Wednesday, 31 December 2025

بلدیاتی انتخابات: آئینی تقاضا اور جمہوریت کی اساس

 بلدیاتی انتخابات: آئینی تقاضا اور جمہوریت کی اساس

تحریر: پرویز اقبال آرائیں المعروف غلام مصطفٰی اراییں، کراچی

آج جب ہم پاکستان میں جمہوریت کی بالیدگی اور عوامی نمائندگی کے فروغ کی بات کرتے ہیں، تو بلدیاتی نظام ایک ایسا بنیادی ستون ہے جسے نظرانداز کرنے کا مطلب جمہوریت کی جڑوں کو کمزور کرنا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-A کے تحت ہر صوبے کے لیے بلدیاتی نظام قائم کرنا اور اس کے انتخابات کروانا نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی فریضہ ہے۔ مگر افسوس، موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں مقامی حکومتیں مفلوج پڑی ہیں یا انتظامی افسران کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں، جس سے نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ عوامی مسائل کے فوری حل کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے۔

آئینی و قانونی فریم ورک: صرف کاغذی کارروائی؟

قانونی طور پر معاملہ بالکل واضح ہے۔ گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 114 میں کہا گیا ہے کہ "بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن کے ذریعے کرائے جائیں گے"۔ اسی طرح الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں الیکشن کمیشن پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر نئے انتخابات کروائے۔ قانون میں یہ بھی تصریح ہے کہ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان وفاقی یا صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، مگر حتمی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک تاریخی فیصلے میں واضح کیا تھا کہ عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے، اور ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں ختم کرنا آئینی عمل نہیں۔ عدالت نے کہا کہ حکومت اداروں کی ساخت میں تبدیلی کر سکتی ہے، مگر براہ راست منتخب نمائندوں کو ان کے آئینی مدعد سے محروم نہیں کر سکتی۔

عملی رکاوٹیں اور سیاسی مصلحتیں

آئین اور قانون کی یہ واضح ہدایات ہونے کے باوجود، عملی صورتحال المناک ہے۔

صوبائی سطح پر ٹال مٹول کا رویہ عام ہے۔ پنجاب میں حال ہی میں الیکشن کمیشن کے 2022 کے قانون کے تحت انتخابات کرانے کے حکم کے جواب میں، صوبائی حکومت نے فوری طور پر ایک نیا بلدیاتی ایکٹ 2025 منظور کروا لیا۔ اس نئے قانون میں اگرچہ کچھ مثبت شقیں ہیں، جیسے اقتصادی ترقی کی حکمت عملی تیار کرنے کا اختیار اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی ذمہ داری، مگر بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا یہ اقدام انتخابات میں تاخیر کا جواز بنانے کے لیے تھا؟

خیبرپختونخوا میں حالات اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہیں، جہاں بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت کے "ناانصافی" کے خلاف 5 جنوری کو احتجاج کی تیاری کر رکھی ہے۔ ان نمائندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں ان کے پرامن احتجاجوں کو لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئٹہ میں بھی بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر عدالت کی جانب سے حکم امتناعی جاری کیا گیا، جس پر جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس سے عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔

سیاسی جماعتوں کا کردار اور عوامی مطالبہ

سیاسی جماعتیں اپنے بیانات میں تو بلدیاتی نظام کی اہمیت تسلیم کرتی ہیں، مگر عملی اقدامات اکثر اس کے برعکس ہوتے ہیں۔

· جماعت اسلامی نے پنجاب میں بلدیاتی نظام کے لیے لائحہ عمل دینے کے لیے گرینڈ کنونشن طلب کیا ہے۔

· پیپلز پارٹی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے اپنی سیاسی جگہ بنانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔

· پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ وہ ایکٹ میں تبدیلیوں سے مطمئن نہیں۔

یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ بلدیاتی انتخابات اب محض انتظامی معاملہ نہیں رہے، بلکہ وہ قومی سیاسی محاذ آرائی کا اہم میدان بن گئے ہیں۔

نتیجہ اور راستہ

بلدیاتی انتخابات میں تسلسل کی کمی کا نقصان صرف سیاسی جماعتوں کو نہیں ہوتا، اس کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہری بھگتتا ہے۔ جب مقامی حکومتیں غیر فعال ہوں، تو گلی محلے کے مسائل، صفائی ستھرائی، بنیادی صحت، چھوٹے تعمیراتی امور براہ راست صوبائی حکومت یا بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جس میں تاخیر اور ناانصافی کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔

