اسوۃِ حسنہ ﷺ کی روشنی میں عصرِ حاضر میں تبلیغِ دین
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں (المعروف غلام مصطفٰی الراعی)، کراچی
دراصل قرآن و سنت ہی وہ بنیادی سرچشمۂ ہدایت ہے جو حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں کو دائمی تابناکی عطا کرتا ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ نے رہنمائی نہ دی ہو۔ شادی و غمی کے معاملات ہوں یا لین دین کے اصول، سماجی عہد و پیمان ہوں یا انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب، حرمتِ سود اور حلتِ بیع کے ضوابط ہوں یا جنگ و امن کے اصول، اخلاقِ حسنہ کی ترغیب ہو یا برے اوصاف سے اجتناب—الغرض انسانی زندگی کے ہر گوشے میں قرآن و سنت ہی اصل رہنما ہیں۔ انہی بنیادی شعبوں میں سے ایک اہم اور بنیادی شعبہ تبلیغِ دین بھی ہے۔
تبلیغ درحقیقت وہ فریضہ ہے جو تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی مشترکہ سنت رہا ہے۔ انسانی معاشرے کو برائیوں سے پاک رکھنا، چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، دینِ اسلام کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی لیے اسلام برائیوں کے سدباب اور خیر و صلاح کے فروغ کا داعی ہے۔ اسلامی معاشرہ دراصل خیر، عدل اور فلاح کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے، لہٰذا جو چیز معاشرے کے اخلاقی اور روحانی توازن کو نقصان پہنچائے اسے ختم کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
یہ فریضہ صرف علماء یا دینی طبقات تک محدود نہیں بلکہ امت کا ہر فرد، خواہ وہ دینی علم رکھتا ہو یا دنیاوی علوم کا ماہر ہو، کسی نہ کسی درجے میں اس ذمہ داری کا مکلف ہے۔ اگر مسلمان اس فریضے سے غفلت برتیں تو وہ خود بھی روحانی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں اور غیر مسلم بھی نعمتِ اسلام کی ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ تبلیغِ دین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: مسلمان اور غیر مسلم۔ مسلمانوں کے لیے تبلیغ کا مقصد ان کے ایمان اور عمل کی اصلاح ہوتا ہے، جبکہ غیر مسلموں کے لیے مقصد انہیں اسلام کے پیغام سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں پہلو بیک وقت ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔
تبلیغ کے لغوی و اصطلاحی معانی
تبلیغ کا لغوی مفہوم کسی پیغام کو پہنچانا یا آگاہ کرنا ہے۔ اہلِ لغت کے مطابق اس کے معانی میں فصاحت، بلاغت اور مؤثر اندازِ بیان بھی شامل ہیں۔ اصطلاحی طور پر تبلیغ سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین کو لوگوں تک پہنچانا، انہیں خیر کی طرف بلانا اور گمراہی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی لیے علماء نے اسے ایک مقدس فریضہ قرار دیا ہے جس کا مقصد حق اور صداقت کو عام کرنا ہے۔
ایک سیرت نگار کے بقول تبلیغ ایسا عمل ہے جس میں اخلاص کے ساتھ لوگوں کو ایک نصب العین کی طرف بلایا جاتا ہے، انہیں اس سے انحراف کے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور ان کے دلوں میں خیر و ہدایت کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب اپنے اپنے تبلیغی نظام رکھتے ہیں، مگر اسلام میں تبلیغ کا دائرہ سب سے زیادہ وسیع اور جامع ہے۔
قرآن مجید کی تعلیمات اور تبلیغ کا اسلوب
قرآن مجید نے دعوت و تبلیغ کے بنیادی اصول نہایت واضح انداز میں بیان کیے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ
مفہوم: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور اگر بحث کی ضرورت ہو تو بہترین طریقے سے کرو۔
یہ آیت دعوت و تبلیغ کے تین بنیادی اصول واضح کرتی ہے:
حکمت
موعظۂ حسنہ
جدال بالتی ہی احسن
حکمت سے مراد مضبوط اور معقول دلائل ہیں جو حق کو واضح کر دیں اور شبہات کو دور کر دیں۔ موعظۂ حسنہ کا مطلب ایسی نصیحت ہے جو دلوں کو نرم کر دے اور انسان کو خیر کی طرف راغب کرے۔ جبکہ جدال بالتی ہی احسن کا مطلب یہ ہے کہ اگر مناظرہ یا بحث کی ضرورت پیش آئے تو وہ مہذب اور شائستہ انداز میں ہو۔
مفسرین کے مطابق ایک غیر تربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر اس کے دلائل کمزور ہوں یا اس کا انداز سخت اور جارحانہ ہو۔ اس لیے قرآن نے دعوت کے ساتھ حکمت اور حسنِ اخلاق کو لازمی قرار دیا ہے۔
انبیاء علیہم السلام کا تبلیغی کردار
انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام انسانی تاریخ کے سب سے بڑے مبلغ اور مصلح رہے ہیں۔ جہاں کہیں بھی حق، صداقت اور اخلاق کی روشنی نظر آتی ہے وہاں ان ہی ہستیوں کی تعلیمات کا اثر ملتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کی اصلاح اور توحید کی دعوت کے لیے مبعوث فرمایا اور انہیں انسانیت کے لیے امام قرار دیا۔ ان کی دعوت نے معاشرے میں فکری انقلاب برپا کیا اور توحید کے اصول کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے ظالم حکمران کے سامنے بھی دعوتِ حق پیش کی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا:
فَقُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى
مفہوم: اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا اللہ سے ڈر جائے۔
یہ آیت دعوت کے اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ سب سے بڑے ظالم کے سامنے بھی داعی کو نرم مزاجی اور حکمت اختیار کرنی چاہیے۔
رسول اکرم ﷺ کا اسوۂ تبلیغ
رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے دنیا اخلاقی، فکری اور سماجی انتشار کا شکار تھی۔ مختلف قومیں تعصب اور جاہلیت میں مبتلا تھیں۔ ایسے ماحول میں آپ ﷺ نے دعوتِ توحید کے ذریعے انسانیت کو ایک نئے فکری انقلاب سے روشناس کرایا۔
آپ ﷺ کی دعوت کا انداز نہایت حکیمانہ اور مؤثر تھا۔ آپ کی گفتگو سادہ، واضح اور دل نشین ہوتی تھی۔ آپ ﷺ نہایت شیریں کلام تھے اور ہر بات اس انداز سے بیان فرماتے کہ سننے والا اسے آسانی سے سمجھ لیتا۔
آپ ﷺ نے تبلیغِ دین کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ کبھی انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے، کبھی اجتماعی خطابات کے ذریعے، کبھی قبائل کے سرداروں سے ملاقات کرکے اور کبھی خطوط کے ذریعے دنیا کے حکمرانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔
آپ ﷺ نے دعوت کے راستے میں بے شمار مشکلات برداشت کیں۔ سفرِ طائف میں جب آپ کو پتھروں سے لہولہان کر دیا گیا تو آپ نے بددعا کے بجائے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔ اسی طرح غزوۂ احد میں زخمی ہونے کے باوجود آپ نے فرمایا:
اللهم اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون
اے اللہ! میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ یہ جانتے نہیں۔
یہی وہ اخلاقی عظمت ہے جس نے دشمنوں کو بھی متاثر کیا اور اسلام کی دعوت کو دلوں تک پہنچایا۔
عصرِ حاضر میں تبلیغِ دین
آج کا دور علم و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ نے دعوتِ دین کے امکانات کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے۔
آج تبلیغ کے لیے درج ذیل ذرائع انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
مساجد اور دینی اجتماعات
تعلیمی ادارے
اخبارات اور رسائل
ریڈیو اور ٹیلی ویژن
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا
ان ذرائع کو مثبت انداز میں استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تبلیغ میں حکمت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کو ملحوظ رکھا جائے۔
حاصلِ کلام
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد انسانیت کو ہدایت اور فلاح کی راہ دکھانا تھا۔ آپ ﷺ نے دعوتِ دین کے لیے بے مثال صبر، حکمت اور اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی یہی سنت آج کے داعیانِ اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آج امت مسلمہ کو مادہ پرستی، فکری انتشار، احساسِ کمتری اور باہمی اختلافات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ہم قرآن مجید کے بیان کردہ اصول—حکمت، موعظۂ حسنہ اور حسنِ اخلاق—کو اپناتے ہوئے تبلیغِ دین کا کام کریں تو یقیناً کامیابی اور فلاح ہمارے مقدر بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو سمجھنے، اسوۂ حسنہ ﷺ کو اپنانے اور دینِ اسلام کا پیغام حکمت اور محبت کے ساتھ دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰهُمَّ ارزقنا صدق الدعوة إلى دينك، واجعلنا من المقتدين بسنة نبيك ﷺ، ووفّقنا لنشر الهداية بالحكمة والموعظة الحسنة.
اللّٰهُمَّ أصلح أحوال أمة محمد ﷺ، واجعلنا من الداعين إلى الخير والآمرين بالمعروف والناهين عن المنكر.
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
اللّٰهُمَّ آمین ثم آمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔
No comments:
Post a Comment