اللہ تعالٰی کا دین مکمل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
اللّہ تعالٰی جلَّ جلالہٗ کا ارشاد ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (آلِ عمران: 110)
مفہوم: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے؛ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ آیتِ کریمہ امتِ مسلمہ کی امتیازی شان اور اس کی ذمہ داری دونوں کو واضح کرتی ہے۔ “خیرِ اُمت” ہونا کوئی نسلی یا تاریخی اعزاز نہیں بلکہ ایک عملی و اخلاقی منصب ہے، جس کی بنیاد تین اصولوں پر ہے: (1) ایمان باللہ، (2) امر بالمعروف، (3) نہی عن المنکر۔ اگر امت ان اوصاف سے متصف رہے تو وہ خیرِ امت ہے، ورنہ یہ اعزاز سلب بھی ہو سکتا ہے۔
خیرِ امت کا معیار: ایمان اور اصلاحِ معاشرہ
قرآنِ حکیم نے ایمان کو محض قلبی کیفیت نہیں بلکہ ایک فعال ذمہ داری قرار دیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دراصل اجتماعی نگرانی (Collective Moral Responsibility) کا قرآنی نظام ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو امت کو جمود، بدعنوانی اور فکری انحراف سے بچاتا ہے۔
ائمۂ تفسیر نے وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی معاشرہ برائی کو دیکھ کر خاموش رہے تو وہ رفتہ رفتہ اسی برائی کا شریک ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سابقہ امتوں پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے۔ پس اگر امتِ مسلمہ بھی اس فریضہ سے غافل ہو جائے تو اس کی مثال بھی وہی ہو گی۔
اکثر فقہاء کے نزدیک امر بالمعروف و نہی عن المنکر فرضِ کفایہ ہے؛ یعنی اہلِ علم و بصیرت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح علم اور حکمت کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کریں۔ تاہم بعض حالات میں یہ فرضِ عین بھی بن جاتا ہے، خصوصاً جب منکر ظاہر و عام ہو جائے۔
تفرقہ: شیطانی حربہ
سنن ابی داؤد کی روایت میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب کسی منزل پر اترتے تو الگ الگ منتشر ہو جاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تمہارا یہ تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے۔” اس ارشاد کے بعد وہ اس قدر متحد ہو کر قیام کرتے کہ گویا ایک چادر انہیں ڈھانپ لے۔
یہ واقعہ محض سفری نظم و ضبط کا بیان نہیں بلکہ امت کے لیے دائمی اصول ہے: شیطان کی پہلی کوشش اہلِ ایمان کو منتشر کرنا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔”
افتراقِ امت اور “الجماعۃ” کا مفہوم
احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے کہ یہود و نصاریٰ مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور امتِ محمدیہ ﷺ بھی تہتر گروہوں میں تقسیم ہو گی؛ ان میں سے ایک “الجماعۃ” نجات پانے والی ہو گی۔
ائمۂ حدیث و شرح نے واضح کیا ہے کہ “الجماعۃ” سے مراد کوئی مخصوص نام یا تنظیم نہیں بلکہ وہ گروہ ہے جو قرآن و سنت اور تعاملِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر قائم ہو۔
فرقہ پرستی اُس وقت جنم لیتی ہے جب:
مسلکی شناخت کو اسلامی شناخت پر غالب کر دیا جائے؛
جزوی مسائل کو اصل دین بنا لیا جائے؛
ظاہری شعائر کو باطنی اخلاق اور فرائض پر ترجیح دے دی جائے؛
اور اپنے گروہ کو معیارِ حق سمجھ لیا جائے۔
قرآنِ حکیم نے سخت تنبیہ فرمائی:
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ (الأنعام: 159)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ دین کو گروہوں میں تقسیم کرنا قرآنی مزاج کے خلاف ہے۔
ظاہر پرستی اور دین کا اختزال
