Monday, 17 August 2015

(حِصّہ 6)- اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام

(حِصّہ 6)- اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام۔ 
ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری رسول، محمد ﷺ پر جو دین نازل فرمایا، وہ مکمل، محفوظ اور قیامت تک کے لیے کافی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدہ: 3)۔ اس اعلانِ ربانی کے بعد کسی نئے مذہبی عنوان، گروہی شناخت یا فرقہ وارانہ نسبت کی کوئی شرعی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اسلام اپنی اصل میں وحدت، اخوّت اور اجتماعیت کا دین ہے؛ تفرقہ، تعصب اور گروہ بندی اس کی روح کے منافی ہیں۔
فرقہ پرستی: امت کے جسدِ واحد پر ضرب
فرقہ پرستی، مسلک پرستی، شخصیت پرستی اور مفاد پرستی نے امت کو فکری اور عملی طور پر کمزور کیا ہے۔ قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103) اور اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اپنی بنیادی شناخت “مسلمان” کے بجائے مسلکی لیبلز سے متعارف کرانے میں فخر محسوس کریں تو یہ طرزِ فکر خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ائمہ اربعہ—ابو حنیفہ، مالک بن انس، محمد بن ادریس الشافعی اور احمد بن حنبل—نے اصولِ دین میں کبھی اختلاف نہیں کیا۔ ان کا اختلاف صرف فروعی و اجتہادی مسائل میں تھا، جو انسانی فہم کا طبعی نتیجہ ہے۔ اسے فرقہ واریت میں بدل دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
ناموں کی تقدیس یا اعمال کی اصلاح؟
ہم نے مقدس ناموں کو شعار بنا لیا مگر اخلاقی اصلاح کو پسِ پشت ڈال دیا۔ کاروبار کا نام “مدینہ”، “مکہ” یا “حرم” رکھ دینے سے برکت خود بخود نازل نہیں ہوتی جب تک دیانت، صداقت اور عدل نہ ہو۔ یہی بات صلاۃ کے باب میں بھی ہے: جب تک بندہ معانی و مفاہیم سمجھے بغیر محض الفاظ دہراتا رہے، مطلوبہ خشوع و خضوع کیسے پیدا ہوگا؟ اگر نسلیں قرآن پڑھتی رہیں مگر سمجھنے کی طرف متوجہ نہ ہوں تو ہدایت کا عملی ظہور کیسے ہوگا؟
خود احتسابی کا استعارہ
معاشرے میں یہ عمومی رویہ بن چکا ہے کہ ہر برائی کا ذمہ “شیطان” پر ڈال دیا جائے۔ حالانکہ قرآن انسان کو اپنی نیت، ارادہ اور عمل کا خود ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ اگر ظلم، بددیانتی، رشوت، فحاشی اور استحصال ہمارے اجتماعی رویّے کا حصہ ہیں تو ہمیں اپنے باطن میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ محض الزام تراشی اصلاح کا متبادل نہیں۔
مدارس، مساجد اور نصابِ تعلیم
ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیم گاہیں قرآن و سنت کی جامع، معتدل اور عصری فہم فراہم کریں۔ عربی زبان کی مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ ہر تعلیم یافتہ مسلمان کم از کم اتنی استعداد رکھتا ہو کہ قرآن کو براہِ راست سمجھ سکے۔ جب فہم پیدا ہوگا تو تعصب کی شدت خود بخود کم ہوگی۔ مساجد کو فرقہ وارانہ شناخت کے بجائے “اللہ کے گھر” کی حیثیت سے قائم رکھا جائے؛ ان پر کسی خاص گروہ کی چھاپ دینا اخوّتِ اسلامی کے منافی ہے۔
ریاست اور معاشرہ: مشترکہ ذمہ داری
اگر فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دی جائے تو وہ بالآخر معاشرتی امن کو نگل لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون، تعلیم، میڈیا اور مذہبی قیادت سب مل کر اس ناسور کا تدارک کریں۔ نفرت انگیزی اور تکفیر کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور اتحادِ امت کو عملی پروگرام بنایا جائے۔
اصل معیار: اطاعتِ رسول ﷺ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (النساء: 80) اور وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ (الاحزاب: 36)۔ پس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ محبت، اطاعت اور ترجیح کا مرکز اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہوں—نہ کہ کوئی مسلکی شناخت یا گروہی وابستگی۔
نتیجہ
اسلام کامل ہے، اس میں کسی اضافی شناخت کی ضرورت نہیں۔ فرقہ واریت نے ہمیں کمزور کیا، تقسیم کیا اور باہمی اعتماد کو مجروح کیا۔ نجات کی راہ یہی ہے کہ ہم قرآن و سنت کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا محور بنائیں، فروعی اختلاف کو وسعتِ نظر سے قبول کریں، اور اصولی اتحاد کو مضبوط کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے، تعصب سے بچائے، اور امتِ مسلمہ کو حقیقی اخوّت و وحدت نصیب فرمائے۔ اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین

No comments:

Post a Comment