اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام
قرآن مجید اور دین کی تکمیل کا تقاضا
تحریر: تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
اللہ ربّ العالمین سبحانہٗ و تعالیٰ نے نوعِ انسان کی ہدایت کے لیے اپنا آخری اور مکمل پیغام قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا، اور اس کی عملی تفسیر و تشریح اپنے آخری رسول محمد ﷺ کی سنّت و اسوۂ حسنہ کے ذریعے واضح کر دی۔ وحیِ متلو (قرآن) اور وحیِ غیر متلو (سنّت) مل کر دینِ حق “الاسلام” کی کامل و اکمل صورت پیش کرتے ہیں۔
قرآنِ حکیم میں بار بار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ
اور فرمایا:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ
یہ آیات اس اصولِ قطعی کو واضح کرتی ہیں کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ کن مرجع صرف کتاب اللہ اور سنّتِ رسول ﷺ ہیں، نہ کہ کسی فرد، گروہ یا خودساختہ مسلکی تعبیرات۔
فرقہ پرستی: اصولِ دین سے انحراف
قرآن مجید نے تفرقہ و تحزّب سے صریحاً منع فرمایا:
وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا
دین اسلام کی بنیاد توحید، رسالت، آخرت اور اخلاقِ فاضلہ پر ہے۔ ان بنیادی اصولوں میں تمام صحابۂ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین کا کامل اتفاق رہا۔ فقہی اختلافات فروعات میں تھے، جنہیں کبھی بھی امت کی تقسیم اور تکفیر کا ذریعہ نہیں بنایا گیا۔
تاریخِ اسلام کا سنہرا دور—جسے “قرونِ اولیٰ” کہا جاتا ہے—اس بات کا گواہ ہے کہ مسلمان اپنی اصل شناخت “مسلمان” پر متفق تھے۔ نہ سنی، نہ شیعہ، نہ دیوبندی، نہ بریلوی، نہ سلفی—بلکہ صرف “مسلم”۔
ائمۂ اربعہ کا منہج: اتحاد، نہ کہ افتراق
ابو حنیفہ، محمد بن ادریس الشافعی، مالک بن انس اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے درمیان علمی اختلافات ضرور تھے، مگر ان میں سے کسی نے دوسرے کو گمراہ یا خارج از اسلام قرار نہیں دیا۔ اختلاف کو رحمت سمجھا گیا، نہ کہ عداوت کا ہتھیار۔
امام ابو حنیفہؒ کا قول معروف ہے: “یہ میری رائے ہے، اگر کسی کے پاس اس سے بہتر دلیل ہو تو وہی درست ہے۔” یہی علمی تواضع امت کے اتحاد کی بنیاد تھی۔
مفاد پرستی اور مذہبی کاروبار
افسوس کہ بعد کے ادوار میں بعض نام نہاد علماء، مذہبی پیشوا اور سیاسی قائدین نے دین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ قرآن و سنّت کی اصل دعوت—تزکیہ، عدل، اخوت اور امر بالمعروف—پسِ پشت ڈال کر مسلکی تعصبات کو ہوا دی گئی۔
مساجد، مدارس اور منابر—جو امت کے اتحاد کے مراکز ہونے چاہییں تھے—بعض اوقات فرقہ وارانہ کشمکش کے اڈے بن گئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
یہ “حبل اللہ” قرآن و سنّت ہی ہیں، نہ کہ کسی مخصوص گروہ کی تعبیر۔
حجة الوداع: اتحاد کا منشور
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں واضح فرمایا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں؛ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
یہ اعلان دراصل امتِ واحدہ کا عالمی منشور تھا—جس میں نسل، زبان، قبیلہ یا مسلک کی بنیاد پر تفریق کی کوئی گنجائش نہیں۔
اصل مسئلہ: اصول اور فروعات کی خلط ملط
فقہی اختلافات اجتہادی نوعیت کے تھے۔ رفع یدین ہو یا ترکِ رفع یدین، آمین بالجہر ہو یا بالاخفاء—یہ سب فروعات ہیں، اصولِ دین نہیں۔ نہ قبر میں ان کا سوال ہوگا، نہ روزِ محشر ان کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ اصل سوال تو ایمان، اخلاص، عدل، حقوق اللہ و حقوق العباد، اور اتباعِ رسول ﷺ کا ہوگا۔
جب فروعات کو اصول کا درجہ دے دیا جائے اور ان پر تکفیر و تفسیق شروع ہو جائے تو یہی فرقہ پرستی جنم لیتی ہے۔
امتِ واحدہ کی بحالی: لائحۂ عمل
قرآن و سنّت کو حتمی مرجع مانا جائے۔
اصولِ دین پر اتحاد اور فروعات میں وسعتِ ظرف اختیار کی جائے۔
مساجد و مدارس کو اتحادِ امت کے مراکز بنایا جائے۔
علماء و قائدین اپنے ذاتی، سیاسی و معاشی مفادات سے بالا ہو کر دین کی خالص دعوت پیش کریں۔
نوجوان نسل کو براہِ راست قرآن و سنّت کے مطالعہ کی ترغیب دی جائے، معروضی اور تحقیقی انداز کے ساتھ۔
نتیجہ
اللہ کا دین مکمل ہے؛ اس میں کسی نئے اضافے یا مسلکی برانڈنگ کی ضرورت نہیں۔ مسلمان ایک امت ہیں، ایک رسول کے پیروکار، ایک کتاب کے ماننے والے، ایک قبلہ کی طرف رخ کرنے والے۔
فرقہ پرستی دراصل امت کی کمزوری ہے، اور اتحاد اس کی قوت۔ اگر ہم نے اپنی اصل پہچان—“مسلمان”—کو پھر سے زندہ کر لیا، اور قرآن و سنّت کی بالادستی کو دل و دماغ سے تسلیم کر لیا، تو امت کی نشاۃِ ثانیہ بعید نہیں۔
اگلا عنوان:
امتِ مسلمہ کا زوال: اسباب و تدارک قرآن و سنّت کی روشنی میں
جاری ہے…
No comments:
Post a Comment