یہ ایک المیہ ہے کہ بعض حلقوں میں دینداری کو چند نمایاں ظاہری سنن تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ فرائض، عدل، امانت، دیانت، حقوق العباد اور اخلاقِ حسنہ کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔
بلاشبہ داڑھی شعائرِ اسلام میں سے ہے اور سنتِ مؤکدہ بلکہ بعض کے نزدیک واجب کے قریب ہے، مگر دین کو محض ایک یا دو ظاہری علامات میں سمیٹ دینا اور باقی سنن و فرائض سے غفلت برتنا کسی طور درست نہیں۔
اسلام کا مزاج توازن ہے—نہ ظاہر کی نفی، نہ باطن کی غفلت۔
حدیث اور سنت: علمی وضاحت
اہلِ علم نے “حدیث” اور “سنت” کے مفاہیم میں دقیق بحث کی ہے:
بعض کے نزدیک دونوں مترادف ہیں۔
بعض کے نزدیک “حدیث” ہر منقول روایت (صحیح، حسن، ضعیف) کو شامل ہے، جبکہ “سنت” وہ عملی طریقہ ہے جو صحیح احادیث اور تعاملِ صحابہ سے ثابت ہو۔
محدثین کے نزدیک سنت تین طریقوں سے ہم تک پہنچی:
سنت قولی (اقوالِ نبوی ﷺ)
سنت فعلی (افعالِ نبوی ﷺ)
سنت تقریری (آپ ﷺ کے سامنے کسی عمل پر سکوت)
فقہاء کی اصطلاح میں “سنت” فرض و واجب کے مقابل ایک درجہ بھی رکھتی ہے (جیسے سنت مؤکدہ وغیرہ)۔
یہ علمی تفریق اس لیے ضروری ہے تاکہ دین کے مصادر کو خلط ملط نہ کیا جائے اور ہر حکم کو اس کے درجے کے مطابق سمجھا جائے۔
ترکِ نبوی ﷺ: کیا دلیلِ ممانعت ہے؟
ایک اہم اصولی مسئلہ یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ کا کسی کام کو نہ کرنا اس کے ناجائز ہونے کی دلیل ہے؟
جمہور اصولیین کے نزدیک:
فعل جواز کی دلیل ہے؛
مگر عدمِ فعل حرمت کی دلیل نہیں۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“عدم النقل لا يدل على عدم الوقوع، ولو سُلِّم فلا يلزم منه عدم الجواز”
(کسی چیز کا منقول نہ ہونا اس کے واقع نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا، اور اگر مان بھی لیا جائے تو اس سے عدمِ جواز لازم نہیں آتا۔)
اسی اصول سے فقہاء نے یہ قاعدہ اخذ کیا کہ اصل الاشیاء الاباحۃ — اشیاء میں اصل جواز ہے، الا یہ کہ کوئی صریح دلیلِ منع موجود ہو۔
قرآنِ حکیم کا حکم ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر: 7)
یہاں معیار واضح ہے:
جو حکم دیا گیا اسے اختیار کرو، جس سے منع کیا گیا اس سے رک جاؤ۔ محض ترک کو دلیلِ حرمت قرار دینا اصولی طور پر درست نہیں، ورنہ دین کا دائرہ غیر ضروری طور پر تنگ ہو جائے گا۔
عصرِ حاضر کے لیے پیغام
آج امت کا بحران صرف بیرونی نہیں بلکہ داخلی بھی ہے:
فکری انتہا پسندی
گروہی عصبیت
سطحی مذہبیت
اور علمی اصولوں سے ناواقفیت
قرآن و سنت کا جامع منہج ہمیں اعتدال، وحدت اور علمی دیانت کی دعوت دیتا ہے۔
اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ نہ اس میں فرقوں کی گنجائش ہے، نہ فرقہ وارانہ اجارہ داری کی۔ اصل پہچان “مسلم” ہونا ہے—جو اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ اور رسول اللہ ﷺ کے عطا کردہ دین پر قائم ہو۔
خلاصۂ کلام
خیرِ امت ہونے کا معیار ایمان، اصلاح اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
جماعت اور وحدت نجات کا راستہ ہیں۔
فرقہ پرستی قرآنی مزاج کے خلاف ہے۔
دین کو چند ظاہری علامات تک محدود کرنا علمی و شرعی طور پر ناقص ہے۔
حدیث و سنت کے مفاہیم کو اصولی دقت کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
ترکِ نبوی ﷺ کو بلا دلیل حرمت کا معیار بنانا درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہمیں قرآن و سنت کے فہمِ صحیح، اعتدال، وحدتِ امت اور اخلاصِ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی فرقہ واریت اور فکری انحراف سے محفوظ رکھے۔
آمین ثم آمین۔
(اگلی قسط: وحدتِ امت کے عملی تقاضے اور جدید دنیا میں اسلامی شناخت کا احیاء)
جاری ہے …
No comments:
Post a Comment