قرآنِ مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اتحادِ امت اور اعتصام بحبلِ اللہ کی قرآنی دعوت
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
قرآنِ مجید محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا الہامی منشور ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی وہ کتابِ ہدایت ہے جس کے ذریعے اللہ ربّ العالمین نے انسانیت کو ایک جامع، متوازن اور عادلانہ نظامِ حیات عطا فرمایا۔ بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ اصولوں کے مطابق ڈھالے اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرے جس کی بنیاد ایمان، تقویٰ، عدل اور باہمی اخوت پر ہو۔
قرآنِ مجید میں امتِ مسلمہ کو بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اس کی اصل قوت ایمان، تقویٰ اور اجتماعی وحدت میں مضمر ہے۔ سورۃ آلِ عمران کی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت کا ایک نہایت جامع اور ہمہ گیر منشور بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (آلِ عمران: 101)
مفہوم: "اور تم کیسے کفر اختیار کر سکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے؟ اور جو اللہ کو مضبوطی سے تھام لے وہ یقیناً سیدھی راہ کی طرف ہدایت پا گیا۔"
اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ مزید ارشاد فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (آلِ عمران: 102)
مفہوم: "اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔"
پھر اتحادِ امت کے بارے میں نہایت واضح ہدایت دی گئی:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103)
مفہوم: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
ان آیاتِ مبارکہ میں دراصل امتِ مسلمہ کی فلاح اور بقا کے چار بنیادی ستون بیان کیے گئے ہیں: ایمان، تقویٰ، اعتصام باللہ اور اجتماعی وحدت۔ اگر امتِ مسلمہ ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا محور بنا لے تو فکری انتشار، مسلکی تعصبات اور گروہی عصبیتیں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
“حبلُ اللہ” کا مفہوم اور اس کی جامعیت
قرآنِ مجید میں استعمال ہونے والی تعبیر “حبلُ اللہ” نہایت بلیغ اور معنی خیز ہے۔ مفسرینِ کرام نے اس کی مختلف تشریحات بیان کی ہیں، لیکن ان سب کا خلاصہ یہی ہے کہ اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو قرآن اور سنتِ رسول ﷺ پر مشتمل ہے۔
صحابیٔ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک “حبلُ اللہ” سے مراد وہ جماعت ہے جو کتاب و سنت کے نظام پر قائم ہو۔ یعنی ایسا اجتماعی نظم جس کی بنیاد اللہ کے نازل کردہ دین پر ہو۔
بعض مفسرین نے اس سے مراد قرآنِ حکیم لیا ہے۔ قرآن دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ مضبوط رسی ہے جسے تھام لینے والا انسان گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ رسی ایسی ہے کہ اسے چھوڑا جا سکتا ہے مگر اسے کوئی توڑ نہیں سکتا، کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔
اس تشبیہ میں نہایت گہری معنویت پوشیدہ ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی گہرے کنویں یا کھائی کے کنارے کھڑا ہو اور وہ ایک مضبوط رسی کو تھام لے تو وہ گرنے سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح جو فرد یا قوم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے وہ فکری، اخلاقی اور سیاسی ہلاکت سے محفوظ رہتی ہے۔
تفرقہ: امت کے زوال کا بنیادی سبب
قرآنِ کریم نے جہاں اتحاد کا حکم دیا ہے وہاں تفرقہ اور انتشار سے سختی کے ساتھ منع بھی کیا ہے۔ “وَلَا تَفَرَّقُوْا” کا حکم دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فرقہ بندی اور گروہی عصبیتیں امت کی قوت کو کمزور کر دیتی ہیں۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے قرآن و سنت کو چھوڑ کر نسلی، لسانی، علاقائی یا مسلکی بنیادوں کو اپنی شناخت کا مرکز بنایا تو اس کے نتیجے میں انتشار اور کمزوری پیدا ہوئی۔
قبل از اسلام عرب معاشرہ قبائلی عصبیتوں کا شکار تھا۔ اوس اور خزرج کے درمیان صدیوں تک جنگیں ہوتی رہیں۔ لیکن جب رسول اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن کی تعلیمات سامنے آئیں تو وہی دشمن قبائل بھائی بھائی بن گئے۔
یہ تبدیلی کسی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایمان کی قوت اور قرآن کی تعلیمات کی برکت تھی۔ قرآن مجید اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کر دیتے تو دلوں میں ایسی الفت پیدا نہ کر سکتے، مگر اللہ تعالیٰ نے ایمان کی برکت سے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔
اتحاد کا قرآنی اصول
قرآنِ مجید نے اتحاد کے لیے ایک ایسا اصول پیش کیا ہے جو ہر زمانے اور ہر معاشرے میں قابلِ عمل ہے۔ یہ اصول یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان اتحاد کا مرکز نہ نسل ہے، نہ رنگ، نہ جغرافیہ اور نہ زبان؛ بلکہ اصل مرکزِ وحدت ایمان اور دینِ حق ہے۔
نسلی اور جغرافیائی وحدتیں محدود اور وقتی ہوتی ہیں، جبکہ دین کی بنیاد پر قائم ہونے والی وحدت عالمگیر اور پائیدار ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام پوری انسانیت کو ایک عالمگیر اخوت اور مساوات کا پیغام دیتا ہے۔
اختلاف کی جائز حدود
اسلامی تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ فروعی مسائل میں اختلاف ہمیشہ موجود رہا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے فقہاء کے درمیان بعض مسائل میں اختلافات پائے جاتے تھے، لیکن یہ اختلافات علمی اور اجتہادی نوعیت کے تھے اور باہمی احترام کے ساتھ تھے۔
اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فروعی اختلافات کو اصل دین کی حیثیت دے دی جائے اور مسلکی وابستگی کو اسلامی شناخت پر غالب کر دیا جائے۔ قرآن مجید واضح طور پر مسلمانوں کی بنیادی شناخت “مسلم” قرار دیتا ہے۔ لہٰذا مسلمان کی اصل پہچان اسلام ہے، نہ کہ کوئی فرقہ یا گروہ۔
عصرِ حاضر میں قرآنی تعلیمات کی اہمیت
آج امتِ مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار، سیاسی مفادات، بیرونی سازشیں اور داخلی تعصبات نمایاں ہیں۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان دوبارہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں اور اپنی اجتماعی زندگی کو انہی اصولوں کے مطابق استوار کریں۔
اگر امتِ مسلمہ واقعی اپنی عزت اور وقار کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا:
قرآن و سنت کی طرف حقیقی رجوع
باہمی خیر خواہی اور اخوت
تقویٰ اور اخلاص
اجتماعی نظم و اتحاد کی پاسداری
یہی وہ راستہ ہے جو امت کو کمزوری اور انتشار سے نکال کر قوت اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
خلاصۂ کلام
اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جس کی تکمیل کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ قرآن و سنت وہ مضبوط بنیاد ہیں جن پر ایک صالح اور مستحکم معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ فرقہ بندی اور گروہی تعصبات دراصل انسانی خواہشات کا نتیجہ ہیں، جبکہ اسلام امت کو ایک وحدت کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
لہٰذا امتِ مسلمہ کی بقا، عزت اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ “حبلُ اللہ” یعنی قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے اور اسی کے گرد اپنی اجتماعی زندگی کو منظم کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو گمراہی کے کنارے سے نکال کر ہدایت، عزت اور کامیابی کی شاہراہ پر لے آتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
(جاری ہے…)
No comments:
Post a Comment