آئین اور قانون کا تقاضا ہے کہ بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے اور بلا تعطل کروائے جائیں۔ اس کے لیے درکار اقدامات واضح ہیں:

· الیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے انتخابات کے شیڈول کا حتمی اعلان کرنا چاہیے۔

· صوبائی حکومتوں کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے عمل کو تیز کرنا چاہیے۔

· عدلیہ کو چاہیے کہ وہ آئین میں مقرر کردہ اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنائے، جیسا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے کیا۔

· عوام اور سول سوسائٹی کو بلدیاتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے قیام کے لیے اجتماعی آواز بلند کرنی چاہیے۔

بلدیاتی نظام صرف ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں، یہ جمہوریت کی نرسری ہے۔ یہیں سے مستقبل کی قومی قیادت پروان چڑھتی ہے اور یہیں عوام کو براہ راست اپنے معاملات چلانے کا موقع ملتا ہے۔ اگر ہم واقعی مضبوط جمہوریت اور موثر حکمرانی چاہتے ہیں، تو بلدیاتی انتخابات کے آئینی تقاضے کو پورا کرنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں اور عوامی نمائندگی کی اس بنیادی اکائی کو اس کا حقیقی مقام و اختیار دیا جائے۔

نئے سال کے سورج کی پہلی کرن، نوید صبح نو

 نئے سال کے سورج کی پہلی کرن، نوید صبح نو

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں المعروف غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

 اللہ کرے کہ نئے شمسی سال کا سورج قرآن و سنت کے احکامات کے نفاذ، غلبے اور بالادستی، خیر و عافیت، امن و آشتی، خوشحالی، مساوات اور معاشی و معاشرتی عدل و انصاف کی نوید کے ساتھ طلوع ہو، نیا شمسی سال محض کیلنڈر کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ یہ لمحۂ فکریہ ہے ایک ایسا موقع جو فرد، معاشرہ اور ریاست سب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اعمال کا محاسبہ کریں اور مستقبل کے لیے ایک واضح، صالح اور بامقصد سمت متعین کریں۔ دعا یہی ہے کہ نئے شمسی سال کا سورج اس امت اور پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت، امن و سلامتی اور عدل و انصاف کی نوید لے کر طلوع ہو، اور سب سے بڑھ کر قرآن و سنت کے احکامات کو محض انفرادی عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے اجتماعی اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے کی توفیق عطا ہو۔

قرآنِ حکیم ہمیں یاد دلاتا ہے: “إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (النحل: 90)۔ عدل اور احسان محض اخلاقی تصورات نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام کی بنیاد ہیں۔ جب تک قانون سازی، معیشت، عدلیہ، تعلیم اور حکمرانی کے تمام شعبے ان اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، اس وقت تک امن و آشتی اور حقیقی خوشحالی ایک خواب ہی رہیں گے۔ نیا سال اس عزم کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم انصاف کو کمزور کے لیے رحم اور طاقتور کے لیے احتساب بنا سکیں۔

قرآن و سنت کی بالادستی کا مطلب کسی خاص طبقے کی اجارہ داری نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کا قیام ہے جہاں جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی ہو؛ جہاں رشوت، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کی کوئی گنجائش نہ ہو؛ جہاں مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ اور کسان کو اس کی پیداوار کا منصفانہ حق ملے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو—یہ محض ایک نصیحت نہیں بلکہ معاشی عدل کا منشور ہے۔

آج ہماری معاشرتی بے چینی، طبقاتی خلیج اور معاشی ناہمواری اس امر کی گواہ ہیں کہ ہم نے اجتماعی سطح پر عدل کے تقاضوں کو نظرانداز کیا۔ نیا شمسی سال اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم مساوات کو نعرہ نہیں، عملی پالیسی بنائیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار تک مساوی رسائی کو یقینی بنائے بغیر خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قرآن اعلان کرتا ہے: “لِكَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ” (الحشر: 7)—یعنی دولت صرف چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے۔ یہ آیت معاشی انصاف کا وہ سنہرا اصول ہے جسے آج کے جدید معاشی نظام بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔

امن و آشتی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ داخلی انتشار ہو یا علاقائی کشیدگی، اس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور قانون کی بالادستی میں ہے۔ نیا سال ہمیں یہ پیغام دے کہ نفرت، تعصب اور فرقہ واریت کے خاتمے کو یقینی بنا کر برداشت، رواداری اور اخوت کو فروغ دیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں مختلف مذاہب اور قبائل کو ایک سماجی معاہدے کے تحت جوڑ کر عملی طور پر ثابت کیا کہ امن کا راستہ انصاف سے ہو کر گزرتا ہے۔

فرد کی اصلاح کے بغیر اجتماعی تبدیلی ممکن نہیں۔ نیا سال ہر فرد سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم صداقت، دیانت اور امانت اور شرافت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں؟ کیا ہم قانون کی پابندی کو کمزوری نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں؟ قرآن کہتا ہے: “إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ” (الرعد: 11)۔

اللہ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ جسے نہ ہو خیال خود آپ اپنی حالت بدلنے کا۔ یہی وہ اصول ہے جو فرد سے ریاست تک تبدیلی کا راستہ متعین کرتا ہے۔

آخر میں دعا ہے کہ نیا شمسی سال ہمارے لیے محض تمناؤں کا سال نہ ہو بلکہ عملی عزم، اخلاقی جرات اور اجتماعی اصلاح کا سال بنے۔ اللہ کرے کہ اس سال کا سورج قرآن و سنت کے عادلانہ نظام، امن و آشتی، خوشحالی، مساوات اور معاشی و معاشرتی عدل و انصاف کے روشن پیغام کے ساتھ طلوع ہو—اور یہ روشنی ہمارے قول و فعل، نظام و اداروں اور معاشرے کے ہر گوشے میں سرایت کر جائے۔  اللہم آمین یا ارحم الراحمین بحق رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم

نئے شمسی سال کے سورج کی پہلی کرن، اک نوید صبح نو بہار ثابت ہو

 نئے شمسی سال کے سورج کی پہلی کرن، اک نوید صبح نو بہار ثابت ہو۔

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں المعروف غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی۔

اللہ کرے کہ نئے شمسی سال کا سورج قرآن و سنۃ کے احکامات کے نفاذ، غلبے اور بالادستی، خیر و عافیت، امن و آشتی، خوشحالی، مساوات اور معاشی و معاشرتی عدل و انصاف کی نوید کے ساتھ طلوع ہو۔

خوشحالی و ترقی کی دعا کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف نے نئے سال 2025 کا آغاز کیا۔ ان کا پیغام امن و استحکام کی تمنا سے لبریز ہے۔ انہوں نے کہا، "دعا ہے 2025 کا سورج ترقی و خوشحالی کی نوید لے کر طلوع ہو" ۔ یہ نہ صرف ایک رسمی دعا ہے بلکہ قومی عزم کی عکاس ہے، جو ایک روشن مستقبل کے حصول کی طرف ہماری اجتماعی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔

💫 نئے سال کی مبارکباد: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

اسلامی نقطہ نظر سے، نئے سال کی مبارکباد دینا بذات خود مقصود نہیں ہے۔ اگرچہ سلف صالحین کا یہ عمومی طریقہ نہیں تھا، تاہم بطورِ شکرانہ اور خیر و برکت کی دعا کے، ایک دوسرے کو نیک تمنائیں دینے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں . درحقیقت، صحابہ کرامؓ کا عمل تھا کہ وہ نئے مہینے یا سال کی آمد پر یہ دعا سکھاتے اور پڑھتے تھے: "اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ" ۔

⚖️ عدل، انصاف اور مساوات: اسلامی ریاست کا بنیادی ستون

آپ کے عنوان میں جو بلند معاشی و معاشرتی اقدار بیان ہوئی ہیں، وہ اسلام کے اساسی تصورات ہیں۔ ان کی درست تفہیم انتہائی ضروری ہے:

عدل ہر شے کو اس کے صحیح مقام پر رکھنے کا نام ہے، جس میں ہر صاحبِ حق کو اس کا حق ملے۔ یہ معاشرے کا وہ نظام ہے جو ظلم کے خاتمے کی ضمانت دیتا ہے۔

· انصاف ایک اعلٰی اخلاقی فضیلت ہے، جس کا تعلق "نصف" سے ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ یہ عدل کی روح ہے۔

مساوات کا مطلب ہر چیز کا یکساں تقسیم ہونا نہیں، بلکہ حقوق میں مساوات اور موقعوں کی برابری ہے۔ عدل کا تقاضا اکثر مساوات نہیں، بلکہ ہر فرد کے استحقاق کے مطابق اس کا حق دینا ہے ۔

📜 فلاح تو فقط قرآن و سنت کے نفاذ سے ہی ممکن ہے 

ایک ایسے سال کا آغاز جس میں قرآن و سنت کے احکامات کا نفاذ اور غلبہ مرکزی خواہش ہے، ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ قرآن و سنت ہی وہ لافانی دستور ہیں جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتے ہوئے معاشی انصاف، اجتماعی ہم آہنگی اور اخلاقی بلندی کا راستہ دکھاتے ہیں۔ جب ریاست اور معاشرہ اسی الٰہی قانون کے تابع ہو جائیں گے، تو پھر خوشحالی، امن اور عافیت کا سورج یقیناً طلوع ہو گا۔

🕊️ دُنیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آزادی کی نوید

وزیراعظم کے پیغام میں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہد کو خصوصی طور پر یاد کیا گیا ہے۔ یہ ہماری امت کے درد میں شریک ہونے کا اظہار ہے۔ نئے سال کی دعا یہ بھی ہے کہ ظلم و جبر کی اس تاریکی پر آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو۔

🙏 ہمارا اجتماعی عہد

آئیے، اس نئے سال کے آغاز پر ہم سب مل کر یہ عہد کریں:

کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کریں گے،

کہ قرآن و سنت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔

کہ معاشرے میں عدل، انصاف اور احسان  کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اور اپنے مظلوم بھائیوں و بہنوں کی آزادی کے لیے دعا اور حمایت جاری رکھیں گے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک، امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے لیے اس نئے سال کو امن، رحمت، خوشحالی اور اسلام کے غلبے کا سال بنائے۔ اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین بحق رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم

Saturday, 27 December 2025

نئے سال کا اسلامی تصور اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں

 نئے سال کا اسلامی تصور اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں المعروف غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

سال کی یہ تبدیلی ہر انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ عمر کا ایک اور حصہ گزر گیا، اور زندگی کے محدود سفر میں ایک اور سنگ میل پیچھے رہ گیا۔ شمسی سال کے اختتام و آغاز کے اس موقع پر پوری دنیا میں مختلف تہذیبیں اپنے اپنے انداز میں اس "نئے آغاز" کو مناتی ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے سوال یہ ہے کہ اس موقع پر اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا وہ عمومی تہواروں کی طرح اسے بھی خوشی کے اظہار کا موقع سمجھے، یا اس کے نزدیک اس کا کوئی اور مفہوم ہونا چاہیے؟

مبارکباد کا شرعی حکم: ایک متوازن نقطہ نظر

علمائے کرام کے فتاویٰ کے مطابق، نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر محض خیر و برکت کی دعا دینا یا مبارکباد کا تبادلہ کرنا، اگر اسے کوئی شرعی فریضہ یا ضروری عمل نہ سمجھا جائے، تو جائز ہے . بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نئے مہینے یا سال کی آمد پر ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے:

"اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمٰنِ، وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ" .

اس دعا کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللہ! اس (نئے زمانے) کو ہمارے لیے امن و ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما، ساتھ ہی اپنی رحمت کی رضا اور شیطان سے بچاؤ کے ساتھ۔ یہ دعا درحقیقت ہمارے رویے کی بنیاد ہونی چاہیے نہ کہ محض رسمی تہنیت۔

وقت کی قدر اور محاسبہ نفس کا موقع

اسلامی نقطہ نظر سے، وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر وقت کی قسمیں کھائی گئی ہیں . حدیث نبوی ہے کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر اور جوانی کے بارے میں سوال ہوگا کہ اس نے اسے کس طرح گزارا . ایک اور حدیث میں پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جاننے کی تلقین کی گئی ہے: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے.

اس لیے سال کا اختتام و آغاز درحقیقت محاسبہ نفس کا بہترین موقع ہے۔ گزرے ہوئے سال میں ہم سے کیا کوتاہیاں ہوئیں؟ ہمارے اعمال میں کس طرح کی بہتری لائی جا سکتی ہے؟ آنے والے وقت کے لیے ہمیں کیا عہد کرنا چاہیے؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ وہ کسی چیز پر اتنا نادم نہیں ہوئے جتنا اس دن کے گزرنے پر جس میں ان کے اعمال میں اضافہ نہ ہو سکا.

