Thursday, 13 August 2015

قرآن مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اسلام کی جامعیت اور امت مسلمہ کی زمہ داری

قرآن مجید اور تکمیلِ دین کا اعلان: اسلام کی جامعیت اور امت کی ذمہ داری
تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی
انسانی تاریخ میں اللہ تعالٰی نے انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ ان تمام پیغمبروں کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا: انسان کو اپنے خالق کی بندگی کی طرف بلانا، ظلم و گمراہی سے نکال کر عدل و ہدایت کی راہ دکھانا، اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ واضح کرنا۔ اسی سلسلۂ ہدایت کا آخری اور کامل مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا اور اس کے ذریعے دینِ اسلام کو انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت سے عطا کیا۔
قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک قابلِ قبول دین صرف اسلام ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (آلِ عمران: 19)
مفہوم: "بے شک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔"
اسی مضمون کو مزید وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (آلِ عمران: 85)
مفہوم: "اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔"
یہ آیات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالٰی کے ہاں نجات اور کامیابی کا راستہ وہی ہے جو اس نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے انسانیت کو عطا فرمایا۔ اسلام محض ایک مذہبی شناخت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور معیشت سمیت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔
دین کی وحدت اور انبیاء کا مشترکہ پیغام
قرآن مجید ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت دراصل ایک ہی بنیادی دین کی طرف تھی۔ اگرچہ مختلف ادوار میں بعض عملی احکام میں جزوی فرق موجود رہا، لیکن عقیدۂ توحید، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی اصول ہمیشہ یکساں رہے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَالَّذِيْ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖ اِبْرٰهِيمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ (الشوریٰ: 13)
مفہوم: "اللہ تعالٰی نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
اسی لیے قرآن مجید مسلمانوں کو سختی کے ساتھ وحدت اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103)
مفہوم: "اور سب مل کر اللہ تعالٰی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام کی اصل روح اتحاد، اعتدال اور اجتماعیت ہے۔ فرقہ بندی اور گروہی و لسانی اور علاقائی تعصبات دراصل اس قرآنی تعلیم کے خلاف ہیں جو امت کو ایک وحدت کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے۔
تکمیلِ دین کا عظیم اعلان
اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن لمحہ وہ تھا جب حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں دین کی تکمیل کا اعلان ہوا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (المائدہ: 3)
مفہوم: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا ہے۔"
یہ آیت 9 ذی الحجہ 10 ہجری کو میدانِ عرفات میں نازل ہوئی۔ اس اعلان کے ساتھ واضح ہو گیا کہ نبوت و وحی کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب قیامت تک کے لیے قرآن و سنت ہی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ ہوں گے۔
صحیح احادیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کس مقام پر نازل ہوئی تھی؛ یہ جمعہ کے دن اور عرفات کے میدان میں نازل ہوئی، اور ہمارے لیے یہ دونوں دن بابرکت ہیں۔
حجۃ الوداع: انسانیت کے لیے اخلاقی و سماجی منشور
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ دراصل انسانی حقوق اور معاشرتی انصاف کا ایک جامع منشور ہے۔ اس خطبے میں آپ ﷺ نے جان و مال کی حرمت، سود کی ممانعت، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک، اور نسلی برتری کی نفی جیسے بنیادی اصول واضح فرمائے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ اس تعلیم نے انسانی مساوات کا وہ اصول پیش کیا جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں مشکل سے ملتی ہے۔
قرآن و سنت: دین کی اصل حجت
اسلام میں دین کی اصل اتھارٹی صرف قرآن اور سنتِ رسول ﷺ ہیں۔ علماء، فقہاء اور مصلحین کی آراء اپنی جگہ قابل احترام ہیں، مگر وہ دین کے برابر یا اس پر مقدم نہیں ہو سکتیں۔ یہی اصول اسلامی فکر میں توازن پیدا کرتا ہے اور امت کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھتا ہے۔
قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ دراصل وہ دو بنیادی مصادر ہیں جن سے اسلام کی فکری، اخلاقی اور عملی بنیادیں قائم ہوتی ہیں۔ اگر امت ان دونوں سرچشموں سے مضبوطی سے وابستہ رہے تو فکری انتشار اور دینی انحراف سے بچ سکتی ہے۔
امت مسلمہ کی موجودہ ذمہ داری
آج کے دور میں امت مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار، فرقہ واریت، اخلاقی زوال، معاشی ناانصافی اور سیاسی عدم استحکام نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حقیقی حل اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
علماء، دانشوروں اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کی اصل تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھیں اور معاشرے تک پہنچائیں۔ اسی طرح عام مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ دین کو صرف رسم و رواج تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا رہنما بنائیں۔
نتیجہ
اسلام دراصل دینِ فطرت ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کو متوازن اور بامقصد بناتا ہے۔ قرآن مجید نے اس دین کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے اسے عملی شکل دے دی ہے۔ اب امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم امانت کی حفاظت کرے، قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے، اور اتحاد و اعتدال کے ساتھ انسانیت کے سامنے اسلام کا حقیقی پیغام پیش کرے۔
اگر مسلمان اس ذمہ داری کو سمجھ لیں اور اخلاص کے ساتھ اس پر عمل کریں تو یقیناً اسلام کا پیغام دوبارہ دنیا میں امن، عدل اور ہدایت کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment