور اعتصام بحبلِ اللہ کی قرآنی دعوت

قرآنِ مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اتحادِ امت اور اعتصام بحبلِ اللہ کی قرآنی دعوت
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
قرآنِ مجید محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا الہامی منشور ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی وہ کتابِ ہدایت ہے جس کے ذریعے اللہ ربّ العالمین نے انسانیت کو ایک جامع، متوازن اور عادلانہ نظامِ حیات عطا فرمایا۔ بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ اصولوں کے مطابق ڈھالے اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرے جس کی بنیاد ایمان، تقویٰ، عدل اور باہمی اخوت پر ہو۔
قرآنِ مجید میں امتِ مسلمہ کو بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اس کی اصل قوت ایمان، تقویٰ اور اجتماعی وحدت میں مضمر ہے۔ سورۃ آلِ عمران کی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت کا ایک نہایت جامع اور ہمہ گیر منشور بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (آلِ عمران: 101)
مفہوم: "اور تم کیسے کفر اختیار کر سکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے؟ اور جو اللہ کو مضبوطی سے تھام لے وہ یقیناً سیدھی راہ کی طرف ہدایت پا گیا۔"
اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ مزید ارشاد فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (آلِ عمران: 102)
مفہوم: "اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔"
پھر اتحادِ امت کے بارے میں نہایت واضح ہدایت دی گئی:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103)
مفہوم: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
ان آیاتِ مبارکہ میں دراصل امتِ مسلمہ کی فلاح اور بقا کے چار بنیادی ستون بیان کیے گئے ہیں: ایمان، تقویٰ، اعتصام باللہ اور اجتماعی وحدت۔ اگر امتِ مسلمہ ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا محور بنا لے تو فکری انتشار، مسلکی تعصبات اور گروہی عصبیتیں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
“حبلُ اللہ” کا مفہوم اور اس کی جامعیت
قرآنِ مجید میں استعمال ہونے والی تعبیر “حبلُ اللہ” نہایت بلیغ اور معنی خیز ہے۔ مفسرینِ کرام نے اس کی مختلف تشریحات بیان کی ہیں، لیکن ان سب کا خلاصہ یہی ہے کہ اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو قرآن اور سنتِ رسول ﷺ پر مشتمل ہے۔
صحابیٔ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک “حبلُ اللہ” سے مراد وہ جماعت ہے جو کتاب و سنت کے نظام پر قائم ہو۔ یعنی ایسا اجتماعی نظم جس کی بنیاد اللہ کے نازل کردہ دین پر ہو۔
بعض مفسرین نے اس سے مراد قرآنِ حکیم لیا ہے۔ قرآن دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ مضبوط رسی ہے جسے تھام لینے والا انسان گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ رسی ایسی ہے کہ اسے چھوڑا جا سکتا ہے مگر اسے کوئی توڑ نہیں سکتا، کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔
اس تشبیہ میں نہایت گہری معنویت پوشیدہ ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی گہرے کنویں یا کھائی کے کنارے کھڑا ہو اور وہ ایک مضبوط رسی کو تھام لے تو وہ گرنے سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح جو فرد یا قوم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے وہ فکری، اخلاقی اور سیاسی ہلاکت سے محفوظ رہتی ہے۔
تفرقہ: امت کے زوال کا بنیادی سبب
قرآنِ کریم نے جہاں اتحاد کا حکم دیا ہے وہاں تفرقہ اور انتشار سے سختی کے ساتھ منع بھی کیا ہے۔ “وَلَا تَفَرَّقُوْا” کا حکم دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فرقہ بندی اور گروہی عصبیتیں امت کی قوت کو کمزور کر دیتی ہیں۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے قرآن و سنت کو چھوڑ کر نسلی، لسانی، علاقائی یا مسلکی بنیادوں کو اپنی شناخت کا مرکز بنایا تو اس کے نتیجے میں انتشار اور کمزوری پیدا ہوئی۔
قبل از اسلام عرب معاشرہ قبائلی عصبیتوں کا شکار تھا۔ اوس اور خزرج کے درمیان صدیوں تک جنگیں ہوتی رہیں۔ لیکن جب رسول اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن کی تعلیمات سامنے آئیں تو وہی دشمن قبائل بھائی بھائی بن گئے۔
یہ تبدیلی کسی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایمان کی قوت اور قرآن کی تعلیمات کی برکت تھی۔ قرآن مجید اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کر دیتے تو دلوں میں ایسی الفت پیدا نہ کر سکتے، مگر اللہ تعالیٰ نے ایمان کی برکت سے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔
اتحاد کا قرآنی اصول