قمری تقویم سے تعلق اور اسلامی شناخت

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسلام میں احکام و عبادات کا مدار قمری (ہجری) تقویم پر ہے۔ روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کا تعین اسی سے ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورے سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہجرتِ نبوی کو اسلامی سن کا نقطہ آغاز بنایا گیا، کیونکہ یہی وہ واقعہ تھا جس سے حق و باطل میں واضح فرق ہوا .

شمسی سال کا آغاز دراصل عیسائی تہذیب و مذہب سے وابستہ ہے . اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل شناخت — اسلامی قمری کیلنڈر — سے وابستہ رہے اور اسے اپنی زندگی میں زندہ رکھے۔ ہجری مہینوں کے نام اور ان میں پیش آنے والے تاریخی واقعات (جیسے محرم میں واقعہ کربلا) سے آگاہی ہماری دینی و تہذیبی پہچان کا حصہ ہے۔

غیر شرعی اعمال سے اجتناب

افسوس کے ساتھ، آج کل نئے سال کے موقع پر کئی ایسے کام رائج ہو چکے ہیں جو صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ 31 دسمبر کی رات آتش بازی، نائٹ کلبوں میں شراب و شباب کی محفلیں، بے ہنگم شور شرابہ اور بے حیائی کے مظاہرے — یہ سب وہ امور ہیں جن سے ہر مسلمان کو سختی سے بچنا چاہیے . نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و بارک و سلم کا ارشاد ہے: "جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے" . لہٰذا، ایسے تمام کام جو غیر مسلم اقوام کے مخصوص مذہبی یا اخلاقی طور پر قابل اعتراض طریقوں کی نقل ہوں، ان سے اجتناب فرض ہے۔

اجتماعی ذمہ داری: دعا، صلہ رحمی اور خیر کی تلقین

نئے سال کا یہ موقع درحقیقت ہمیں اپنے اردگرد پھیلی انسانیت کے لیے سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ ہم اپنے خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور تمام مسلمان بھائیوں کے لیے دُعاگو ہوں۔ صلہ رحمی کریں، مفلس و محتاج لوگوں کی مدد کریں، اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کریں  جیسا کہ سورہ العصر میں ایمان والوں کی صفت بیان کی گئی ہے .

خلاصہ

مختصراً، نئے شمسی سال کے موقع پر مسلم کمیونٹی کا طرز عمل مندرجہ ذیل اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے:

· وقت کی قدر کے شعار کے ساتھ محاسبہ نفس کا اہتمام کریں۔ گزرا سال اللہ کی دی ہوئی مہلت تھی، آنے والا وقت اس کی نئی نعمت ہے۔

· دعا اور نیک تمناؤں کا تبادلہ کریں، مگر اسے غیر اسلامی رسومات سے پاک رکھیں۔

· اپنی اسلامی شناخت — ہجری تقویم — کو زندہ رکھیں اور اس کی اہمیت نئی نسل کو سمجھائیں۔

· ہر قسم کی غیر شرعی سرگرمیوں، بے حیائی اور فضول خرچی سے حتی الامکان بچیں۔

· اس موقع کو اجتماعی بہتری، باہمی محبت اور انسانیت کی خدمت کے جذبات کو ابھارنے کے لیے استعمال کریں۔

دیکھا گیا ہے نئے شمسی سال کے آغاز پر کروڑوں روپے فائرنگ پر فخریہ طور پر خرچ کیے جاتے ہیں، بیماروں کے آرام کا بھی ذرا بھر احساس نہیں کیا جاتا. اس کے علاوہ بھی دیگر خرافات کو لازم سمجھا جاتا ہے۔

آئیے، نئے سال کو نئے عزم کے ساتھ شروع کریں عزم اس بات کا کہ ہم بہتر صالح مسلمان، بہتر انسان اور معاشرے کے لیے زیادہ مفید فرد بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے آنے والے تمام لمحات کو ایمان، امن اور فلاح سے بھر دے۔ (آمین)

بدعت، نفل، واجب اور فرض میں واضح فرق

 بدعت، نفل، سنۃ، واجب اور فرض میں واضح فرق

تحریر و تحقیق: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں المعروف غلام مصطفٰی آرائیں، کراچی۔

قرآن و سنۃ سے ثابت صلوٰۃ قائم کرنے کے واضح حکم كو "نماز پڑھنے" میں بدلنے کا عمل بلاشبہ تمام دیگر بدعات سے بڑی اور بدترین بدعت ہے، جس پر کہ ہم سب بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث، سلفی، وہابی، سنی، تبلیغی، جماعتی، عطاری، منہاجی و طاہری وغیرہم مکمل طور پر متفق و متحد ہیں، آئیں تھوڑی دیر کےلیے ذرا اکابر پرستی و مقابر پرستی اور فرقہ پرستی کی خود غرضانہ و محدود سوچ و فکر سے آزاد ہو کر حقائق کی دنیا میں تحمل، خلوص اور سنجیدگی سے تلاش حق کی سچی لگن و جستجو کے ساتھ نظریں دوڑائیں اور غور و فکر کریں کہ کہیں ہم قرآن و سنۃ کے احکامات و ہدایات اور تعلیمات و فرمودات سے روگردانی و انحراف کر کے ملاؤں کے حکم و تعلیم کو دانستہ یا نا دانستہ، ارادی یا غیر ارادی طور پر "حکم اللہ" پر اولیت، فوقیت اور ترجیج دینے اور "حکم الله" کو ترک کر کے "حکم ملا" کی  تعمیل و اطاعت کرنے کے گناہ کبیرہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ 

بلا شبہ دین و ایمان ہی ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جس کی بہرصورت ہمیں حفاظت کرنی چاہیئے اور ان کےلیے خطرہ بننے والی ہر چیز سے بچنا، پرہیز و اجتناب برتنا چاہیئے یہ ایک دعوت غور و فکر ہے، صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کےلیے۔

ہمیں خوب اچھی طرح جان لینا اور یقین کر لینا چاہیئے کہ دین اسلام فقط قرآن وسنۃ پر مبنی ہے اور وہ مکمل نظام زندگی (ضابطہء حیات) ہے، قرآن و سنۃ میں جس عبادت کو ہر دن رات میں پانچ وقت قائم کرنے کو ہر مؤمن و مسلم پر فرض عین قرار دیا گیا ہے اس کا اصطلاحی نام قرآن و سنۃ ميں صلاة و صلوٰۃ مقرر ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک مالی عبادت کا نام زکوٰۃ اور ایک بدنی و جسمانی عبادت کا نام حج مقرر فرمایا گیا ہے، جس طرح زکوٰۃ کو اور حج کو کوئی بھی دوسرا نام دے کر انجام دینے سے ان فرائض کی ادائیگی نہیں ہوتی بعینہٖ اسی طرح صلاة و صلوٰۃ کو اسی نام سے قائم کرنا ضروری ہے۔ "نماز پڑھ" کر اس فرض عین کی ادائگی بھی نہیں ہوتی کیونکہ حکم صلوٰۃ قائم کرنے کا دیا گیا ہے، لفظ نماز، قرآن و سنت میں کہیں نہیں آیا ہے اور نہ ہی آئمہ محدثین، مجتہدین، ائمہ فقہاء نے کسی بھی مقام پر لفظ نماز پڑھنا ذکر و بیان یا اختیار کیا ہے۔

 اس کی دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ لفظ نماز مجوسیوں کی مشرکانہ پوجا پاٹ کا نام ہے اور جضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے جنم سے بھی کئی سو سال پہلے سے لے کر آج آخر دسمبر 2025ء تک  رائج ہے، مجوسی کم و بیش تین ہزار سال سے پانچ تا آٹھ وقتی "نماز پڑھتے" ہیں، اسی لیے قرآن و سنۃ میں کہیں بھی "نماز پڑھنے" کا حکم یا ذکر و بیان نہیں ملتا، بلکہ قرآن و سنۃ میں متعدد مقامات پر یہود و نصارٰی اور صابئین کی موافقت، مشابہت اور مطابقت اختیار کرنے کی سخت ممانعت ثابت ہے۔                                          یاد رہے کہ صلاة الليل جسے صلاة التہجد بھی کہا جاتا ہے وہ فقط رسول الله صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم پر فرض تھی جبکہ امت کےلیے سنت ہے، باقی اس کے فضائل، فیوض و برکات بے انتہاء ہیں اگرچہ کہ فرض صلاة قائم کرنے کا اجر و ثواب بہرحال نفل صلاة قائم کرنے سے ستر گنا زیادہ ہے!