قرآنِ مجید نے اتحاد کے لیے ایک ایسا اصول پیش کیا ہے جو ہر زمانے اور ہر معاشرے میں قابلِ عمل ہے۔ یہ اصول یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان اتحاد کا مرکز نہ نسل ہے، نہ رنگ، نہ جغرافیہ اور نہ زبان؛ بلکہ اصل مرکزِ وحدت ایمان اور دینِ حق ہے۔
نسلی اور جغرافیائی وحدتیں محدود اور وقتی ہوتی ہیں، جبکہ دین کی بنیاد پر قائم ہونے والی وحدت عالمگیر اور پائیدار ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام پوری انسانیت کو ایک عالمگیر اخوت اور مساوات کا پیغام دیتا ہے۔
اختلاف کی جائز حدود
اسلامی تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ فروعی مسائل میں اختلاف ہمیشہ موجود رہا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے فقہاء کے درمیان بعض مسائل میں اختلافات پائے جاتے تھے، لیکن یہ اختلافات علمی اور اجتہادی نوعیت کے تھے اور باہمی احترام کے ساتھ تھے۔
اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فروعی اختلافات کو اصل دین کی حیثیت دے دی جائے اور مسلکی وابستگی کو اسلامی شناخت پر غالب کر دیا جائے۔ قرآن مجید واضح طور پر مسلمانوں کی بنیادی شناخت “مسلم” قرار دیتا ہے۔ لہٰذا مسلمان کی اصل پہچان اسلام ہے، نہ کہ کوئی فرقہ یا گروہ۔
عصرِ حاضر میں قرآنی تعلیمات کی اہمیت
آج امتِ مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار، سیاسی مفادات، بیرونی سازشیں اور داخلی تعصبات نمایاں ہیں۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان دوبارہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں اور اپنی اجتماعی زندگی کو انہی اصولوں کے مطابق استوار کریں۔
اگر امتِ مسلمہ واقعی اپنی عزت اور وقار کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا:
قرآن و سنت کی طرف حقیقی رجوع
باہمی خیر خواہی اور اخوت
تقویٰ اور اخلاص
اجتماعی نظم و اتحاد کی پاسداری
یہی وہ راستہ ہے جو امت کو کمزوری اور انتشار سے نکال کر قوت اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
خلاصۂ کلام
اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جس کی تکمیل کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ قرآن و سنت وہ مضبوط بنیاد ہیں جن پر ایک صالح اور مستحکم معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ فرقہ بندی اور گروہی تعصبات دراصل انسانی خواہشات کا نتیجہ ہیں، جبکہ اسلام امت کو ایک وحدت کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
لہٰذا امتِ مسلمہ کی بقا، عزت اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ “حبلُ اللہ” یعنی قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے اور اسی کے گرد اپنی اجتماعی زندگی کو منظم کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو گمراہی کے کنارے سے نکال کر ہدایت، عزت اور کامیابی کی شاہراہ پر لے آتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
(جاری ہے…)

Thursday, 13 August 2015

قرآن مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اسلام کی جامعیت اور امت مسلمہ کی زمہ داری

قرآن مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اسلام کی جامعیت اور امت کی ذمہ داری
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
انسانی تاریخ میں اللہ تعالٰی نے انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ ان تمام پیغمبروں کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا: انسان کو اپنے خالق کی بندگی کی طرف بلانا، ظلم و گمراہی سے نکال کر عدل و ہدایت کی راہ دکھانا، اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ واضح کرنا۔ اسی سلسلۂ ہدایت کا آخری اور کامل مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا اور اس کے ذریعے دینِ اسلام کو انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت سے عطا کیا۔
قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک قابلِ قبول دین صرف اسلام ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (آلِ عمران: 19)
مفہوم: "بے شک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔"
اسی مضمون کو مزید وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (آلِ عمران: 85)
مفہوم: "اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔"
یہ آیات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالٰی کے ہاں نجات اور کامیابی کا راستہ وہی ہے جو اس نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے انسانیت کو عطا فرمایا۔ اسلام محض ایک مذہبی شناخت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور معیشت سمیت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔
دین کی وحدت اور انبیاء کا مشترکہ پیغام
قرآن مجید ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت دراصل ایک ہی بنیادی دین کی طرف تھی۔ اگرچہ مختلف ادوار میں بعض عملی احکام میں جزوی فرق موجود رہا، لیکن عقیدۂ توحید، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی اصول ہمیشہ یکساں رہے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَالَّذِيْ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖ اِبْرٰهِيمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ (الشوریٰ: 13)
مفہوم: "اللہ تعالٰی نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
اسی لیے قرآن مجید مسلمانوں کو سختی کے ساتھ وحدت اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103)
مفہوم: "اور سب مل کر اللہ تعالٰی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام کی اصل روح اتحاد، اعتدال اور اجتماعیت ہے۔ فرقہ بندی اور گروہی و لسانی اور علاقائی تعصبات دراصل اس قرآنی تعلیم کے خلاف ہیں جو امت کو ایک وحدت کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے۔
تکمیلِ دین کا عظیم اعلان
اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن لمحہ وہ تھا جب حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں دین کی تکمیل کا اعلان ہوا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (المائدہ: 3)
مفہوم: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا ہے۔"
یہ آیت 9 ذی الحجہ 10 ہجری کو میدانِ عرفات میں نازل ہوئی۔ اس اعلان کے ساتھ واضح ہو گیا کہ نبوت و وحی کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب قیامت تک کے لیے قرآن و سنت ہی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ ہوں گے۔
صحیح احادیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کس مقام پر نازل ہوئی تھی؛ یہ جمعہ کے دن اور عرفات کے میدان میں نازل ہوئی، اور ہمارے لیے یہ دونوں دن بابرکت ہیں۔
حجۃ الوداع: انسانیت کے لیے اخلاقی و سماجی منشور
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ دراصل انسانی حقوق اور معاشرتی انصاف کا ایک جامع منشور ہے۔ اس خطبے میں آپ ﷺ نے جان و مال کی حرمت، سود کی ممانعت، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک، اور نسلی برتری کی نفی جیسے بنیادی اصول واضح فرمائے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ اس تعلیم نے انسانی مساوات کا وہ اصول پیش کیا جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں مشکل سے ملتی ہے۔
قرآن و سنت: دین کی اصل حجت
اسلام میں دین کی اصل اتھارٹی صرف قرآن اور سنتِ رسول ﷺ ہیں۔ علماء، فقہاء اور مصلحین کی آراء اپنی جگہ قابل احترام ہیں، مگر وہ دین کے برابر یا اس پر مقدم نہیں ہو سکتیں۔ یہی اصول اسلامی فکر میں توازن پیدا کرتا ہے اور امت کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھتا ہے۔
قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ دراصل وہ دو بنیادی مصادر ہیں جن سے اسلام کی فکری، اخلاقی اور عملی بنیادیں قائم ہوتی ہیں۔ اگر امت ان دونوں سرچشموں سے مضبوطی سے وابستہ رہے تو فکری انتشار اور دینی انحراف سے بچ سکتی ہے۔
امت مسلمہ کی موجودہ ذمہ داری
آج کے دور میں امت مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار، فرقہ واریت، اخلاقی زوال، معاشی ناانصافی اور سیاسی عدم استحکام نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حقیقی حل اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
علماء، دانشوروں اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کی اصل تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھیں اور معاشرے تک پہنچائیں۔ اسی طرح عام مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ دین کو صرف رسم و رواج تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا رہنما بنائیں۔
نتیجہ
اسلام دراصل دینِ فطرت ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کو متوازن اور بامقصد بناتا ہے۔ قرآن مجید نے اس دین کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے اسے عملی شکل دے دی ہے۔ اب امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم امانت کی حفاظت کرے، قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے، اور اتحاد و اعتدال کے ساتھ انسانیت کے سامنے اسلام کا حقیقی پیغام پیش کرے۔
اگر مسلمان اس ذمہ داری کو سمجھ لیں اور اخلاص کے ساتھ اس پر عمل کریں تو یقیناً اسلام کا پیغام دوبارہ دنیا میں امن، عدل اور ہدایت کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