 مؤمنون و مؤمنات اور مسلمون و مسلمات پر پر جن صلوۃ خمسہ کو قائم کرنا فرض عین قرار دیا گیا ہے ان میں صلاة الفجر، صلاة الظہر، صلاة العصر، صلاة المغرب اور صلاة العشاء، صلاة الجمعۃ شامل ہیں جبکہ أن کے علاوہ جنازه، عيد الفطر و عيد الاضحٰی کی صلوة قائم کرنا واجب ہے، صلاة الحاجۃ و صلاة التوبہ اور صلاة الاستسقاء، صلاة الكسوف، صلوة الخسوف، صلاة الاستخارة، صلاة التسبيح وغیرہم سب سنۃ ہیں.ایک اور بات نہایت اہمیت کی حامل ہے اور وہ یہ کہ صلاۃ و صلوٰۃ ايسی عبادات ہیں جو پڑھنے کی چیز یا عمل ہر گز نہیں ہیں بلکہ قرآن مجید میں کم و بیش یا پورے سات سو مرتبہ صلوٰۃ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہیں ایک جگہ بھی پڑھنے پڑھانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور اسی طرح سینکڑوں مقامات پر احادیث رسول صلی اللّٰہ عليہ و آلہ و سلم سے بھی صلوٰۃ قائم کرنے کا حکم ہی بخوبی ثابت ہے، نماز پڑھنے کا نہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین، تابعین و تبع تابعین، سلف صالحین، ائمہء فقہاء اربعہ اور اقوال محدثین و مجتہدین و محقیقین سے بھی صلاة قائم کرنا اور اسی کی تعلیم دینا ثابت ہے، ان تمام اسلاف میں سے کسی ایک نے بھی اور بھولے سے بھی کبھی نماز پڑھی نہ ہی لفظ نماز کبھی ان کی زبان سے ادا ہوا اور نہ ہی انہوں نے کبھی کسی شخص کو نماز پڑھنے کی تعلیم و ترغیب دی بلکہ وہ سب کے سب باقاعدگی سے، پابندی کے ساتھ صلوٰۃ خمسہ کی اقامت کو یقینی بناتے اور لازم پکڑتے تھے لہٰذا ہمیں بھی صلاة کو نماز نہیں کہنا چاہیئے اسی طرح قائم کرنے کو پڑھنا بھی نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ایسا کرنے سے قرآن و سنۃ سے روگردانی و انحراف لازم آتا ہے اور دوسری وجہ یہ کہ صلاۃ و صلوٰۃ كو نماز پڑھنا کہنے، بولنے اور سمجھنے سے مجوسیوں کے ساتھ موافقت، مشابہت اور مطابقت بھی لازم آتی ہے جس سے گریز و اجتناب کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ ممانعت قرآن و سنۃ سے بخوبی ثابت ہے۔

بلا شک و شبہ ہم سب قران و سنہ اور أسوة حسنۃ کی تعمیل و اطاعت اور اتباع و پیروی کے مکلف (پابند) بنائے گئے ہیں، سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم اللہ تعالٰی کے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم پر نازل کردہ دین پر قائم ہیں یا اس سے انحراف و روگردانی کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال کر اکابر پرست و مقابر پرست اور فرقہ پرست بن گئے یا بن چکے ہیں؟ اللہ تعالٰی اپنے خاص لطف و کرم اور رحمۃ سے ہر کلمہ گو کو فرقہ پرستی، اکابر پرستی و مقابر پرستی کو ترک کر کے قرآن و سنۃ کے احکامات، تعلیمات، ہدایات اور فرمودات کی تکمیل و تعمیل، اطاعت و اتباع اور کامل پیروی کرنے والا بنائے، گمراہی سے بچائے، صراط مستقیم اور اسوۃ حسنہ پر قائم رکھے، اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین بحق رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم

بعثت نبوی ﷺ اور نزول اسلام کے بنیادی مقاصد، ایک تحقیقی جائزہ

 بعثت نبوی ﷺ اور نزول اسلام کے بنیادی مقاصد: ایک تحقیقی جائزہ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں المعروف غلام مصطفٰی آرائیں، کراچی

انسانی تاریخ کا سب سے عظیم اور انقلاب آفرین واقعہ بعثت نبوی ﷺ ہے جس نے نہ صرف جزیرۃ العرب کی تقدیر بدلی بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ابدی نظام فراہم کیا۔ نزول اسلام کا اصل مقصد محض ایک مذہبی عقیدے کا ظہور نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت کی تکمیل، اجتماعی اصلاح اور ربانی ہدایت کا جامع منصوبہ تھا۔ ذیل میں بعثت نبوی ﷺ کے پانچ اہم مقاصد پر روشنی ڈالی گئی ہے:

1. توحید کی بالادستی اور شرک کے اندھیروں کا خاتمہ

نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کا اولین اور بنیادی مقصد توحید کی دعوت تھی۔ آپ ﷺ ایک ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جہاں بت پرستی، نجومیوں اور جھوٹے خداؤں کا دور دورہ تھا۔ انسانیت حقیقی خالق سے کٹ چکی تھی اور خود ساختہ معبودوں کے سامنے سجدہ ریز تھی۔ اسلام نے نہ صرف "لا الہ الا اللہ" کا اعلان کیا بلکہ عقل و فکر کو بت پرستی کی زنجیروں سے آزاد کیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو" (النحل: 36)۔ یہ توحید کا تصور محض نظریاتی نہ تھا بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کی حاکمیت کا قیام تھا۔

2. اخلاقی انقلاب اور انسانیت کی تعمیر

بعثت نبوی ﷺ کا دوسرا اہم مقصد اخلاقیات کی بلندی اور انسان کی باطنی اصلاح تھا۔ رسول اللہ ﷺ خود اخلاق عظمیٰ کا مجسم نمونہ تھے اور آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد اخلاقیات کی تکمیل قرار دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں"۔ جاہلیت کے دور میں ظلم، لاقانونیت، عورت کی تحقیر، شراب نوشی اور قتل و غارت گری عام تھی۔ اسلام نے ان تمام برائیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع اخلاقی نظام دیا جس میں انصاف، رحم، صداقت، امانت اور اخوت کے اصول مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

3. علم اور عقل کی آزادی

اسلام کی آمد تاریک جاہلیت کے خلاف علم کی تحریک تھی۔ پہلی وحی کا آغاز ہی "پڑھ" کے حکم سے ہوا، جو علم کے حصول کی اہمیت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ اسلام نے تخیلاتی اور وہمی عقائد کے بجائے عقل و استدلال کو پروان چڑھایا۔ قرآن مجید بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کائنات کی نشانیوں میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ علمی انقلاب صرف مذہبی علوم تک محدود نہ تھا بلکہ اس نے سائنس، طب، فلکیات اور ریاضی جیسے شعبوں میں بھی حیرت انگیز ترقی کا راستہ ہموار کیا۔

4. اجتماعی انصاف اور معاشی توازن

بعثت نبوی ﷺ نے معاشرتی اور معاشی انصاف کے قیام کے لیے بنیادی اصلاحات متعارف کرائیں۔ اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے، عورتوں کے حقوق متعین کیے، وراثت کے منصفانہ قوانین بنائے، اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے معاشرے سے غربت کے خاتمے کا نظام قائم کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے"۔ یہ اجتماعی انصاف کا تصور اسلام کے مرکزی مقاصد میں سے ہے جس کا تعلق فرد کی نجات کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود سے ہے۔

5. عالمگیر ہدایت اور رحمت للعالمین کا پیغام

نبی کریم ﷺ کو صرف عربوں یا کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ قرآن میں ارشاد ہے: "اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے" (الانبیاء: 107)۔ یہ عالمگیریت اسلام کے مقاصد کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسلام کا پیغام نسلی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات سے بالاتر ہے اور پوری انسانیت کو ایک خدا کی عبادت اور بنی نوع انسان کے طور پر باہمی اخوت و مساوات کی دعوت دیتا ہے۔

نتیجہ

بعثت نبوی ﷺ کے مقاصد کثیر الجہت اور ہمہ گیر ہیں جن میں فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے کی تعمیر، اور عقیدے کی درستگی سے لے کر تہذیب کی تشکیل شامل ہے۔ یہ محض چند رسمی عبادات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں ہدایت کا ایک مکمل نظام تھا۔ آج بھی جب انسانیت مادہ پرستی، اخلاقی بحران اور روحانی پستی کا شکار ہے، بعثت نبوی ﷺ کے انہی مقاصد کی طرف رجوع ہی اس کے مسائل کا حقیقی حل پیش کر سکتا ہے۔ اسلام کا پیغام زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے اور ہر دور کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ اسے اس کی صحیح روح میں سمجھا اور اپنایا جائے۔